Search

عارف وزیر کی بیٹی اور معصوم اریبہ کو انصاف کون دے گا؟۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔06/05/2020


سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم کے قتل ہونے والے رہنما عارف وزیر کی کم سن بچی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے۔۔۔اس ویڈیو میں اس معصوم اور مظلوم بچی سے جب اس کے مقتول باپ عارف وزیر کے بارے میں پوچھا گیاکہ اس کو کس نے مارا ہے تو وہ جواب میں کہتی ہے کہ پاکستان کے فوجیوں نے مارا ہے۔۔۔پھر پوچھا جاتا ہے۔۔کہاں پر شوٹ کیا ہے تو بچی جواب دے رہی ہے سرکے اوپر

پھر سوال کرنے والا پوچھتا ہے ۔۔پھر ڈاکٹر نے پٹی وٹی کی ہے۔۔۔عارف وزیر کی بیٹی کہہ رہی ہے سر پر پٹیاں تھیں۔مجھے نہیں پتہ لیکن سر زخمی تھا۔۔۔پھر سوال پوچھا گیا کہ اب کہاں ہے تو بچی کہہ رہی ہے کہ ڈاکٹر نے بستر پر سلایا ہے اور اسکے پاوں پھیلا دئیے ہیں ۔۔۔سوال کرنے والا پھر کہتا ہے ۔۔۔ تو یہ جو پاکستان نے مارا اُسے ۔۔وہ تو اچھا ٓادمی تھا یہ پاکستان اچھے لوگوں کو کیوں مارتا ہے تو اس پر عارف وزیر کی بچی کہہ رہی ہے اسلئے مارا کہ وہ بہت بولتا تھا۔


اس معصوم بچی کا سادہ لہجہ بناوٹ سے پاک ہے اور چہرے کے تاثرات سے بھی پتہ چل رہا ہے کہ یہ بچی سچ بول رہی ہے اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بتا رہی ہے کہ اس کے خیال میں اس کے باپ عارف وزیر کو کس نے گولی ماری ہے اور کیوں گولی ماری ہے۔

اسی طرح ایک اور ویڈیو ان مظلوم بچوں کی بھی ہے جن کے والدین کو سرکاری ادارے نے دہشت گرد کہہ کر قتل کر دیا تھا۔۔۔قتل کی یہ واردات جنوری دوہزار انیس میں قومی شاہراہ پر ساہیوال کے قریب ہوئی اور اس میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کو جن میں خواتین بھی شامل تھیں انہیں دہشت گرد قرار دے کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔۔۔ہلاک ہونے والوں میں تیرہ سال کی بچی اریبہ بھی شامل تھی۔

بعد میں اصل حقائق سامنے ٓانے پر اور عوامی احتجاج کو دیکھتے ہوئے ان چھ اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔


ان دونوں ویڈیوز میں چھوٹے بچےاپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف ٓاواز بھی اٹھا رہے ہیں اور انصاف کے بھی طلبگار ہیں۔۔۔پہلا واقعہ جو وزیرستان میں ہوا اس میں تو عارف وزیر کی بچی کے لئے ابھی انصاف کا پہلا تقاضا بھی پورا نہیں ہوا۔۔۔ نیو مدینہ کے خلیفہ اور اس کے درباریوں نے اور اس کے سرپرستوں نےاس قتل کے حوالے سے کوئی تعزیتی بیان تک جاری نہیں کیا اور نہ ہی اس واقعے کی خبر میڈیا میں نشر ہونے دی ہے بلکہ اس قتل کو اپنے سوشل میڈیا بریگیڈ کی مدد سے ایسا رنگ دے رہے ہیں جس سے مظلوم خاندان کی داد رسی ہونے کی بجائے ان کے زخموں پر مزید نمک چھڑکا جا رہا ہے۔


سانحہ ساہیوال جب ہوا تو عمران نیازی اور اس کے درباریوں نے مگر مچھ والے ٓانسو بھی بہائے اور اس بات کے دعوے بھی کئے کہ ان قاتلوں کو سزا دی جائے گی لیکن اکتوبر دوہزار انیس میں لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ثبوت ناکافی ہونے کی بنیاد پر ان اہلکاروں کو بری کر دیا۔۔۔عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ تحریر کیا کہ استٖغاثہ جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔۔۔حالانکہ اس سارے واقعے کی ویڈیو فوٹیج میں اس قتل کی واردات کے سارے ثبوت موجود تھے لیکن اس کے باوجود یہ اہلکار سزا سے بچ گئے اور اس پر ستم یہ ہے کہ مقتول محمد خلیل کے بھائی نے اس عدالتی فیصلے کو تسلیم کر لیا اور اپیل نہ دائر کرنے کا بھی عندیہ دیا۔

یہ یتیم اور بے ٓاسرا بچے سراپا احتجاج ہیں اور انصاف کے نام پر سیاست کرنے والوں سے انصاف مانگ رہے ہیں۔۔۔ان کی ٓاہ و زاریاں سن کر ابھی تک اس نیو مدینہ کی ریاست اور اس کے سرپرستوں کے دلوں میں رحم نہیں جاگا کیوں کہ وہ ان دنوں محمد بن قاسم کی سندھ پر یلغار کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنانے میں مصروف ہیں۔۔۔ ساہیوال والامعاملہ چونکہ مک مکا والی پالیسی کے تحت حل کیا گیا ہے اس لئے میری زاتی رائے میں ان بچوں کو اس ریاست کی طرف سے کبھی انصاف نہیں ملے گا ۔


یہ بچے اپنے ہاتھوں ان قاتلوں کو پھانسی دینا چاہتے ہیں۔۔۔بچوں کی طرف سے غم وغصے اور بدلے کی اس ٓاگ کے شعلے دیکھ کر دل خون کے ٓانسو روتا ہے۔۔۔ان بچوں کی قاتلوں کو اپنے ہاتھوں سزا دینے کی خواہش بجا ہے لیکن ان معصوموں کو کیا پتہ کہ قتل کرنے والوں کے ہاتھ پاکستان کے عدالتی انصاف سے بہت لمبے ہیں۔۔۔یہ عدالتیں ملک کے وزیر اعظم کو تو پھانسی دے سکتی ہیں۔۔۔۔لیکن ان وردی والے قاتلوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔

393 views