Search

سیاسی قلی شیخ رشید اور فوجی پلیٹ فارم۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد ۔۔۔ 30/05/2020۔۔۔


جس طرح جہانگیر ترین اپنی شوگر ملوں میں چینی بنا کر ۔۔۔پھر اسے ایکسپورٹ کر کے اور پھر اسی چینی کو امپورٹ کر کے مال بناتا ہے اسی طرح شیخ رشید بھی اپنی چول فیکٹری میں یہی کام کرتا ہے۔۔۔فرق صرف اتنا ہے کہ جہانگیر ترین کے پاس اس کام کے لئے بے شمار مزدور ہیں لیکن شیخ رشید کی یہ چول فیکٹری ون مین شو ہے۔۔۔مزدور بھی خود ہے۔۔۔خام مال بھی خود ہی اکٹھا کرتا ہے اور پھر چول تیار ہو جانے پر اس کی پیکنگ کر کے اس کی مارکیٹنگ بھی خود ہی کرتا ہے۔


اس کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اسے اپنی چول پراڈکٹ کی مارکیٹنگ کے لئے بہت سارے چینل مفت ائیر ٹائم دیتے ہیں۔۔۔اب ٓاپ کے زہن میں یقیننا یہ سوال اٹھے گا کہ ٹی وی کا دھندا کرنے والے سیٹھ اسے مفت میں ائیر ٹائم کیوں دیتے ہیں۔۔۔تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دنوں ریٹنگ کی وجہ سے ان سیٹھوں کو ایسی مصالحہ دار خبروں کی تلاش رہتی ہے جنکے نشر کرنے سے ان کی ریٹنگ اوپر چلی جائے اور پھر اس ریٹنگ کی مدد سے نہ صرف انہیں اشتہارات زیادہ ملیں بلکہ ان جرنیلی سرمایہ داروں کی طرف سے بھی زیادہ سے زیادہ مالی امداد ملتی رہے جو کہ جرنیلی ایجنڈے کے مخالف سیاستدانوں کی ان کے ٹبر سمیت بے عزتی کرنے والوں کے لئے ہر وقت اپنی تجوریوں کا منہ کھول کر بیٹھے رہتے ہیں۔

شیخ رشید کی چولیں اس حوالے سے بہت ڈیمانڈ میں رہتی ہیں۔۔۔لال حویلی کے اس پڑھے لکھے جاہل کو یہ ہنر اچھی طرح آتا ہے کہ عوامی محاورے میں بات کیسے کرنی ہے۔۔۔چولیں ویسے تو بہت سارے سیاستدان مارتے رہتے ہیں لیکن ان کی چولیں عوامی لیول کی نہیں ہوتیں۔۔۔اس لئے عام لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتیں جبکہ شیخ رشید ایسے لفظ استعمال کرتا ہے جو عام بول چال کے ہوتے ہیں اور اس کی جسامت اور حلیہ بھی ریلوے کے قلیوں والا یا غلہ منڈی میں بوریاں اٹھانے والے پانڈیوں والا ہے اس لئے ورکنگ کلاس سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے ٓائین ،قانونی حوالوں اور بغیر کسی ڈکشنری کو استعمال کئے اسکی چولوں کو سمجھ بھی لیتے ہیں اور خوب انجوائے بھی کرتے ہیں۔

شیخ رشید کی تازہ ترین چول جنرل قمر جاوید باجوہ کے بارے میں ہے۔۔۔یہ چول اس نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران ماری۔۔۔ویسے تو انٹرویو کرنے والوں نے بھی مل جل کر کافی چولیں ماریں لیکن اس وقت ان صحافیوں کی چولوں پر بات کرنے کا وقت نہیں ہے اس لئے گفتگوکو صرف شیخ رشید کی اس چول تک رکھتے ہیں جس میں اس نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ جنرل باجوہ میں بھی جنرل ضیا والی خوبیاں موجود ہیں۔

