Search

خفیہ جرنیلی لشکر کا مریم نواز شریف کی گاڑی پر حملہ ؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔11/08/2020


آج کھریاں کھریاں میں بات کرنی ہے مریم نواز شریف کی نیب میں پیشی کی جو کل عمران نیازی اور اس کے ابے کی فرمائش پر ہوئی لیکن لاہوریوں نے سڑکوں پر دما دم مست قلندر کر کے الٹا باجوہ اینڈ سنز کو عوامی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔۔۔سب سے پہلے تو مریم نواز کی جرات اور دلیری کو سراہا جانا چاہئے کہ اس نے پاکستانی عوام کو ایک بار پھر بتا دیا ہے کہ وہ نیازی نیب اور ان دونوں کے سرپرستوں سے خوفزدہ نہیں ہے۔۔۔وہ چاہتی تو کورونا کی آڑ میں اس سارے پراسس کو ڈیلے کر سکتی تھی لیکن اس نے اچھا فیصلہ کیا کہ وہ خود نیب کے سامنے پیش ہو کر پہلے کی طرح باجوہ اینڈ سنز کا مقابلہ کرے گی۔


نیب والوں نے باجوہ اینڈ سنز کی فرمائش پر مریم نواز کو طلب تو کر لیا تھا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ عوام کا ایک سیلاب بھی اس کے ساتھ نیب کی عدالت کی طرف آ رہا ہے تو انہوں نے خوفزدہ ہو کر مورچہ بندی کر لی ۔۔۔نیب کے دفتر کے آس پاس ایسے رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھیں جیسے ہندوستان کی فوج کے حملے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔۔۔مریم نواز جب نیب کے دفتر کے قریب پہنچی تو پولیس نے راستہ دینے کی بجائے عوام پر بھی شیلنگ کی۔۔۔پتھراو بھی کیا اور مریم نواز کی گاڑی پر بھی پولیس کے نشانہ بازوں نے ایسے نشانے لگائے کہ اس کی بلٹ پروف گاڑی کی ونڈ اسکرین کریک ہو گئی ۔



میرے خیال میں تو پولیس والوں کا یہ حملہ کسی بھی طور پر اپنے دفاع کے لئے نہیں تھا۔۔۔ان لوگوں نے جرنیلی حکمت عملی کے تحت مریم کی گاڑی پر نشانے لگائے ہیں۔۔۔اب ٓاپ کے زہن میں یہ سوال بھی ضرور ابھرے گا کہ پنجاب کی پولیس کو عوام پر ایسی پرتشدد کاروائی کرنے کی کیا ضرورت تھی اور خاص کر مریم نواز شریف کو نشانہ بنانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ ایک پاکستانی شہری مریم نواز نیب کے بلاوے پر پہنچی تھی نہ کہ کوئی دشمن سرحد پار کر کے لاہور میں گھس ٓایا تھا جس کو روکنے کے لئے جنگی کاروائیوں کی ضرورت تھی۔

اس سوال کے جواب کے لئے ٓاپ کو ماضی کے کچھ واقعات میں جھانکنا ہو گا۔۔۔ ان واقعات میں بھی یہی طریقہ واردات استعمال کیا گیا تھا جو کہ ٓاج کے حملے میں پولیس والوں نے استعمال کیا ہے۔۔۔ ان سارے واقعات میں بظاہر تو پولیس کاروائی کرتے ہوئے نظر آتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے بھیس میں خلائی مخلوق کے لوگ تھے۔۔۔ماڈل ٹاون والا واقعہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔۔۔اسی طرح ایک سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کے جب بال نوچے گئے تھے تو وہ پولیس والے بھی بہروپئے تھے۔۔۔۔ان کا تعلق بھی خلائی مخلوق سے تھا۔

تازہ ترین واقعہ اسلام آباد میں مطیع اللہ جان کے اغوا کا ہے جس میں اغوا کاروں کے پاس پولیس کی گاڑی بھی تھی اور وردیاں بھی تھیں۔۔۔ان اغوا کاروں کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے لیکن اب تک ان کی شناخت نہیں ہو سکی کیوں کہ اسلام ٓاباد کے ٓائی جی کو ان کیمروں تک رسائی نہیں دی جا رہی اور نہ ہی نادرا اس سلسلے میں یہ بتانے پر ٓامادہ ہے کہ پولیس کے بھیس میں اصل مجرم کون ہیں۔

