Search

جرنیلی پہلوان کی سنگل پسلی بیوی اور کمزور پاکستان۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔08/05/2020


ٓاج کی گفتگو کا ٓاغاز ایک لطیفہ نما واقعہ سے کرنا ہے جو کہ ایک بہت ہی ہٹے کٹے پہلوان اور اس کی سنگل پسلی زوجہ کے بارے میں ہے۔۔۔سنگل پسلی کا ریفرنس صرف خاتون کی صحت کو بیان کرنے کے لئے استعمال کیا ہے ۔۔۔اس سے ہر گز ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ یہ خاتون کا پہلوان کی پسلی سے کسی قسم کا تعلق ہے۔۔۔ اس کے علاوہ مسنگ پرسنز کے حوالے سے شہرت پانے والے ادارے کی ایک گم شدہ خبر کے بارے میں بھی بات کرنی ہے جوکہ چار لاکھ گھوسٹ فوجی پنشنرز کے بارے میں ہے۔

اج کا یہ لطیفہ نما واقعہ صرف ہنسنے کے لئے نہیں ہے بلکہ اس کے پس منظر میں ٓاپ اپنے سنگل پسلی پاکستان کی سیاسی اور معاشی صحت کو لگی ہوئی مستقل بیماریوں یا یوں کہہ لیں چمٹے ہوئے کورونا وائرس کے بارے میں بھی جان سکتے ہیں اور اگر ٓاپ مرض شناسی کے اس مرحلے تک پہنچ گئے تو انشااللہ جلد ہی ٓاپ لوگ بڑی بڑی سیاسی لیبارٹریوں کی مدد کے بغیر اپنی مدد ٓاپ کے تحت نہ صرف ان وائرسز کی ویکسین بنانے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان جاں لیوا بیماریوں سے نجات بھی حاصل کر لیں گے۔


لطیفہ کچھ یوں ہے کہ ایک خوش خوراک پہلوان نے اپنے ہی گاوں کی ایک مٹیار سے بندوق کی نوک پر زبردستی شادی کروا لی اور پھر گھر داماد بن کر سسرال میں ایسے ڈنڈ پیلنے لگ گیا جس طرح مارشل لا کے دور میں فوجی افسران پورے ملک میں مٹر گشت کرتے ہیں ۔۔۔پہلوان جیسا کہ میں نے بتایا کہ بہت خوش خوراک تھا لیکن جب اس نے سسرال کے کچن سے مفت کھانا شروع کیا تو اس نے اپنی خوراک کے بجٹ میں بھی دھونس جما کر اسی طرح اضافہ کر وا لیا جس طرح پاکستان کےدفاعی بجٹ میں ہر سال فرمائشی اضافہ ہوتا ہے۔

داماد کا بیانیہ یہ تھا کہ اس نے ٓاس پاس کے دیہاتوں کے پہلوانوں سے دنگل لڑ کر سسرال کا اور گاوں کا نام روشن کرنا ہے۔۔پاکستان کی مسکین سیاسی حکومتوں کی طرح اس پہلوان کا سسر بھی اپنے داماد کے سامنے لم لیٹ ہو گیا اور مانگ تانگ کر اپنے پہلوان داماد کے لئے دیسی گھی کے بنے ہوئے کھانے اور خالص دودھ دہی اور مکھن مہیا کرنے لگا۔۔۔پہلوان کی بیوی تو جیسا کہ میں نے بتا رکھا ہے کہ سنگل پسلی تھی لیکن اب اس پہلوان کے فرمائشی پروگراموں کی وجہ سے اس کے باپ کی صحت بھی متاثر ہونے لگی اور وہ بھی کمزور ہوتے ہوتے پاکستان کے وزیر دفاع پرویز خٹک کی طرح تیلی بن کر رہ گیا۔


سسر نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح اس کھاو داماد کو گھر سے رخصت کرے۔۔۔اسے کئی بار باتوں باتوں میں جتایا کہ اُس کا اس طرح سسرالی ویہڑے میں ڈنڈ بیٹھک کرتے رہنا مناسب نہیں۔۔۔پورا گاوں اسے طعنے مارتا ہے۔۔۔سسر نے اسے پنجابی کی ایک مثال بھی سنائی۔۔۔

بہن دے گھر بھائی کتا تے سوہرے گھر جوائی کتا

لیکن پہلوان نے سسر کی بات پر دھیان دینے کی بجائے مفتوحہ سسرال اور اس کے اناج پر اپنی یلغار جاری رکھی۔


