Search

جنرل باجوہ کے لشکر کے لئے نوکریوں کی لُوٹ سیل۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔15/08/2020


آج کھریاں کھریاں میں جرنیلی پاکستان کی ایک سے زیادہ خبریں آپ کےساتھ شئیر کرنی ہیں۔۔۔ان ساری خبروں کا تعلق پاکستان کے مظلوم عوام سے ہے ۔۔۔جرنیلی ظلم کا شکار ہونے والے لوگ تو مختلف صوبوں سے ہیں لیکن ظالم ایک ہی صوبے سے ہیں جسے آپ جرنیلستان کا نام بھی دے سکتے ہیں۔۔۔اس صوبے کی کوئی جغرافیائی حدود نہیں ہیں ۔۔۔ اس صوبے کے رہائشی گھروں میں مختلف زبانیں بولتے ہیں لیکن ڈیوٹی پر صرف اور صرف فوجی زبان استعمال کرتے ہیں۔۔۔ہر مذہبی فرقے کے لوگ اس میں شامل ہیں لیکن اس کے باجود اس صوبہ جرنیلستان کے رہنے والے ٓاپس میں بڑے اتفاق اور سلوک سے رہتے ہیں ۔۔۔آپ لوگوں کی طرح ایک دوسرے سے لڑنے کی بجائے مل جل کر آپ کے خلاف صف آرا رہتے ہیں اور یہی ان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔

سب سے پہلی خبر تو سندھ سے ہے جہاں پر صوبہ جرنیلستان کا لشکر بیک وقت عوام اور سندھ کی حکومت دونوں کے خلاف جنگی کاروائیوں میں مصروف ہے۔

اس بار بھی اس نے یوم آزادی پر پاکستانی تمغوں کی لوٹ سیل لگائی۔۔۔پچھلے سال بھی ایسی ہی ایک سیل لگائی گئی تھی جس میں آئٹم ڈانس کرنے والی اداکارہ مہ وش حیات نے بھی عمران نیازی کے چیف آف اسٹاف مرحوم نعیم الحق کی مہربانی سے ایک تمغہ وصول کر لیا تھا۔۔۔اس سال کی تمغہ سیل میں نیو مدینہ کے غیر سرکاری مبلغ اور برانڈ ایمبیسیڈر مولانا طارق جمیل کو ان کی دعائیہ پرفارمنس کی وجہ سے پرائیڈ آف پرفارمنس دیا گیا ہے۔



ایسا ہی ایک تمغہ دے کر سندھ سے تعلق رکھنے والے مصنف تاج جویو کے زخموں پر بھی مرہم رکھنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے اس جرنیلی رشوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔۔۔ تاج جویو کا کہنا ہے کہ ان کے نوجوان بیٹے کی جبری گمشدگی کے تین دن بعد پرائیڈ آف پرفارمنس کیلئے ان کے نام کا اعلان ان کے اور پوری قوم کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت کا ظالمانہ مذاق ہے۔۔۔ چند روز پہلے ان کے بیٹے سارنگ جویو جو کہ ایک تعلیمی ادارے میں پڑھاتے ہیں۔۔۔انہیں گھر سے اغوا کر لیا گیا تھا۔۔۔سارنگ جویو کا قصور یہ ہے کہ وہ قبضہ گروپ کی طرف سے سندھ میں لاپتہ کئےجانے والے نوجوانوں کے بارے میں آواز بلند کر رہے تھے۔


دوسری خبر کا تعلق بلوچستان سے ہے جہاں پر جرنیلی لشکر کشی تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔۔۔پڑھے لکھے بلوچ نوجوانوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اور دنیا بھر میں پیچھا کر کے مارا جا رہا ہے۔۔۔آپ کو یاد ہوگا کہ ایک بلوچ صحافی ساجد حسین کو سویڈن میں شہید کر دیا گیا تھا۔۔۔کچھ عرصہ پہلے پولیس کی وردی میں قبضہ گروپ کے ایک گوریلے نے شاعر اور مصنف پروفیسر ارمان لونی کو بیدردی سے قتل کر دیا تھا۔

پچھلے دنوں میں چمن بارڈر پر بھی یہی واردات دہرائی گئی۔۔۔عوام کے احتجاج پر ان پر گولیاں چلائی گئیں۔۔لوگوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔۔۔بہت سارے لوگ زخمی ہوئے اور پھر اس خون خرابے کے بعد دو روز کے لئے بارڈر کھول دیا گیا لیکن اس سارے احتجاج کی سزا کے طور پر نامعلوم افراد سے ایک دھماکہ کروایا گیا جس میں بے گناہ لوگ شہید ہوئے اور پھر اس واقعے کی آڑ میں چمن بارڈر کو ایک بار پھر بند کر دیا گیا ہے۔



بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان حیات بلوچ کو تربت میں فرنٹیر کور کے گوریلوں نے اس کے باپ اور ماں کے سامنے گولیاں مار کر شہید کر دیا ۔۔۔حیات بلوچ کراچی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہا تھا اور یونیورسٹی بند ہونے کی وجہ سے گھر آیا ہوا تھا۔۔۔ایسا ہی واقعہ پچھلے دنوں گلگت میں چلاس کے مقام پر پیش آیا ۔۔۔اسلام ٓاباد میں تعلیم حاصل کرنے والا طالب علم اظہار اللہ یونیورسٹی بند ہونے کی وجہ گھر ٓایا ہوا تھا اور دہشت گردی کے نام پر ہونے والی کاروائی میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔


حیات بلوچ کے قتل میں ایف سی کے ایک اہلکار کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔۔۔ ایس ایس پی تربت کا کہنا ہے ک ایف سی کی ابتدائی انکوائری میں پایا گیا ہے کہ اہلکار نے زیادہ شدت کے ساتھ اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اور جلد بازی میں رد عمل دیا جو کہ اسے نہیں کرنا چاہئے تھا۔۔۔ایف سی کے اس اہلکار جس کا نام شاہدی اللہ ہے۔۔۔اس کا پولیس کو سپرد کیا جانا ہی اس بات کابہت بڑا ثبوت ہے کہ یہ اہلکار ظلم اور بربریت کی اس گھناونی واردات میں ملوث ہے۔۔۔۔اب اس کے خلاف مزید تفتیش پولیس کرے گی اور مقدمہ ہتھوڑا گروپ کی ان عدالتوں کے پاس جائے گا جو کہ سانحہ ساہی وال اور کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ایک بے گناہ شہری کے قاتلوں کو پہلے ہی خیر خیریت سے گھر بھیج چکی ہیں۔

اگلی خبر کا تعلق دھرنوں والے عمران نیازی سے ہے۔۔۔انہی دنوں اس مداری نے عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے ایک وعدہ یہ بھی کیا تھا کہ وہ حکومت میں آ کر ایک کروڑ نوکریوں کا بندوبست کرے گا۔۔۔اب اسے حکومت میں فوج میلہ کرتے ہوئے دو سال ہو گئے ہیں لیکن اس نے عوام سے کیا ہوا یہ وعدہ پورا کرنے کی بجائے انہیں تو کورا جواب دے دیا ہے کہ یہ ہمارے بس کا کام نہیں ہے۔۔۔لیکن اس وعدہ خلافی سے بڑی زیادتی جو یہ ان دنوں عوام کے ساتھ بلا ناغہ کر رہا ہے وہ فوجیوں کو نوکریاں دینے والی ہے۔۔۔اس نے اپنے ارد گرد بھی فوجی رکھے ہوئے ہیں۔



مختلف محکموں میں ریٹائرڈ جرنیلوں کو عیاشی کے لئے کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔۔۔پچھلے دنوں خیبر پختون خواہ میں پولیس کے محکمے میں کچھ آسامیاں نکلیں۔۔۔ان پر بھرتی کے لئے جو اشتہار دیا گیا اس میں پرنسپل سے لے کر کانسٹیبل تک کی ساری نوکریوں کی دعوت ان سجیلے جوانوں کے لئے ہیں جو کہ فوج سے تعلق رکھتے ہیں۔۔۔خیبر پختون خواہ وہ صوبہ ہے جہاں کے لوگوں نے عمران نیازی کو سب سے زیادہ سپورٹ کیا تھا اور یہ سات سالوں سے وہاں پر بادشاہت بھی کر رہا ہے لیکن اس کی عوام کش پالیسیاں دیکھیں کہ اس صوبے میں بھی نوکریوں کے دروازے عوام پر بند ہیں اور قبضہ گروپ سے تعلق رکھنے والوں کے لئے کھلے ہیں۔


