Search

جنرل مشرف کے دور میں بڑھنے والی جرنیلی آبادی اور پلاٹوں کی جنگ۔۔۔27/05/2020کھریاں کھریاں۔۔۔راشد


آج کے کالم کا تعلق بظاہر تو اسی کرنل کی بیوی سے ہے جس کی ویڈیو کی کامیاب نمائش سوشل میڈیا پر آپ سب نے دیکھ رکھی ہےلیکن اس اس میں مجھے ٓاپ سے کچھ ایسی باتیں شئیر کرنی ہیں جن سے ٓاپ کوایک بریکنگ نیوز یہ ملے گی کہ ایکسٹینشن والا جرنیل اور اس کا گینگ کتنے کمزور ہو چکے ہیں۔

کرنل کی بیوی اور اس کے سرپرست جو کہ عید سے پہلے بہت زیادہ خبروں میں تھے اور سوشل میڈیا پر بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بن رہے تھے لیکن پھر طیارے والا المناک حادثہ ہو گیا جسے کرنل کی بیوی والی ویڈیو کا بائیکاٹ کرنے والے میڈیا نے بہت ہائی لائیٹ کیا اور یوں آپ سب لوگ کرنل کی بیوی کو بھول کر اس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کا سوگ منانے لگ گئے۔

بہر حال آج میں نےبات میں کرنی ہے اسی کرنل کی بیوی کی جس نے اب پولیس تھانے میں حاضری دے دی ہے ۔۔۔اسی حاضری کی بدولت یہ خاتون المعروف کرنل کی بیوی پولیس کے شکنجے سے کسی حد تک آزاد ہو چکی ہیں۔۔۔دروغ بر گردن راوی نیو مدینہ کی ریاست کی مٹی پاو پالیسی کے تحت اس خاتون کے خلاف مزید قانونی کاروائی روک دی گئی ہے۔۔۔ایک غیر مصدقہ خبر کے مطابق تو خیر سگالی کے جذبے کے تحت سارا کام کیا گیا ہے لیکن یہ بھی اسی قسم کی ریاستی کاروائی ہے جس طرح کی کاروائی کر کے ساہیوال والے سانحے میں یتیم ہو جانے والے بچوں کو انصاف مہیا کیا گیا تھا۔۔۔اگر ٓاپ کو یاد ہو تو ایک صلاح الدین نامی مظلوم بھی پولیس کے ہاتھوں مارا گیا تھا لیکن بعد میں اس کے ورثا کو بھی حکومتی اور مذہبی دباو کی مدد سے راضی کر لیا گیا تھا۔

بہرحال اس کرنل کی بیوی کے تھانے میں حاضری سے وہ سارا پروپیگنڈا اپنی موت ٓاپ مر گیا ہے جو کہ وردی والوں کےلشکری سوشل میڈیا پر کر رہے تھے اور اس خاتون کے حوالے سے مشہور کر رہے تھے کہ یہ خاتون کرنل کی بیوی نہیں ہے۔۔۔پولیس ترجمان کے مطابق ”مقدمہ نمبر 647 تھانہ سٹی مانسہرہ جس میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے تحت پرچہ درج کیا گیا تھا۔ اس ویڈیو میں گاڑی کے اندر موجود نوجوان اور خاتون تھانہ سٹی کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوۓاور شامل تفتیش ہوئے۔ اس دوران مدعی مقدمہ نے دونوں کی شناخت کی۔“

پولیس ترجمان کے مطابق ”بعد از شناخت ملزمہ کا نام سکینہ جعفر زوجہ محمد فاروق سکنہ عیسی نگر محلہ گولی مار چوک کوئٹہ حال بفہ ہے۔


ٓاپ لوگوں کو یاد ہو گا کہ کرنل کی بیوی کو روکنے والے پولیس کے نچلے درجے کے ملازمین تھے لیکن کیا ٓاپ نے اس بات پر غور کیا ہے کہ ان کالی وردی والے عام سے ملازمین میں اتنی جرات کیسے پیدا ہوئی کہ انہوں نے ایک کرنل کی بیوی کے سامنے انکار کی جرات بھی کی اور اس کی ویڈیو بھی بنا لی۔۔۔ میں نے بھی اپنے طور پر اس واقعے کی چھان بین کی تو پتہ چلا کہ کانسٹیبل شمسی اور کرنل کی بیوی کو روکنے والا چن زیب اے ایس آئی دونوں ایکس سروس مین ہیں اور اور ان کا تعلق سی پیک ٹروپس سے ہے۔۔۔۔فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد انہیں چونکہ زرعی مربعے یا ڈی ایچ میں پلاٹ نہیں ملے اس لئے گھر بار چلانے کے لئے ان دونوں نے نئی ملازمت شروع کر رکھی ہے۔


