Search

صدر عارف علوی اور جنرل فیض حمید کی اہم ملاقات۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 22/04/2020



دو روز پہلے ایک گونگی ویڈیو جاری کی گئی۔۔۔اس ویڈیو میں عمران نیازی ،عارف علوی اور پاکستان کا جاسوسِ اعلی جنرل فیض حمید دکھائی دے رہے ہیں۔۔۔ویسے تو عام حالات میں اس طرح کی ملاقاتیں اور ان کی ویڈیو کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی لیکن چونکہ اس وقت ایک پیج پر بھنگڑے والوں کے درمیان رنجشیں چل رہی ہیں۔۔۔اس لئے اس ویڈیو کی بہت اہمیت ہے۔


اس ملاقات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ اس میں حاضری کے لئے عمران نیازی کو اپنے اس صدر کے صدارتی محل میں چل کر جانا پڑا جس صدر کی اس کی نظر میں ایک زاتی ملازم سے زیادہ اہمیت نہیں ہے۔۔۔اگر ٓاپ لوگوں کو وہ تقریب یاد ہو جس میں اس نے عارف علوی کے صدارتی منصب کا کوئی لحاظ نہیں کیا اور سعودی مہمان کے سامنے جھڑک دیا تھا اور عارف علوی کو مسٹر پریزیڈنٹ کہہ کا ایڈریس کرنے کی بجائے کہا کہ عارف اٹھ کر تقریر کرو۔۔۔میں نے پاکستان کے بہت سارے بے بس اور مسکین صدور کو دیکھا ہے بلکہ ایک صدر کے بارے میں تو یہ لطیفہ بھی سن رکھا ہے کہ وہ اپنے صدارتی محل کے باہر رات کی تاریکی میں خود ہی وال چاکنگ کیا کرتا تھا کہ صدر کو رہا کرو۔۔۔ان دنوں عارف علوی کی جو صدارتی حیثیت ہے وہ اس لطیفے والے صدر سے بھی گئی گزری ہے۔


اب ٓاپ سوچیں کہ عمران نیازی جیسا متکبر انسان اگر اپنے ملازم کے سرونٹ کوارٹر میں جانے پر مجبور ہو کر دیا گیا ہے تو اس معاملے کی اہمیت کتنی زیادہ ہو گی۔


اصولی طور پر تو اس میٹنگ میں جنرل باجوہ کو ہونا چاہئے تھا لیکن اب عمران نیازی کی ساکھ پاکستانی روپے کی طرح بہت گر چکی ہے اس لئے جنرل باجوہ نے اپنے ایک ماتحت کو اس میٹنگ کے لئے بھیجا ہے۔


اس مختصر ویڈیو میں جنرل فیض اور عمراننیازی کے درمیان ایک بار بھی ٓائی کانٹیکٹ نہیں دکھایا گیا۔۔۔عمران نیازی اور جنرل فیض دونوں ہی صدر عارف علوی کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں اور عمران نیازی تو ایسا لگتا ہے کہ اس نے منہ بھی پھلا رکھا ہے۔


پاکستانی ریاستی اسٹرکچر میں عارف علوی کی حیثیت پوسٹ ماسٹر سے زیادہ نہیں لیکن اس میٹنگ میں ملک کا وزیر اعظم اور ٓائی ایس ٓائی کا سربراہ دونوں صدرعارف علوی سے اس طرح مخاطب ہیں جیسے وہ کسی اہم مسئلے کی ثالثی کے لئے صدارتی پنچایت میں ٓائے ہوئے ہیں۔


اس میٹنگ میں کس مسئلے پر بات ہوئی ہے اس کے بارے میں تو دونوں فریقوں نے کوئی وضاحت نہیں کی لیکن سیاسی دانشوروں کا یہی خیال ہے کہ جرنیلی حکومت نے اپنی دونوں کٹھ پتلیوں کو اس لئے اکٹھا کر کے بات کی ہے تا کہ کسی قسم کا کنفیوزن باقی نہ رہے اور عمران نیازی کو اپنے صدر کے اصل کردار کا بھی پتہ چل جائے کہ وہ جرنیلی مفاد میں اس کی بھیجی ہوئی کسی ایسی سمری پر دستخظ نہیں کرے گا جو کہ جرنیلی ایجنڈے کے خلاف ہو گی۔۔۔پنجابی محاورے میں یوں کہہ لیں کہ اس دندان ساز صدر نے بتیسی نکالتے ہوئے عمران نیازی کو کہا ہوگا۔۔۔جاگدے رہناں تے ساڈے تے ناں رہناں


