Search

جنرل باجوہ پاکستان کے تاحیات حکمران کیسے رہ سکتے ہیں؟۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 16/01/2020



پاکستان کی عدالتیں اس وقت عملا فوجی عدالتیں بنی ہوئی ہیں۔۔۔سپریم کورٹ کے باہر تختی تو سپریم کورٹ کی لگی ہوئی ہے اور سنا ہے کہ ایک ترازو بھی ابھی تک لٹکی ہوئی ہے لیکن سپریم کورٹ کے زیادہ تر فیصلے اس قسم کے ٓا رہے ہیں جن سے ایسا لگتا ہے کہ یہ بھی پاکستان ٓارمی کی ایک کور بن کر رہ گئی ہے۔۔۔۔۔۔لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے ریٹائرڈ کرنل انعام الرحیم ایڈوکیٹ کی حراست کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ اس گرفتاری میں حکومت کی بدنیتی نظر ٓا رہی ہے لیکن سپریم کورٹ نے قبضہ گروپ کی درخواست پر اس فیصلے کو معطل کر دیا ہے ۔

سپریم کورٹ نے پہلے تو اس بات پر اصرار کیا کہ لاپتہ لوگوں کے لاپتہ ہو جانے والے وکیل کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے لیکن پھر قبضہ گروپ کی طرف سے مہر بند لفافے میں ملنے والے پیغام کے بعد نہ صرف اپنے اصرار سے یو ٹرن لے لیا بلکہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو بھی قبضہ گروپ کے بھیجے ہوئے ہتھیار سے تباہ و برباد کر دیا۔۔۔اس مقدے کی تفصیلات میں پہلے بھی بتا چکا ہوں اس لئے دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔اب ریٹائرڈ کرنل انعام الرحیم کے اہل خانہ اللہ تعالی کی عدالت میں ہی اپیل کر سکتے ہیں کیونکہ سپریم کورٹ تو اس حوالے سے قبضہ گروپ کے سامنے سرنڈر کر چکی ہے۔

پرویز مشرف کو سزا دینے والی خصوصی عدالت کو بھی لاہور ہائی کورٹ کی مدد سے ٹھکانے لگایا جا چکا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ابھی پرویز مشرف کو پورا یقین نہیں ہے کہ وہ پھانسی کے پھندے سے مکمل طور پر بچ گئے ہیں۔۔۔ٓاج ان کے وکیل نے سپریم کورٹ میں خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر کر دی ہے جس سے ایسا لگتا ہے کہ خصوصی عدالت والا گھوڑا ابھی مکمل طور پر مردہ نہیں ہوا ۔

قانونی طور پر تو اس اپیل کے لئے پرویز مشرف کا پاکستان میں ہونا ضروری تھا لیکن چونکہ اس وقت عدالتیں قبضہ گروپ کے اشاروں پر لیفٹ رائٹ لیفٹ رائٹ کر رہی ہیں اس لئے کچھ بھی ممکن ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سپریم کورٹ کا نیا ثاقب نثار جس نے ریٹائرڈ کرنل انعام الرحیم کی فوجی حراست سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عدم پیروی کی بنیاد پر ان کی عوامی مفاد کی ایک درخواست کو خارج کر دیا تھا اب جرنیلی خاندان کے اس ہونہار سپوت پرویز مشرف کو باعزت بری کرنے کے لئے سپریم کورٹ کے ترازو کو جی ایچ کیو کی طرف جھکا دے ۔

اس کام کے لئے اگر فوجی عدالت کو پاکستان کے ٓائین اور قانون سے اگر کوئی مدد نہ ملے تو وہ اس کے لئے فیصل واوڈا کی خدمات لے سکتی ہے اور اس جوتے کو جس کو جرنیلی ٹی وی پر قوم سے خطاب کرنے کا اعزاز حاصل ہو چکا ہے۔۔۔اس تاریخی جوتے کو اس کام کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اسے مستقل طور پر سپریم کورٹ کے ترازو میں تعینات بھی کیا جا سکتا ہے۔