ایک رات جب پہلوان اپنی سنگل پسلی بیوی کے ساتھ سو رہا تھا۔۔۔زبردست خراٹے بھی مار رہا تھا اور ساتھ ہی خواب ہی خواب میں ٖحریف پہلوانوں کو چت بھی کر رہا تھا۔۔۔اس دوران اس نے اپنی موٹی تازی ٹانگ اپنی سنگل پسلی بیوی کے اوپر رکھ دی۔۔۔بیچاری کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا۔۔۔قریب تھا کہ وہ پہلوان کو چھوڑ کو اس دنیا سے ہی کوچ کر جاتی۔۔۔بیوی نے بڑی مشکل سے خراٹوں والی گولہ باری کرنے والے پہلوان کو جگایا اور کہا کہ سرتاج ایک بات بتائیں کہ انسان کو سسک سسک کر مرنا چاہئے یا ایک دم مر جانا چاہئے۔۔۔پہلوان نے فورا جواب دیا۔۔۔سسسک سسک کر مرنے سے ایک دم مرنا بہتر ہوتا ہے۔۔۔بیوی بولی ۔۔۔پہلوان جی فیر اپنی دوسری لت وی میرے اتے رخ کے مینوں جنتاں وچ ٹور دیو


بیوی کی بات سن کر ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پہلوان اپنی بیوی کی خواہش کا احترام کرتا لیکن پہلوان نے اس پر دوسری ٹانگ نہیں رکھی کیوں کہ اسے پتہ تھا کہ یہ مسکین عورت ہی اس کا سسرالی گرین کارڈ ہے۔۔۔اگر یہ فوت ہو گئی تو پھر اسے نہ صرف سسرال سے بے دخل ہونا پڑے گا بلکہ اس کی پہلوانی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔

میں نے یہ لطیفہ نما واقعہ اس لئے ٓاپ کو سنایا ہے کہ اس وقت ٓاپ کے پیارے پاکستان کے ساتھ بھی یہی سلوک ہو رہا ہے۔۔۔جرنیلی پہلوانوں نے اسے اپنا سسرال بنایا ہوا ہے۔۔۔پاکستان اور اس کی عوام کی حالت اسی سسر اور پہلوان کی بیوی والی ہے۔۔۔سسر اور بیوی قریب المرگ ہیں۔۔۔انہیں کھانے کے لئے پوری روٹی بھی نہیں مل رہی لیکن پہلوان جی کے چونچلے اسی طرح جاری ہیں بلکہ ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔۔۔اور اس پر ستم یہ ہے کہ اس پہلوان نے اپنے بہت سارے پٹھوں کو بھی جنہیں ٓاپ الو کے پٹھے بھی کہہ سکتے ہیں۔۔۔ان کو بھی سسرال میں ہی کھپایا ہوا ہے۔

پاکستان کی حکومت میں وزیر اور مشیر دیکھ لیں۔۔۔پاکستان کے ہر ادارے میں اس وقت جرنیلی پہلوان ڈنڈ بیٹھکیں لگا رہے ہیں۔۔۔پہلے جرنیل فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد دو سالہ قانونی عدت میں رہتے تھے اور کسی غیر فوجی محکمے کا رخ نہیں کرتے تھے لیکن جب سے عمران نیازی نے وزیر اعظم کی نوکری سنبھالی ہے ان لوگوں نے اس کی عدت والی مثال کو دیکھتے ہوئےاب انہوں نے بھی یہ عدت والا جھنجھٹ چھوڑ دیا ہے اور اس کی تازہ ترین مثال جنرل عاصم باجوہ کی ہے جس نے دو سال پورے ہونے سے پہلے ہی ادھر ادھر ہاتھ مارنے شروع کر دئیے ہیں۔

دروغ بر گردن راوی اسی جرنیلی یلغار کو دیکھتے ہوئے ایک حاضر ڈیوٹی جرنیل جسے لوگ ٹوئٹر والا جرنیل بھی کہتے ہیں اس نے بھی اوکاڑہ کے ڈیری فارم سے ایسا میزائل لانچ کیا ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن اس کے کنٹرول میں ٓا گیا ہے اور اب وہ ریموٹ ٍکنٹرول کی مدد سے جرنیلی ایجنڈے اور اپنی اگلی پروموشن کے لئے دن رات محنت کر رہا ہے۔۔۔اسی طرح اور بھی جرنیلی پہلوان اپنے پاکستانی سسرال کا دن رات ستیا ناس کر رہے ہیں اور سنگل پسلی عوام کے ساتھ اسی خاتون والا سلوک کر رہے ہیں جو کہ پہلوان کی ٹانگ کے نیچے دب کر شہادت کا رتبہ پانے والی تھی۔