فوج کے ڈسپلن کے مطابق تو ان دونوں سابقہ فوجیوں کو ایک حاضر ڈیوٹی کرنل کی بیوی کا اس کرنل سے بھی زیادہ احترام کرنا چاہئے تھا جو رات دن اس کرنیلنی کو سلیوٹ کرتا رہتا ہے۔۔۔ لیکن ان دونوں نے نہ تو کرنل کی طرح اسے سلیوٹ کیا کیا بلکہ الٹا اس کے ساتھ تلخ کلامی بھی کی۔۔۔ نہ صرف کرنل کی بیوی بلکہ کرنل کے سرپرستوں کا ایک ایسا روپ پاکستان اور دنیا بھر کے لوگوں کے سامنے پیش کر دیا جو کہ زیادہ تر کی آنکھ سے اوجھل تھا۔۔۔اس واقعے نے اس قبضہ گروپ کی اس ساری نیک نامی کو داغدار کر دیا جو انہیں نے نورجہاں کے ترانوں اور ٓائی ایس پی ٓار کے ڈراموں اور فلموں کی مدد سے حاصل کر رکھی ہے۔

میں نے مزید تفصیلات جاننے کے لئے ایک فوجی دانشور سے بھی رابطہ کیا جس کا فوجی مطالعہ پاکستان مجھ سے بہت بہتر ہے۔۔۔ان صاحب کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ فوج کا نچلا طبقہ ان جرنیلوں کرنیلوں سے خوش نہیں ہے۔

فوج کے سپاہی کو فوج کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے جو ہمیشہ اگلے مورچوں پر لڑتا ہے اور ملک پر جان نچھاور کر دیتا ہے لیکن ایک عرصے سے یہ فوجی طبقہ دیکھتا ٓا رہا ہے کہ افسروں اور جرنیلوں کو ہزاروں کنال زمین، کمرشل پلازے، سٹڈ فارمز اور بنے بنائے بنگلے، عسکری کالونیز اور ڈی ایچ اے میں پلاٹ الاٹ کئے جا رہے ہیں لیکن فوج کے سپاہی کو ریٹائرمنٹ کے بعد دو مرلے کا پلاٹ بھی نہیں ملتا۔۔۔یہی حال صوبیداروں کا ہے۔۔۔پورے پاکستان میں صوبیداروں کی ایک بھی کالونی نہیں ہے جہاں پر وہ ریٹائرمنٹ کے بعد جرنیلوں کی طرح گالف کھیلنا تو کجا سر بھی نہیں چھپا سکتا۔


اس فوجی دانشور نے ایک اور واقعہ بھی میرے ساتھ شئیر کیا جو کچھ یوں ہے کہ فوج کے مستند غدار نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں فوجی سپاہی کی کم ازکم پنشن دس ہزار روپے مقرر کی تھی اور ستر سال سے زائد عمر کے فوجی پنشنروں کے لئے یہ رقم پندرہ ہزار کر دی تھی مگر فوجی خاندان کی حفاظت کے ٹھیکیدار جی ایچ کیو نے آج تک اس پر عمل نہیں کیا اور اب بھی پرانے فوجی پنشنرز کو پنشن کا یہ اضافہ نہیں دیا جا رہا۔

جن پنشنرز کو یہ اضافہ نہیں دیا جا رہا وہ بھی اس حوالے سے بہت پریشان ہیں اور غصے میں ہیں اور اسی طرح ان کے بچے جو کہ اس وقت فوج میں ہیں وہ بھی اپنے والدین کے ساتھ ہونے والی اس زیادتی پر اضطراب میں ہیں۔۔۔وہ دیکھ رہے ہیں کہ قربانی زیادہ تر سپاہی دیتے ہیں مگر مربعے اور پلاٹ جرنیلوں کو ملتے ہیں۔۔۔ جنرل مشرف، جنرل کیانی اور جنرل راحیل شریف بے شمار پلاٹوں کے مالک ہیں۔۔۔ان کی اولادیں ملک سے باہر فوج میلہ کر رہی ہیں۔۔۔ان کی جائیدادیں غیر ممالک میں بھی ہیں مگر ادر رینکس والے فوجیوں اور ان کے بچوں کے پاس ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان میں بھی سر چھپانے کی جگہ نہیں ہے۔

یوں تو پاکستان کے ہر جرنیل نے زمینوں اور پلاٹوں کی اس فوجی صنعت کو اپنے دورِ جرنیلی میں بہت ترقی دی ہے لیکن پرویز مشرف کے دور میں اس صنعت کو بہت زیادہ فروغ ملا۔۔۔اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ پرویز مشرف کوئی جرنیلوں کے لئے زیادہ نرم گوشہ رکھتا تھا۔۔۔وجہ اس کی یہ تھی کہ پرویز مشرف نے اقتدار میں رہنے کے لئے اپنے فوجی حلقہ انتخاب کو خوش رکھنے کے لئے یہ سارا کام کیا۔۔۔اس کے دور میں بہت زیادہ جرنیلی ترقیاں ہوئیں بلکہ یوں کہہ لیں کہ پاکستان فوج کا یہ حال تھا کہ پنجابی میں ٓاپ یوں کہہ سکتے ہیں۔۔۔کہ اٹ پٹیاں جرنیل نظر ٓاندے سن۔

