Search

طیارے کی کریش لینڈنگ کا زمہ دار کون ہے؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد ۔۔۔23/05/2020


جہاز کے کریش ہونے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے لیکن تازہ ترین واقعے نے بہت ڈسٹرب کیا ہے۔۔۔اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ اس بد قسمت جہاز کے گرنے کی ساری کاروائی کیمرے کی ٓانکھ میں محفوظ ہے اور پھر یہ گرا بھی شہری ٓابادی پر ہے جس کی وجہ سے اس کے ملبے اور امدادی کاروئیوں کے دل دہلا دینے والے مناظر بھی فوری طور پر سوشل میڈیا پر پھیل گئے۔۔۔ اس المناک حادثے کی ویڈیوز دیکھ کر دل بہت رویا ہے۔

سوچ رہا ہوں کہ اس جہاز میں سفر کرنے والوں کا اور اس کے عملے کا کیا قصور تھا۔۔انہوں نے تو عید کے استقبال کے لئے ساری تیاریاں کر رکھی تھیں۔۔۔اپنے پیاروں کے ساتھ عید منانے کے لئے وہ اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔۔۔انہیں کیا خبر تھی کہ پی ٓائی اے کا یہ جہاز ان کے لئے موت کا فرشتہ بن جائے گا۔

اس کے علاوہ مجھے ان لوگوں کو بھی بہت زیادہ دکھ ہے جو کہ اس جہاز کے گرنے سے جاں بحق ہوئے ہیں۔۔۔اس جہاز نے گرتے گرتے اپنے مسافروں اور عملے کو تو موت کے گھاٹ اتار دیا لیکن ساتھ ساتھ ان لوگوں کے لئے بھی قیامت برپا کر دی جو کہ اپنے اپنے گھروں میں عید کی تیاریوں میں مصروف تھے۔۔۔ ان بیچاروں کا کیا قصور تھا جو کہ اپنے اپنے گھروں میں تھے اور اس حادثے کے نتیجے میں ان کے پیارے ان سے بچھڑ گئے۔۔۔بہت سارے زخمی ہو گئے ہیں اور ان کے گھر بار کو بھی بہت نقصان پہنچا ہے۔

اس جہاز کے بارے میں میڈیا میں جو خبریں گردش کر رہی ہیں ان سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ پی ٓائی کی بد عنوان انتظامیہ نے جان بوجھ کر ان مسافروں کو اور اپنے عملے کو موت کے منہ میں دھکیلا ہے۔۔۔اس جہاز کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ پرواز کے لئے موزوں نہیں تھا۔۔۔ اس جہاز میں سفر کرنے والے ایک مسافر کے دوست نے اپنے ٹویٹ میں زکر کیا ہے کہ پی آئی اے طیارے حادثےمیں میرا کزن فرحان شہید ہوگیا۔۔۔جہاز میں بیٹھ کر اُس نےگھر والوں کو فون کیا کہ طیارہ مرمت ہو رہا ہے اِس لیے ٹیک آف میں دیر ہوگی۔۔۔ایوی ایشن کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کو میں نے ٹی وی پر اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے بھی سنا اور ان کی گفتگو کا لب لباب یہی تھا کہ اس طیارے کو پرواز کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے تھی۔

جیو نیوز کے رپورٹر افضل ندیم ڈوگر کی رپورٹ کے مطابق طیارے نے کریش کے انیس منٹ قبل ہنگامی لینڈنگ کی کوشش بھی کی گئی لیکن ائیر پورٹ پر ایمر جینسی لینڈنگ کے لئے ضروری انتظامات نہیں کئے جا سکے جس کی وجہ سے پائلٹ نے دوبارہ ٹیک ٓاف کر لیا۔۔۔اسی حوالے سے ایک خبر یہ بھی ہے کہ جب پائلٹ نے کراچی پہنچ کر لینڈ کرنے کی کوشش کی تو وہ طیارے کے پہیے کھولنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔

