Search

جنرل باجوہ نے فوجی افسروں پر کیا پابندی لگا دی ہے؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔18/06/2020


آج کھریاں کھریاں میں بات کرنی ہے ایک ایسے فوجی ہدایت نامے کی جسے میڈیا کی اصطلاح میں آپ بریکنگ نیوز بھی کہہ سکتے ہیں۔۔۔یہ ہدایت نامہ جنرل باجوہ کے ایکسٹینشن والے نوٹیفیکیشن کی طرح بالکل خفیہ رکھا گیا ہے۔

آج کی اس خبر کا کچھ کچھ تعلق جنرل باجوہ کی جرنیلی کمزوری سے ہے۔۔۔ ویسے تو جنرل باجوہ نے ایک تھری اسٹار جنرل کو فوج سے جبری طور پر فارغ بھی کر دیا ہے۔۔۔مشکوک کور کمانڈرز کو کھڈے لائین بھی لگا دیا ہے اور تین سو سے زیادہ فوجی افسروں کو قبل از وقت اپنے جرنیلی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے فوج سے فارغ بھی کر دیا ہے لیکن اس ساری اکھاڑ پچھاڑ کے باوجود اس خبر کو دیکھ کر ایسا لگا رہا ہے کہ جنرل باجوہ ابھی بھی خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہے۔۔۔جنرل باجوہ چونکہ شطرنج کا کھلاڑی بھی ہے تو آپ اس بات کو یوں کہہ لے کہ اسے ابھی بھی اپنا بادشاہ شہ مات والے خطرے میں گھرا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

اس خبر پر مزید بات کرنے سے پہلے میں ایک وضاحت بھی کر دوں کہ یہ میری زاتی رائے ہے۔۔۔جو کہ حالات حاضرہ کو دیکھتے ہوئے میں نے قائم کی ہے۔۔۔میرے پاس نہ تو بنی گالہ والے جنات ہیں اور نہ ہی جنرل فیض والے غیبی فرشتے ہیں جو کہ دن رات میرے لئے جاسوسی کرتے رہتے ہیں۔

جنرل باجوہ کی جرنیلی کمزوری والی یہ خبر کچھ یوں ہے کہ جنرل باجوہ نے یکم جون دو ہزار بیس سے فوج میں اسمارٹ فون استعمال کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔۔۔فوجی افسروں کو ایک ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہےکہ اگر ان ہدایات کی کسی فوجی افسر،اس کی فیملی یا بچوں نے خلاف ورزی کی تو ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائےگی۔

اس فوجی ہدایت نامے کے مطابق ڈیوٹی کے دوران کوئی بھی یونیفارم والا افسر کسی قسم کا سمارٹ فون اور کوئی الیکٹرونک گیجٹ بشمول وائی فائی موڈم، سمارٹ واچ، ٹیبلٹ استعمال نہیں کر سکتا ۔۔۔اس پابندی کا اطلاق جی ایچ کیو میں بھی ہو گا اور ہر رینک کے افسر کو اس کی پابندی کرنی ہو گی۔

صرف sensitive duty والے بریگیڈیر اور اس سے اوپر کے رینک کے افسروں کو سمارٹ فون رکھنے کی اجازت ہو گی اوراس سمارٹ فون کے حوالے سے بھی تجویز دی گئی ہے کہ آئی فون استعمال کیا جائے۔۔۔۔یہ افسر فون صرف ایمرجنسی میں استعمال کر سکیں گے لیکن انہیں اس کے لئے اجازت لینی ہوگی۔۔۔یہ افسران بھی اپنے فون کو pigeon hole میں رکھیں گے اور انہیں بھی یہ فون دفاتر کے اندر لانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

فوجی افسران کو یہ ہدایت بھی جاری کی گئی ہے کہ وہ صرف ایسا Dumb فون اجازت کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں جس میں نہ تو کیمرہ ہو اور نہ ہی انٹرنیٹ کی سہولت ہو۔۔۔۔یہDumb فون بھی اجازت ملنے والے افسران کو دفاتر کے اندر لے کر جانے کی بجائے دفاتر کے باہر pigeon box میں رکھے جائیں گے اور افسر دفاتر کے اندر صرف سرکاری فون استعمال کر سکیں گے۔

اس نئے جرنیلی ہدایت نامے کے مطابق اب ملٹری دفاتر موبائل فری زون بن جائیں گے۔

ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے افسروں کے خلاف ایکشن بھی لیا جائے گا اور اگر ان کے پاس سمارٹ فون ہوا تو اسے ضبط بھی کر لیا جائے گا۔


