Search

غیر سیاسی جرنیلوں کو کنٹرول کرنے کے لئے مولانا فضل الرحمان کا نسخہ۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد


آج بات کریں گے نیب کے اس نوٹس کی جو مولانا فضل الرحمان کی اربوں روپے مالیت والی جائیددادوں کے حوالے سے جاری کیا گیا لیکن بعد میں اس حوالے سے جرنیلی یو ٹرن لے لیا گیا۔

ویسے تو یہ نیب کی طرف سے کوئی پہلا یوٹرن نہیں ہے۔۔۔ لیکن اس تازہ ترین یو ٹرن کی اہمیت اس لئے ہے کہ اس کی واپسی ان دھمکیوں کے بعد ہوئی ہے جو کہ جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنماوں کی طرف سے دی گئی تھیں۔۔۔ سب سے خطرناک دھمکی مولانا عطا الرحمن کی طرف سے اس وقت آئی جب انہوں نے کہا کہ وہ اس انتقامی کاروائی کے خلاف کور کمانڈر پشاور کے گھر کے سامنے احتجاج کریں گے۔


اصولی طور پر تو یہ احتجاج نیب کے عیبی چیئرمین کے گھر کے باہر ہونا چاہئے تھا جو کہ نیب کے ادارے کو جرنیلی ایجنڈے کے مطابق استعمال کر رہا ہے لیکن مولانا فضل الرحمان اور ان کے ساتھی پاکستان کی دیگر ہو میوپیتھک سیاست کرنے والی جماعتوں سے بہت مختلف ہیں۔۔۔انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ کینسر کی جڑ کہاں پر ہے اور آپریشن کہاں سے شروع کرنا ہے۔۔۔اسی لئے انہوں نے نیب کے اس نوٹس کے جواب میں نیب کی بجائے توپوں کا رخ انہیں کے ہیڈ کوارٹر کی طرف رکھا جہاں سے اس نوٹس کو جاری کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

مولانا فضل الرحمان نے قبضہ گروپ کو للکارتے ہوئے کہا کہ ہمیں مت چھیڑو۔۔۔ہم بہت مہنگے پڑیں گے۔۔۔ہم تمہارا وہی حال کریں گے جو افغانستان میں امریکہ کا ہوا ہے۔



مولانا فضل الرحمان کی جماعت اگر ن لیگ اور پی پی کی طرح ٹھنڈا ٹھار احتجاج کرتی رہتی تو پہلی پیشی پر مولانا فضل الرحمن کو بھی اسی مہمان خانے میں پہنچا دیا جاتا جو کہ اے پی سی والی جماعتوں کے لیڈروں کے لئے خاص طور پر تیار کروایا گیا ہے۔

شہباز شریف کی مثال آپ کے سامنے ہے۔۔۔وہ تو کل سے اس مہمان خانے میں ہے۔۔۔ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران شہباز شریف کے عدالت کے سامنے ایک کتابچہ پیش کیا جس میں ان سب کارناموں کی فہرست تھی جو اس نے پنجاب کے خادمِ اعلی کے طور پر انجام دیئے ہیں۔۔۔شہباز شریف نے گرفتاری سے بچنے کے لئے بہت اچھے دلائل بھی دئیے لیکن ہتھوڑٖا گروپ کے ممبران نے اس کی ایک نہ سنی اور وہی فیصلہ کیا جو کہ انہیں واٹس ایپ پر موصول ہوا تھا۔


میں نے تو اس فیصلے سے پہلے ہی ایک ٹویٹ بھی کی تھی جس میں یہی کہا تھا کہ شہباز شریف ہتھوڑا گروپ کو اپنی اعلی کارکردگی کا کتابچہ پیش کر کے اور زبانی تفصیل بتا کر انصاف ایسے مانگ رہا ہے ،جیسے فیصلہ لکھنے کا اختیار بھی اسی ہتھوڑا گروپ کے پاس ہے۔

شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد مسلم لیگ کے کارکنوں نے بہت احتجاج کیا اور پاکستان کے جرنیلی حکمران کے خلاف نعرے بھی لگائے۔