جرنیلی جوتے کو سپریم کورٹ کی ترازو میں رکھنے سے بہت سارے فائدے ہوں گے۔۔۔ایسے تمام لوگ جو قبضہ گروپ کے خلاف درخواستیں دائر کرتے رہتے ہیں اور جنرل باجوہ کی سیاسی سرگرمیوں میں رخنہ ڈال دیتے ہیں۔۔۔ان سب شرپسندوں اور غداروں کی اس جوتے کو دیکھ کر حوصلہ شکنی ہو گی اور وہ اس عدالت کو ٓارمی کی ایک کور سمجھ کر اس کے اندر داخل ہونے کی جرات کبھی نہیں کریں گے۔

میرے ایک جلا وطن دوست نے ایک تجویز پیش کی ہے اور کہا ہے کہ میں اپنے چینل کی وساطت سے اسے جنرل باجوہ تک پہنچا دوں۔۔۔میرے دوست کا خیال ہے کہ اس کی تجویز ایک ایسا نسخہ ہے جس پر عمل کر کے جنرل باجوہ کا پاکستان پر قبضہ بھی تاحیات بھی ہو جائے گا بلکہ ان کی ٓانے والی جرنیلی نسلیں بھی قیامت تک اس ملک پر حکومت کرتی رہیں گی۔

اب ٓاپ یقیننا چاننا چاہیں گے کہ وہ تجویز کیا ہے تو میں زیادہ سسپنس ڈالنے کی بجائے بتائے دیتاہوں کہ یہ ایک نئی پارٹی بنانے کی تجویز ہے۔۔۔اس پارٹی کا نام میرے دوست نے تجویز کیا ہے ۔۔۔ٓال پاکستان بُوٹ لیگ اور اس کا نتخابی نشان بھی بوٹ ہی ہو گا۔۔۔میں نے جب اپنے دوست سے کہا کہ بوٹ کو عزت دینا پاکستانی سیاست دانوں کو منشور تو ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کے عوام تو کبھی بھی بوٹ ووٹ نہیں دیں گے تو میرے دوست نے کہا کہ یہ میری غلط فہمی ہے۔۔۔پاکستان کے سیاستدان کوئی خلائی مخلوق نہیں ہیں۔۔۔یہ بھی پاکستانی عوام میں سے ہیں۔۔۔اگر یہ بوٹ کو عزت دے سکتے ہیں تو یقیننا بہت سارے ایسے پاکستانی ہوں گے جو کہ بوٹ کو عزت بھی دیں گے اور ووٹ بھی دیں گے۔

اس حوالے سے میرے دوست نے بے شمار مثالیں بھی دیں اور سوشل میڈیا پر ہزاروں ایسے لوگوں کے اکاونٹس کا حوالہ دیا جو کہ اپنے والدین سے بھی کہیں زیادہ بوٹ کی عزت کرتے ہیں۔۔۔سب سے اہم مثال جو اس نے دی وہ یہ تھی کہ پاکستان کے زیادہ تر گھروں میں لڑکی والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی بیٹی کی شادی کسی فوجی افسر سے ہو جائے ۔۔۔اس رشتہ داری کے پیچھے بہت سارے مفاد ہوتے ہیں لیکن یہ خواہش اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ عام پاکستانی بوٹ والوں کے ساتھ رشتہ داری کے لئے کتنا بے تاب رہتا ہے۔

میں نے اپنے دوست کو تجویز دی کہ کیوں نہ جرنیلوں نے جو ماضی میں روایات ڈالی ہیں انہی پر عمل کیا جائے۔۔۔اور ایک نئی مسلم لیگ بنا لی جائے جس کا نام مسلم لیگ رکھ لیا جائے اور اس کے ساتھ جوتے والی جیم لگا لی جائے۔۔۔میرے دوست نے کہا کہ اس طرح کے بہت سارے تجربے ہوئے ہیں لیکن یہ پائیدار نہیں ہوتے اور ان کی عمر بھی اس جرنیل جتنی ہوتی ہے جو اس طرح کی مسلم لیگ بنواتا ہے۔۔۔میرے دوست نے کہا جنرل ایوب کی کنونشن لیگ کی مثال لے لو۔۔۔ یا پھر ماضی قریب میں جنرل پرویز مشرف کی قاف لیگ کا حال دیکھ لو۔۔۔کہاں یہ پارٹی ملک پر راج کر رہی تھی اور اب کہاں مانگ تانگ کر ڈنگ ٹپا رہی ہے۔

