Search
  • RMTV London

شہباز شریف کی ہنگامی واپسی کیوں ہوئی؟۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 22/03/2020


ن لیگ کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بالاآخر پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں۔۔۔ان کی واپسی بوٹ پالش حکومت کے لئے تو کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔۔۔عمران نیازی اور اس کے درباریوں کی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح شہباز شریف کو واپس ٓانے سے روک سکیں لیکن جس طرح یہ شریف برادران کو جانے سے روکنے میں ناکام رہے اور عمران نیازی بنی گالہ کی پہاڑیوں سے حسرت بھری نظروں سے میاں برادران کے جہاز کی روانگی کا منظر دیکھتا رہا اسی طرح عمران نیازی اور اس کے درباریوں کو شہباز شریف کو روکنے میں ناکامی ہوئی ہے۔


وفاقی وزیر فواد چوہدری نے تو شہباز شریف کو اس حوالے سے کافی جگتیں بھی لگائیں اور ساتھ ساتھ اس بات کی غیر اعلانیہ دھمکی بھی دی کہ وطن واپسی پر انہیں سرکاری ہسپتال میں چودہ دن کے لئے رکھا جانا چاہئے۔۔۔کہنے کو تو یہ ایک غیر سنجیدہ سا بیان تھا لیکن اس میں موجودہ فوجی حکومت کی نیت صاف جھلک رہی تھی۔۔۔عمران نیازی کی کوشش تو تھی کہ کسی طرح شہباز شریف کو وطن واپسی پر سرکاری مہمان خانے میں رکھ لیا جائے لیکن اب اس بیچارے کے پاس اختیارات بہت محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور اب یہ صرف ان لوگوں کو ہی ہتھکڑیاں لگوا سکتا ہے جن کو گرفتار کرنے میں وردی والے حاکم بھی دلچسپی رکھتے ہوں۔


میر شکیل الرحمن کی گرفتاری بھی اسی لئے ہوئی کہ اس سے راولپنڈی اور بنی گالہ والے دونوں ناخوش تھے اور یہی وجہ ہے کہ قبضہ گروپ نے میر شکیل الرحمن کے حوالے سے عمران نیازی کو اپنا انتقامی ڈنڈا چلانے کا پورا موقع دیا۔۔۔اس گرفتاری سے ساری بدنامی عمران نیازی اور اس کی حکومت نے کمائی ہے لیکن اس سے فائدہ قبضہ گروپ کو بھی ہوا ہے اور ممکن ہے کہ اس نیب یاترا کے بعد میر شکیل الرحمن اور قبضہ گروپ بھی ایک پیج پر یوں کہہ لیں کہ ایک چینل پر ٓا جائیں۔


بہرحال میں نے بات شروع کی تھی شہباز شریف کی واپسی کی اور اس پر فواد چوہدری کی جگتوں اور چودہ دن کے لئے تنہائی میں رکھنے والی پھلجھڑی کی ۔۔۔اس فوجی کوٹے والے وزیر نے ایک اور ٹویٹ بھی کی ہے اور بتایا ہے کہ اس نے اپنا ٹیسٹ کروایا ہے اور وہ کرونا وائرس سے پاک صاف ہے۔۔۔میری زاتی رائے میں تو اس فوجی سیاستدان کو لگے ہاتھوں ایک اور ٹیسٹ بھی کروا لینا چاہئے تا کہ پتہ چل سکے کہ اس کے دل و دماغ میں قمرونہ وائرس کس حد تک پھیلا ہوا ہے۔۔۔ اس سے پہلے کہ یہ وائرس اس کی سیاسی موت کا سبب بنے اسے چاہئے کہ اس کے علاج کی طرف بھی توجہ دے۔


نواز شریف اور اس کی فیملی کے حوالے سے یہ جو گھٹیا زبان استعمال کرتا ہے وہ اسی وائرس کا نتیجہ ہے اور یہ وائرس وقت کے ساتھ ساتھ اتنا پھیل چکا ہے کہ فواد چوہدری اور اس جیسے دوسرے متاثرین کے جسمانی اعضا سوائے نواز شریف کی کردار کشی کے اور کوئی کام نہیں کر پا رہے۔


