Search

جنرل باجوہ وزیر اعظم ہاوس میں شفٹ کیوں نہیں ہو جاتا ؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔14/06/2020


کھریاں کھریاں کے ایک قاری نے پوچھا ہے کہ اس وقت سوائے دھنیئے اور پودینے کے کاروبار میں ہر جگہ فوج نے ٹانگ اڑا رکھی ہے۔۔۔یہ لوگ مارشل لگا کر پاکستان پر مکمل طور پر ہی قبضہ کیوں نہیں کر لیتے؟

پاکستان میں در اصل جمہوریت ایک غیر ملکی فرمائیشی پروگرام کے تحت چلتی ہے ۔۔۔یہ فرمائش کرنے والے اپنی ضرورت کے مطابق پاکستان میں کبھی جرنیلوں کو ایوب خان، یحیی خان،ضیا الحق اور پرویز مشرف کی شکل میں کھل کر حکومت کرنے کا موقع دیتے ہیں اور کبھی ان پر ایسے جرنیل مسلط کر دیتے ہیں جو کہ پردے کے پیچھے سے سیاسی حکومت کو کنٹرول میں رکھتے ہیں اور اس کا دائرہ اختیار صرف ان کاموں تک محدود کر دیتے ہیں جن سے غیر ملکی طاقتوں کے مفادات پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔۔۔ایسے جمہوری دور میں بھی پاکستان کے خارجہ اور دفاع والے سارے بڑے فیصلے یہ جرنیل خود کرتے ہیں لیکن ان کی پبلک اناونسمنٹ کے لئے کسی شیروانی والے کو منتخب کر لیتے ہیں۔


اب یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے سیاستدان ایسی حکومتیں بنانے میں فوج کا ہاتھ کیوں بٹاتے ہیں جس میں ان کا اپنا کردار کٹھ پتلی والا ہوتا ہے۔۔۔ اس سوال کا جواب بات کو دوسری طرف لے جائے گا اس لئے آپ کے سوال تک ہی محدود رہتے ہیں ۔

پاکستان کے قیام کے وقت جو پہلے دو انگریز آرمی چیف بنے ۔۔۔صرف انہوں نے پاکستان پر مکمل قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے اندر یہ خواہش نہیں تھی۔۔۔اس کی وجہ یہ تھی کہ قیام پاکستان سے لے کر پہلے آئین کی تشکیل تک پاکستان عملا برطانیہ کے کنٹرول میں تھا اور پاکستان کا گورنر جنرل تاج برطانیہ کی وفاداری کا حلف لیا کرتا تھا۔۔۔اس لئے پاکستان کے برطانوی کمانڈر انچیف کو یہ ضرورت پیش نہیں آئی۔۔۔اسے پاکستانی فوج کا کمانڈر انچیف اسی لئے بنایا گیا تھا کہ پاکستان کے سیاسی حکمران اس برطانوی ٹرینڈ فوج کو کسی ایسی مہم کے لئے استعمال نہ کر لیں جس سے خطے میں برطانیہ کے مفادات کو نقصان پہنچے۔


ان برطانوی کمانڈروں نے اس بات کو پورا خیال رکھا اور جب بھی پاکستانی حکومت نے انہیں کوئی ایسا حکم دیا تو ان برطانوی کمانڈروں نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا۔۔۔اس کی ایک مثال وہ حکم ہے جو قائد اعظم نے پاکستانی فوج کو کشمیر میں بھیجنے کے حوالے سے دیا تھا لیکن اس کی تعمیل نہیں کی گئی۔

ایوب خان کے کمانڈر انچیف بننے کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی۔۔۔اب بظاہر تو آرمی کا چیف ایک پاکستانی تھا لیکن اس کی تربیت بھی اسی فوجی نصاب کے تحت ہوئی تھی جس کے مطابق پاکستان کی برطانوی تربیت یافتہ فوج نے برطانیہ کے جانے کے بعد بھی برطانیہ کے مفادات کا تحفظ کرنا تھا لیکن یہ ڈیوٹی پاکستانی وردی میں کرنی تھی اور وہ بھی پاکستانی حکومت کے خرچے پر۔

ایوب خان کے حوالے سے قائد اعظم کو بہت سے تحٖفظات تھے لیکن وہ اس کو فوج سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔۔۔اسی ایوب خان نے کچھ عرصہ کمزور سیاسی حکومت کو برداشت کیا لیکن جب غیر ملکی فرمائش آئی تو پاکستان میں سیاسی حکومت کا بوریا بسترا گول کر دیا۔

ایوب خان والی یہ حرکت بعد اور جرنیلوں نے بھی دہرائی لیکن اب فرق یہ ٓا گیا تھا کہ اس حوالے سے فرمائش کرنے کا اختیار صرف برطانیہ کے پاس نہیں رہا تھا اور اب امریکہ نے اس کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔۔۔اس کی سب سے بڑی وجہ فوجی امداد تھی جو کہ سب سے زیادہ امریکہ کی طرف سے مل رہی تھی۔۔۔ان دنوں بھی یہی امریکی فرمائیشی پروگرام ہی چل رہا ہے جس میں برطانیہ کو بھی شامل کر لیا جاتا ہے لیکن برطانیہ کی حیثیت پانچوں سوار دلی سے آئے ہیں والے محاورے کے پانچویں سوار کی ہے۔


