Search
  • RMTV London

عورت مارچ،مولانا فضل الرحمان اور ڈرامہ باز خلیل الرحمان قمر۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 05/03/2020


پاکستانی قبضہ گروپ کی پلاننگ بھی اچھی ہے اور قسمت اس سے بھی اچھی ہے۔۔۔اس گروپ نے پاکستانی عوام کو بہت سارے گروہوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔۔۔یہ تقسیم مذہبی فرقہ بندی کی بھی ہے،قومیت کی بھی ہے اور لسانیت بھی اس میں شامل ہے۔۔۔اس کے علاوہ معیشت کے قوانین کے مطابق جو ظالموں اور مظلوموں کے گروہ جنم لیتے ہیں وہ اسکے علاوہ ہیں۔


یہ سارے گروہ اپنے گروہی اختلافات کی وجہ سے اکژ دست و گریباں رہتے ہیں۔۔۔ان کے اختلافات کس حد تک درست ہوتے ہیں۔۔۔یہ ایک علیحدہ بحث ہے لیکن ان کے اختلافات انہیں ٓاپس میں اکٹھا نہیں ہونے دیتے جس کی وجہ سے ظالموں کا سب سے بڑا گروہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے اور اسے کسی بھی گروہ کی طرف سے کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہے۔


پچھلے دنوں مولانا فضل الرحمان نے جو کہ ایک بڑی مذہبی اور سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں انہوں نے اس قبضہ گروپ کے لئے خطرات پیدا کیے لیکن ملک کے دو بڑے سیاسی گروہوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور اس کے نتیجے میں مولانا نے اپنے مارچ کو منزل مقصود کی طرف لے جانے کی بجائے چوہدری برادران کی سروسز پر تکیہ کیا اور نتیجے کے طور پر ان کےہاتھ میں وہ کچھ نہیں ٓایا جس کے لئے وہ اسلام ٓاباد گئے تھے۔۔۔بہر حال اس مارچ کا فائدہ یہ ہوا کہ مولانا کی مقبولیت ان کے مذہبی حلقوں سے نکل کر روشن خیال لوگوں تک بھی پہنچی اور بہت سارے لوگوں نے جو کہ مذہبی طور پر مولانا سے شاید اتفاق نہ بھی کرتے ہوں اور ان میں سے بہت سارے ایسے بھی تھے جو مذہب پر ان کی طرح عمل بھی نہیں کرتے تھے۔۔۔ان سب نے مولانا کی جرات کو سراہا اور ان کا قلمی طور پر بہت ساتھ دیا۔


بدقسمتی سے مولانا کی یہ حمایت اب کم ہو جائے گی اور وہ ایک بار پھر انہی لوگوں کے نمائندہ ہو کر رہ جائیں گے جو پچھلے کئی سالوں سے ان کے ساتھ ہیں۔۔۔اس حمایت کو کھونے کی وجہ عورت مارچ کے حوالے سے ان کی وہ جذباتی تقریر ہے جس میں انہوں نے اپنے کارکنوں کو اس مارچ کے خلاف مکمل ہدایات جاری کر دی ہیں کہ اگر حکومت اس بارے میں خاموش تماشائی بنی رہے تو ان کے کارکن میدان میں ٓا کر عملی طور پر اس مارچ کو روکیں۔


میری زاتی رائے میں ابھی مولانا کو اس حوالے سے اتنا سخت بیان دینے کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔پاکستان پر اس وقت ریاستِ مدینہ بنانے کے دعوے کرنے والوں کا قبضہ ہے اور ان کے پاس مولانا طارق جمیل جیسا دیندار مبلغ بھی موجود ہے اور اس کا مذہبی رشتہ بھی مولانا فضل الرحمان کی مذہبی فکر سے کافی مضبوط ہے۔۔۔ مولانا کو عورت مارچ سے نمٹنے کی زمہ داری مولانا طارق جمیل اور ان کے خلیفہ جی پر چھوڑ دینی چاہئے تھی۔


بہتر ہوتا کہ مولانا عورت مارچ کے حوالے سے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر دیتے لیکن عملی جدوجہد کی بات نہ کرتے۔۔۔اگر مولانا ملک میں سیاسی طور پر تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو پھر انہیں ان لوگوں کو بھی برداشت کرنا ہوگا جن کی مذہبی فکر ان سے مختلف ہے۔۔۔اگر وہ ایسے لوگوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو پھر اپنا مذہبی اثر رسوخ اتنا بڑھنے کا انتظار کریں جو انہیں اقتدار کے ایوان تک لے کر جا سکے۔۔۔۔بہر حال یہ ان کی اپنی سیاسی بصیرت ہے اس لئے میں اس پر زیادہ بات تو نہیں کر سکتا لیکن میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ان کے اس بیان سے ملک میں جو عورت مارچ کے حوالے سے ایک طوفان مچا ہوا ہے اور پاکستانی عوام میں ایک نئی تقسیم کا شکا ر ہو گئی ہے۔۔۔اس تقسیم سے پاکستانی عوام کا اپنا نقصان ہوگا۔۔۔مولانا کے جیالے اگر کسی عورت کا سر پھاڑیں گے تو اس کے نتیجے میں عورت کا خون بھی بہے گا لیکن اس سے ان کی وہ تحریک بھی زخمی ہو جائے گی جو انہوں نے قبضہ گروپ کے خلاف چلانے کا اعلان کر رکھا ہے۔۔۔سندھ کے بڑے شہروں اور خاص کر پنجاب کے شہروں میں انہیں پذیرائی ملنے کا امکان بہت کم ہو جائے گا۔