اس وقت ملک میں کرونا کی وجہ سے ایک بہت بڑا بحران جنم لے چکا ہے۔۔۔وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شدت میں اضافہ ہو گا لیکن فواد چوہدری اور اس جیسے قمرونہ وائرس کے شکار دیگر وزرا، مشیر اور ترجمان اس وقت بھی نواز شریف کے بنائے ہوئے منصوبوں پر تنقید کر رہے ہیں۔۔۔ان سب نے ایک ہی ٹوئٹ کا مضمون کاپی پیسٹ کیا ہوا ہے جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نواز شریف نے چونکہ ملک میں سڑکیں اور پل بنوائے ۔۔۔ہسپتال تعمیر نہیں کئے اس لئے موجودہ حکومت کے پاس اس وائرس سے نمٹنے کے لئے وسائل نہیں ہیں۔


عمران نیازی اور اس کے درباریوں کی اس بھونڈی اور بے بنیاد تنقید کے بے شمار جوابات ہیں لیکن یہ سارے شاہ دولہ کے سیاسی چوہے ہیں۔۔۔انہیں ٓاپ دلیل سے قائل نہیں کر سکتے۔۔۔ان کا مشن صرف پاکستان کے لوگوں کو ہر روز ایک نئی لولی پاپ دینا ہوتا ہے تا کہ عوام اس حکومت کی کارکردگی پر بات کرنے کی بجائے ماضی کا ماتم کرتے رہیں۔۔۔میرا مقصد نواز شریف کو ڈیفنڈ کرنا نہیں ہے لیکن یہ بات میں ٓاپ سے شیر کر دیتا ہوں کہ یورپ کے وہ ممالک جن کے پاس بہترین ہسپتال ہیں اور ہر شہری کو صحت کی بہترین سہولتیں دی جاتی ہیں ان ممالک میں بھی کرونا وائرس کی وجہ سے بہت زیادہ ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔۔۔عمران نیازی اور اس کا ٹولہ پچھلے چھ سات سال سے کے پی کے پر اور دو سال سے پاکستان پر قابض ہے۔۔۔ان لوگوں نے ایک بھی نیا ہسپتال نہیں بنایا بلکہ پشاور میں سو ارب سے زائد اس نامکمل منصوبے پر لگا دئے ہیں جسے یہ پنجاب میں جنگلہ بس کہہ کر پکارتے ہیں۔


اسی طرح اور بہت سی باتیں کی جا سکتی ہیں لیکن جس طرح بھینس کے ٓاگے بین بجانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اسی طرح عمران نیازی اور اس کے متاثرین کے ٓاگے مدلل بحث کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ان کا ایجنڈہ پاکستان کے لوگوں کو پروپیگنڈے کے زریعے بیوقوف بنانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔۔۔بہت سارے لوگ عمران نیازی پر یہودی ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔۔۔مجھے اس کی حقیقت تو پتہ نہیں لیکن اس کے پاس میڈیا وار لڑنے والے جو سپاہی ہیں وہ ان سارے ہتھیاروں سے لیس ہیں جو کہ مغربی دنیا میں میڈیا کے پاس ہے۔۔۔اس میڈیا کے پاس جس کا کنٹرول یہودیوں کے ہاتھ میں ہے۔


اب ٓاخر میں بات ہو جائے شہباز شریف کی واپسی کی تو فی الحال تو اس نے چودہ دن کے لئے خود کو گھر تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اس لئے اس واپسی سے ملک کی سیاست پر کوئی فوری اثر نہیں پڑے گا۔


شہباز شریف کو واپس بلانے والوں نے اسے احتیاطا واپس بلوا لیا ہے کیونکہ کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں جو بحران سنگین سے سنگین تر ہو رہا ہے اسے سنبھالنا اس کٹھ پتلی حکومت کے بس میں نہیں اور اوپر سے اس کٹھ پتلی کو فوری طور پر اقتدار سے بے دخل کرنا بھی اب قبضہ گروپ کے اختیار میں نہیں رہا۔۔۔عمران نیازی اور انکے درمیان فاصلے بہت بڑھ چکے ہیں لیکن اب جنرل باجوہ اپنی ایکسٹینشن کے بعد اپنی فوج کے اندر اتنا مقبول اور طاقتور نہیں رہا کہ وہ پرویز مشرف ٹو بننے کا خواب پورا کر سکے۔۔۔عمران نیازی نے جنرل باجوہ کے بین القوامی اسپانسرز کے ساتھ بھی تعلقات بنا لئے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ خبریں بھی پھیلا دی ہیں کہ اگر مجھے ہٹانے کی کوشش کی گئی تو پھر میں اپنے ایکسٹینشن والے ایکشن سے بھی یوٹرن لے لوں گا۔۔۔عمران نیازی عملی طور پر ایسا کرے یا نہ کرے لیکن اس کے پاس اب بھی یہ اختیار موجود ہے کہ جس طرح میاں نواز شریف نے پرویز مشرف کو گھر بھیجنے کی ٹرائی کی تھی یہ بھی اسی طرح کا کوئی ایڈونچر کر لے۔۔۔عمران نیازی کی اس حوالے سے بہتر پوزیشن ہے کیوں کہ جنرل باجوہ کے پاس اب فوج میں ایسے جرنیل موجود نہیں جو کہ ان کی حمایت میں وہ کام کریں جو کہ جنرل عزیز جیسے جرنیلوں نے کیا تھا۔


