Search

جرنیلی ہتھوڑا گروپ اور عمران نیازی کے کرپٹ مشیر۔کھریاں کھریاں راشدمراد 14/04/2020



جنرل باجوہ کے روحانی پیشوا جنرل ضیا کے دور کی بات ہے کہ راولپنڈی میں ایک ہتھوڑا گروپ وجود میں ٓایا۔۔۔اس گروپ نے راولپنڈی کے ایک گھرانے کو ہتھوڑے مار کر ہلاک کر دیا۔۔۔پھر اس کے بعد یہ وارداتیں پورے پنجاب میں پھیل گئیں اور گلیوں کوچوں میں کسی حد ایسی ہی دہشت پھیل گئی جس طرح کی ان دنوں کورونا نے پھیلا رکھی ہے۔۔فرق صرف اتنا ہے کہ ہتھوڑا گروپ کی ورداتیں صرف رات کے وقت ہوا کرتی تھیں اس لئے لوگوں کی راتوں کی نیندیں حرام ہو گئی تھیں۔


لوگوں نے اپنے محلوں میں پہرےداری نظام کا اجرا کیا اور اپنی کھڑکیوں پر لوہے کی جالیاں بھی لگوانا شروع کر دیں تا کہ ہتھوڑا گروپ کو گھر میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔۔۔اس ہتھوڑا گروپ کے پیچھے جنرل ضیا کے مارشل لائی فرشتوں کا ہاتھ نہیں تھا لیکن اس گروپ کی کاروائیوں سے جنرل ضیا کی حکومت نے فائدہ اٹھایا اور شہریوں کو کوڑے مار کر جو خوف و ہراس اس ڈکیٹیٹر نے پھیلا رکھا تھا اس میں اس ہتھوڑا گروپ نے بھی بہت اضافہ کیا۔۔۔اس وقت کے میڈیا نے بھی فوجی مفاد کے مطابق ان وارداتوں کی مثبت رپورٹنگ کرتے ہوئے انہیں بہت نمایاں کیا۔


اب ٓاپ کے زہن میں یقیننا یہ سوال اٹھ رہا ہو گا کہ میں ہتھوڑا گروپ والا گڑھا مردا کیوں اکھاڑ رہا ہوں۔۔۔اب تو اس گروپ کو اور جنرل ضیا کو پرواز کئے ہوئے زمانے گزر گئے ہیں۔۔۔بات دراصل یہ ہے کہ جب بھی پاکستان کی سپریم کورٹ اپنے انصافی ہتھوڑے کا سیاسی استعمال کرتی ہے تو مجھے یہ ہتھوڑا گروپ یاد ٓا جاتا ہے۔


نواز شریف کے دور میں تو پاکستان کی سپریم کورٹ نے باضابطہ طور پر جرنیلی ہتھوڑا گروپ کی شکل اخیتار کر لی تھی اور بڑی بے رحمی کے ساتھ پاکستانی سیاستدانوں کے سر کچل دئیے تھے۔۔۔میں نے ان دنوں بھی یہی کہا تھا کہ یہ اب سپریم کورٹ نہیں ہے بلکہ یہ جرنیلوں کی ایک نئی کور ہے۔۔۔۔بس ان کی وردیاں اور ہتھیار مختلف ہیں۔


ان دنوں یہ ہتھوڑا گروپ دوبارہ ایکٹو ہوتا ہوا نظر ٓا رہا ہے۔۔۔اس بار اس کی قیادت ثاقب نثار جونئیر کے پاس ہے لیکن اس کا چیف ٓاف اسٹاف وہی ہے جسے اسی ہتھوڑا گروپ نے چھ مہینے کی بلا جواز ایکسٹٰنشن دے دی تھی۔


تازہ ترین اس سپریم ہتھوڑا گروپ نے واردات یہ کی ہے کہ صادق اور امین عمران نیازی کے مشیروں کو کرپٹ ہونے کا سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا ہے۔۔۔ایک مشیر ڈاکٹر ظفر مرزا جس پر ماسک کی اسمگلنگ کی تحقیقات بھی ہو رہی ہیں اسے تو عدالتی ہتھوڑا مار کر بالکل اسی انداز میں فارغ کر نے کی دھمکی دی جس طرح یہ گروہ نواز شریف کے ساتھیوں پر حملے کیا کرتا تھا۔۔۔ججز کی اس دھمکی پر اٹارنی جنرل نےعدالت کی منت سماجت کی جس پر ہتھوڑا گروپ نے ظفر مرزا کے حوالے سے ٓارڈر جاری کرنے والی دھمکی سے وقتی طور پر یو ٹرن لے لیا۔


اس کے علاوہ پنجاب کی حکومت کے ایک فیصلے کو بھی اس ہتھوڑا گروپ نے کچل کر رکھ دیا ہے اورپنجاب حکومت کا سفری پابندیوں کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دے دیا ہے۔


پورے ملک کا میڈیا اس وقت ٓاٹا اور چینی والی قوالی کرنے میں مصروف ہے اس لئے سپریم ہتھوڑا گروپ نے بھی اس اسکینڈل کا زکر کیا حالانکہ سماعت کورونا کے حوالے سے ہو رہی تھی۔۔۔ ہتھوڑا گروپ نے سندھ کی حکومت کو بھی امدادی کاروائیوں کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا اور ان سے ٓاٹھ ارب روپے کے امدادی سامان کی خرید و فروخت کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔


