Search
  • RMTV London

زرتاج گل وزیر اور دیگر وزیروں کی کرونا حماقتیں۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 21/03/2020


اسلام و علیکم

چند روز قبل میں نے ٓاپ سے اشارتا زکر کیا تھا کہ امریکہ میں لوگ اسلحے کی دوکانوں کے باہر بھی قطاریں بنا کر کھڑے ہیں۔۔۔اور ٓاپ سے یہ بھی کہا تھا کہ اس حوالے سے خود بھی سوچیں اور ساتھ ہی یہ بات بھی کی تھی کہ پاکستان میں اس کرونا وائرس سے بھی متاثر ہوں گے اور جو لوگ اس وبا سے بچے رہیں گے ان پر بھی اس کی وجہ سے جو غذائی قلت اور معاشی بحران جنم لے گا اس کا بہت گہرا اثر ہو گا۔


ٓاج میں اس حوالے سے کچھ اور وضاحت کر دیتا ہوں ۔۔۔وجہ اس کی یہ ہے کہ اب پاکستان کے پہلے گبھراہٹ سے پاک خلیفہ جی نے بھی اس حوالے سے تبصرہ کر دیا ہے اور کرونا سے گبھرائے ہوئی قوم کو مزید گبھرانے کا موقع دے دیا ہے۔۔۔میں نے تو بندوقوں والی بات اس لئے کی تھی کہ موجودہ حکومت کی نااہلی کو دیکھتے ہوئے مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ یہ لوگ نہ تو عوام کوکرونا سے بچانے میں سنجیدہ ہیں اور نہ ہی اس بیماری کی وجہ سے جو مزید تباہی ٓانے والی ہے یہ اس تباہی سے نمٹنے کے لئے لوگوں کو کسی قسم کے وسائل فراہم کریں گے۔۔۔لیکن عمران نیازی نے جس نے ایک روز پہلے لوگوں کو یہ نسخہ تجویز کیا تھا کہ جو کچھ بھی ہو ٓاپ لوگوں نے گبھرانا نہیں ہے۔۔۔اب اس نے خود امریکہ میں اسلحے کی خریداری کی طرف اشارہ کر دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا ہے کہ جب اشیائے خورد و نوش کی قلت ہو گی تو پھر لوگ ایک دوسرے سے خوراک کے لئے لڑائیاں کر یں گے۔


عمران نیازی کی اس بات سے تو مجھے لگتا ہے کہ پاکستانی مکمل طور پر گبھرا جائیں گے کیوں کہ انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ پاکستان میں لاقانونیت پہلے سے ہی عام ہے۔۔۔یہاں پر مدتوں سے جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا نظام چل رہا ہے۔۔۔اور جب یہاں پر معاشی بحالی اور بھوک کی وجہ سے لوگوں کے درمیان دنگے فساد شروع ہوئے تو پھر انہیں روکنے والا بھی کوئی نہیں ہو گا۔


اب یہ ٓاپ لوگوں کے لئے وہ وقت ٓا رہا ہے جس میں ٓاپ نے اپنے لئے رزق بھی خود تلاش کرنا ہے اور پھر اپنی اور اس رزق کی حفاظت بھی خود ہی کرنی ہے۔۔۔موجودہ حکومت کے وزیروں کے بیانات اور اقدامات دیکھ لیں تو ان سے بھی ٓاپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ لوگ اس وائرس کے روک تھام کی بجائے اس کے پھیلانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔۔۔عمران نیازی کے سب قریبی وزیر جو اب اس کا رشتہ دار بھی بتایا جا رہا ہے اس نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کر کے اس بات کو یقین بنایا ہے کہ ایران سے ٓانے والے زائرین کو بغیر کسی چیک اپ کے اپنے گھروں تک جانے دیا جائے۔۔۔۔ان زائرین میں سے بہت سارے ایسے بھی ہیں جن کو اس وائرس نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔۔۔اب یہ لوگ پورے پاکستان میں اس وائرس کے پھیلاو کا سبب بن رہے ہیں۔


پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد جو کہ مجھے تو ڈاکٹر کم اور دائی زیادہ لگتی ہے۔۔۔اس نے اس وائرس کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کی اور جب ایک رپورٹر نے اسے ایک سخت سوال کیا تو اس بی بی نے تحمل سے جواب دینے کی بجائے اسے ڈانٹا اور کہا کہ تم بہت بھونکتے ہو ۔۔۔میں تمپاری جان نکال لوں گی۔۔۔پھر کمرہ مینوں کو کیمرے بند کرنے کا حکم بھی دیا۔۔۔اب اس نازک دور میں جب اس شغلیہ حکومت کے وزیر کیمرے کے سامنے اس طرح کی بدمعاشیاں کریں گے تو ٓاپ خود سوچ لیں کی پھر اپنے دفاتر میں ان کا عوام کے ساتھ رویہ کیا ہوگا۔


