Search

رسہ گیر باجوے اور مظلوم زمیندار۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔09/06/2020


آج کھریاں کھریاں میں ایک ایسی کہانی شامل ہے جو کہ بہت ہی سبق آموز ہے اور دیہاتی پس منظر ہونے کے باوجود اس کا بہت گہرا تعلق پاکستان کی شہری سیاست سے ہے جس میں کچھ سیاستدان اس کہانی کے تین بھائیوں کی طرح رسہ گیروں اور ان رسہ گیروں کے سرپرستوں کے ہاتھوں بے وقوف بھی بن رہے ہیں اور مسلسل لٹ بھی رہے ہیں۔۔۔کسی کے گھر نیب چھاپے مار کاروائیاں لائیو براڈ کاسٹ کر رہی ہے۔۔۔کسی جماعت کے وزیر اعلی کو کھجل کرنے کے لئے دوسرے صوبے میں نیب کی پیشی کا نوٹس دیا جا رہا ہے۔۔۔کسی لیڈر کی مرحومہ والدہ پر ولائیتی وینا ملک کی مددسے کیچڑ ڈالا جا رہا ہے۔۔۔لیکن یہ سارے سیاستدان اپنے مشترکہ دشمن کا مل جل کر مقابلہ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے اسی دشمن کی مدد کر رہے ہیں۔۔۔یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔۔۔اس کو سمجھنے میں ٓاج کی کہانی بہت مددگار ثابت ہو گی۔

ایک شخص جس کا نام اللہ رکھا تھا اس نے گنے کی فصل کے لئے بہت تیاری کی ۔۔۔زمین میں گہرا ہل چلایا۔۔۔کھاد کا استعمال بھی کیا اور وقت پر کھیت میں پانی بھی دیتا رہا۔۔۔اور یوں اس کے کھیت میں گنےکی پیدوار معمول سے زیادہ ہوئی ۔۔۔اس نے سارا گنا شوگر مل کو بیچ دیا جس کے مالک نے اسے قیمت بھی کم دی اور ساتھ ساتھ گنے تولتے ہوئے بھی ڈنڈی ماری لیکن پھر بھی اللہ رکھے کو پچھلے سال کی نسبت کچھ اضافی دولت مل گئی ۔

اللہ رکھا نے سوچا کہ کیوں نہ اپنی اس اضافی دولت سے میں ایک اچھی نسل کی بھینس خریدوں جو کہ بہت زیادہ دودھ دینے والی ہو۔۔۔اس بھینس کے دودھ سے میرے بچوں کو بھی دودھ ملتا رہے گا اور جو دودھ ضرورت سے زیادہ ہو گا اسےفروخت کر کے میں کچھ پیسے بھی کما لیا کروں گا۔

اس نے پاس والے گاوں میں ایک زمیندار کے پاس ایک اعلی نسل کی بھینس دیکھ رکھی تھی ۔۔۔پیسے لے کر وہ اس زمیندار کے ڈیرے پر گیا اور بھینس خریدنے کی بات کی۔۔۔زمیندار نے اللہ رکھا سے کہا کہ وہ بھینس تو اب اس کے پاس نہیں رہی ۔۔۔اللہ رکھا نے پوچھا کہ اس بھینس کو کیا ہوا۔۔۔کیا اس نے اسے فروخت کر دیا ہے۔۔۔زمیندار نے کہا ۔۔۔اس کی بھینس کو دودھ کی ملٹی نیشنل کمپنی کے پاکستانی ایجنٹ نے رسہ گیروں کی مدد سے اغوا کروا لیا ہے۔۔۔اور اب یہ بھینس اس کمپنی کے اوکاڑہ والے ڈیری فارم میں موجود ہے۔