ان دنوں خلائی مخلوق کے نمائندے پاکستان کے ہر محکمے میں موجود ہیں۔۔۔کچھ تو ایسے ہیں جو کہ اپنے اصلی روپ میں نظر آتے ہیں۔۔۔جیسا کہ واپڈا کے محکمے میں ٓاپ دیکھ سکتے ہیں۔۔۔اسٹیل مل کا نیا چیرمین دیکھ لیں۔۔۔عمران نیازی کے وزیروں مشیروں میں بھی یہ لوگ موجود ہیں۔۔۔لیکن ان کی ایک بڑی تعداد بغیر وردی کے کام کر رہی ہے۔۔۔یہی سفید پوش لوگ پولیس کے محکمے میں بھی گھسے ہوئے ہیں۔۔۔خلائی مخلوق کے یہ نمائندے دیکھنے میں تو پولیس والے ہی لگتے ہیں لیکن یہ جب کسی مشن میں پولیس کے ساتھ نکلتے ہیں تو ان کا لباس تو پولیس والا ہی ہوتا ہے لیکن ان کا ایجنڈا پولیس سے مختلف ہوتا ہے اور یہ اپنی کاروائی کے لئے کسی پولیس افسر سے رجوع کرنے کی بجائے خلائی مخلوق کے ہیڈ کوارٹر سے رابطہ کرتے ہیں ۔



ان بہروپیوں کی کاروائیوں سے فائدہ خلائی مخلوق کو ہوتا ہے لیکن تمام گالیاں پولیس کے حصے میں آتی ہیں اور پھر یہی گالیاں صوبے کے سیاسی حکمرانوں تک پہنچ جاتی ہیں۔۔۔ماڈل ٹاون کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ گولی چلانے والے پنجاب پولیس کی وردی میں تھے لیکن ان کی رشتے داری خلائی مخلوق سے تھئ۔۔۔اس کاروائی سے کچھ فائدہ اس علامہ نے اٹھایا جو ان دنوں کینیڈا میں فوج میلہ کر رہا ہے لیکن اس علامہ سے کہیں زیادہ فائدہ ان لوگوں کو ہوا جو کہ شریف برادران کو سیاست سے ٓاوٹ کر کے عمران نیازی کی جگہ بنانا چاہتے تھے۔۔۔ یہ کیس اب تک پنجاب کے سیاسی حکمرانوں کے گلے پڑا ہوا ہے۔

آپ خود سوچیں اگرماڈل ٹاون والے سانحے میں پنجاب پولیس کے افسران اور پنجاب کے سیاسی حکمران ملوث ہوتے تو کیا اُس جرنیلی پاکستان میں یہ لوگ سزا سے بچ سکتے تھے۔۔۔ جس میں ایک وزیر اعظم کو خلائی مخلوق نے ہتھوڑا گروپ کی مدد سے پھانسی پر چڑھا دیا تھا۔۔۔عمران نیازی جو کہ اس کینیڈین علامہ کا سیاسی کزن بھی ہے وہ اس ماڈل ٹاون والے سانحے پر بہت ماتم کیا کرتا تھا لیکن اب دو سال سے حکومت میں ہے اور اس نے کبھی اس کیس پر کاروائی نہیں کی۔۔۔اس نے تو الٹا اس کیس میں نامزد پولیس افسروں کو اچھی پوسٹنگز دی ہیں۔


میری زاتی رائے میں تو مریم نواز کی گاڑی کو نشانہ بنانے والے نشانچی بھی پولیس کی وردی میں کسی اور ادارے کے گوریلے تھے۔۔۔ پنجاب پولیس کے سپاہی عوام پر تشدد تو کر سکتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی مریم نواز کی گاڑی پر ایسی نپی تلی نشانہ بازی نہیں کر سکتے۔۔۔ پولیس تشدد کے دوران ن لیگ کے ورکرز کو مارنے والے کچھ سفید پوشوں نے نقاب بھی پہن رکھے تھ جن سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ ان بندوں کا تعلق پولیس سے نہیں بلکہ کسی جرنیلی ادارے سے ہے۔


