Search

عاصم باجوہ کو کابینہ میں کیوں لانچ کیا گیا ہے؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔30/04/2020


جنرل عاصم باجوہ کی نئی تقرری کے حوالے سے ایک صاحب نے پوچھا ہے کہ ان کا حلقہ انتخاب کونسا ہے اور وہ اس عہدے پر فائز ہو کر پی ٹی ٓائی کی نمائندگی کریں گے یا فوج کی۔۔۔اسی طرح ایک صاحب پوچھا ہے کہ کیا اس تقرری کا مقصد یہ ہے کہ اب تحریک انصاف مکمل طور پر فوجی ملکیت میں جانے والی ہے۔۔۔ایک اور دوست نے پوچھا ہے کہ فوج کے پاس تو جرنیلوں کی فراوانی ہے تو ایسے میں عاصم باجوہ کو ہی کیوں چنا گیا ہے حالانکہ وہ تو سی پیک اتھارٹی میں فوج میلہ کر رہے تھے کام دھیلے کا نہیں تھا اور انہیں بغیر کسی کام کاج کے انہیں پینتیس لاکھ ماہانہ تنخواہ مل رہی تھی ۔۔۔تو اس صورت حال میں انہوں نے ایسی نوکری کیوں قبول کی ہے جس میں ہر وقت میڈیا کی بندوقوں اور کیمروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جہاں تک بات ہے جنرل عاصم باجوہ کے حلقہ انتخاب کی تو ان کا حلقہ انتخاب وہی جرنیلی حلقہ ہے جہاں سے بلا مقابلہ الیکشن لڑ کر پرویز مشرف پاکستان پر صدارت کرتا رہا ہے۔۔۔ٓاپ کو یاد ہو گا کہ جنرل پرویز مشرف نے وردی کو اپنی کھال اور فوج کو اپنا حلقہ انتخاب قرار دیا تھا۔۔۔یہ پاکستان کا واحد انتخابی حلقہ ہے جہاں پر امیدوار ریس میں اکیلا ہی دوڑتا ہے اور ہمیشہ پہلی پوزیشن لیتا ہے۔۔۔اس کی جیت کو کسی عدالت میں چیلنج ہونے کا بھی کوئی خدشہ نہیں ہوتا۔

اس حلقہ کے امیدوار کی ڈگری پر بھی نہ کوئی سیاسی جماعت اور نہ ہی عدالت سوال اٹھاتی ہے۔۔۔اسی لئے جنرل عاصم باجوہ نے بھی حکومت میں ٓانے کے لئے یہی شارٹ کٹ استعمال کیا ہے۔۔۔اگر وہ کسی سیاسی حلقے میں کاغذات نامزدگی داخل کرتے تو ان پر پہلا اعتراض یہ ہو سکتا تھا کہ ابھی انہیں فوج سے ریٹائر ہوئے دو سال نہیں ہوئے اس لئے وہ انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہیں لیکن اس فوجی حلقہ انتخاب سے بلا مقابلہ منتخب ہونے پر انہیں فوری طور پر ایک اہم وزارت کی کمانڈ بھی دے دی گئی ہے اور ان کی اس غیر قانونی تقرری کو ابھی تک کسی سیاسی جماعت نے قانونی چیلنج کیا ہے۔۔۔اور نہ ہی سپریم کورٹ کے ہتھوڑا گروپ نے اس پر کوئی نوٹس لیا ہے۔


جنرل عاصم کابینہ میں فوج کے اس گروپ کی نمائندگی کریں گے جس نے ان کی یہ نئی والی پوسٹنگ کی ہے ۔ اس پوسٹنگ کا فوری فائدہ تو یہ ہوا ہے کہ جنرل باجوہ کو عمران نیازی اور اس کے غیر فوجی درباریوں پر براہ راست نگرانی کا موقع مل گیا ہے۔۔۔جنرل عاصم باجوہ کی موجودگی میں عمران نیازی کو اپنے ان جرنیلی سرپرستوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے محتاط رہنا پڑے گا جن کے ساتھ اب وہ ایک پیج پر نہیں رہا اور اب اس کے لئے سوائے بنی گالہ اور اپنے کوک اسٹوڈیو کے کوئی ایسی جگہ نہیں بچی جہاں پر وہ بڑے باجوہ صاحب کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کر سکے۔