اللہ رکھا نے زمیندار سے پوچھا ۔۔۔جب اسے پتہ ہے کہ اس کی بھینس کس نے اغوا کی۔۔۔اور اسے اغوا کروانے والوں نے اب اس بھینس کو کس حراستی مرکز میں رکھا ہوا ہے تو اس نے مقامی تھانے کی مدد سے اپنی بھینس برآمد کیوں نہیں کروائی۔۔۔ زمیندار نے جواب دیا کہ تھانے میں کام کرنے والے رسہ گیروں ہی نے تو اس کی بھینس دودھ کا دھندہ کرنے والے باجوے کے حکم پر چوری کر کے اوکاڑہ والے ڈیری فارم میں منتقل کی ہے۔۔۔اس لئے میں بے بس ہوں ۔۔۔کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔رسہ گیر بھی بہت تگڑے ہیں اور ان کا باس تو ان سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔۔۔ اس کے پاس نہ صرف مقامی غنڈون کی فوج ہے بلکہ اس کا غیر ملکی غنڈوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ ہے۔۔۔ میں اس بدمعاش سے پنگا لے کر اپنے کھیتوں اور بچ جانے والی بھینسوں سے ہاتھ نہیں دھونا چاہتا۔

مظلوم زمیندار کی بات سن کر اللہ رکھا گھر واپس جانے کی بجائے اوکاڑہ والے ڈیری فارم کی طرف چل پڑا۔۔۔بھینس چونکہ اسے بہت پسند تھی ۔۔۔اس لئے اس نے سوچا کہ چوری کا مال ہے ۔۔۔ہو سکتا ہے کہ ڈیری فارم والا باجوہ اسے سستے میں تھما دے۔

اللہ رکھا جب ڈیری فارم پہنچا تو اس نے دیکھا کہ اس کی پسندیدہ بھینس وہاں موجود تھی اور پہلے سے بھی زیادہ چمک دمک رہی تھی اور زیادہ صحت مند بھی نظر آ رہی تھی۔۔۔اس نے ڈیری فارم کے ملازم سے پوچھا کہ انہوں نے اس بھینس کو ایسا کیا کھلایا ہے کہ اس کی بھی جرنیلی توند نکل آئی ہے۔۔۔ملازم نے جواب دیا ۔۔۔ہمارے باجوہ صاحب کے پاس ولائیتی پٹھوں کی فراوانی ہے۔۔۔ہم اس بھینس امپورٹڈ پٹھے اور ونڈا صبح شام کھلاتے ہیں۔۔۔خالص اور کھلی ڈھلی خوراک کھا کر اس کی صحت اتنی اچھی ہو گئی ہے کہ اب یہ دودھ بھی پہلے سے دو گنا دے رہی ہے۔۔۔اللہ رکھا نے ڈیری فارم کے ملازم سے کہا کہ وہ اسے باجوہ صاحب سے ملوا دے کیوں کہ یہ بھینس اسے بہت پسند ہے اور وہ ہر قیمت پر اس بھینس کو خریدنا چاہتا ہے۔

ملازم نے کہا کہ باجوہ صاحب تو اس وقت اپنے رسہ گیروں کے ساتھ مزید بھینسیں لینے کے لئے گئے ہوئے ہیں البتہ ان کی برادری کے ایک اور نکے باجوہ صاحب موجود ہیں۔۔۔آپ ان سے بات کر لیں۔۔۔اللہ رکھے نے نکے باجوے سے بات چیت کی اور بھینس پانچ لاکھ روپے میں خرید کر گھر کی طرف چل پڑا۔۔۔۔ بھینس لے کر گھر ٓایا۔۔۔ چھوٹے بھائی کرم داد نے جب بھینس کو دیکھا تو بہت خوش بھی ہوا اور اس کا جی چاہا کہ کاش اس کے پاس بھی ایسی ہی بھینس ہو۔۔۔اس نے بڑے بھائی سے پوچھا کہ مجھ کتھوں لئی جے تے کنے دی لئی جے۔۔۔۔اللہ رکھا نے بھائی کو بتایا کہ راولپنڈی والی دودھ فروش کمپنی کا جو ڈیری فارم اوکاڑہ میں ہے ۔۔۔ اس نے یہ بھینس وہاں سے خریدی ہے۔

کرم داد کو چونکہ اس بھینس کی ہسٹری اور جغرافیہ کا پتہ تھا اس نے حیران ہو کر بھائی سے کہا کہ یہ بھینس تو پاس والے گاوں کے زمیندار کی ہے ۔۔۔تم اسے لینے کے لئے اس زمیندار کے گاوں کی بجائے اوکاڑہ کیوں گئے تھے۔۔۔اللہ رکھانے بھائی کو بھینس کی چوری اور زمیندار کی بے بسی کا سارا قصہ سنا دیا اور کہا کہ چونکہ بھینس اوکاڑے ٹرانسفر ہو گئی تھی اس لئے میں نے اوکاڑے جا کر بھینس خریدی ہے۔

