Search

جنرل باجوہ کی لندن میں خوابی مٹر گشت کی داستان ۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 10/02/2020


کل دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد میری تھوڑی سی ٓانکھ لگ گئی اور میں نے خواب میں دیکھا کہ جنرل باجوہ لندن کے اس علاقے میں مارچ کر رہے ہیں جس میں اس بندے کا گھر ہے جسے لوگ مودی کا یار کہتے ہیں۔۔۔ اس خواب کی وجہ شاید یہ ہے کہ میرے زہن پر بھی چونکہ جنرل باجوہ اسی طرح سوار ہے جس طرح وہ ان دنوں بائیس کروڑ پاکستانیوں کے سر پر سوار ہے۔


فرق صرف اتنا ہے کہ میری زات تک یہ مسئلہ صرف تصوراتی ہے اور میری زاتی زندگی میں اس سے کوئی مسائل نہیں کھڑے ہوئے لیکن بیچارے پاکستانی عوام حقیقتاََ اس جرنیلی سواری کے بوجھ تلے دب گئے ہیں ۔۔۔عوامی زبان میں چیخ و پکار کر رہے ہیں اور یہ زبان اس جرنیلی زبان بولنے والے کو سمجھ ہی نہیں ٓاتی اور اوپر سے اس کے جرنیلی ٹرانسلیٹر خوف سے اسے صیح بات بتانے کی بجائے یہ کہہ رہے ہیں کہ عوام چیخ پکار نہیں کر ہی بلکہ با ٓاواز بلند شکریہ جنرل باجوہ کا ورد کر رہی ہے اور ٓاپ کی تا حیات ایکسٹینشن کے لئے ٓاہ زاریاں کرتے ہوئے ، گڑگڑاتے ہوئے دعائیں مانگ رہی ہے۔


جنرل باجوہ کے ساتھ اس خوابی مٹر گشت میں میں نے یہ بھی دیکھا کہ سابقہ ٹوئٹر والا جرنیل بھی ہے ۔۔۔اصولی طور پر تو ان کے ساتھ اس جرنیل کو ہونا چاہئے تھا جس نے جنرل غفور کی شہادت کے بعد اس جہاد کی کمانڈ سنبھالی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ابھی وہ پنجاب کے وسیم اکرم پلس کی طرح انڈر ٹریننگ ہیں اور جرنیلی سوشل میڈیا اکیڈمی میں ٹویٹر میزائل استعمال کرنے والا کریش کورس کر رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ اس میدان میں نئے نئے ہیں اور انہیں جنرل غفور والے مقام پر پہنچنے میں ٹائم لگے گا۔


میرا چونکہ ان کےساتھ زاتی رابطہ نہیں ہے ورنہ میں انہیں مشورہ دیتا کہ وہ کچھ راتوں کے لئے وینا ملک کو اپنے مدرسے میں بلا لیں اور اس کی لمبی زبان والی صلاحیتوں سے استفادہ کریں۔۔۔قبضہ گروپ کو سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ خطرہ مریم نواز سے لاحق ہے اور اس محاذ پر قبضہ گروپ کی طرف سے سب سے زیادہ بیہودہ حملے اسی جرنیلی فن کارہ نے کئے ہیں۔۔۔وینا ملک بڑی تیز رفتاری سے نئے ٹوئٹر والے جرنیل کو اس لیول پر لے کر جا سکتی ہے کہ قبضہ گروپ ان کی پرفارمنس سے خوش ہو کر انہیں بھی جنرل ٓاصف غفور کی طرح مزید تمغے اور ترقیاں بھی دے دے گا۔


جنرل باجوہ کے ساتھ البتہ مجھے وہ مجاہد نظر ںہیں ٓایا جس کے فیض سے جنرل باجوہ نے ن لیگ اور پی پی کو بھی اسی پیج پر اپنے ساتھ کھڑا کر لیا ہے جس پر پچھلے ڈیڑھ سال سے عمران نیازی اپنی تسبیح کے ساتھ اکیلا ہی یوٹرن یو ٹرن کھیل رہا تھا۔۔۔۔ میں نے جب اس مجاہد کی پراسرار کمی کو محسوس کیا تو اپنے ایک دوست سے رابطہ کیا تو اس کا کہنا تھا کہ دروغ بر گردنِ راوی اس کی طبعیت ناساز ہے۔۔اور یہ چونکہ ایک قومی راز ہے تو میں اس پر سے پردہ نہیں اٹھا سکتا کہ اس کی طبعیت کیوں ناساز ہے اور کس کی وجہ سے ناساز ہے۔۔۔پاکستان دشمن میڈیا کا تو یہ کہنا ہے کہ اسے کسی نے کوئی غلط قسم کی گولی دے دی ہے جس کے فیض سے اس کی صحت کو کافی نقصان پہنچا ہے اور وہ اس اہم دورےمیں جنرل باجوہ کے ساتھ لندن نہیں ٓا سکا۔