یہ ہدایت نامہ بہت لمبا چوڑا ہے۔۔۔اس میں ان فونز کے حوالے سے سارے قواعد و ضوابط طے کر دیئے گئے ہیں کہ کون سا افسر یہ اجازت نامہ جاری کر سکتا ہے۔۔کتنے افسروں کو یہ اجازت دی جا سکتی ہے۔۔۔جے سی اوز پر اس کا اطلاق کس طرح ہو گا۔۔۔لیکن میں اس ساری تفصیل میں نہیں جاوں گا کیونکہ اصل نقطہ یہ ہے کہ اس ڈیجیٹل دور پر جب کہ ریڑھی پر فروٹ بیچنے والا بھی سمارٹ فون استعمال کر رہا ہے تو ایسے میں فوجی افسروں پر یہ پابندی کیوں لگائی گئی ہے۔۔۔ہمیں تو یہی بتایا گیا ہے کہ فوجی افسر سارے کے سارے محب وطن ہوتے ہیں۔۔۔اور غدار تو صرف سیاستدانوں میں پائے جاتے ہیں۔۔۔تو ایسے میں جنرل باجوہ کو کیا خطرات لاحق ہو گئے ہیں کہ اس نے میڈیا کے ساتھ ساتھ اب افسران پر بھی سنسر شپ لگا دی ہے۔


میں نے ایک دفاعی تجزیہ نگار سے اس کا سبب پوچھا تو اس کا کہنا تھا کہ اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ جنرل باجوہ کچھ ایسا کرنا چاہتا ہے جس کے بارے میں وہ مکمل پردہ رکھنا چاہتا ہے ۔۔۔۔وہ نہیں چاہتا کہ قبل از وقت کسی کو اس کی منصوبہ بندی کی بھنک پہنچے اور ساتھ ساتھ اس سمارٹ فون کی پابندی سے ان تمام افسران کے درمیان رابطے بڑھنے کے چانسسز بھی کافی حد تک ختم ہو جائیں گے جو کہ جنرل باجوہ کی فوجی افسروں کی جبری ریٹائرمنٹ کی وجہ سے بہت اپ سیٹ ہیں اور کسی بھی وقت جنرل باجوہ کی جرنیلی کمزوری میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔۔۔اس دفاعی تجزیہ نگار کا یہ بھی خیال ہے کہ جنرل باجوہ ان جرنیلوں کے خلاف بھی کوئی ایسی کاروائی کر سکتا ہے جنہوں نے جنرل سرفراز ستار کی طرح اس ایکسٹینشن والے پراجیکٹ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔

یہاں میں یہ وضاحت کر دوں کہ جنرل باجوہ یہ سب کچھ پاکستان بچانے کے لئے نہیں کر رہا۔۔۔اس کا واحد مقصد اپنے جرنیلی شکنجے کو کمزوری سے بچانا ہے ۔۔۔اس کی ملکی سیاست، میڈیا اور عدلیہ پر گرفت بہت مضبوط نظر ٓار ہی ہے لیکن اس کی اپنی فوجی سیاسی جماعت میں نچلے درجے کے افسر اس وقت اس کے کنٹرول میں نہیں ہیں یا یوں کہہ لیں اسے اس بات کا ڈر ہے کہ فوجی افسروں کے اتحاد اور تنظیم میں کمی آتی جارہی ہے۔۔۔اس کے علاوہ جنرل سرفراز ستار کو جس طرح تھری اسٹار جنرل ہونے کے باوجود ٖفوجی حراست میں رکھا گیا اور دودھ میں سے مکھی کی طرح فوج سے باہر کر دیا گیا ہے اس سے بھی فوج کے اندر جنرل باجوہ کی نہ صرف مقبولیت کم ہو گئی ہے بلکہ اس کی گرفت بھی کمزور ہوتی جارہی ہے۔


یہ تو تھی اس سمارٹ فون والی پابندی پر میری زاتی رائے لیکن مجھے امید ہے کہ آپ بھی اس اسمارٹ فون والی پابندی پر غور کریں گے اور اپنے اپنے طور پر اس معمہ کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔۔۔کہ جنرل باجوہ نے چھیل چھبیلے کرنیلوں اور جرنیلوں جن کی حب الوطنی پاکستان کے بائیس کروڑ عوام سے کہیں زیادہ ہے ان پر اس ڈیجیٹل دور میں یہ پابندی کیوں لگا دی ہے۔۔۔ہو سکتا ہے کہ ٓاپ کے زہن میں اس پابندی کا کوئی بہتر سبب ٓا جائے۔۔۔لیکن اگر یہ بات آپ کی سمجھ میں نہ آئے تو اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے ان قائدین سے بھی رابطہ کریں جن کے ہاتھوں میں بُوٹ پالش کرنے والا برش نہیں ہے۔

1,630 views