اللہ رکھا کی بھینس چوری والی بات پر زیادہ دھیان دینے کی بجائے کرم داد نے شریکے والے وائرس سے مجبور ہو کر اپنے ٹریکٹر کا رخ اوکاڑہ کی طرف کیا۔۔۔ساتھ ٹرالی بھی جوڑ لی تا کہ واپسی میں اسے اللہ رکھے کی بھینس والا ماڈل لانے میں آسانی رہے۔

کرم داد جب اوکاڑے والے ڈیری فارم پہنچا تو پتہ چلا کہ وڈے باجوہ صاحب تو ابھی تک اپنے رسہ گیروں کے ساتھ بھینسیں امپورٹ کرنے میں مصروف ہیں۔۔۔اس لئے اس کی ملاقات بھی نکے باجوے سے ہوئی تو اس نے کہا کہ مجھے بھی ایسی ہی بھینس چاہئے جو میرا بھائی اللہ رکھا لے کر گیا ہے۔۔نکے باجوے نے کہا کہ ایسی اور کوئی بھینس اس وقت اسٹاک میں نہیں ہے۔۔۔ یا تو وڈے باجوہ صاحب کا انتظار کر لو۔۔۔وہ بھینسوں کا نیا اسٹاک لے کر دو چار روز میں آ جائیں گے۔۔۔ اور اگر انتظار نہیں کر سکتے تو پھر ایسا کرو کہ اپنے بھائی کے ساتھ بھینس میں پارٹنر شپ کر لو۔۔۔تمہارے بھائی نے یہ بھینس ہم سے پانچ لاکھ میں خریدی ہے۔۔۔تم ہمیں ڈھائی لاکھ دے کر اپنے بھائی کی بھینس میں ففٹی پرسنٹ کے شریک بن جاو۔۔۔۔۔۔ڈیل بھائی کو پسند ٓاگئی اور اس نے فورا ڈھائی لاکھ دیئے اور بھینس کی پارٹنرشپ کے کاغذات لے کر گھر کو چل پڑا۔

اللہ رکھا اس دوران اپنی نئی نویلی بھینس کے ساتھ لاڈیاں کرنے میں مصروف تھا۔۔۔شام کا وقت ہو رہا تھا۔۔۔واہی بیجی سے فارغ ہو کر تیسرا بھائی اللہ وسایا بھی گھر پہنچ گیا ۔۔۔اسے بھی صحن میں اعلی نسل کی بھینس کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔۔۔بھائی کو مبارکباد دی اور ساتھ ہی اللہ وسایاکے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی کہ وہ بھی ایسی ہی بھینس خریدے۔۔۔ بھائی سے بھینس کی قیمت پوچھی۔۔۔ڈیری فارم کا پتہ پوچھا ۔۔۔رقم والی پوٹلی اٹھائی اور ڈیری فارم کی طرف چل پڑا۔

ڈیری فارم پہنچا اور نکے باجوے سے کہا کہ مجھے بھی ایسی ہی بھینس چاہیے جو اس نے بھائی اللہ رکھے کو فروخت کی ہے۔۔۔نکے باجوے نے اسے بھی کرم داد والا آپشن دیا کہ یا تو وہ وڈے باجوے کا انتظار کر لے جو کہ رسہ گیروں کے ساتھ نئی بھینسیں اغوا کرنے کے لئے گیا ہوا ہے یا پھر وہ بھی اپنے بھائی کرم داد کی طرح ڈھائی لاکھ روپے دے کر اللہ رکھے کی بھینس میں پارٹنر شپ کر لے۔۔۔اللہ وسائے نے بھی اپنے بھائی کرم داد والی سادگی اور بھولے پن کا مظاہرہ کیا اور ڈھائی لاکھ روپے دیئے اور بھینس میں پارٹنر شپ کے کاغذات لے کر گھر واپس آگیا۔