عمران نیازی کے پاس اس وقت جو نمائشی اقتدار ہے وہ اس سے بہت مطمئن ہے اور اس لئے وہ جرنیلوں سے جنگ کی ابتدا نہیں کرے گا اور اسی طرح موج میلہ کرتا رہے گا اور اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف پروپیگنڈا وار جاری رکھے گا۔۔۔کرونا وائرس سے نمٹنے کی نہ تو اس کے پاس صلاحیت ہے اور نہ ہی اسے کوئی پریشانی ہے۔۔۔اگر اس وائرس سے ملک میں تباہی ٓائے گی تو اس کے پاس الزام تراشی کے لئے بہت سارا مواد موجود ہے۔۔۔اسی الزام تراشی والی مہم کے سلسلے ہی میں اس کے درباریوں نے وہ ٹوئٹس کی ہیں جن میں نواز شریف پر تنقید کی جارہی ہے کہ اس نے سڑکیں اور پل بنانے کی بجائے ہسپتال کیوں نہیں بنوائے۔۔۔اس کے علاوہ پوری دنیا میں یہ وائرس موجود ہے اور ان ترقی یافتہ ملکوں کی مثال دے کر بھی یہ پتلی گلی سے نکل جائے گا کہ اگر یہ ملک اپنے شہریوں کو اس ٓافت سے نہیں بچا سکے تو میں اس حوالے سے کیا کر سکتا تھا۔


اس وقت سب سے زیادہ خطرہ قبضہ گروپ کو محسوس ہو رہا ہے۔۔۔انہیں اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے کہ جلد ہی عوام سڑکوں پر ٓا جائیں گے اور ملک میں سول نافرمانی کا اتنا بڑا سیلاب ٓائے گا جسے روکنا نہ اس فوجی حکومت کے بس میں ہو گا اور نہ ہی اس حکومت کو لانے والوں کے اختیار میں ہوگا۔۔۔اسی لئے ان لوگوں نے اپوزیشن کی جماعتوں کو اس بات پر ٓامادہ کیا ہے کہ وہ ملک میں سیاسی تلخی بڑھانے کی بجائے حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔۔۔ دو بڑی جماعتیں اپنے اپنے طور پر اس بات کا اعلان کر چکی ہیں کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لئے ہر ممکن تعاون کریں گے۔۔۔مولانا فضل الرحمن کے رضاکار تو ہزاروں کی تعداد میں اس وقت کام بھی کر رہے ہیں۔


اب شہباز شریف بھی ملک واپس ٓا گیا ہے اور یوں نون لیگ بھی ٓان بورڈ ہو گئی ہے ۔۔۔شہباز شریف کی واپسی سے سب سے پہلے تو ن لیگ کے اس گروپ کو کنٹرول کیا جائے گا جو کہ ابھی تک ووٹ کو عزت دو کی بات کر رہا ہے اور پچھلے دنوں تھوڑا سا متحرک بھی ہو گیا تھا۔۔۔۔اس کے علاوہ شہباز شریف کی سب سے بڑی افادیت یہ ہو گی کہ اگر پنجاب میں حالات کنٹرول سے باہر ہو گئے اور ٓانے والے دنوں میں عوامی رد عمل ایسا ہوا جس سے ملک کے موجودہ حکومتی ڈھانچے اور قبضہ گروپ کی بقا کو خطرہ لاحق ہو گیا تو پھر اس سیلاب کو روکنے کے لئے شہباز شریف میدان میں ٓائے گا اور جس طرح اس نے ڈینگی کو کنٹرول کرنے کے لئے کام کیا تھا ۔۔۔اس بار یہ کرونا کے متاثرین کو پنجاب کی سڑکوں پر ٓانے کی بجائے انہیں گھروں تک محدود رکھنے کے کام ٓائے گا۔

1,835 views