میں نے نئی جماعت کے انتخابی نشان جوتے پر بھی اعتراض کیا تو میرے دوست کے پاس اس کا بھی بڑا معقول جواب تھا۔۔۔اس نے کہا امریکہ میں ایک بڑی جماعت کا انتخابی نشان گدھا ہے ۔۔۔اس جماعت کو بہت سارے پڑھے لکھے امریکی ووٹ بھی دیتے ہیں اور یہ اکثر حکومت میں بھی ہوتی ہے۔۔۔اس لئے اگر دنیا پر حکومت کرنے والی قوم گدھے کو ووٹ دے سکتی ہے تو امریکی امداد پر پلنے والے ملک کے شہریوں کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔۔۔شروع شروع میں کچھ لوگ باتیں کریں گے لیکن اس کام کے لئے بہت سارے جرنیلی چینلز موجود ہیں جن پر کاشف عباسی،مبشر لقمان، صابر شاکر، حسن نثار جیسے جوتا پروموٹرز پہلے سے ہی بڑی جانفشانی سے یہ کام کر رہے ہیں۔

ان لوگوں کی مدد سے لوگوں کو جوتے کے سیاسی اور جمہوری فوائد بتا کر انہیں اس بات پر راضی کیا جا سکتا ہے کہ وہ اگلے انتخابات میں شیر،تیر یا بلے کو ووٹ دینے کی بجائے بوٹ کو ووٹ دیں اور جو لوگ پھر بھی نہ مانیں انہیں ٓارمی ایکٹ میں ترمیم والی قانون سازی والی پارلیمانی ڈرامے کی قسط دکھائی جا سکتی ہے جس سے ان کو یقین ٓا جائے گا کہ پاکستان بچانے کے لئے ضروری ہے کہ بوٹ کو نہ صرف عزت دی جائے بلکہ ووٹ بھی دیا جائے۔

بات کو ٓاگے بڑھانے کے لئے میں نے اپنے دوست سے کہا کہ ملک کی موجودہ سیاسی جماعتوں کا اس بوٹ لیگ کے میدان میں ٓانے کے بعد کیا مستقبل ہو گا۔۔۔میرے دوست نے کہا بوٹ لیگ کے کھل کر سیاست میں ٓانے سے یہ جماعتیں جلد ہی سیاسی طور پر دیوالیہ ہو جائیں گے۔۔۔میں نے کہا کہ وہ کیسے۔۔۔ن لیگ کے پاس کروڑوں ووٹر ہیں۔۔ہزاروں لیڈر ہیں۔۔۔پی پی کا بھٹو بھی ابھی زندہ ہے اور اس کے پاس چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر والا نعرہ بھی موجود ہے ۔۔۔عمران نیازی کی فارن فنڈنگ اسی طرح جاری ہے ۔۔۔اس کے پاس بھی بہت سارے سیاسی اثاثے ٓا گئے ہیں۔۔۔۔تو ان بڑی جماعتوں کے ہوتے ہوئے بوٹ لیگ کیسے سیاست کرے گی۔۔۔ووٹر کہاں سے لائے گی اور لیڈر کہاں سے امپورٹ کرے گی۔