میری زاتی رائے میں تو یہ ساری کاروائی اسی جنگ کا عدالتی محاذ ہے جو کہ اس وقت نکے اور ابے کے درمیان جاری ہے۔۔۔ابے نے واضح طور پر یہ پیغام دے رکھا ہے کہ وزیر اعظم ہاوس والی یونیورسٹی خالی کر دی جائے لیکن نکا یہ جرنیلی فرمائش ماننے سے انکاری ہے اس لئے اب ابے نے وہی عدالتی ہتھوڑا گروپ والا ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی مدد سے نواز شریف کو گھر بھیجا گیا تھا۔


دیکھنے والی بات یہ ہےکہ کیا اس بار بھی ہتھوڑا گروپ اپنی سابقہ پرفارمنس کو دہرائے گا یا اس سے پہلے ہی نکا بوریا بسترا لپیٹ کر وزیر اعظم ہاوس والی یونیورسٹی سے بنی گالہ روانہ ہو جائے گا۔۔۔میری زاتی رائے میں تو یہ سب کچھ ایسی ہی کاروائی ہے جسے شکاریوں کی زبان میں ہانکا کرنا کہتے ہیں۔۔۔جس میں شیر کے شکار کے لئے اس کی کچھار کے گرد زور زور سے ڈھول پیٹے جاتے ہیں اور پھر جب شیر شور سے تنگ ٓا کر اپنی پناہ گاہ سے باہر نکلتا ہے تو مچان پر بیٹھا ہوا شکاری گولی مار کا اس کا دی اینڈ کر دیتا ہے۔


چینی اور ٓاٹا اسکینڈل، عمران نیازی کی مرضی کے خلاف لاک ڈاون اور کورونا والی جنگ کا جرنیلی کنٹرول، میڈیا میں موجود جرنیلی اینکرز کی عمران نیازی کی شان میں گستاخیاں یہ سب اسی سرد جنگ کا نتیجہ ہے جو کہ اس وقت نکے اور ابے کے درمیان جاری ہے۔۔۔دونوں فریق اپنے اپنے داو پیچ لگا رہے ہیں لیکن نکا کسی دوا کے اثر میں یہ بھول گیا ہے کہ اسے یہ داو پیچ کس نے سکھائے اور پھر وزیر اعظم والا لنگوٹ پہنا کر کس نے اکھاڑے میں اتارا تھا۔


میرا تو اس سے کوئی رابطہ نہیں ورنہ میں اسے شیر اور بلی والی کہانی سنا دیتا جس میں شیر کی خالہ نے اپنے بھانجے کو سارے گر سکھا دئیے تھے اور پھر جب بھانجے نے خالہ پر ہی وار کر دیا تو ماسی جان بچا کر درخت پر چڑھ گئی اور بھانجا نیچے کھڑا دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔اور اوپر سے ماسی نے ہنس کر کہا بھانجے مجھے تیری خصلت کا پتہ تھا اسی لئے میں نے تجھے درخت پر چڑھنا نہیں سکھایا تھا۔


ایک وضاحت آخر میں یہ بھی کردوں کہ میں زاتی طور پر سپریم ہتھوڑا گروپ کی ایسی کاروائیوں سے متفق نہیں ہوں۔۔۔یہ گروہ اس وقت پنجابی زبان کے مطابق اتھرا ہو گیا ہے اور ان کا رویہ ٓائین اور قانون کے حوالے سے امیتابھ بچن کے اس ڈائیلاگ کی طرح ہو گیا ہے کہ لائن وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں ہم کھڑے ہوتے ہیں۔۔۔پاکستان کے آئین اور قانون کی ان کی زاتی پسند ناپسند کے مقابلے میں حیثیت بلڈی سویلین سے بھی کم ہے۔۔۔یہ اس ٓائین کی صرف اسی شق پر عمل کرتے ہیں جس سے ہتھوڑا گروپ کے چیف ٓاف اسٹاف کو فائدہ پہنچ رہا ہو۔۔۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسی عمران نیازی نے نواز شریف کی حکومت کے دوران اس ہتھوڑا گروپ کی کاروائیوں پر اپنے کنسرٹ میں باجماعت بھنگڑے بھی ڈالے تھے اور انہیں پھولوں کے گلدستے بھی پیش کئے تھے۔۔۔اس لئے اب جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ اس کا اپنا بویا ہوا ہے اور اسے یہ فصل کاٹنی پڑے گی ۔۔۔اس نے ٹائیگر فورس بنا تو لی ہے لیکن یہ بیچارے کس کس کے وار کا سامنا کریں گے۔۔۔ٓانے والے دنوں میں انہیں ہتھوڑا گروپ کے سرپرست بھی چن چن کر ٹھکانے لگائیں گے اور سڑکوں پر ٓانے والے بھوکے اور پریشان حال پاکستانی بھی ان کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو اس وقت عمران نیازی کے لٹھ بردار پولیس والے غریب عوام کے ساتھ کر رہے ہیں۔

1,116 views