اگلے روز تینوں بھائی جب حقہ کشی کے وقت پر اکٹھے ہوئے اور پارٹنر شپ والی ڈیل لینے والے دونوں بھائیوں نے بھینس کے اصلی مالک اللہ رکھے کو بریکنگ نیوز دی کہ اب وہ دونوں بھی اس بھینس کی ملکیت میں برابر کے شریک ہیں۔۔۔اس لئے اس کے دودھ اور مکھن کو تین حصوں میں تقسیم کر کے انہیں بھی ان کا حصہ دیا جائے۔۔۔ بھائیوں کی بات سن کر اللہ رکھا نے غصے کا اظہار کیا اور انہیں کہا کہ بھینس کی قیمت اس نے ادا کی ہے اس لئے بھینس صرف اسی کی ہے۔۔۔تم دونوں نے پارٹنر شپ کرنی تھی تو رقم مجھے دیتے۔۔۔اب جس کو رقم دی ہے اسی سے جا کر دودھ اور مکھن مانگو۔۔۔

اللہ رکھا کی یہ بات سن کر دونوں بھائیوں کو بہت غصہ آیا اور ان تینوں نے آپس میں ڈانگ سوٹا شروع کر دیا۔۔۔گاوں والوں نے پولیس کو اطلاع دی جس پر پولیس نے تینوں بھائیوں کو پرچہ درج کرکے تھانے میں بند کر دیا۔۔۔پولیس میں کام کرنے والے رسہ گیروں نے اس جھگڑے کی خبر اپنے ڈیری فارم والے سرپرستوں تک پہنچا دی اور انہیں کہا کہ تینوں بھائی اس وقت لاک اپ میں ہیں۔۔۔اس لئے بھینس کو قبضے میں لینےکا گولڈن چانس ہے۔۔۔کسی قسم کی مزاحمت کا اندیشہ نہیں ہے۔


وڈے باجوے نے خبر ملتے ہی نکے باجوے کو حکم دیا کہ وہ تین یکوں والا بریگیڈ لے کر اللہ رکھے کے گھر پر یلغار کر دے۔۔۔ نکے باجوے نے حکم کی تعمیل کی ۔۔۔وہ فورا اپنے سیکورٹی گارڈز لے کر گاوں پہنچ گیا اور پولیس لاک اپ میں بند تینوں بھائیوں سے کہا کہ ٓاپ لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ اتنی اچھی نسل کی بھینس کی پرورش کر سکیں۔۔۔آپ لوگوں کا جھگڑا اس بھینس کی جان بھی لے سکتا ہے۔۔۔۔اس لئے میں اسے واپس اوکاڑے والی ڈیری فارم لے جا رہا ہوں۔

جب آپ لوگوں کی صلح صفائی ہو جائے اور پولیس کی مقدمہ بازی سے جان چھوٹ جائے تو آپ لوگ اپنے بچوں کے لئے ضرورت کا دودھ اور مکھن لینے کے لئے پر امن طریقے سے ہمارے ڈیری فارم پر آ سکتے ہیں جہاں پر آپ کو آپ کی اپنی بھینس کا خالص دودھ،دہی اور مکھن پچاس فیصد جرنیلی ڈسکاونٹ پر مہیا کیا جائے گا۔۔۔یہ ہارٹ بریکنگ نیوز سن کر ان تینوں بھائیوں پر کیا گزری ہو گی۔۔۔اس کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔

اس کے ساتھ ہی کہانی ختم اور دس لاکھ روپیہ ہضم۔۔۔لیکن میں چاہوں گا کہ آپ اس کہانی کو صرف کہانی نہ سمجھیں۔۔۔اس کہانی کے کرداروں میں پاکستان کی ساری جرنیلی سیاست چھپی ہوئی ہے۔۔۔رسہ گیر سے لے کر بھینس خریدنے والے اور اس بھینس میں پارٹنر شپ کرنے والے بھائیوں اور وڈے اور نکے باجوے کے کرداروں کی مدد سے سیاسی وارداتوں کو خود بھی سمجھیں اور اپنے ارد گرد والوں کو بھی سمجھائیں تا کہ مستقبل میں جب بھی آپ لوگوں کو سیاسی بھینس خریدنے کا موقعہ ملے تو آپ ان رسہ گیروں اور باجوں سے بچ کر رہیں۔۔۔پاکستان کے موجودہ سیاسی لیڈروں کی غلطیوں کو نہ دہرائیں اور گھر کے مسائل کو گھر ہی میں حل کر لیا کریں۔

898 views2 comments