Search

عمران کے حوروں والے ٹیکے میں کونسا نشہ تھا؟۔ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 29/01/2020


کل میں نے اپنی چند مستقل بیماریوں کے چیک اپ کے لئے اپنے برطانوی ڈاکٹر سے ملاقات کی ۔۔۔اپنی صحت کے حوالے سے مفید مشورے بھی لیئے اور ساتھ ہی اس سے عمران نیازی کی حوروں والی پھلجڑی کا زکر بھی کیا اور اسے یہ بریکنگ نیوز دی کہ شوکت خانم ہاسپٹل پاکستان میں ایک ڈاکٹر نے ایسا انجکشن ایجاد کیا ہے جس سے ٓاپ کو اپنے ارد گرد پھرنے والی بد شکل خواتین جولیا رابرٹ اور جینفر لوپیز جتنی حسین نظر ٓانے لگتی ہیں ۔۔۔بات کو ٓاگے بڑھانے سے پہلے میں اس بات کی وضاحت کر دوں کہ میں نے عمران نیازی کے حوروں والے فتوے میں جان بوجھ کر ترمیم کر دی تھی اور اس کا مقصد یہ تھا کہ بات اس غیر مسلم ڈاکٹر کو سمجھ ٓاجائے جسے ہمارے جنت اور حوروں والے فلسفے کا نہ تو زیادہ پتہ ہے اور اور نہ ہی وہ اس پر یقین رکھتا ہے۔

اگر میرا ڈاکٹر ان ڈاکٹروں میں سے ہوتا جن پر نیو مدینہ کے برانڈ ایمبیسیڈر مولانا طارق جمیل کی فائیو اسٹار تبلیغی والا رنگ چڑھا ہوا ہوتا تو میں یقیننا جولیا رابرٹ وغیرہ کا نام لینے کی بجائے حوروں کا حوالہ دیتا کیوں کہ مجھے اچھی طرح پتہ ہے کہ مولانا طارق جمیل جنت اور حوروں کی پیمائشیں بتانے میں اتنی مہارت رکھتے ہیں کہ دیناوی جنت میں رہنے والے تاجر ،فن کار،سیاست دان اور جرنیل بھی ہجرت کا منصوبہ بنانے لگ جاتے ہیں ۔

میرے ڈاکٹر نے پہلے تو مجھ سے شوکت خانم کے بارے میں پوچھا کہ اس ہسپتال کا پس منظر کیا ہے۔۔۔میں نے اسے بتایا کہ یہ انگلینڈ میں اپنی کرکٹ ، معاشقوں اور سٹے بازی سے مال کمانے والے ایک پاکستانی کرکٹر نے اپنی کینسر سے مرنے والی ماں کی یاد میں ان لوگوں کے چندے اور خیرات کی مدد سے بنایا ہے جن کی مائیں بہنیں اب اسی کھلاڑی کے سوشل میڈیا والے وائرس کی وجہ سے خطرناک بیماریوں کا شکار ہیں۔

میرے ڈاکٹر نے کہا کہ وہ اس کھلاڑی کے نام سے بھی واقفہ ہے اور اس کے رنگیلے ماضی سے بھی اچھی طرح ٓاشنا ہے اور ساتھ ہی سیتا وائٹ والی داستان سنانی شروع کر دی لیکن میں نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا قیمتی وقت ان فضولیات پر ضائع نہ کرے اور مجھے اس انجکشن کے بارے میں بتائے جسے لگوانے سے ہر طرح کا درد بھی ختم ہو جاتا ہے اور ماحول بھی رنگین ہو جاتا ہے۔

میرے ڈاکٹر نے جواب دیا کہ وہ اس انجکشن کا نام تو نہیں بتا سکتا جو کہ شوکت خان ہسپتال کے ڈاکتر نے لگایا ہے کیوں کہ اس کے پاس ڈاکٹر کا نسخہ نہیں ہے۔۔۔البتہ یو کے میں اس کام کے لئے لوگ مارفین کا نشہ کرتے ہیں۔۔۔بعض لوگ اسے مشروب کی شکل میں پیتے ہیں اور بعض انجکشن کی شکل میں استعمال کرتے ہیں۔