ان ساری جرنیلی ترقیوں نے جہاں پرویز مشرف کو اقتدار میں رہنے کے لئےبہت ٓاسانیاں فراہم کیں وہیں اس کے لئے یہ مشکل بھی پیدا کر دی کہ ان جرنیلوں کو فوجی ٓائین کے مطابق بنگلے ، پلاٹ اور زمینیں کیسے الاٹ کی جائیں۔۔۔ڈیمانڈ اور سپلائی کے قانون کے مطابق ڈیمانڈ کرنے والے بہت زیادہ ہو چکے تھے لیکن سپلائی بہت محدود تھی۔۔۔اس لئے یہ جرنیل ٓاپس میں لڑ جھگڑ رہے تھے اور سب کی کوشش تھی کہ انہیں مشرف کی موجودگی ہی میں زمینوں کے قبضے مل جائیں۔۔۔ اب چونکہ ان سارے مشرفی افسران کو بھی زمینیں درکار تھیں اور اس کے لئے ہندوستان پر چڑھائی تو ہو نہیں سکتی تھی اس لئے پاکستان کے اندر ہی نئے فوجی علاقے فتح کرنے کا منصوبہ بنایا گیا اور چاروں صوبوں کی حکومتوں سے کہا گیا کہ وہ جرنیلوں کےاس نئے لشکر کے لئے زمینیں سرنڈر کریں۔


چاروں صوبوں میں یہ زمینیں لی گئیں لیکن پنجاب میں یہ کام سب سے زیادہ ہوا۔۔۔پرویز مشرف نے پنجاب کی ان مفتوحہ زمینوں کی نہ صرف اپنے جرنیلوں میں بندر بانٹ کی بلکہ اپنے گھر میں کام کرنے والے ملازمین کو بھی اس زمین میں سے حصہ دیا۔۔۔ بعد میں ان فوجی زمینوں کے ساتھ غدار شہباز شریف کی حکومت نے بہت زیادتی کی اور پنجاب میں حکومت سنبھالتے ہی ان ساری فوجی فتوحات پر دوبارہ قبضہ کر لیا لیکن دروغ برگردن راوی ان زمینوں کو پنجاب کی نیازی حکومت کے قبضے سے ایک بار پھر چھڑا لیا گیا اور جنرل نیازی جونئیر کے وسیم اکرم پلس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے یہ ساری قیمتی اراضی وردی والوں کے حوالے کر دی ہے لیکن اس بار بھی یہ زمینیں ان لوگوں کے حصے میں نہیں آئیں جنہیں فوج کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے۔


اس فوجی دانشور نے ایک اور واقعہ بھی شئیر کیا ہے جس سے ٓاپ کو بھی اندازہ ہو جائے گا کہ اب عام سپاہی پر جرنیلی کنٹرول کتنا غیر موثر ہوتا جا رہاہے۔۔۔پچھلے دنوں ایک یونٹ کے افسر کی بیوی کو ہسپتال میں علاج کے دوران خون کی ضرورت پڑ گئی ۔۔۔جب فوجی افسر کی اپنی یونٹ سے خون کے عطیے کے لئے رابطہ کیا گیا تو کسی سپاہی نے بھی اس کارِ خیر میں حصہ نہیں لیا اور پھر اس فوجی افسر کو ایک دوسری یونٹ میں رابطہ کرکے اپنی بیوی کے لئے خون کا بندوبست کرنا پڑا۔۔۔میں نے جب ان صاحب سے پوچھا کہ فوجی افسر کی اپنی یونٹ کے لوگوں نے خون کیوں نہیں دیا تو ان کا جواب تھا کہ اس کی یونٹ کے سپاہیوں کے ساتھ اس خاتون کا سلوک بھی وہی تھا جو کہ کرنل کی بیوی نے پولیس کےسپاہیوں کے ساتھ کیا تھا۔


بات کافی لمبی ہو گئی ہے اس لئے اب اجازت لیکن مجھے امید ہے کہ ٓاپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ اس وقت ایکسٹینن والے جرنیل اور اس کے گینگ کی صورت حال کیا ہے۔۔۔ان کے پاس اب ہتھیار ضرور ہیں لیکن ان ہتھیاروں کو چلانے والے ان کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔۔۔ان لوگوں نے وردیاں ضرور ٓاپ سے مختلف پہن رکھی ہیں لیکن یہ بھی ٓاپ ہی کی طرح اس قبضہ گروپ سے تنگ ٓائے ہوئے ہیں۔۔۔اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ ٓاپ اس صورتحال سے کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں۔۔۔گھروں میں بیٹھ کر ٓاہ و زاریاں کریں گے یا باہر نکل کر اس پاک سر زمین کا قبضہ واپس لیں گے جس پر ایک عرصے سے قبضہ گروپ نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔

829 views