پچھلے کئی ہفتوں سے عمران نیازی نے فوجی پیج سے بے دخل کئے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایسی دھمکیاں دی تھیں جن سے جنرل باجوہ کے تاحیات اقتدار میں رہنے والے منصوبے کو خطرات لاحق ہو رہے تھے۔۔۔اسی لئے انہوں نے اب اپنا ایک اور طاقتور پہلوان جس پر انہیں دیگر ریٹائرڈ جرنیلوں سے زیادہ بھروسہ ہے اور اس کا تعلق بھی انہی کی باجوہ برادری سے ہے۔۔۔ اس میزائیل کو کابینہ اس کو کابینہ میں لانچ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عمران نیازی اور اس کے دندان ساز صدر کو کسی بھی تخریبی کاروائی کی صورت میں دندان شکن جواب دیا جا سکے لیکن یہ جواب اس طرح کا نہیں ہو گا جو کہ پرویز مشرف نے اپنی برطرفی پر نواز شریف کو دیا تھا۔


جنرل عاصم باجوہ کے پاس ہر طرح کا تجربہ ہے۔۔۔بطور ڈی جی ٓائی ایس پی ٓار انہوں نے سوشل میڈیا پر بڑی بڑی جنگیں لڑی ہیں۔۔۔شکریہ راحیل شریف والے مشن کا بھی سارا کریڈٹ انہی کو جاتا ہے۔۔۔جب یہ بلوچستان کے فوجی حکمران تھے تو انہوں نے وہاں بھی مظلوم بلوچوں کے خلاف ایک عرصے سے جاری جنگ میں بڑا اہم کردار ادا کیا اور نہ صرف بلوچوں کی مسخ شدہ لاشوں والا مشن انہوں نے زور و شور سے جاری رکھا بلکہ جرنیلی ایجنڈے کے خلاف بولنے والے بلوچوں کے اغوا کاروں کو بھی ہر طرح کی سہولتیں فراہم کیں۔۔۔بلوچستان میں سیاسی جوڑ توڑ میں بھی باپ کا کردار ادا کیا۔

جنرل باجوہ تو شاید انہیں کچھ عرصہ اور بلوچستان ہی میں رکھتے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ فوج میں صرف اس جرنیل کی ایکسٹینشن کا رواج ہے جس کے ہاتھ میں وہ والی چھڑی ہوتی ہے جس کی مدد سے پاکستانی بھینس قبضے میں ٓا جاتی ہے۔۔۔اور یہ چھڑی ان دنوں جنرل قمر جاوید باجوہ کے پاس ہے اور وہ اسے اپنے علاوہ کسی اور جرنیل کے لئے استعمال نہیں کر سکتے حتی کہ وہ اپنی باجوہ برادری سے تعلق رکھنے والے جرنیل کی بھی مدد نہیں کر سکتے۔


اس لئے جنرل عاصم باجوہ کو مجبورا مدت ملازمت پوری ہو جانے پر ریٹائر ہونا پڑا لیکن بڑے باجوہ صاحب نے باجوے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں گھر بھیجنے کی بجائے سی پیک والا محاذ ان کے حوالے کر دیا۔

ان دنوں سیاسی محاذ پر جنرل باجوہ کی پوزیشن بہت کمزور ہے۔۔۔انہوں نے عمران نیازی کی صورت میں یا حیات حکومت اور جرنیلی خوشحالی کے جو خواب دیکھے تھے وہ سارے چکنا چور ہو چکے ہیں اور اب تو صورت حال یہ ہے کہ جرنیلی کچن چلانے کے لئے کورونا والا امدادی سامان بیچ کر گزر بسر ہو رہی ہے۔