عورت مارچ کے حوالے سے خلیل الرحمان قمر نے ماروی سرمد کے ساتھ بدزبانی کی ہے وہ صرف اور صرف اس گروہی تقسیم کے کام ٓائے گی جس کے لئے قبضہ گروپ ایک عرصے سے کام کر رہا ہے۔۔۔اس ڈرامہ باز نے دانستہ یا نا دانستہ طور پر ملک میں ایسا طوفان کھڑا کر دیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی توجہ صرف اور صرف میرا جسم میری مرضی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔۔۔پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں ہے۔۔۔پاکستان کا مسئلہ وہ مہنگائی ہے جو اس نالائق حکومت کی وجہ سے اس ملک پر نازل ہوئی ہے جس کو لانے میں سب سے بڑا کردار اس قبضہ گروپ کا ہے جس کی قیادت جنرل باجوہ کر رہا ہے۔۔۔ ڈرامہ باز قمر کی وجہ سےاب لوگوں نے پوری توجہ ماروی سرمد اور ایسی خواتین کی طرف کر لی ہے اور انہیں یہ یاد نہیں رہا کہ ٓاٹا اور چینی کس نے چوری کیا اور سب سے بڑی بات کہ ان کا الیکشن کس قمر نے چوری کروایا تھا۔


پچھلے دنوں مجھے مدینہ منورہ جانے کی سعادت حاصل ہوئی تو وہاں پر مجھے ایک ایسی مارکیٹ میں جانے کا اتفاق ہوا جس میں تمام دکاندار خواتین تھیں لیکن خریداروں میں زیادہ تر مرد زائرین تھے۔۔۔یہ مارکیٹ مسجد نبوی کے گیٹ چھ سی کے قریب ہے۔۔۔اس مارکیٹ میں اسٹال لگانے والے خواتین مکمل طور پر باپردہ تھیں لیکن انہیں دکانداری کے وہ سارے گر ٓاتے تھے جو ہمیں عام عرب دکانداروں میں وہاں پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔۔۔یہ مارکیٹ ٓادھی رات کو دیر تک کھلی رہتی ہے۔۔۔اس کے علاوہ مدینہ کی گلیوں میں بہت ساری خواتین کو زمین پر بیٹھ کر سودا سلف بیچتے دیکھا اور وہ بھی رات گئے اکیلی اسی طرح اپنی روزی روٹی کماتی رہتی ہیں۔۔۔کچھ خواتین کو گاڑی چلاتے بھی دیکھا۔۔۔شاپنگ مال میں سیکیورٹی گارڈ کی ڈیوٹی پر بھی خواتین موجود تھیں۔


میں چونکہ برطانیہ سے گیا تھا اس لئے یہ سارے مناظر میرے لئے کوئی نئے نہیں تھے لیکن مجھے حیرت صرف اس بات کی تھی کہ سعودی عرب جیسے قدامت پرست اسلامی ملک نے اپنی خواتین کا حقوق دینے شروع کر دیئے ہیں اور یہ سفر کافی حد تک ٓاگے بڑھ چکا ہے لیکن سعودی عرب کے اسلامی متاثرین اس دور میں بھی پاکستان میں عورتوں پر بیجا پابندیوں کی بات کرتے ہیں اور ان کے خلاف میڈیا میں گالم گلوچ کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔


اج کی گفتگو کا مقصد صرف یہ تھا کہ لوگوں کی توجہ اس طرف دلوائی جائے کہ وہ قبضہ گروپ کے مقابلے میں پاکستان کے عوام کو مزید تقسیم نہ کریں۔۔۔پہلے ظالموں کے بڑے گروہ کو اتفاق رائے سے زیر کر لیں۔۔۔بڑی فتح ملنے کے بعد ٓاپس میں جو اختلافات ہیں انہیں بات چیت کے زریعے حل کیا جا سکے گا ۔۔۔جب عوام کو لڑوانے والے اور ان کے درمیان جلتی پر تیل ڈالنے والے اپنے اصل کام کی طرف لگ جائیں گے تو پیار محبت اور بھائی چارے کی فضا پیدا ہوگی۔۔۔جب ملک پر عوام کی حکومت ہو گی تو عدالتیں بھی قبضہ گروپ کے اثر میں نہیں رہیں گے اور ان عدالتوں کی مدد سے ہر طرح کا تنازع حل ہو سکے گا اور اگر نئی قانون سازی کی ضرورت ہو گی تو عوامی نمائندے اس کے لئے بھی ٓازاد ہو گے۔

2,592 views