ان جرنیلی پہلوانوں کی لوٹ مار کا ایک اور واقعہ کچھ یوں ہے ۔۔۔چند روز پہلے میڈیا میں ایک خبر بڑی تفصیل کے ساتھ چھپی تھی کہ محکمہ ڈاک نے چار لاکھ ایسے فوجی پنشنروں کا سراغ لگایا ہے جن کا کوئی وجود ہی نہیں لیکن یہ گھوسٹ پینشنر ہر ماہ عوامی خزانے سے پنشن وصول کرتے رہے ہیں۔۔۔ان چار لاکھ نظر نہ ٓانے والے پہلوانوں کا شاید ابھی بھی پتہ نہ چلتا اگر محکمہ ڈاک ان پنشنروں کے گھروں کی تصدیق نہ کرتا۔۔۔یہ لوگ کون ہیں کہاں رہتے ہیں ان کی تفصیلات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکیں۔

اس خبر کے حوالے سے بریکنگ نیوز یہ ہے کہ جیسے ہی یہ خبر شائع ہوئی اسے میڈیا سے غائب کروا دیا گیا۔۔۔اگر ٓاپ انٹرنیٹ پر یہ خبر سرچ کریں تو اس کا لنک اب بھی موجود ہے لیکن جب ٓاپ اس لنک پر کلک کریں گے تو یہ خبر نظر نہیں ٓائے گی۔۔۔اب اس خبر کو کس نے ہٹوایا اور کیوں ہٹایا گیا یہ تو مجھے پتہ نہیں لیکن میری زاتی رائے یہی ہے کہ یہ خلائی مخلوق نے کام دکھایا ہے۔۔۔اس خبر سے متاثر ہونے والا یہی صادق اور امین لوگوں کا گینگ ہے۔۔۔ اس لئے امکان یہی ہے کہ ان کے واٹس ایپ ہرکاروں نے اس خبر کو اسی طرح انٹرنیٹ سے اٹھوا لیا ہے جس طرح یہ جرنیلی ایجنڈے کے مخالفین کو غائب کر دیتے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے رہنماوں اور کارکنوں کاتو اس بھوتوں والی فہرست میں نام نہیں تھا اس لئے انہیں اس خبر سے کھلواڑ کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔مجھے تو یہ چار لاکھ جعلی فوجی پنشنرز والی خبر درست لگتی ہے کیونکہ اگر یہ خبر غلط ہوتی تو فوج کے محکمہ اطلاعات کے پاس ایسے مجاہدین موجود ہیں جو اس خبر کا فوری ٓاپریشن کرکے بتا سکتے تھے کہ یہ خبر درست نہیں ہے لیکن اس خبر کا مسنگ پرسنز کی طرح میڈیا سے مسنگ ہو جانا اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ چارلاکھ گھوسٹ پنشنرز والی بات درست ہے۔۔۔

اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ چار لاکھ فوجی پنشنرز ان دنوں ایسا کیا کر رہے ہیں کہ انہیں پنشن اتنے خفیہ انداز میں دی جارہی ہے ۔۔۔یہ کوئی صدقہ خیرات والی رقم تو ہے نہیں جس کے بارے میں اسلامی حکم ہے کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو۔۔۔۔مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اس خفیہ لشکر کے سپاہی ہیں جو پاکستان کی سول سوسائیٹی میں بغیر وردی کے جرنیلی ایجنڈے کے لئے کام کرتا ہے۔


اب ٓاپ سے اجازت لینے سے پہلے ٓاپ سب سے گزارش ہے کہ ٓاج کے واقعے کے حوالے سے غریب پاکستان اور اس کے وسائل کو کھانے والے پہلوانوں کے بارے میں ٓاپ بھی غور و فکر کریں۔۔۔اس سے پہلے کہ سنگل پسلی پاکستان کا دم نکل جائے۔۔۔ان پہلوانوں سے کہیں کہ ہمیں سسکا سسکا کر مارنے کی بجائے اپنی دوسری ٹانگ بھی ہم پر رکھ دیں تا کہ ہمیں اس ازیت والی زندگی سے چھٹکارا ملے۔۔۔پاکستان کو ٓادھا تیتر اور ٓادھا بٹیر بانے کی بجائے پورے پاکستان پر قبضہ کر لیں۔۔۔اپنی سیاسی جماعت بنا کر سیاسی اکھاڑے میں اتریں۔۔۔ سارے محکمے اور ساری وزارتوں کی جرنیلی بانٹ کر لیں ۔۔۔ان سیاسی وزیروں اور مشیروں کو گھر بھیجیں اور ان کے حصے کا راشن پانی بھی خود ہی ہڑپ کر جائیں اور جان بنائیں ۔


ٓاخر میں ایک زاتی سا مشورہ بھی ہے کہ ٓاپ لوگ ان جرنیلی پہلوانوں سے دوسری ٹانگ رکھنے کی درخواست کرنے کی بجائے اگر مل جل کر کوشش کریں کہ ان کی پہلی ٹانگ کا بھی بندوبست کر دیا جائے یا کم ازکم چارپائی سے ہی باندھ دیا جاے تو یہ ٓاپ کے لئے اور ٓاپ کی ٓانےوالی نسلوں کے لئے زیادہ بہتر ہوگا۔

662 views