Search

ریٹائرڈ فوجی کے ساتھ جرنیلی دو نمبری۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔12/05/2020


جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن والی ٹینشن ایک بار پھر جی ایچ کیو کے اوپر منڈلاتی ہوئی نظر ٓار ہی ہے۔۔۔اس پر بات کرنے سے پہلے میں ٓاپ کےساتھ جرنیلی دو نمبری کا ایک اور واقعہ شئیر کر لیتا ہوں۔

یہ تو ٓاپ سب کو پتہ ہے کہ دو سال پہلے ایک ملک میں الیکشن ہوئے تھے۔۔۔ملک کا نام میں تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر نہیں بتا سکتا ٓاپ خود گیس کر لیں۔۔۔ الیکشن میں لشکر کے سپہ سالار نے چار لاکھ سے زیادہ سپاہی لگا کر الیکشن فتح کیا تھا لیکن اب اس جعلی فتح کے حوالے سے ایک اور دو نمبری کے بارے میں پتہ چلا ہے۔

یہ خبر میرے ایک دوست نے جو کہ برمنگھم میں رہتے ہیں انہوں نے بریک کی ہے اور ان کا سورس ایک ایسا مجاہد ہے جو کہ فوج سے ریٹائر ہو چکا ہے لیکن اسے بھی اس جنگ میں لڑنے کے لئے معقول معاوضے پر شرکت کے لئے بلایا گیا تھا۔۔۔دروغ بر گردن راوی الیکشن سے پہلے بہت سارے ریٹائرڈ فوجیوں کو اس جنگ میں حصہ لینے کے لئے بلایا گیا۔۔۔انہیں بریفنگ دی گئی کہ یہ فوجی وقار کا مسئلہ ہے۔۔۔اس جنگ میں ایک طرف فوج کی عزت ہے اور دوسری طرف ووٹ کی عزت ہے۔۔اس لئے ہمیں ہر صورت فوج کی عزت کو تار تار ہونے سے بچانے کے لئے اس جنگ کو جیتنا ہے اورجرنیلی ایجنڈے کے مخالفین شرفا کو شکست دینی ہے۔

ریٹائرڈ فوجی کے لئے اس جنگ میں حصہ لینے کے علاوہ اور کوئی چوائس نہیں تھی لیکن ساتھ ہی اسے یہ پرکشش ٓافر بھی دی گئی کہ اسے اس مختصر جنگ میں شرکت کے لئے معاوضے کے طور پر ستر ہزار روپے بھی دیئے جائیں گے۔۔۔یہ ٓافر ایک نچلے رینک کے فوجی کو دی گئی تھی اس لئے ہو سکتا ہے کہ فوجی افسران کو اس سے کہیں زیادہ رقم ملی ہو لیکن میرے پاس اس کے متعلق کوئی اطلاع نہیں۔


اب اس خبر کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ الیکشن میں فتح حاصل کرنے کے بعد اس ریٹائرڈ فوجی کے ساتھ بھی اسی طرح کا ہاتھ ہو گیا جس طرح کا پاکستانی قبضہ گروپ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ کرتا ہے۔۔۔اقتدار میں شرکت کا لارا لگا کر ان جماعتوں سے فوجی بوٹ پالش کروائے جاتے ہیں اور پھر بعد میں زیادہ تر کو جھنڈی کروا دی جاتی ہے ۔۔۔ اس ریٹائرڈ فوجی کو لارا تو ستر ہزار کا لگایا گیا تھا لیکن الیکشن جیتنے کے بعد اس مسکین کو پینتیس ہزار دے کر کہا کہ یوٹرن لو اور جہاں سے ٓائے ہو واپس چلے جاو۔


اب یہ بیچارہ فوجی اس دھاندلی کے بارے میں کہیں جا کر شور بھی نہیں مچا سکتا اور نہ ہی میڈیا کو یہ بتا سکتا ہے کہ الیکشن والی لڑائی میں اس نے کیا کردار ادا کیا۔۔۔کس طرح ووٹروں ڈرایا دھمکایا اور انہیں جرنیلی سرپرستی میں الیکشن لڑنے والی جماعت کو ووٹ ڈالنے پر مجبور کیا۔۔۔ان صاحب کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کی بھی ہدائت تھی کہ اگر کوئی شر پسند بات ماننے سے انکار کرے تو اسے گولی مار دی جائے لیکن اس بات کی دھیان رکھا جائے کہ گولی صرف ٹانگوں میں ماری جائے۔