میری زاتی رائے میں تو شیخ رشید کا یہ بیان بھی ایک چول ہی ہے لیکن اس کے باوجود اس میں کافی حد تک سچائی بھی ہے اور اس کی وجہ کوئی معجزہ نہیں ہے بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ دونوں جرنیل ایک ہی فیکٹری میں اسمبل ہوئے ہیں۔۔۔ دونوں فور اسٹار جرنیل ہیں ان کے اندر سافٹ وئیر بھی ایک جیسا ہے ۔۔۔ان کی ٹریننگ بھی ایک ہی فوجی مینیول کے مطابق ہوئی ہے اس لئے یقیننا ان کے درمیان بہت کچھ کامن ہے۔۔۔دونوں ہی محسن کش ہیں۔۔۔ضیا نے اپنے محسن کو پھانسی پر چڑھا دیا تھا اور باجوہ نے اپنے محسن کو سیاسی طور پر پھانسی پر چڑھانے کی کوشش کی ہے لیکن اس کی یہ کوشش ناکام رہی ہے لیکن یہ ابھی تک باز نہیں آیا اور اب بھی اس کی طرف سے کوششیں جاری ہیں۔

اس کے علاوہ بھی ان دونوں جرنیلوں کے درمیان بہت کچھ ایک جیسا ہے لیکن مجھے بات کرنی ہے کہ شیخ رشید کو یہ چول مارنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔۔۔میرا اندازہ تو یہی ہے کہ شیخ رشید چونکہ ریلوے کا وزیر ہونے کے علاوہ سیاسی قلی بھی ہے اور ٓاپ نے دیکھا ہو گا کہ ریلوے اسٹیشن پر اس سواری کی کتنی اہمیت ہوتی ہے جس کے پاس ٹرین سے اتارنے یا چڑھانے کے لئے بہت سارا سامان ہو۔۔جتنا زیادہ سامان ہو مزدوری اتنی زیادہ بن جاتی ہے۔


یہ قلی ایسے مسافر کو بالکل لفت نہیں کرواتے جس کے پاس شاپر میں صرف راستے کے لئے پانی کی بوتل ،ایک آدھ سینڈوچ اور ہاتھ میں تسبیح ہو۔۔۔انہیں پتہ ہوتا ہے کہ اس سے بات چیت کر کے صرف وقت کا ضیاع ہو گا۔۔۔پیسہ ویسا کچھ نہیں ملے گا۔۔۔اس لئے پھر یہ قلی اسٹیشن پر اس ڈبے کی طرف دوڑ لگاتا ہے جس میں ایسی سواری ہو جس کے پاس سامان زیادہ ہو۔

اس وقت پاکستان کے سیاسی پلیٹ فارم پر بھی ایسی ہی صورت حال ہے۔۔۔نکے اور ابے کی لڑائی اتنی دور نکل گئی ہے کہ اب ان کا اس فوجی ٹرین پر ایک ہی سلیپر میں سفر جاری رکھنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔۔۔شیخ رشید چونکہ بہت بڑا سیاسی قلی ہے ۔۔۔۔اسے اندازہ ہو گیا ہے کہ اب وہ وقت قریب ٓاتا جا رہا ہے کہ جب عمران نیازی کو سینڈوچ والے شاپر کے ساتھ ہاتھ میں تسبیح تھما کر فوجی سلیپر سے دھکا مار کر پلیٹ فارم پر اتار دیا جائے گا۔۔۔اس لئے اس نے اس مسافر کی طرف توجہ کر لی ہے جس کے پاس اس فوجی سلیپر میں بہت سارا سامان ہے اور اسے پلیٹ فارم پر اتارنے کے لئے جلد ہی اس کو شیخ رشید جیسے قلیوں کی ضرورت پڑے گی۔