میرے دوست کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کی زاتی رائے میں تو جنرل باجوہ جس کام کے لئے لندن ٓائے ہیں اس کام کو خوش اسلوبی سے کرنے کے لئے ضروری تھا کہ اس بندے کو دور رکھا جائے کیونکہ اس کی موجودگی ان لوگوں پر گراں گزر سکتی تھی جن کی عیادت کے لئے جنرل باجوہ لندن تشریف لائے ہیں۔


میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ ابھی چند روز پہلے تو جنرل باجوہ نے ایکسٹینشن لیتے ہوئے سپریم کورٹ کو اور پارلیمنٹ کو پیغام بھیجا تھا کہ میری ایکسٹینشن والے بوٹ جلدی جلدی چمکا دو کیونکہ ملک کے اندر بھی دھماکے ہو رہے ہیں اور سرحدوں پر بھی مودی ہمارے فوجیوں کو چین سے سونے نہیں دے رہا اور رات بھر پٹاخے چھوڑ کر ان کی نیند خراب کرتا رہتا ہے تو ایسے میں یہ ملکی سلامتی کو کس کے حوالے کر کے ٓایا ہے۔


کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی غیر موجودگی میں کسی اور کے اندر خدمت کا جذبہ جاگ جائے اور وہ عزیز ہم وطنو والے تیر بہدف نسخے کا استعمال نہ کر ڈالے۔۔۔میرے دوست نے کہا کہ نہیں ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے۔۔ملک میں ہر طرح کا سکون ہے۔۔۔ چھاونیوں میں رہنے والے مجاہد اور شہری علاقوں میں بسنے والے پی ٹی ٓائی کے سارے کارکن موجیں کر رہے ہیں۔۔۔صرف ایسے شرپسند اور غدار جن کا تعلق اپوزیشن کی جماعتوں سے ہے وہ مہنگائی کے حوالے سےجھوٹا پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں۔۔۔ملک میں تو اس وقت دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔۔۔بے گھروں کے لئے فائیو اسٹار شیلٹر ہوم بنائے جا رہے ہیں ۔۔۔پرانے پاکستان میں تو بے گھر لوگوں کو کچی ٓابادیوں میں رکھا جاتا تھا جہاں پر پانی، بجلی اور گیس کی سہولتیں بھی نہیں ہوتی تھیں جبکہ جنرل باجوہ کے خلیفہ نے تو لاہور کے ماڈرن علاقوں میں پناہ گاہیں بنا دی ہیں۔۔۔ن لیگ کے اسحاق ڈار کے تاج محل کو جو انہوں نے اپنی بیگم کے لئے بنوایا تھا اسے بھی بے گھر یوتھیوں کے حوالے کر دیا گیا ہے کہ جب تک پچاس لاکھ گھر مکمل نہیں ہوتے اس تاج محل میں سرکاری خرچے پر عیش کرو۔


موجودہ ملکی صورت حال میں جنرل باجوہ کے لندن کے دورے کے دوران ان کی نوکری کو نہ تو سویلین کی طرف سے کوئی خطرہ ہے اور نہ ہی ان کے اپنے جرنیلوں کی طرف سے۔۔۔ پاکستانی جرنیلوں کی فوجی تربیت پر قیمتی ڈالر اور وقت خرچ کرنے والے غیر ملکی ٹرینر اس بات کی اجازت نہیں دے رہے کہ پاکستان میں عزیز ہم وطنو والا نسخہ استعمال کیا جائے۔۔۔اگر اس نسخے کی تھوڑی سی بھی گنجائش ہوتی تو جنرل باجوہ اسے بہت پہلے استعمال کر لیتے اور کبھی بھی سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ میں ایکسٹینشن والی خواری برداشت نہ کرتے۔