یہاں کے ہسپتالوں میں بھی اس مارفین کا استعمال ہوتا ہے اور یہ صرف ان مریضوں کو دی جاتی ہے جو بہت زیادہ تکلیف میں مبتلا ہوں یا پھر ایسے مریض جو اپنی زندگی کی ٓاخری سانسیں لے رہے ہوں تو انہیں مرض کی تکلیف سے نجات دینے کے لئے مارفین دی جاتی ہے تا کہ وہ اپنے مرض کی شدت سے بے خبر ہو جائیں۔۔۔میں نے اپنے ڈاکٹر سے دریافت کیا کہ کیا مارفین استعمال کرنے سے مریض اس نشے کا ساری زندگی کے لئے عادی ہو جاتا ہے تو میرے ڈاکٹر نے جواب دیا کہ ہسپتالوں میں مارفین کی مقدار بہت کم دی جاتی ہے اور اس سے مریض اس کا مستقل عادی نہیں ہوتا۔۔۔لیکن عام لوگ جب اسے بے تحاشا استعمال کرتے ہیں تو وہ پھر اس نشے کے عادی ہو جاتے ہیں ۔

میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ مارفین کے استعمال سے کیا ارد گرد والی خواتین بہت خوبصورت نظر ٓانے لگتی ہیں۔۔۔اس پر ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ مارفین کے استعمال سے مریض کی نفسیاتی صورت حال پر اثر پڑتا ہے۔۔۔ وہ ایک ایسی کیفیت میں چلا جاتا ہے کہ اسے ہر وہ چیز اپنے ارد گرد نظر ٓانے لگ جاتی ہے جس کی خواہش اس کے دماغ میں موجود ہوتی ہے۔۔۔اس لئے ایسا مریض جو کہ ہر وقت خوبصورت عورتوں کے بارے میں سوچ رہا ہوتا ہے اسے مارفین کا نشہ کرنے کے بعد ساری عورتیں خوبصورت نظر ٓانے لگتی ہیں۔

میرے ڈاکٹر کی اس گفتگو سے ٓاپ عمران نیازی کی حوروں والی پہیلی کا حل تلاش کر سکتے ہیں لیکن یہ بات زہن میں رکھیں کہ میرے کہنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ پاکستانی خلیفہ بھی مارفین کا نشہ کرتا ہے۔۔۔اس کے پاس عوامی چندے سے چلنے والااپنا زاتی ہسپتال ہے اور اپنے ڈاکٹر ہیں ۔۔۔ہو سکتا ہے کہ انہوں نے کینسر پر ریسرچ کرتے ہوئے کوئی ایسا مقامی نسخہ بھی ایجاد کر لیا ہو جو مکمل طور پر حلال ہو اور اسے استعمال کرنے سے عمران نیازی جیسے صادق اور امین بندے کو جیتے جی ہی حوریں نظر ٓا جاتی ہوں۔

بہر حال اگر شوکت خانم کے ڈاکٹر عاصم کے پاس اگر واقعی ایسا حلال ٹیکہ موجود ہے تو میری ان سے گزارش ہے کہ وہ اسے پورے ملک میں میڈیکل اسٹورز پر سستے نرخوں پر فراہم کریں تا کہ قبضہ گروپ کے ڈاکٹرائن باجوہ کے ٓاپریشن کی وجہ سے متاثر ہونے والے غریب پاکستانیوں کو بھی تھوڑا ریلیف ملے اور انہیں بھی اپنے ان گھروں میں حوروں والی سہولت مل جائے جو اس وقت دوزخ کا نمونہ بن چکے ہیں ۔

اگر ڈاکٹر عاصم کسی سیاسی مجبوری کی وجہ سے یہ سہولت پورے پاکستان کو نہیں دے سکتے تو کم از کم پی ٹی ٓائی کے ان بیروزگار نوجوان کارکنوں کو یہ ٹیکے فوری طور پر بیت المال کے خرچے پر لگوا دیں جنہوں نے اپنی حرکتوں سے اپنے والدین کی زندگی جہنم بنا دی ہے۔

بات ختم کرنے سے پہلے میں ڈاکٹر عاصم سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ وہ کوئی ایسا ٹیکہ بھی فوری طور پر ایجاد کر دیں جس کو لگوانے سے جرنیلی قبضہ گروپ کے دل میں پاکستان کے ٓائین کی سچی محبت جاگ جائے اور انہیں بلڈی سویلین بھی گوشت پوست کے انسان نظر ٓانے لگیں۔۔۔اور وہ ان سے اپنے جوتے پالش کروانے کی بجائے انہیں ایک ایسی جنت کی تعمیر کرنے دیں جس میں بیشک عمران نیازی والی حوریں نہ ہوں لیکن روٹی کپڑا اور مکان سب کے پاس ہو۔ کے لئے ایسی جنت کی تعمیر روٹی کپڑا اور مکان خود ان کے پھٹے پرانے کپڑوں کی مرمت شروع کرد یں

524 views