Search

عمران نیازی کے ساتھ کون“ زیادتی“ کر رہا ہے؟کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔23/06/2020


آج کھریاں کھریاں کا موضوع تو وہ جرنیلی واردت ہے جوماضی میں بہت سارے سیاستدانوں کے ساتھ ہو چکی ہے اور ان دنوں عمران نیازی کے ساتھ ہو رہی ہے ۔۔۔اس واردات کو عمران نیازی کے اپنے پرسنل ڈینٹسٹ اور صدر عارف علوی کی زبان میں گینگ ریپ کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔۔۔لیکن ابھی ابھی میں ٹویٹر پر ایک ٹوئیٹ دیکھی ہے جس میں جرنیلی پاکستان میں ایک عام فوجی سپاہی کی فضیلت اور عظمت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔۔۔اس خبر کے مطابق پاکستانی پولیس فوج سے تعلق رکھنے والے عام سپاہی کو بھی اس کے کمانڈنگ افسر کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کر سکتی۔


یہ خبر پڑھ کر میرے زہن میں ایک منظر ٓا گیا ہے جس میں ایک ٓاہنی گیٹ کو پھلانگ کر فوج کے عام سپاہی وزیر اعظم ہاوس میں داخل ہو رہے ہیں تا کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے اس وزیر اعظم کو گرفتار کیا جا سکے جس وزیر اعظم نے ان عام سپاہیوں کے باس کو ٓارمی کا بگ باس بنایا تھا۔

یہ خبر مکمل طور پر نئی خبر تو نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بھی یہ کوئی معمولی خبر نہیں ہے۔۔۔اس باسی خبر کے تازہ ایڈیشن میں ٓاپ سب کے لئے ایک وارننگ ہے ۔۔۔ اس خبر کی مدد سے ٓاپ کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ عزیز ہم وطنو یہ بات زہن میں اچھی طرح بٹھا لو کہ اگر کوئی فوج کا سپاہی یا افسر آپ کے ساتھ کوئی زیادتی کرے تو یہ جو دہشت گردی ہے ۔۔۔اس کے پیچھے وردی ہے والا نعرہ لگانے کی بجائے صبر اور شکر سے کام لیا کرو۔


اب ٓاتے ہیں آج کے موضوع کی طرف جسے میں نے نیازی کے دانتوں میں خلال کرنے والے صدر کی زبان میں گینگ ریپ کہا ہے۔۔۔ویسے مجھے زاتی طور پر تو یہ لفظ پسند نہیں لیکن مجبوری ہے کہ جن لوگوں کی بات کرنی ہے انہیں اسی طرح کے کام اور الفاظ پسند ہیں۔۔۔صدر عارف علوی نے ٹی وی انٹرویو کےدوران کرپشن کی ایک رپورٹ پر تبصرہ کرتےہوئے اس واردات کو گینگ ریپ کا ہی نام دیا تھا۔۔۔سیانے کہتے ہیں کہ بات کرتے ہوئے مخاطب کی علمی سطح کو دھیان رکھنا چاہئے اور جس بچے کو الف سے انڈا اور بے سے بوٹ اور ک سے ککڑی یاد کرایا گیا ہو تو اس بچے کے ساتھ بات کرتے ہوئے انڈے ککڑی اور بوٹ کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنا چاہئے۔


یو کے میں دیسی بندوں کا ایک گروہ کم عمر بچیوں کے ساتھ زیادتی میں ملوث پایا گیا۔۔۔اس زیادتی کی کہانی کچھ یوں ہے کہ کچھ عرصہ پہلے یوکے کی پولیس نے انگلینڈ کے علاقے روتھرم میں چائلڈ سیکس ابیوز کے جرم میں سات دیسی بندوں کو گرفتار کیا۔۔۔ان لوگوں کا جرم یہ تھا کہ کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے تھے ۔۔۔زیادتی کا شکار ہونے والی ایک لڑکی نے بتایا کہ سولہ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے سو سے زیادہ دیسی بندوں نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی۔

اس جرم کا تھوڑا سا پس منظر ٓاپ کو بتا دیتا ہوں تا کہ آپ کو پاکستان میں ایک ستر سالہ بوڑھا جو کہ زہنی اور جسمانی طور پر اب بھی ٹین ایجر ہے۔۔۔اس کے ساتھ ہونے والے جرنیلی گینگ ریپ کی واردات کی سمجھ آ سکے۔


