Search

سیاسی چوہا اور اسے شیر بنانے والا سادھو جرنیل۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔20/05/2020



ٓاج میرے پاس ایک بہت ہی دلچسپ اور سبق ٓاموز کہانی ہے۔۔۔ ٓاپ نے یقیننا نہ صرف یہ قول سن رکھا ہوگا بلکہ ممکن ہے کہ ٓاپ کی زندگی میں کسی تلخ تجربے کے ساتھ بھی یہ قول جڑا ہوا ہو کہ۔۔۔جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو

ٓاج کی اس کہانی میں ٓاپ کو پاکستان کی موجودہ سیاسی رسہ کشی جو کہ نکے اور ابے کے درمیان جاری ہے اس کی جھلک بھی ملے گی اور اس کا انجام بھی نظر ٓائے گا اور ٓاپ اگر چاہیں تو اس کہانی کی روشنی میں اپنی زاتی زندگی میں بھی کچھ تبدیلی کر کے بہت سارے تلخ تجربات سے بچ بھی سکتے ہیں۔


ٓاج کی کہانی تھوڑی لمبی ہے لیکن اسے مکمل طور پر پڑھئیے گا۔۔۔اس کہانی کا تعلق ایک ایسے سادھو سے ہے جو کہ دنیاوی زندگی چھوڑ کر ہر وقت جنتر منتر میں مصروف رہتا تھا۔۔۔سادھو کا ٹھکانہ ایک پہاڑ پر ٖایسی غار میں تھا جہاں پر عام لوگوں کی ٓامد و رفت نہیں تھی۔ ۔۔سادھو کے پاس ایک مٹی کا پیالہ تھا جس میں وہ پانی پیا کرتا تھا۔۔۔یوں تو اس غار کے ارد گرد اور اس جنگل میں ہر طرح کے وحشی جانور تھے لیکن یہ جانور جنگل کے قانون کے تحت بس ایک دوسرے پر حملے کرتے تھے لیکن انسانوں پر لشکر کشی نہیں کرتے تھے اس لئے یہ سادھو جب غار میں اپنی تپسیا میں مصروف ہوتا تھا یا سو رہا ہوتا تھا تو بھی یہ جانور اس پر حملہ نہیں کرتے تھے۔

ایک بار شکار کا شوقین کا بادشاہ اس جنگل میں ٓایا۔۔۔جانوروں کا شکار کرتے کرتے بادشاہ اس غار تک پہنچ گیا۔۔۔اس نے اندر جھانک کر دیکھا تو اسے سادھو اپنی ریاضت میں مصروف نظر ٓایا۔۔۔بادشاہ غار میں داخل ہوا۔۔۔لیکن سادھو نے کوئی نوٹس نہیں لیا ۔۔۔بادشاہ کو سخت پیاس لگی ہوئی تھی۔۔۔اس نے ارد گرد دیکھا تو اسے مٹی کا ایک پیالہ نظر ٓایا جس میں پانی موجود تھا۔۔۔بادشاہ نے پیاس کی شدت کی وجہ سے اسی مٹی کے پیالے سے پانی پی لیا۔۔۔پانی پینے کے بعد اس کے اندر کا بادشاہی جذبہ جاگا اور اس کا جی چاہا کہ اس سادھو کو انعام اکرام سے نواز دے لیکن سادھونے اپنے جنتر منتر اور اشلوک جاری رکھے اور بادشاہ کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔۔۔بادشاہ سادھو کی شخصیت اور بے نیازی سے بہت متاثر ہوا۔۔۔اس نےمٹی کا پیالہ لیا اور غار سے باہر ٓا کر اپنے وزیر سے کہا کہ غار میں سونے کے دو پیالے رکھوا دو۔

بادشاہ کے جانے کے بعد جب سادھو کو پیاس لگی تو اس نے اپنا مٹی کا پیالہ ڈھونڈا تا کہ اپنی پیاس بجھا سکے لیکن وہ پیالہ غائب تھا۔۔۔سادھونے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو مٹی کا پیالہ تو نظر نہیں ٓایا لیکن سونے کے دو پیالے نظر ٓا گئے۔۔۔سادھو بہت حیران ہوا لیکن پھر اس نے مجبوراََ اس سونے کے پیالے سے ہی پانی پی لیا۔


کچھ دن کے بعد جب سادھو غار سے باہر اپنے کھانے پینے کا سامان اکٹھا کر رہا تھا تو اسے ایک بہت ہی پریشان حال اور لاچار انسان نظر ٓایا۔۔۔ سادھو نے پوچھا کہ اتنے پریشان کیوں ہو۔۔۔اس شخص نے کہا کہ کئی دن سے بھوکا اور پیاسا ہوں۔۔۔سادھواسے فورا اپنے غار میں لے ٓایا اور کھانا بھی دیا اور پھر پینے کے لئے پانی دیا اور وہ بھی سونے والے پیالے میں۔