ویسے بھی اس وقت ملک میں بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم دورے پر ٓائی ہوئی ہے اور انہیں بلانے کے لئے جو پریم پتر لکھا گیا تھا اس میں انہیں یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ پاکستان اس وقت اتنا پرامن ملک ہے کہ اس میں دنیا بھر سے نہ صر ف سرمایہ کار انویسٹمنٹ کے لئے ٓا رہے ہیں بلکہ وہ اپنے ساتھ ایسے زہین لوگوں کو بھی لا رہے ہیں جو پاکستان کی حکومت میں اہم وزارتوں پر کام کر رہے ہیں تا کہ ان سرمایہ کاروں کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرنے میں ٓاسانی رہے۔۔۔اگر پاکستان کے حالات خراب ہوتے تو یہ موجودہ دور کے غیر ملکی معاشی سائنسدان اچھی بھلی نوکریاں چھوڑ کر پاکستان میں دو ٹکے والی وزارتیں اور نوکریاں کیوں قبول کرتے۔


بات لمبی ہو رہی تھی اور میرے دوست کو کہیں جانا بھی تھا تو میں نے اسے کہا کہ وہ جاتے جاتے میری اس بات کا جواب دے دے کہ جنرل باجوہ اور چند اہم جرنیلوں کی لندن میں موجودگی کے دوران نئے پاکستان کی حفاظت کون کر رہا ہے۔۔۔میرے دوست نے جواب دینے کی بجائے مجھے ایک واقعہ سنا دیا اور کہا کہ اس میں سے اپنا جواب تلاش کر لو۔


واقعہ کچھ یوں ہے۔۔۔گاوں کا ایک زمیندار چند دنوں کے لئے گاوں سے باہر جا رہا تھا۔۔۔اس کی فصل بھی تیار تھی لیکن اسے نئی فصل کے لئے کھاد اور بیج لینے کے لئے جانا تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس کے علاقے میں کھاد اور بیج سپلائی کرنے والی محکمہ زراعت سے منظور شدہ کھاد ایجنسیوں میں اس کا مطلوبہ بیج اور کھاد میسر نہیں تھی اور اس وقت اس کا اسٹاک صرف ٓابپارہ اسلام ٓاباد والی برانچ میں تھا۔۔۔زمیندار نے اسلام ٓاباد جانے کا پروگرام بنا لیا لیکن اس کو اس بات کا بھی ڈر تھا کہ کہیں اس کے اسلام ٓابادی دورے کے دوران کوئی مخالف زمیندار اس کی فصل کاٹ کر نہ لے جائے یا پھر وہ اس کی پکی پکائی فصل کو ٓاگ لگا کر اسے کنگال نہ کر دیں۔


اس نے ایک ترکیب سوچی اور راولپنڈی میں اوجڑی کیمپ میں ہونے والی تباہی کی ٹی وی فوٹیج سے دھماکوں کی ٓاوازیں ریکارڈ کر لیں اور اپنے ایک مزارعے کی ڈیوٹی لگا دی کہ وہ کھتیوں میں پہرہ دیتا رہے اور ساتھ ساتھ اونچی ٓاواز سے اوجڑی کیمپ کے دھماکوں کی ٓاوازیں نشر کرتا رہے۔۔۔ان بے ضرر دھماکوں سے فصلوں کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن فصلوں کو تباہ کرنے والے جانور اور انسان دونوں میرے کھیتوں سے دور رہیں گے۔


ابھی میں اپنے دوست سے اس واقعے پر مزید بات کرنا چاہ رہا تھا کہ میری بیگم نے مجھے جھنجوڑتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی طرف سے بریکنگ نیوز چل رہی ہے اور انہوں نے ٓازادی مارچ کی کہانی کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔


بہرحال اب میں مولانا کی اس پریس کانفرنس کو دیکھنے لگا ہوں اور ٓاپ اس دوران اس واقعے اور میرے خواب سے جو بھی تعبیر نکالنا چاہیں نکال لیں۔۔۔البتہ مولانا فضل الرحمن کے تیور بتا رہے ہیں کہ وہ نون لیگ اور پی پی کو اتنی ٓاسانی سے وہ کھچڑی کھانے نہیں دیں گے جس کو پکانے کے لئے سب سے زیادہ محنت انہوں نے کی تھی لیکن کھچڑی پکنے کے بعد اسے رائے ونڈ اور بلاول ہاوس کے کچن میں پہنچا دیا گیا ہے۔


محاورے کی زبان میں یوں کہہ لیں۔۔۔


دکھ سہیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں

1,733 views