اس جہاز کی کریش لینڈنگ کے حوالے سے جو رپورٹ میڈیا میں ہے اس کے مطابق اس جہاز کے پائلٹ نے جہاز کے پہئے کھولنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔۔۔سسٹم کو پمپ بھی کیا جس سے جہاز کے پہئے تو کھل گئے لیکن اس وقت تک جہاز کا ایک انجن کام کرنا بند کر چکا تھا۔۔۔پائلٹ نے انجن کے فیل ہونے کی اطلاع کنٹرول ٹاول کو دی اور کوشش کی کہ جہاز کو ائیر پورٹ تک لے جائے لیکن اسی دوران دوسرا انجن بھی فیل ہو گیا اور پھر جہاز اس المناک حادثے کا شکار ہو گیا۔


ایک صاحب نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کراچی جیسے اہم اور مصروف ائیر پورٹ پر ہنگامی کریش لینڈنگ کے انتظامات کیوں موجود نہیں تھے۔۔۔بین القوامی ایوی ایشن کے قوانین کے مطابق ایسی لینڈنگ کے لئے تین سے پانچ منٹ میں انتظامات مکمل ہو جانے چاہیں لیکن کراچی ائیر پورٹ پر اس طیارے کو بیس منٹ تک انتظار کرنے کے باجود بھی اس طیارے کے لئے ہنگامی لینڈنگ کے انتظامات کیوں نہیں کئے جا سکے۔۔۔اگر فوری پر کریش لینڈنگ کے انتظامات کر دئیے جاتے تو اس طیارے کو شہری ٓابادی کی طرف جانے اور گرنےسے بچایا جا سکتا تھا۔۔۔ہنگامی لینڈنگ کی صورت میں جو بھی نقصان ہوتا وہ صرف ائیر پورٹ تک محدود رہتا اور شہری ٓابادی کو اس سے محفوظ رکھا جاسکتا تھا۔

پاکستان ایئر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے بھی اس طیارہ حادثے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے اور ایک بیان جاری کیا ہے جس مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس حادثے کی تحقیقات بین القوامی معیار کے مطابق کی جائیں۔۔۔پالپا کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اس تحقیقات کے لئے حساس اداروں اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف ائیر لائن ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔

پالپا کے اس مطالبے کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے اسے یکسر نظر انداز کرتے ہوئے پی ٓائی کے سربراہ نے اپنی مرضی کے لوگوں کو اس تحقیقات کے لئے نامزد کر دیا ہے۔

قومی ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ارشد ملک کا یہ بھی کہنا ہے کہ میں ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ دار کو احتساب کے لیے پیش کروں گا ۔۔۔مجھے ان کی اس بات پر زیادہ یقین نہیں کیوں کہ ان کی اپنی تعیناتی مشکوک ہے اور جس طرح انہوں نے پی ٓائی اے پر قبضہ کرنے کے بعد اس میں اپنے ادارے سے لوگوں کو امپورٹ کیا ہے اور پھر تحقیقات بھی انہیں لوگوں کے سپرد کر دی ہیں۔


اس المناک حادثے کے حوالے سے کمیٹی کمیٹی اور کمیشن کمیشن کھیلنے والے حکومتی کام بھی شروع ہو چکا ہے اور ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ کی ایسی ٹیم بنا دی گئی ہے جو کہ اتنی صلاحیت نہیں رکھتی کہ وہ اس حادثے کی غیرجانبدارانہ تحقیق کر کے اس کے زمہ داروں کا تعین کر سکے۔۔۔اس ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ میں پی ٓائی کے سربراہ نے ایسے لوگوں کو شامل کیا ہے جوکہ ان کے فضائیہ کے ماتحت ہیں۔۔۔عہدے میں ان سے بہت چھوٹے ہیں اور یہ تو ٓاپ کو پتہ ہی ہے کہ پاکستانی وردی والے اداروں میں اپنے سے بڑے افسر کو صرف سلیوٹ کیا جا سکتا ہے۔۔۔اس کی کسی کوتاہی پر اس کی گرفت نہیں ہو سکتی۔