شیخ رشید نے جنرل ضیا اور جنرل باجوہ میں جو رشتہ داری نکالی ہے اس میں یہ پہلو بھی درست ہے کہ جس طرح جنرل ضیا نے مرتے دم تک ملک کی صدارت اور ٓارمی کی کمانڈ نہیں چھوڑی تھی اسی طرح جنرل باجوہ جو کہ اسی ضیائی صراط مسقیم پر رواں دواں ہو گیا ہے وہ بھی کوشش کرے گا کہ تا حیات ایکسٹینشن انجوائے کرتا رہے۔۔۔اپنی اس خواہش میں یہ کس حد تک کامیاب ہوگا وہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اس نے اپنی پہلی ایکسٹینشن پر جس طرح ہٹ دھرمی دکھائی ہے اور اپنے ہی ایک تھری اسٹار جنرل کی قربانی کر دی ہے اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ میری اور ٓاپ کی جان اس باجوائی شکنجے سے اسی صورت میں چھوٹے گی جب کسی اور جرنیل کے اندر جنرل اسلم بیگ پوری طرح جوان ہو جائےگا۔

جنرل باجوہ کے حوالے سے شیخ رشید کی چول کےعلاوہ ایک اور اینکر اوریا مقبول جان نے بھی بڑی زبردست چول ماری ہے۔۔۔یہ چول بھی اصل میں جنرل باجوہ کے دربار میں حاضری کی ایک درخواست ہے۔۔۔ان صاحب نے ٹی وی پر ایک صاحب کا خواب بیان کیا ہے جنہیں خواب میں اس بات کا اشارہ مل گیا تھا کہ پاکستان کا ایک آرمی چیف ہوگا جس کا نام باجوہ ہو گا۔۔۔ان صاحب نے تڑکا لگاتے ہوئے اس خواب کو کافی لمبا چوڑا کر کے بیان کیا ہے۔۔۔لیکن مطلب اس ساری خواب کہانی میں اس میراثی والا اسٹائل اختیار کیا گیا ہے جو اپنی ضروریات کے لئے گاوں کے چوہدری کے ڈیرے پر ٓاوازیں لگاتا ہے۔۔۔بھاگ لگے رہن۔


اب چونکہ وزارتوں اور مشاورتوں کے احکامات عمران نیازی کی بجائے جنرل باجوہ کی منظوری سے جاری ہو رہے ہیں اس لئے اس مومنانہ حلیئے والے اینکر نے بنی گالہ کی لنگر والی قطار سے یو ٹرن لے کر جی ایچ کیو کا رخ کر لیا ہے۔۔۔یہ صاحب بھی عمران نیازی سے تازہ تازہ مایوس ہوئے ہیں ورنہ اس نے بھی عمران کے روحانی فضائل بیان کرنے اور اسے صادق اور امین ثابت کرنے کے لئے اپنے پروگرام میں بڑی محنت کی ہے لیکن جب اس نے دیکھا کہ عمران کو لوکل مال کی بجائے امپورٹڈ دانشور زیادہ پسند ہیں تو یہ اس بندنے بھی عمران نیازی کی بجائے جنرل باجوہ کی فضیلت کے قصے گھڑنےوالا دھندہ شروع کر دیا ہے۔

پاکستان کے آرمی چیفس کے اندر سے دانشور اور درویش دریافت کرنے کا کام نیا نہیں ہے۔۔۔ان صاحب اور شیخ رشید سے پہلے بھی بہت قلم فروش لوگ یہ کام کر چکے ہیں۔۔۔ہارون الرشید البتہ اس کام میں سب سے ٓاگے ہے۔۔۔اس نے تو مرے ہوئے جرنیلوں کے بارے میں بھی قصیدے لکھ کر دولت اکٹھی کی ہے۔۔۔جزیرے والا جنرل کیانی جب پاکستان کا آرمی چیف تھا تو یہ ملا دوپیازہ اس کے بہت قریب تھا اور اکثر اپنے کالموں میں جنرل کیانی کے حوالے سے معقول معاوضہ لے کر چولیں مار کر یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتا تھا کہ پاکستان کی فوج کا پہلا محب وطن دانشور جرنیل ہے جسے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ کتابوں سے بھی پیارہے لیکن ٓاپ سب نے دیکھ لیا کہ وہ محب وطن جرنیل ریٹائر ہوتے ہی اپنی ساری دانشوری اور حب الوطنی چھوڑ کو نہ صرف آسٹریلیا جا چکا ہے بلکہ جاتے جاتے اپنا سارا فارن ایکسچینج بھی ساتھ لے گیا ہے۔

468 views