اس خبر کی ویسے تو اب کوئی اہمیت نہیں رہی کیونکہ اس جرنیلی فتح کے نتیجے میں اس ملک کا جو سوا ستیاناس ہونا تھا وہ تو ہو چکا لیکن میں نے یہ خبر ٓاپ کے ساتھ اس لئے شئیر کی ہے تا کہ وردی اور دہشت گردی والے نعرے لگانے والوں کے جنرل نالج میں اور اضافہ ہو جائے۔۔۔مجھے امید ہے کہ میرے نام نہ لینے کے باوجود ٓاپ سب کو اس ملک یعنی جائے واردات کا اندازہ ہو گیا ہوگا۔

پچھلے دنوں کئی باخبر دوستوں نے رابطہ کیا اور جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے حوالے سے بات چیت کی۔۔۔ایک بہت ہی باخبر صحافی نے کہا کہ ابھی تک اس ایکسٹینشن کا نوٹیفیکیشن پاکستان کے گزٹ میں شائع نہیں ہوا۔۔۔۔ایک صاحب نے جو کہ جنرل باجوہ کی مہربانی سے فوج سے قبل ازوقت ریٹائر کر دیئے گئے تھے انہوں نے اپنے سورسز استعمال کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کا نوٹیفیکیشن ابھی ٓارمی کے متعلقہ دفتر تک بھی نہیں پہنچا۔

اس وقت مئی کا مہینہ تیزی سے خاتمے کی طرف جا رہا ہے۔۔۔اس مہینے میں وہ مدت بھی ختم ہو رہی ہے جو کہ سپریم کورٹ کے ہتھوڑا گروپ نے جنرل باجوہ کو دی تھی اور ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ چھ ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے اپنی نوکری پکی کروا لیں ورنہ اس مدت کے بعد وہ باعزت گھر چلے جائیں۔۔۔جنرل باجوہ نے اس دوران بڑی سیاسی جماعتوں پر دباو ڈال کر ان سے تو قانونی کاروائی منٹوں میں مکمل کروا لی تھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان کے سلیکٹڈ نے ابھی تک نوٹیفیکشن والے کام میں روڑے اٹکائے ہوئے ہیں ۔


میرے پاس چونکہ اس نوٹفیکیشن کے حوالے سے کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے اس لئے میں اس پر زیادہ تبصرہ نہیں کر سکتا کیوں کہ اس وقت ملک میں ہر طرح کی دو نمبری جاری ہے۔۔۔ بہت سارے کام انڈر دی ٹیبل ہو رہے ہیں ۔۔۔ بغیر نوٹیفیکیشن والے لوگ بھی حکومتی کام کر ہے ہیں اس لئے ہو سکتا ہے کہ یہ نوٹیفیکیشن بھی کسی خفیہ جگہ موجود ہو۔

لیکن میری زاتی رائے میں اس بات کا بھی امکان ابھی ختم نہیں ہوا کہ سپریم کورٹ میں اس ایکسٹینشن کا راونڈ ٹو کھیلا جائے۔۔۔ٓانے والے دنوں میں سپریم کورٹ حکومت سے پوچھ سکتی ہے کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں کیا کچھ کیا گیا ہے اور پھر اس سماعت کے دوران ایسے نکات بھی سامنے ٓا سکتے ہیں کہ جنرل باجوہ بھی اسی طرح رونے پر مجبور ہو جائیں جس طرح عمران نیازی نے پوری قوم کو رونے پر مجبور کیا ہوا ہے۔

جنرل باجوہ کافی حد تک اس وقت عمرانی شکنجے میں ہے ۔۔یہی وجہ ہے کہ عمران نیازی کی بہت ساری گستاخیوں پر اس نے فوری جوابی کاروائی نہیں کی۔۔۔میری زاتی رائے میں تو جنرل باجوہ نےاپنی ایکسٹینشن والی کمزوری کی وجہ سے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے اور وہ انتظار کر رہا ہے کہ کسی طرح اس کی ایکسٹینشن والا معاملہ مکمل طور پر حل ہو جائے تو پھر وہ عمران نیازی کے ساتھ سارا حساب کتاب سود سمیت چکا دے گا ۔

جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے حوالے سے گمان یہی ہے کہ اس وقت جرنیل بھی دو حصوں میں تقسیم ہیں۔۔۔ٓابپارہ والا جرنیل چاہتا ہے اور اس کے لئے بھرپور کوششیں بھی کر رہا ہے کہ یہ ایکسٹینشن ہر صورت میں ہو اور اگلے تین سال تک جنرل باجوہ ہی ٓارمی کا چیف رہے اور اس دوران وہ سارے سینئیر جرنیل جو اس کے راستے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں وہ سارے ریٹائر ہو جائیں گے اور اس دوران اس کی سینارٹی بھی بہتر ہو جائے گی اور وہ اس پوزیشن میں ہوگا کہ جنرل باجوہ کو پرویز مشرف ٹو بنا دے اور جنرل کیانی کی طرح فرمائش کر کے چھڑی اپنے ہاتھ میں لے لے۔


فوج کے وہ جرنیل جنہوں نے سپریم کورٹ میں راونڈ ون میں جنرل باجوہ کو کافی پریشان کیا تھا ان کی بھر پور کوشش ہو گی کہ راونڈ ٹو میں وہ فیصلہ کن پنچ ماریں اور جنرل باجوہ کو ناک ٓاوٹ کر دیں۔۔۔عمران نیازی بھی اس جرنیلی لڑائی سے مزے لے رہا ہے اور حکومتی امور میں مکمل طور پر ناکام ہو جانے کے باوجود حکومت میں اسی لئے ہے کہ اس نے نوٹیفیکیشن کی صورت میں ایک بہت ہی مہلک ہتھیار ابھی تک سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔۔۔یہ ہتھیار بالکل اسی طرح نیازی کی حکومت کے لئے مضبوط دفاع کا کام کر رہا ہے جس طرح پاکستان کے لئے ایٹم بم ہے۔۔۔ہم اس بم کو چلانا تو نہیں چاہتے لیکن اس کی وجہ سے ہمارے دشمن ہماری بہت ساری دفاعی کمزوریوں کے باوجود ہم پر حملہ نہیں کرتے۔


جنرل باجوہ اس وقت بہت کمزور ہے اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے پاس موقع ہے کہ سیاسی اتحاد بنا کر وہ قبضہ گروپ کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کر لیں لیکن پی پی اپنی سندھ بچاو مہم میں لگی ہوئی ہے۔۔۔انہیں اس وقت عمران نیازی کے حملوں نے اس خوف میں مبتلا کر رکھا ہے کہ کہیں گورنر راج والا ہتھیار استعمال کر کے ان کی مکمل چھٹی ہی نہ کروا دی جائے۔۔۔اسی طرح ن لیگ کو بھی اس جرنیلی کشمکش سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔۔۔انہوں نے اتنےسارے جرنیلوں سے مار کھائی ہے کہ انہیں اچھی طرح پتہ چل گیا ہے کہ کسی ایک کو ہٹانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ٓانے والا پہلے والے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

کورونا کی وجہ سے اور عمران نیازی کی بیڈ گورننس کی وجہ سے ملک کی معاشی حالت بگڑتی جارہی ہے لیکن عمران نیازی اور جنرل باجوہ دونوں کو اس فکر نہیں کیوں کہ ان دونوں کی وہی حالت ہے جسے پنجابی میں کہتے ہیں

ہوراں نوں ہوری دی تے انھے نوں ڈنگوری دی


عمران نیازی ٓاٹا چینی بجلی اور ادویات کے اسکینڈلز کو بھول بھال کر اپنی حکومت بچانے کے لئے نئے جرنیلی جوڑ توڑ میں لگا ہوا ہے اور جنرل باجوہ نے کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال کو نظر انداز کرتے ہوئے ٓابپارہ والی ایجنسی کی اطلاعات کی روشنی میں ایک اور باجوہ حکومت میں داخل کر دیا ہے تا کہ نوکری کو لاحق خطرات کو دور کیا جا سکے۔

1,457 views