ایک خبر کا تعلق رینجرز کے محکمے کے ساتھ ہے۔۔۔پچھلے دنوں ہم نے اپنے پروگرام میں ٓاپ کو اس محکمے پر جرنیلی قبضے کی پوری داستان بھی سنائی تھی۔۔۔اب اس محکمے کے ملازمین کے ساتھ زیادتیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔۔۔اس محکمے کے ملازمین پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے کہ وہ سمارٹ فون کا استعمال نہیں کر سکتے۔۔۔اس پابندی کا مقصد بظاہر تو کچھ اور بتایا جا رہا ہے لیکن اصل مقصد یہ ہے کہ رینجرز کے اندر جاری جرنیلی بدمعاشیوں کی وڈیو فوٹیج سوشل میڈیا تک نہ پہنچ سکے

اس کے علاوہ جو بڑی زیادتی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان رینجرز پنجاب کو نچلی سطح پر بھی کنٹرول کرنے کے لئے عوام کی بجائے اس میں ریٹائرڈ فوجی زیادہ سے زیادہ تعداد میں بھرتی کئے جائیں گے۔۔۔رینجرز میں عوام کو نوکری اب اسی صورت میں ملے گی جب اس آسامی کے لئے باجوائی لشکر کا کوئی سپاہی نہیں ملے گا۔۔۔اول خویش اور بعد درویش والے فارمولے کے تحت رینجرز میں ریٹائرڈ فوجیوں کے لئے بہت آسانیاں پیدا کر دی گئی ہیں۔۔۔عمر کی حد کو پینتالیس تک بڑھا دیا گیا ہے۔۔۔پہلے بھی رینجرز میں اعلی عہدوں پر فوجی افسران کو بھیجا جا رہا تھا اور رینجرز سے تعلق رکھنے والے ملازمین کے لئے ترقی کے چانسز نہ ہونے کے برابر تھے۔


اب اس محکمے میں سپاہی ، نائیک اور سب انسپکٹر کے لئے بھی فوجی بھرتی کی جارہی ہے۔۔۔پنجاب رینجرز کی طرف سے ریکروٹمنٹ کے لئے جو اشتہار دیا گیا ہے اس میں سب انسپکٹر کے عہدے کے لئے فوجیوں کو یہ چھوٹ بھی حاصل ہے کہ وہ پینتالیس سال کی عمر میں بھی یہ نوکری حاصل کر سکتے ہیں۔۔۔اسی طرح سپاہی اور نائیک کی نوکریوں کے لئے بھی سابقہ فوجیوں کو عمر میں رعایت دی گئی ہے۔


رینجرز میں بھرتی والے اس اشتہار سے اور خیبر پختون خواہ میں پولیس والے اشتہار سے تو ایسا لگتا ہے کہ اب پاکستان میں نوکریاں صرف فوجیوں کے لئے رہ گئی ہیں ۔۔۔جس تیزی کے ساتھ فوجی بھرتی جاری ہے۔۔۔جلد ہی عمران نیازی کا ایک کروڑ نوکریوں والا ٹارگٹ پورا ہو جائے گا۔۔۔بس فرق یہ ہو گا کہ یہ نوکریاں ان لوگوں کو نہیں ملیں گی جنہوں نے اسے ووٹ ڈالے تھے بلکہ ان لوگوں کو دی جائیں گی جنہوں نے بندوق کے زور پر اس کے حق میں ووٹ ڈلوائے تھے۔


میرا خیال ہے کہ خبریں کافی ہو گئی ہیں۔۔۔ان خبروں سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ باجوائی پاکستان کیا صورت اخیتار کرتا جا رہا ہے۔۔۔اس میں بلڈی سویلین کے لئے بھوک اور فاقے ہیں۔۔۔نہ تو انہیں نئی نوکریاں دی جا رہی ہیں بلکہ جو لوگ اس وقت نوکریوں کر رہے ہیں انہیں پچپن سال میں ریٹائر کرنے کی تیاریاں ہیں۔۔۔پنشن سے محروم کرنے کا پروگرام اس کے علاوہ ہے لیکن ادھیڑ عمر فوجیوں کو فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد نئی نوکریاں ٓافر کی جا رہی ہیں۔۔۔آپ خود سوچیں کہ پینتالیس سالہ فوجی جو کہ فوج میں لڑنے کے قابل نہیں رہتا وہ ریٹائر ہونے کے بعد رینجرز میں بھرتی ہو کر سرحدی علاقوں میں فرائض کیسے انجام دے سکتا ہے۔۔۔دروغ بر گردن راوی جرنیلی سرپرستی میں کام کرنے والے اسمگلر اس پیش رفت سے بہت خوش ہیں۔۔۔ان کا خیال ہے کہ اب ان کا کاوبار دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گا۔



1,646 views