ایم جے ٹی وی پر اپنے سیاسی تجزئیے پیش کرنے والے ایک بہت ہی معتبر صحافی مطیع اللہ جان نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ یہ میٹنگ پاکستان میں ٓائینی ایمرجینسی نافذ کی تیاری ہے۔۔۔اس بار ایمر جینسی پلس نہیں لگے گی بلکہ ٓائینی ایمرجینسی کا نفاذ ہو سکتا ہے۔۔۔میری زاتی رائے میں تو اس ایمر جینسی کی صورت میں بھی نقصان عمران نیازی کا ہوگا اور اس کے پاس جو تھوڑے بہت نمائشی اختیارات رہ گئے ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گے اور اس ایمر جینسی کے بعد اس کا وہ صدارتی ملازم بھی اس کے کنٹرول سے باہر ہو جائے گا جس سے ون ٹو ون ملنے کی بھی اب اسے اجازت نہیں ہے۔


آج کا دوسرا موضوع بھی اسی دندان ساز صدر کی ایک غیر قانونی حرکت کے بارے میں ہے ۔


یقینا ٓاپ سب کے علم میں ہو گا کہ پاکستان میں معلومات تک رسائی رائٹ ٹو انفرمیشن کا ایک قانون موجود ہے اور اس قانون کے تحت کسی بھی حکومت ادارے سے ٓاپ معلومات لے سکتے ہیں۔۔۔یہاں کسی بھی ادارے سے مراد خلائی مخلوق کا ادارہ نہیں ہے۔۔۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ٓاپ اس قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے اس ادارے سے ان کے بجٹ کے بارے میں یا مسنگ پرسنز کی کوئی معلومات مانگ لیں اور پتہ چلے کہ معلومات کے ٓانے سے پہلے ٓاپ بھی مسنگ پرسن کی فہرست میں شامل کر دئیے گئے ہیں۔۔۔اس رائٹ تو انفرمشن کا اطلاق صرف مسکین سول محکموں پر ہوتا ہے۔۔۔ان طاقتور لوگوں سے تو پاکستان کی پارلیمنٹ بھی کسی قسم کا سوال جواب نہیں کر سکتی۔


بہر کیف چند ماہ پہلے ایک پاکستانی شہری مختار احمد علی نے معلومات تک رسائی رائٹ ٹو انفرمیشن کے قانونی حق کو استعمال کرتے ہوئےصدر عارف علوی کو ٓاٹھ سوال بھیجے اور یہ جاننا چاہا کہ صدارتی محل میں کتنے لوگ کام کر رہے ہیں۔۔۔اس وقت کنٹریکٹ کی بنیاد پر کتنے ملازم ہیں۔۔۔خالی ٓاسامیاں کتنی ہیں۔۔۔جنوری دو ہزار سترہ کے بعد سے نئی اسامیاں کتنی ہیں اور مختلف عہدوں پر کتنی خواتین کام کر رہی ہیں اور کتنے معزور اور خواجہ سراوں کو نوکریاں دی گئی ہیں اور ساتھ ہی درخواست گزار نے سروسز رولز کی مصدقہ نقل بھی مانگی


ان سارے سوالات میں ایک بھی سوال ایسا نہیں کہ جس سے قومی سلامتی یا صدارتی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہو۔۔۔پاکستان کے موجودہ قانون کے مطابق یہ معلومات دس روز کے اندر دی جانی چاہیئے تھیں لیکن صدر عارف علوی کے عملے نے اس شہری کی قانونی درخواست کو ماننے سے انکار کر دیا


جب یہ شہری پاکستان انفرمیشن کمیشن کے پاس گیا اور پی ٓائی سی نے اس درخواست پر عمل درآمد کے لئے صدارتی سیکریٹیریٹ سے رابطہ کیا تو اس ادارے کو فوری طور پر جواب دینے کی بجاے پہلے تو چھ ماہ تک اس معاملے کو اسی طرح لٹکائے رکھا جس طرح عمران نیازی نے اپنے فارن فنڈنگ والے کیس کو کئی سالوں سے لٹکا رکھا ہے۔۔۔چھ ماہ ضائع کرنے کے بعد پی ٓائی سی کو جواب دیا گیا اور کہا گیا کہ رائٹ ٹو انفرمیشن والا قانون ہم پر لاگو نہیں ہوتا۔۔۔اس صدارتی ہٹ دھرمی کو پاکستان انفرمیشن کمیشن میں چیلینج کیا گیا تو تو پی ٓائی سی کے تین رکنی کمیشن نے فیصلہ دیا کہ پاکستانی شہری کی درخواست کو نہ مان کر صدارتی سیکریٹیریٹ نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔


اس ساری کاروائی سے ٓاپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نیو مدینہ کے حکمران اور اس کے کارندے کتنے صاف اور شٖفاف طریقے سے کام کر رہے ہیں ۔۔۔سپریم کورٹ کے ہتھوڑا گروپ نے بھی اس حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھا رکھے ہیں ۔عمران نیازی کنٹینرز پر سیاسی مخالفین سے دادا پردادا کے زمانے کے کاروبارکی بھی رسیدیں مانگا کرتا تھا اور اس کااپنا کردار یہ ہے کہ فارن فنڈنگ والے کیس کو کئی سالوں سے لٹکا رکھا ہے۔۔۔صدارتی عملے کی تفصیلات چھپانے والے اس نئے انکشاف سے نیومدنیہ کے صدر کی ایمانداری کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔


یہی صورت حال ٓاٹا اور چینی والے معاملے کی ہے۔۔۔اس حوالے سے رپورٹ تو کئی ماہ پہلے تیار ہو چکی تھی لیکن اسے بھی ہر ممکن کوشش کر کے منظر عام پر ٓانے سے روکا گیا لیکن جب خلائی مخلوق نے اسے لیک کروا دیا تو پھر اس کو سامنے تو لایا گیا لیکن اب بھی پوری کوششیں جاری ہیں کہ اصل مجرموں کو بچا لیا جائے ۔۔۔پاکستانی عوام کی ساری توجہ جہانگیر ترین کی طرف کروا دی گئی ہے حالانکہ اس کا کردار تو اس چور کا ہے جو گودام میں سے چینی چوری کرنے کا مرتکب ہوا ہے لیکن بڑا مجرم تو وہ ہے جس نے اس گودام کا تالہ کھول کر اسے چوری کرنے کی اجازت بھی دی اور چوری کا مال لے جانے کے لئے سرکاری وسائل بھی مہیا کئے۔

ٓ


ٓاٹا چینی کے بعد اب بجلی بنانے والی کمپنیوں کے اسکینڈل میں بھی عمران نیازی کے وزیروں اور مشیروں کے نام ٓا رہے ہیں۔۔۔اس سے پہلے فردوس عاشق اعوان جو کہ خود بھی نیب زدہ ہے ،اس نے بھی اپنے ایک رشتہ دار کو بھاری معاوضے پر نوکری دلوائی ہے۔۔۔زرتاج گل وزیر کی ہمشیرہ کو بھی نوازا جا چکا ہے۔۔۔ فوجی بوٹ والے فیصل واوڈا کی دوہری شہریت کا کیس بھی زیر سماعت ہے۔۔۔ٹنل والے وزیر کی ڈگری اور چال چلن دونوں ہی مشکوک ہیں۔۔۔۔ایک وزیر شہد کی بوتلیں ایکسپورٹ کرتے ہوئے پکڑا گیاتھا۔۔۔عمران نیازی کے زاتی استعمال کی ادویات فراہم کرنے والا سیاسی ملازم عامر کیانی جو کہ پاکستان کا وزیر صحت بھی تھا وہ بھی ادویات کی قیمتوں کے اسکینڈل میں ملوث رہا ہے۔ ۔۔۔ وزیر دفاع خٹک بھی نیب کی ویٹنگ لسٹ پر ہے ۔۔۔ اس کا غیر اعلانیہ داماد بھی سر تا پیر کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے ۔۔۔ سلائی مشین والی خان سسٹرز نے بھی بھیا کی مدد سے اپنے غیر ملکی اثاثوں کو قانونی حیثیت دلوائی ہے۔۔۔یہ فہرست شیطان کی ٓانت کی طرح طویل ہے۔۔۔ اس لئے عمران نیازی اور اس کے سیاسی عزیز و اقارب کی پوری فہرست دینے کی بجائے مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ بات اسی جملے پر ختم کرنی پڑے گی


سارا ٹبر چور اے

2,451 views