مریم کے سگے انکل شہباز شریف نے اس حوالے سے بیان تو جاری کر دیا ہے لیکن اپنی روایتی سیاست کے مطابق اصل مجرموں کی طرف اشارہ کرنے کی بجائے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے نیب نیازی گٹھ جوڑ کی کاروائی قرار دیا ہے۔۔۔اس کے برعکس مولانا فضل الرحمان نے مریم کے ساتھ یک جہتی کا بھی اظہار کیا ہے اور حملہ کرنے والوں کی طرف واضح اشارے بھی کئے ہیں۔

مریم نواز شریف نے حملے کے بعد جوابی کاروائی کرتے ہوئے عمران نیازی اور اس کے سرپرستوں کی کافی مرمت بھی کی اور یہ بھی کہہ دیا کہ اگر مجھ سے اور نواز شریف سے اتنا ڈرتے ہو تو پھر اس طرح عدالتوں میں بلاتے کیوں ہو۔۔۔مریم نواز کے اس سوال کو پنجابی محاورے میں یوں بھی کہا جا سلتا ہے

ماڑی سی تے لڑی کیوں سی

لیکن کیا کیا جائے ان ماڑے لوگوں کو حکومت کرنے کا نشہ ہے اور جب بھی ان کا نشہ ٹوٹنے لگتا ہے تو یہ ایسا کوئی نہ کوئی ڈرامہ ضرور کرتے ہیں۔



یہیں ایک سوال مریم نواز شریف سے بھی بنتا ہے کہ ٓاپ اس طرح خاموشی سے گھر میں گوشہ نشین کیوں ہے؟ آج آپ کی گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہے تو اس کے بارے میں کھل کر بیان دے دیا ہے۔۔۔لیکن پرانا پاکستان مسلسل توڑا پھوڑا جا رہا ہے ۔۔۔اور آپ خاموش ہیں۔۔۔سیاسی قیادت اگر اس طرح چپ کا روزہ رکھ لے تو پھر عوام کے لئے بھی ظلم اور جبر کو برداشت کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہوتا۔۔۔۔اتنے مہینے کی اس خاموشی سے ن لیگ نے کیا حاصل کیا ہے۔۔۔جرنیلی میڈیا پر کردار کشی پہلے کی طرح جاری ہے۔۔۔نیب کی پیشیاں بھی اسی طرح پورے ٹبر کی ہو رہی ہیں۔۔۔حمزہ شہباز تو مستقل طور پر سرکاری مہمان خانے میں ہے۔۔۔ن لیگ کے سپورٹرز بھی انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔۔۔اور سب سے بڑھ کر یہ زیادتی ہو رہی ہے کہ خلائی مخلوق اپنے جس کھوتے پر بوجھ بڑھاتی جا رہی ہے وہ کھوتا سارے بوجھ سمیت عوام کے کندھوں پر سوار ہے۔۔۔۔ ن لیگ کی شریف قیادت کی اس خاموشی سے صرف اور صرف پرانے پاکستان کو برباد کرنے والے جرنیلی بدمعاشوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔

جس طرح آج مریم نواز نے قبضہ گروپ اور اس کی کٹھ پتلیوں کو کھل کر جواب دیا ہے ۔۔۔۔اسی طرح آنے والے دنوں میں بھی گولہ باری جاری رہنی چاہئے۔۔۔جاتی عمرہ میں گوشہ نشینی کی بجائے سب سے پہلے ان کارکنوں کو پولیس کے شکنجے سے رہا کروانا ہو گا جنہیں ٓاج پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔۔۔پنجاب میں سیاسی تبدیلی کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔۔۔عمران نیازی کو اس بات کا موقع نہیں ملنا چاہے کہ وہ پرانے عثمان بزدار کو تبدیل کر کے اس کی جگہ نیا بزدار لے آئے۔۔۔پنجاب پولیس کے بھیس میں جن لوگوں نے ٓاج اس کی گاڑی کا شیشہ توڑا ہے وہ اگلی پیشی پر اس سے بھی خطرناک کاروائی کر سکتے ہیں۔۔۔ان گوریلوں سے خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔۔۔یہ گوریلے اور ان کے سرپرست لاتوں کے بھوت ہیں۔۔۔نہ تو باتوں سے مانتے ہیں اور نہ ہی چپ کا روزہ رکھنے سے۔


1,538 views