یوکے کے کم عمر بچے شروع سے ہی فاسٹ فوڈ کھانے کے بہت شوقین ہوتے ہیں لیکن ان کی اکثریت جو کہ ایسے علاقوں میں رہتی ہے جہاں پر رہنے والے والدین اتنے خوشحال نہیں ہوتے کہ اپنے بچوں کو فراوانی سے اتنا جیب خرچ دے سکیں کہ وہ اپنا فاسٹ فوڈ کا چسکہ پورا کر سکیں۔۔۔ان علاقوں میں فاسٹ فوڈ کی زیادہ تر دکانیں دیسی لوگوں کے پاس ہوتی ہیں اور یوں ان دکانداروں کو ان بچوں کے قریب ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔۔۔ان فاسٹ فوڈ والے کاروباری لوگوں میں زیادہ تر بہت ہی نیک سیرت اور بال بچوں والے لوگ ہوتے ہیں لیکن اس طبقے میں بھی کچھ کالی بھیڑیں موجود ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو کہ اپنی زاتی ہوس کے لئے ان کم عمربچیوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔۔۔جب یہ بچیاں ان کی فاسٹ فوڈ شاپس میں چکن پیزا ، برگر اور فرائز وغیرہ لینے کے لئے ٓاتی ہیں تو یہ ان بچیوں سے مراسم بڑھا لیتے ہیں۔۔۔انہیں اکثر فاسٹ فوڈ بھی مفت میں دے دیتے ہیں یا پنجابی والے جھونگے کی شکل میں اضافی فرائز یا چکن کا پیس دے دیتے ہیں۔


ان بچیوں کے ساتھ دوستی بڑھانے کے بعد یہ ہوس کے پجاری ان بچیوں کو غلط کاموں کی ترغیب دیتے ہیں۔۔۔انہیں نشہ بھی مہیا کرتے ہیں اور پھر نشے کی حالت میں ان سے زیادتی کرتے ہیں۔۔۔یہ بچے اور بچیاں جب نشے کے عادی ہو جاتے ہیں تو پھر انہیں اپنی تمام ضروریات کے لئے ان درندوں کی ہر بات ماننی پڑتی ہے۔۔۔اس المناک کہانی کی اور بھی بہت سی جزیات ہیں لیکن وہ میرا ٓاج کا موضوع نہیں ہے۔۔۔اس لئے اب واپس چلتے ہیں کہ پاکستان میں جاری سیاسی بچوں کے گینگ ریپ کی طرف ۔۔۔ پاکستان کے زیادہ تر سیاستدان بھی اسی عمل سے گزرتے ہیں۔۔۔یوکے والے بچوں کی طرح یہ بھی ایسےلوگوں کے شکنجے میں آ جاتے ہیں جو ان کی وقتی ضرورتیں پوری کرتے ہیں اور پھر انہیں بھی کرسی کا نشہ لگا دیتے ہیں اور پھر ساری زندگی یہ لوگ اسی نشے پر لگے رہتے ہیں اور انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ نشہ مہیا کرنےوالے ان کے ساتھ اور ان کے ملک کےساتھ کیا زیادتی کر رہے ہیں اور انہیں کس طرح استعمال کر رہے ہیں۔


پاکستان کے یہ نشئی سیاستدان عمر کے اعتبار سے بچے نہیں ہوتے بلکہ زیادہ تر تو مصنوعی جوان ہوتے ہیں ۔۔۔مختلف قسم کے ٹیکے لگوا کر اور سولہ سنگھار کر کے باسی جوانی کو تازہ کرتے رہتے ہیں۔۔۔ ان کے پاس دولت بھی ہوتی ہے تو پھر سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ گینگ ریپ کرنے والوں کے ہتھے کیسے چڑھ جاتے ہیں۔

بات دراصل یہ ہے کہ یہ سیاستدان بالغ ہو جانے کے باوجود بھی بعض حوالوں سے یو کے والے ان بچوں کی طرح ہی ہوتے ہے جو فاسٹ فوڈ کے لئے تن من بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔۔۔فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ ان سیاستدانوں کی مجبوری فاسٹ فوڈ والی مجبوری نہیں ہوتی۔۔۔انہیں مزید دولت ،طاقت اور شہرت کی بھوک ہوتی ہے جو مٹنے کا نام ہی نہیں لیتی۔۔۔ان کی اسی بھوک سے فائدہ اٹھا کر جرنیلی گینگ ان کو اقتدار میں لا کر انہیں دولت، طاقت اور شہرت والا فاسٹ فوڈ دیتا ہے لیکن اس وٹے سٹے میں ان سے بہت کچھ لے لیتا ہے۔۔۔شریفانہ انداز میں یوں کہہ لیں ان سے بوٹ پالش کرواتا رہتا ہے۔

یو کے میں رہنے والے بچوں اور بچیوں کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں پر قانون کی حکومت ہے ۔۔۔بچے کافی حد تک محفوظ ہیں۔۔۔غیر تو کیا ان بچوں کے والدین بھی ان کے ساتھ وہ والی ماردھاڑ نہیں کر سکتے جو کہ پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک میں کلچر کا حصہ ہے۔۔۔جہاں پر والدین خود بھی اس کارِ خیر میں کھل کر حصہ لیتے ہیں اور پھر اپنے بچے کے استاد کو بھی کھلی چھٹی دے دیتے ہیں۔