اسی طرح نیو مدینہ کے دو نمبر خلیفہ نے بھی اس حادثے پر سوائے ٹویٹ کرنے کے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ عمران نیازی جب اپوزیشن میں دھرنا سیاست کیا کرتا تھا تو اس کا ایسے کسی بھی حادثے کی صورت میں وہ اس ادارے کے وزیر سے لے کر ملک کے وزیر اعظم کو اس کا زمہ دار ٹھہرا دیا کرتا تھا۔۔۔بڑے جذباتی انداز میں مغربی ممالک کی مثالیں دیا کرتا تھاکہ ان ممالک میں ایسے حادثوں کی صورت میں حکومتی وزیر اپنی نااہلی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی وزارتیں چھوڑ دیا کرتے ہیں ۔

عمران نیازی کو اپنے استعفی والے فرمان کی روشنی میں تو اب تک وزیر اعظم ہاوس سے ہجرت کر کے بنی گالہ چلے جانا چاہئے تھا لیکن ایسا ابھی تک نہیں ہوا اور نہ ہی ایسے کسی غیرت مندانہ قدم کی اس سے ٓانے والے دنوں میں امید کیجا سکتی ہے

اس طیارے والے حادثے کے علاوہ بھی اس کے دور میں ٹرین کے ان گنت حادثے ہو چکے ہیں لیکن اس وزارت کا انچارج جسے ٓاپ لوگ شیدا ٹلی کے نام سے بھی جانتے ہیں وہ نہ صرف اس وزارت میں موجود ہے بلکہ پہلے کی طرح نئے حادثات کی پلاننگ میں مصروف ہے۔۔۔کورونا کے حوالے سے اس لالچی انسان نے انسانی جانوں کی فکر کرنے کی بجائے ٹرینیں چلانے کی اجازت اس بنیاد پر مانگی ہے کہ اس کی وزارت کو بہت زیادہ گھاٹا ہو رہا ہے۔

اسی طرح اس طیارے والے حادثے پر بھی عمران نیازی کے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرورنے استعفی نہیں دیا اور وہ بھی اپنے یو ٹرن باس کی طرح کرسی پر بیٹھ کر فوج میلہ کر رہا ہے۔۔۔رہی بات مقبوضہ پاکستان کے اصلی وردی والے حاکم کی تو اسے بیچارے کو ابھی ایکسٹینشن کا وائرس لگا ہوا ہے اور اسے فوجی حکیموں نے ہدائت کر رکھی ہے کہ اس نے مئی کے مہینے میں بہت زیادہ احتیاط سے کام لینا ہے اور سیاسی حکومت سے سوشل ڈسٹینسنگ والی پالیسی پر سختی سے عمل کرنا ہے تا کہ اس کی ایکسٹینشن کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔


البتہ اس نے اپنے وردی والے فن کاروں کو فوٹو شوٹ کے لئے جائے حادثہ پر بھیج دیا تھا اور انہوں نے امدادی کاروائیوں کی سیلفیاں بنا کر عوام میں پھیلا دی ہیں تاکہ بھولے بھالے عوام ان امدادی کاروائیوں کے صدقے میں یہ سوالات نہ کریں کہ حادثہ کیوں کر ہوا اور اس حادثے میں اس گینگ کا کتنا ہاتھ ہے جسے اس کے قبضہ گروپ نے پی ٓائی اے پر مسلط کیا ہے۔

جاتے جاتے ایک بات اور بتا دوں کہ جہاں پورا پاکستان اس حادثے پر سوگ میں ہے وہیں کرنل کی بیوی اور پاکستان کے وہ ادارے جو لڑکی کے بھائی کے کور میں جرنیلی ایجنڈے کے مخالفین کی مرمت کرتے ہیں وہ بہت خوش ہیں کہ اس حادثے کی وجہ سے کرنل کی بیوی اور کرنل کے سرپرستوں ہونے والی نان اسٹاپ عوامی گولہ باری مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔

1,313 views