اس وقت بھی پاکستان میں جنرل باجوہ اسی فارمولے کے تحت کام کر رہا ہے۔۔۔لیکن جنرل باجوہ کی خوش قسمتی ہے کہ اسے عمران نیازی جیسا تابعدار وزیر اعظم مل گیا ہے جسے اس فوجی مداخلت سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔۔۔جنرل باجوہ کی خواہش تو یہ یہی ہے کہ وہ مکمل طور پر پاکستان کا اقتدار سنبھال لے لیکن ابھی اسے امدادی ڈالر اور ہتھیار دینے والوں نے اس کی اجازت نہیں دی لیکن اس کے باوجود اس نے عمران نیازی کی سیاسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کے ہر اس شعبے میں اپنے جرنیلی گھس بیٹھئے داخل کر دئیے ہیں جہاں سے یہ لوگ اس ڈالر کی تنگی والے دور میں چار پیسے کما سکیں۔۔۔۔یہی مال کماو پالیسی ہے جس کے تحت ٓاپ کو ہر کام میں جیسا کہ ٓاپ نے نشاندہی کی ہے ۔۔۔جرنیلی فوج میلہ نظر آ رہا ہے۔

جنرل باجوہ کی سیاسی حکومت پر بہت مضبوط گرفت ہے اور بڑی بڑی طاقتوں نے بھی اس بات کو تسلیم کر رکھا ہے کہ اس وقت پاکستان کا عملا حکمران جنرل باجوہ ہے۔۔۔یہی وجہ ہے کہ چین کے صدر سے لے کر امریکی ایسٹیبلشمنٹ جب بھی اسے پاکستان کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ عمران نیازی کو زحمت نہیں دیتے اور ڈائرکٹ نکے کے ابے سے رابطہ کر لیتے ہیں۔۔۔پچھلے دنوں افغان ایشو کے حوالے سے زلمے خلیل زاد نے بھی جنرل باجوہ سے ملاقات کی اور پھر افغانستان کے صدر کے پاس جو پاکستان وفد گیا اس میں بھی عمران نیازی کو ساتھ لے جانے کی زحمت نہین کی گئی اور جنرل باجوہ نے خود ہی افغان صدر سے بات چیت کر کے معاملات طے کئے ہیں۔۔۔ان ملاقاتوں میں کیا طے کیا گیا ہے یہ تو نہ اس ملک کے وزیر اعظم کو پتہ ہے اور نہ ہی ملک کی پارلیمنٹ کو اس کی رپورٹ دی گئی ہے ۔


ملک پر اتنا کنٹرول ہونے کے باوجود جنرل باجوہ کے اندر ڈو مور والی ہوس باقی ہے۔۔۔اس کی پوری کوشش ہے کہ ملک کے اندر ایسی خانہ جنگی کو ہوا دی جائے جس سے اس کی بھی عزیز ہم وطنو والی حسرت پوری ہو جائے۔۔۔ان دنوں فوج کے اندر اس نے اکھاڑ پچھاڑ کی ہے۔۔۔ اپنے باجوائی شکنجے کو مضبوط کرنے کے لئےبہت سارے کور کمانڈرز کو ادھر ادھر کر دیا ہے اور تین سو سے زیادہ افسروں کو فوج سے قبل از وقت فارغ بھی کر دیا ہے۔۔۔۔فوجی افسران کی نگرانی پہلے سے بہت زیادہ ہو رہی ہے۔


اس فوجی جاسوسی کے حوالےسے میرے پاس ایک اہم خبربھی ہے لیکن ابھی اس حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔۔۔جیسے ہی وہ تفصیلات مل گئیں ۔۔۔میں ٓاپ سب کو بتاوں گا کہ جنرل باجوہ نے فوج پر اپنا شکنجہ مضبوط کرنے کے لئے اور ناراض فوجی افسروں کے درمیان رابطوں کے خوف سے کیا اقدامات لئے ہیں۔

میری ایک فوج مبصر سے بات ہوئی تھی اور اس نے یہ امکان ظاہر کیا ہےکہ جنرل باجوہ اس وقت موجودہ حکومت پر ہر طرح کا کنٹرول ہونے کے باوجود یہ چاہتا ہے کہ وہ اقتدار پر مکمل طور پر قبضہ کر لے۔۔۔اس نے اپنے طور پر تیاری کر رکھی ہے۔۔۔جیسے ہی ڈالروں والی سرکار نے مارشل لا کی فرمائش کر دی۔۔۔جنرل باجوہ اور اس کا گینگ وزیر اعظم ہاوس والی یونیورسٹی کی طرف لانگ مارچ شروع کر دے گا۔

1,303 views