مجھے تو ان نعروں میں صاف سنائی دیا کہ یہ باجوہ کتا ہائے ہائے کہہ رہے ہیں لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آ ئی کہ یہ بڑے باجوے کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں یا پیزے والے باجوے کے خلاف۔۔۔ویسے بہتر ہوتا کہ یہ لوگ باجوہ کہنے کی باجوے کہہ دیتے تو دونوں باجوے اس میں کور ہو جاتے۔۔۔اور اس وقت پاکستانی سیاست میں جو بھی وارداتیں ہو رہی ہیں۔۔۔ان کے پیچھے صرف ایک باجوہ نہیں بلکہ دونوں باجوے ہیں۔۔۔بلکہ بعض باجوائی نقادوں کا خیال ہے کہ قمر باجوہ کی جرنیلی کمر مضبوط کرنے میں چھوٹے باجوے کا بڑا اہم کردار ہے۔۔۔نواز شریف کی اے پی سی والی تقریر میں آپ نے یہ تو سن ہی لیا ہو گا کہ بلوچستان کی حکومت گرانے میں اور سینیٹ والی جوڑ توڑٖ میں بھی عاصم باجوہ ہی ملوث تھا۔

بہرحال مولانا فضل الرحمان نے تو پتھر کا جواب اینٹ سے دے کر نیب اور اس کے جرنیلی سرپرستوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا ہے۔۔۔ اس کامیاب تجربے کے بعد اب اگر یہی نسخہ ن لیگ والے اور پی پی والے بھی آزمانا چاہیں تو آزما سکتے ہیں۔۔۔اگر یہ اب بھی نیب اور نیازی گٹھ جوڑ کی دہائی دیتے رہیں گے تو انہیں سوائے سو گنڈے اور سو چھتر کے کچھ بھی نہیں ملے گا بلکہ ہو سکتا ہے کہ ان کے کچھ اور لیڈر بھی نیب کے مہمان خانے میں قیام کے لئے بھیج دیئے جائیں۔


اب انہیں مولانا فضل الرحمان کی تقریروں سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور جوابی کاروائی میں قبضہ گروپ کو ہدف بنانا ہو گا نہ کہ ان کے ان ایجنٹوں کو جو کہ معقول معاوضے پر انتقامی کاروائیوں میں مصروف ہیں۔۔۔ایک بار برائی کے اس درخت کی جڑ کاٹ دی جائے گی تو اس کی شاخوں پر بیٹھ کر ٹیں ٹیں کرنے والے سارے طوطوں کی بولتی بند ہو جائے گی۔



نیب کو چابی دینے والوں نے پاکستان کے علاوہ لندن میں بھی اپنی کاروائیوں شروع کر رکھی ہیں۔۔۔یہاں چونکہ ان کے نوٹس وغیرہ کام نہیں کرتے اس لئے یہاں پر انہوں نے ایک خفیہ لشکر تیار کر رکھا ہے۔۔۔اسی لشکر کی مدد سے یہ جرنیلی ایجنڈے کے مخالفین کے خلاف کاروائیاں کرتے رہتے ہیں۔۔۔نواز شریف کی رہایش گاہ پر بھی ان لوگوں نے ایک گوریلا کاروائی کی۔۔۔ان نقاب پوش جرنیلی مجاہدین کو گرفتاری کا ڈر بھی تھا اس لئے یہ پولیس کے آنے سے پہلے ہی نعرے بازی کر کے فرار ہو گئے۔۔۔ان کا تعلق بھی چونکہ ہتھیار ڈالنے والے لشکر سے تھا اس لئے یہ بھی جاتے جاتے اپنے احتجاجی پوسٹر سڑک پر پھینک گئے۔۔۔ ایک لشکری تو اتنی گبھراہٹ میں تھا کہ بھاگتے بھاگتے اس کا ایک جوتا اتر گیا تو اس نے اپنا جوتا اٹھانے کی بھی زحمت نہیں کی۔۔۔اور یوں پاکستانی فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کے یہ دعوے دار نواز شریف کی گلی سے اس طرح بھاگے کہ فوج کی عزت میں اضافہ کرنے کی بجائے اسے مزید خاک میں ملا گئے۔



2,132 views