مہمان کو کھانا کھلا کرسادھواپنے جنتر منتر میں لگ گیا۔۔۔مہمان نے جب دیکھا کہ سادھو کی توجہ اس کی جانب نہیں رہی تو اس نے سونے کا پیالہ اٹھایا اور بھاگ گیا۔۔۔سادھو کو اپنی شکتی کی مدد سے اندازہ ہو گیا کہ اس کا مہمان ایک سونے کا پیالہ لے کر فرار ہو رہا ہے اس لئے فورا اٹھا سونے کا دوسرا پیالہ بھی لیا اور اس پیالہ چورکے پیچھے دوڑنے لگا۔

چور نے جب سادھو کو ٓاتے دیکھا تو اور تیزی سے بھاگنے لگا۔۔۔لیکن سادھونے اپنی روحانی طاقت کی مدد سے زیادہ تیزی دکھائی اور اور اسے پکڑ لیا۔۔۔چور نے اپنی حرکت پر معافی مانگی اور کہا کہ آپ اپنا سونے کا پیالہ واپس لے لیں۔۔۔سادھو نے کہا مورکھ میں اس پیالے کے لئے نہیں آیا۔۔۔ مجھے اس پیالے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔میں تو تمہارے پیچھے اس لئے ٓایا ہوں کہ تمہیں یہ دوسرا سونے کا پیالہ بھی دے دوں تا کہ تمہاری ساری ضرورتیں انہیں بیچ کر پوری ہو سکیں۔


سادھو نے اسے سونے کا دوسرا پیالہ بھی دیا اور غار میں واپس ٓا کر اپنے مٹی کے پیالے کی تلاش شروع کر دی۔۔۔اس تلاش کے دوران اسے مٹی کا پیالہ تو نہیں ملا لیکن غار کے ایک پتھر کا ساتھ ایک چوہیا نظر ٓا گئی جس نے پانچ بچے دے رکھے تھے۔۔۔چوہیا نے جب سادھو کوقریب دیکھا تو خطرہ محسوس کرتے ہوئے بچے چھوڑ کر غار سے بھاگ گئی۔۔۔چوہئیا کے بچوں کو بے یار و مددگار دیکھ کر سادھو کو بہت ترس ٓایا اور انہوں نے ان پانچوں بچوں کے لئے خوراک کا بندوبست بھی کیا اور ان کی حفاظت بھی شروع کر دی۔

ایک دن اس نے دیکھا کہ غار کے گرد بلی چکر لگا رہی ہے۔۔۔سادھو کو اندازہ ہو گیا کہ اب چوہیا کے بچوں کی جان خطرے میں ہے۔۔۔ سادھو نے طے کیا کہ اب اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ تپسیا کے دوران اس بات کا بھی دھیان رکھے کہ کہیں بلی غار میں داخل ہو کر ان بچوں کو بھی نہ کھا جائے۔۔۔ سادھو کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایک بار بلی کا داو لگ گیا اور اس نے چوہیا کے چار بچوں کو کھا لیا۔


سادھو کو بہت دکھ ہوا اور اس نے خود کو بہت برا بھلا کہا اور عہد کیا کہ اب باقی بچ جانے والے چھوٹے چوہے کا بہت خیال رکھے گا۔۔۔اور اس کو کسی بھی صورت بلی کی خوراک نہیں بننے دے گا۔۔۔ سادھو نے اپنی اس نئی زمہ داری کی وجہ سے نہ صرف اپنے جنتر منتر کا دورانیہ کم کر دیا بلکہ جنتر منتر کے دوران بھی اس کا دھیان چوہیا کے بچے کی طرف رہتا تھا۔

اس نئی ڈیوٹی کی وجہ سے سادھو کی ریاضت میں بہت خلل پڑنے لگ گیا تو پھر اس نے سوچا کیوں نہ میں اس چوہے کے بچے کو ایک بلی میں تبدیل کر دوں۔۔۔۔اس طرح یہ اپنی حفاظت ٓاپ بھی کر لے گا اور مجھے بھی اپنی ریاضت یکسوئی سے کرنے کا موقعہ ملے گا۔۔۔اس نے اپنی شکتی کی مدد سے چوہے کو بلی میں تبدیل کر دیا ۔۔۔اگلے روز جب بلی ٓائی اور اس نے دیکھا کہ غار کے اندر اس ے بڑی بلی موجود ہے تو وہ یو ٹرن لے کر چلی گئی۔