میرے دوست کے پاس اس کا جواب بھی موجود تھا۔۔۔اس کا کہنا تھا کہ اس وقت بےشمار ریٹائرڈ جرنیل مارکیٹ میں ہیں اور ان میں سے بہت سارے ایسے ہیں جو ہر شام ٹی وی پر پاکستانی عوام کو فوجی سیاست کی برکتوں پر لیکچر بھی دیتے ہیں۔۔۔یہ سارے فوجی دانشور اس بوٹ لیگ کے تھنک ٹینک پر سوار ہو جائیں گے اور باقی جرنیلوں کو اس بوٹ لیگ کا رہنما بنا دیا جائے گا۔۔۔اس کے علاوہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں فوجیوں کو ریٹائر کیا جاتا ہے۔۔۔اگر پچھلے پچاس سال کا حساب لگایا جائے تو اس وقت تک پاکستان کے گلی کوچوں میں لاکھوں ایسے سابقہ فوجی موجود ہیں جنہیں اس بوٹ لیگ کی فوری رکنیت دے کر بوٹ لیگ کو ملک کی سب سے بڑی جماعت بنایا جا سکتا ہے۔۔۔رہی بات موجودہ سیاسی جماعتوں کی تو ان میں بھی بہت سارے سابقہ فوجی موجود ہیں وہ بھی ان جماعتوں کو چھوڑ کو بوٹ لیگ میں سیاست کرنا پسند کریں گے کیوں کہ یہاں انہیں زیادہ سہولتیں میسر ہوں گی اور ساتھ ہی انہیں ان بلڈی سویلینز ٹائپ لیڈروں سے بھی نجات مل جائے گی جو ان کو پارٹی کےاندر شامل تو کر لیتے ہیں لیکن پروموشن دیتے وقت ڈنڈی مار جاتے ہیں اور پارٹی کی قیادت اپنے گھر تک ہی محدود رکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ زیادہ تر جماعتوں میں لوٹوں کی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔۔۔یہ لوٹے ہمیشہ ایسی جماعت کی طرف ہجرت کرتے ہیں جس کے بارے میں انہیں پتہ چل جاتا ہے کہ اگلی باری کس کی ہے۔۔۔اس بوٹ لیگ کی وجہ سے ان کا یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور انہیں بار بار پارٹی تبدیل کرنے والی مشقت بھی نہیں کرنی پڑے گی۔۔۔بوٹ لیگ تا قیامت پاکستان پر حکومت کرے گی اور یہ لوٹا سیاست کرنے والے بھی اپنی ٓاخری سانسوں تک اسی بوٹ لیگ کے ترانے گاتے رہیں گے۔

میں نے اپنے دوست سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ لوٹوں اور جرنیلی سیاستدانوں کے باوجود بھی موجودہ پارٹیاں اگر سیاست سے ٓاوٹ نہ ہوئیں تو پھر کیا ہوگا۔۔۔میرے دوست نے فورا جواب دیا اس کے لئے اور بہت سارے راستے کھلے ہوئے ہیں۔۔۔جنرل باجوہ بہت شاطر ہیں۔۔۔انہوں نے اپنی ایکسٹینشن کے حوالے سے نہ صرف بڑی جماعتوں کو قابو میں کر لیا ہے بلکہ اپنے جرنیلی حریفوں کو بھی چاروں خانے چت کر دیا ہے تو ان کے لئے اپنی نئی جماعت ٓال پاکستان بوٹ لیگ کے ان نیم جان سیاسی حریفوں کو ناک ٓاوٹ کرنا کونسی بڑی بات ہے۔۔۔اسی کام کے لئے تو انہوں نے فوج کی نئی جوڈیشل کور بنائی ہے اور اس کا کارکردگی پوری دنیا دیکھ چکی ہے کہ اس کور کے کمانڈر ثاقب نثار نے کتنی جانفشانی کے ساتھ ٓاپریشن رد النواز میں جنرل باجوہ کے ساتھ ایک ہی پیج پر کھڑے ہو کر ایک کامیاب جنگ لڑی تھی۔

میرے دوست نے ٓال پاکستان بوٹ لیگ کے حق میں اور بھی بہت سارے دلائل دیئے ہیں لیکن مجھے اس کی بات سے ابھی بھی اتفاق نہیں۔۔۔لیکن بات لمبی ہوتی جا رہی ہے اس لئے ساری بحث ٓاج مکمل نہیں ہو سکے گی۔۔۔اس لئے ٓاج اتنا ہی۔۔۔لیکن میں چاہوں گا کہ ٓاپ بھی اس حوالے سے اپنی رائے دیں اور ایسے دلائل دیں تا کہ میں اپنے دوست کو قائل کر سکوں کہ پاکستان کے لوگ بہت باشعور ہو چکے ہیں اور اب وہ قبضہ گروپ کے کسی نئے جھانسے میں نہیں ٓائیں گے۔


270 views