بہر حال میں بات کر رہا تھا جنرل باجوہ کی سیاسی محاذ پر کمزور پوزیشن کی۔۔۔جس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے انہیں ایکسٹینشن تو پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دی ہے لیکن یہ جماعتیں موجودہ خراب ملکی صورتحال میں قربانی کا بکرا بننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔۔۔جنرل باجوہ کے تعلقات عمران نیازی کے ساتھ بھی ٹھیک نہیں رہے اور انہیں اس کا متبادل بھی نہیں مل رہا اس لئے اس کڑے وقت میں جنرل باجوہ نے اپنی برادری کے جرنیل کو سی پیک والے محاذ سے اسلام ٓاباد ٹرانسفر کر دیا ہے۔

یہ ٹرانسفر غیر قانونی اور غیر ٓائینی ہے لیکن جنرل باجوہ کے لئے ٓائین اور قانون کی اہمیت نہیں انہیں بس اپنی جرنیلی حکومت پیاری ہے۔۔۔انہیں اندازہ ہے کہ جنرل عاصم باجوہ اس ضرب باجوہ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔۔۔ان کے پاس میڈیا کو لگام ڈالنے کا تجربہ بھی ہے ۔۔۔ سیاسی جوڑ توڑ میں بھی انہوں نے کافی نام کما رکھا ہے اور اس کے علاوہ انہیں جرنیلی حریفوں کو نامعلوم افراد کی مدد سے ٹھکانے لگانے کا فن بھی ٓاتا ہے۔

ان کے نام کے ساتھ باجوہ والا خطرناک ہتھیار بھی لگا ہوا ہے۔۔۔اس لئے جنرل عاصم باجوہ کابینہ میں بیٹھیں گے ۔۔۔عہدہ تو ان کا ایک وفاقی وزیر سے کم کا ہو گا لیکن ان کی جرنیلی پوزیشن اور باجوائی کنکشن کی وجہ سے وہ کابینہ میں سب سے اہم اور طاقتور نظر ٓائیں گے اور عمران نیازی کے وہ سارے مشیر اور وزیر جو کہ جہانگیر ترین کے جہاز میں یا ملٹری ہیلی کاپٹر میں لائے گئے تھے وہ سارے کے سارے نیازی کے ساتھ ساتھ جنرل باجوہ کی تابعداری پر مجبور ہو جائیں گے۔۔۔جنرل عاصم باجوہ کی حیثیت اب وہی ہو گی جو کہ تقسیم سے پہلے برطانیہ کی نمائندگی کرنے والے وائسرائے کی ہوا کرتی تھی۔


جنرل عاصم باجوہ میڈیا کو تو خیر چٹکی بجا کر فوجی صراطِ مستقیم پر رواں دواں کر لیں گے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی امکان ہے کہ اگر اگلے چند ہفتوں میں کورونا والی لڑائی تھم جانے کے بعد بھی اگر جنرل باجوہ کو نئے سیاسی مزدور میسر نہ ٓائے تو پھر ان کی کوشش ہو گی کہ کسی طرح تحریک انصاف کو جنرل عاصم باجوہ کی مدد سے فوجی ملکیت میں لے لیا جائے ۔


جنرل عاصم باجوہ کے پاس سیاسی جماعتیں توڑنے پھوڑنے کا تجربہ بھی موجود ہے اور وہ اپنے جرنیلی عہدے، باجوائی ایکسٹینشن اور حکومتی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے جنرل باجوہ کے اس خواب کو تعبیر دینے کی پوری کوشش کریں گے اور اس میں کامیاب بھی ہو سکتے ہیں کیوں کہ نہ صرف ان کے پاس ہر طرح کی طاقت اور وسائل ہیں بلکہ تحریک انصاف کے بورڈ ٓاف ڈائرکٹرز کا سب سے اہم ڈائرکٹر جہانگیر ترین اس کی ٹیم اور اس کا جہاز بھی اس جرنیلی مشن میں مدد دینے کے لئے تیار ہیں ۔

1,771 views