یوکے میں تو پولیس ایسے جرائم کی اطلاع ملنے پر فورا حرکت میں ٓا جاتی ہے اور پنڈی ولاے ٹرپل ون بریگیڈ کی طرح گھر میں گھس بھی جاتی ہے لیکن بچے کو انصاف دلوانے کے لئے نہ کہ گھر پر قبضہ کرنے کے لئے۔

لیکن پاکستان کے سیاستدانوں کی بدقسمتی ہے کہ ان کے پاس ایس کوئی فورس نہیں جو انہیں ان سیاسی جرنیلوں کے شکنجے سے رہا کروا سکے۔۔۔اگر کوئی مسکین سیاستدان اس جرنیلی زیادتی کے خلاف ٓاواز اٹھانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے پھانسی گھاٹ تک پہنچا دیا جاتا ہے یا پھر پورے ٹبر سمیت کوٹ لکھپت جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔


پاکستان میں یوکے والا یہ child abuse ان دنوں بھی جاری ہے۔۔۔وہ سارے بچے جو کہ اب جرنیلی گینگ کے مطالبات ماننے سے انکاری ہیں وہ تو کسی نہ کسی شکنجے میں ہیں اور جو بچہ ان کے آگے لم لیٹ ہے وہ اس وقت وزیر اعظم ہاوس والی یونیورسٹی میں بوٹ پالش کرنے کے جدید طریقے سیکھ رہا ہے۔۔۔اس بچے کو بھی یوکے والے بچوں کی طرح لالچ دے کر ورغلایا گیا ہے اور ایک ایسے نشے پر لگا دیا گیا ہے جس کو پورا کرنے کے لئے اس کے پاس نہ تو وسائل ہیں اور نہ ہی اتنی ہمت کہ وہ اس نشے کی لت سے پیچھا چھڑا سکے۔

اس سیاسی بچے کو ابھی تک اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ وہ اپنے والدین اور اپنے جیسے دوسرے بچوں کے ساتھ کیا زیادتی کر رہا ہے۔۔۔ابھی اس بات کا امکان بھی نہیں ہے کہ اس بچے کو جلد ہوش ٓا جائے گا کیوں کہ اس کو نشہ دینے والے نان اسٹاپ ٹیکے لگا رہے ہیں اور انہوں نے اس کے ارد گرد فورتھ فلور پر بھی بہت سارے نشئی اکٹھے کر دئے ہیں جو کہ اس کے ساتھ ہر وقت دم مارو دم۔۔مٹ جائے غم گاتے رہتے ہیں۔


اس نشئی بچے کی وجہ سے نقصان ٓاپ سب کے بچوں کا ہو رہا ہے لیکن بد قستمی سے ٓاپ لوگ بھی اس زیادتی کو روکنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔۔۔یہ ایک ایسی زیادتی ہے جس کے خلاف آپ لوگوں کو خود کچھ کرنا ہوگا اور اسے روکنا ہوگا۔۔۔آپ اس زیادتی کی شکایت لے کر کسی ادارے کے پاس نہیں جا سکتے ۔۔۔عدالتی ہتھوڑا گروپ تو اپنے ہی لوگوں کے سر کچلنے میں لگا ہوا ہے وہ آپ کی مدد کیسے کر سکتا ہے۔۔۔ اور ویسے بھی اس گینگ کے لوگ بہت طاقتور ہیں ۔۔۔ان کی طاقت کے ثبوت کے طور پر ٓاپ نے وہ خبر بھی دیکھ لی ہے کہ کالی وردی والے تو اس گینگ کے عام سپاہی کو بھی گرفتار نہیں کر سکتے تو پھر ان عام سپاہیوں کے افسروں پر کون سا ادارہ ہاتھ ڈال سکتا ہے۔۔۔موٹر وے پر ایک فرض شناس افسر نے ایک بار فوجی افسر کو روکنے کی گستاخی کی تھی لیکن پھر اس فوجی افسر کے گروہ کے لوگوں نے سر عام اس گستاخ کی وردی پھاڑ کر رکھ دی تھی۔۔۔لاہور میں ایک بار پولیس والوں نے ایک جرنیلی فیملی کی شان میں گستاخی کی تھی جس پر تھانے کا سارا عملہ اغوا کر لیا گیا تھا۔


کالم کا دی اینڈ کرنے سے پہلے یہ کہنا بھی بہت ضروری ہے کہ فوج کے سپاہی اور اس کے افسر طاقتور ضرور ہیں۔۔۔پولیس اور نشئی سیاستدان ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے لیکن ٓاپ سب کے پاس اب بھی وہ طاقت موجود ہے جو ان جنات کو قابو کر سکتی ہے۔۔۔ یہ ایک ایسا اونچا پہاڑ ہے جسے صرف اور صرف ٓاپ سارے مل جل کر سر کر سکتے ہیں۔۔۔اپنے اپنے گھروں سے اس پہاڑ کی طرف مارچ شروع کر دیں۔۔۔یہ پہاڑ روئی کے گالے کی طرح اڑتا ہوا نظر آئے گا۔

1,200 views