زرتاج گل نامی وزیر نے بھی اسی طرح کا احمقانہ بیان دیا ہے اور رپورٹرز کو بتایا ہے کہ جس طرح ڈینگی ہر سال ٓاتا ہے اس طرح کرونا بھی ہر سال ٓائے گا۔


اب ان وزیروں کے بیانات اور ان کے کپتان کی امریکہ میں اسلحے کی خریداری کو ہائی لائٹ کرنے والی گفتگو کو دیکھتے ہوئے ٓاپ کو بھی اس بات کا اندازہ ہو جانا چاہئے کہ ٓانے والے دنوں میں ٓاپ کتنے غیر محفوظ ہوں گے۔


پاکستانی قبضہ گروپ جو کہ ہر وقت پاکستان کی حفاظت کے ترانے گنگناتا رہتا ہے اس نے بھی ابھی تک صرف دو چار ایسے کام کئے ہیں جو کہ فوٹو شوٹ کے کام ٓا سکتے ہیں اور ان کارناموں کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر جاری کر دی گئی ہیں لیکن شنید یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ہسپتالوں کو عوام کے لئے بند کر دیا ہے۔۔۔جہلم سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے مجھے واٹس ایپ پر میسیج بھیجا ہے کہ جہلم سی ایم ایچ میں عوام کا داخلہ روک دیا گیا ہے۔۔۔مجھے اس قبضہ گروپ کے ان اقدامات پر کوئی حیرت نہیں ہوئی کیوں کہ یہ لوگ سب سے پہلے وردی کے نظرئیے پر یقین رکھتے ہیں۔


قبضہ گروپ کے لئے البتہ اس وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ بہت کم ہے کیوں کہ جن باتوں پر عمل کرنے کے لئے دنیا بھر کی صحت کی تنظیمیں اب کہہ رہی ہیں یہ ان پر پہلے سے عمل کر رہے ہیں۔۔۔اب ٓاپ یقیننا جاننا چاہیں گے کہ یہ ایسا کیا کر رہے ہیں کہ جس سے یہ وائرس عوامی علاقوں میں تو پھیلے گا لیکن ان کی چھاونیوں میں نہیں تو وہ احتیاط ہے عام لوگوں سے دور رہنا۔۔۔جسے سماجی دوری یا سوشل ڈسٹینسنگ کا نام دیا جا رہا ہے۔۔۔ دنیا بھر میں اس وقت اس وائرس سے بچنے کے لئے سوشل ڈسٹینسگ پر زور دیا جا رہا ہے۔۔۔ان لوگوں نے پہلے ہی خود کو غریب لوگوں سے دور رکھا ہوا ہے۔


ان کی ٓابادیوں میں عوام کا داخلہ یا تو مکمل طور پر بند ہوتا ہے یا کم ازکم محدود ہوتاہے۔۔۔۔اس لیے انہیں اس کرونا وائرس سے زیادہ نقصان پہندنے کا خطرہ نہیں ہے۔۔۔رہی بات ان بندوقوں کی جن کی طرف عمران نیازی نے اشارہ کیا ہے کہ امریکہ میں لوگ اس لئے خرید رہے ہیں کہ اگر کوئی ان پر خوراک چھیننے کے لئے حملہ کرے تو وہ اپنی جان اور اپنی غذا کی اپنی مدد ٓاپ کے تحت حفاظت کر سکیں تو وہ بندوقیں ان لوگوں کے پاس بے شمار ہیں۔۔۔ان کے پاس کسی چیز کی قلت بھی نہیں ہوتی۔۔۔۔اس لئے یہ ہر طرح سے محفوظ ہیں۔۔۔۔ان کے خوراک کے زخیرے بھی محفوظ ہیں کیونکہ ان کے پاس جدید بندوقیں بھی ہیں اور انہیں اپنے ہی لوگوں پر چلانے کا وسیع تجربہ بھی ہے۔۔۔حالانکہ یہ وہ بندوقیں ہیں جو ان لوگوں نے اپنا پیٹ کاٹ کر خرید کر دی ہیں جو کہ ٓانے والے دنوں میں خود تو بھوک سے مریں گے اور ایک دوسرے سے لڑیں گے۔


اب مجھے اجازت دیں اور مجھے امید ہے کہ اب ٓاپ بھی عمران نیازی کی اس بندوقوں والی بات پر اور زیادہ دھیان دیں گے اور اپنے اور اپنے پیاروں کی حفاظت کے لئے وردی والوں اور ان کی کٹھ پتلیوں پر انحصار کرنے کی بجائے خود عملی قدم اٹھائیں گے ۔

440 views