کچھ دن کے بعد اس غار کے قریب سے کتا گزرا۔۔۔اسے جب بلی کی ٓاواز ٓائی تو اس نے غار میں گھس کر بلی پر حملہ اسی طرح حملہ کر دیا جس طرح اقتدار کے بھوکے جرنیل مسکین سیاستدانوں کے اقتدار پر حملہ کرتے ہیں۔۔۔سادھو نے بڑی مشکل سے بلی کوکتے سے بچایا۔۔۔کتے نے اپنا پہلا حملہ ناکام ہونے کے بعد بلی کے شکار کے لئے اس غار کےباہر اسی طرح دھرنا شروع کر دیا جس طرح ڈی چوک میں عمران نیازی دھرنا دیا کرتا تھا۔۔۔سادھو نے کتے کے ارادے کو بھانپتے ہوئے ایک نیا حفاظتی پلان بنایا اور چوہے سے بلی بننے والے چوہے کو شیر میں تبدیل کر دیا۔۔۔کتے نے جب دیکھا کہ غار کے اندر شیر ہے تو وہ بھی نیازی والا یو ٹرن لے کر فرار ہو گیا۔


اب یہ شیر بن جانے والا چوہا غار تک محدود نہیں رہا۔۔۔اس کا زیادہ تر وقت جنگل میں گزرتا۔۔۔ سارے چھوٹے موٹے جانور اس سے ڈرنے لگے۔۔۔اس کی دہشت دور دور تک پھیل گئی۔۔۔اب اسے خوراک کے لئے زیادہ پریشان بھی نہیں ہونا پڑتا تھا۔۔۔اپنے موڈ کے مطابق جنگل میں سے کسی بھی مسکین جانور کا شکار کر لیتا تھا۔۔۔جنگل کے سارے جانور اس سے ڈرتے تھے اور اس کی دہشت گردی کی وجہ سے اسے اپنا بادشاہ تسلیم کر چکے تھے لیکن اس شیر کو اپنی حقیقت کا پتہ تھا کہ وہ اندر سے چوہا ہے۔


اسے اکثر ڈر لگتا تھا کہ اگر جنگل کے جانوروں کو اس کی حقیقت پتہ چل گئی تو نہ صرف اس کی بادشاہت جاتی رہے گی بلکہ کوئی نہ کوئی جانور اسے کھا بھی جائے گا۔۔۔ایک دن اسے خیال ٓایا کہ میرے چوہے ہونے کا راز صرف غار والے سادھو کے پاس ہے۔۔۔اگر میں اس کا خاتمہ کر دوں پھر میرا یہ راز ساری زندگی راز ہی رہے گا اور میں شیر بن کر جنگل پر راج کرتا رہوں گا۔۔۔یہ خیال زہن میں آتے ہی اس نے غار کا رخ کیا۔۔۔جیسے ہی غار کے پاس پہنچا۔۔۔سادھو کو اپنی شکتیوں کی مدد سے اندازہ ہو گیا کہ اس نے جس چوہے کو شیر بنایا تھا وہ اس پر حملہ کرنے کے لئے غار کے پاس پہنچ گیا ہے۔۔۔ اس سے پہلے کہ شیر سادھو کو ہڑپ کر جاتا ۔۔۔سادھو نے اپنی شکتی کا استعمال کرتے ہوئے اس شیر کو دوبارہ چوہا بنا دیا۔

شیر کے چوہے کے روپ میں واپس ٓا جانے کے بعد کیا ہوا۔۔۔ یہ ٓاپ خود اندازہ کر لیں کہ جس جنگل میں بلی سے لے کر خونخوار کتے اور بھیڑئے موجود ہوں وہاں پر چوہے کے ساتھ کیا ہوا ہو گا۔۔۔لیکن اگر ٓاپ یہ زحمت نہیں کرنا چاہتے تو پھر نیازی کو چوہے سے شیر بنانےوالے جنرل باجوہ کی اس کے ساتھ جو پانی پت کی لڑائی چل رہی ہے اس کے اختتام کا انتظار کریں لیکن اس کہانی میں ضروری نہیں کہ انجام سادھو اور چوہےوالی کہانی کا ہو۔۔۔کیوں کہ اس میں نیازی چوہا ضرور ہے لیکن اسے شیر بنانے والا سادھو بھی اصلی نہیں ہے۔۔۔اس کا یہ سادھو والا بہروپ بھی ایک بڑے ڈالر والے گرو کی دین ہے۔

اس کہانی میں ٓاپ کے لئے جو سبق پوشیدہ ہے اسے بھی ضرور زہن میں رکھیں اور سادھو والی حماقت سے پرہیز کریں۔۔۔اپنے ارد گرد پھرنے والے چوہے کو چوہا ہی رہنے دیں۔۔۔اسے شیر بنا کر کسی قسم کا خطرہ نہ مول لیں۔۔۔اس چوہے کو شیر بنانے کی زمہ داری ٓاپ پر عائد نہیں ہوتی اور وہ اس لئے کہ اس چوہے کو چوہا بنانے میں ٓاپ کا کوئی کردار نہیں ہے۔

727 views