Search

جرنیلی وزیر فواد چوہدری کی عمرانی کابینہ کی چھترول۔۔۔ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔25/08/2020


ایوب ، یحیی اور نیازی جیسے جرنیلوں کی مہربانی سے جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا اور اسے ایک آزاد ملک تسلیم کرنے والا مرحلہ آیا تو اس موقعے پر اس حکومتی فیصلے پر تنقید میں ایک شعر کہا گیا

لوگوں نے احتجاج کی خاطر اٹھائے ہاتھ

اس نے کہا کہ فیصلہ منظور ہو گیا

یہ شعر مجھے عمران نیازی کی وزیروں کی فوج میں فوجی کوٹے پر کام کرنے والے وزیر فواد چوہدری کی گفتگو کو سن کر یاد آیا ہے۔۔۔جرنیلی چوہدری کہہ رہا تھا کہ نواز شریف کو علاج کے لئے باہر بھجوانے کا فیصلہ جب کابینہ کے سامنے آیا تو عمران نیازی نے اپنے درباریوں سے کہا کہ وہ ہاتھ اٹھا کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔۔جس پر زیادہ تر درباریوں نے ہاتھ اٹھا کر اس بات کے حق میں ووٹ دیا کہ نواز شریف کو علاج کے لئے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جائے۔


فواد چوہدری نے اس حوالے سے یہ انکشاف بھی کیا کہ ہاتھ اٹھانے والوں میں سب سے پہلا ہاتھ اس شیخ بچے کا تھا جو کہ جرنیلوں کے بوُٹ پالش کرتے کرتے سیاست میں جوان اور اب بوڑھا ہو گیا ہے۔۔۔پچھلے دنوں تو کورونا کی وجہ سے مسقل چھٹی پر جانے والا تھا لیکن پھر جنرل باجوہ کو اپنے اس سیاسی کلبھوشن کا خیال آ گیا اور جس طرح وہ ان دنوں ہندوستانی کلبھوشن کو بچانے کے لئے جرنیلی کوششیں کر رہے ہیں اسی طرح کی کوششیں انہوں نے اپنے پاکستانی کلبھوشن کے لئے شروع کر دیں۔



جنرل باجوہ نے دیکھا کہ عمران نیازی اور اس کی حکومت تو اس چپڑاسی وزیر کو بچانے میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہی ۔۔۔ بیچارہ ایک ٹیکے کے لئے دہائیاں دے رہا ہے لیکن اس کی شنوائی نہیں ہو رہی ۔۔۔نیازی اینڈ کمپنی کی اس بے حسی کو دیکھتے ہوئے جنرل باجوہ نے فوری طور پر اسے اپنے فوجی ہسپتال میں داخل کروایا اور اس کا خصوصی علاج کروایا۔۔۔اور یہ سب ان دنوں میں ہوا جب فوجیوں کے ہسپتالوں میں کورونا کی وجہ سے بلڈی سویلین کا داخلہ سختی سے منع تھا۔

فواد چوہدری سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا نواز شریف کو باہر بھجوانے میں قبضہ گروپ کا ہاتھ ہے۔۔۔تو اس جرنیلی چوہدری نے اپنے جرنیلی باس اور سیاسی باس دونوں کو اس جرم سے بری قرار دیا اور کہا کہ نہ تو عمران نیازی نے اس کی اجازت دی تھی اور نہ ہی قبضہ گروپ نے۔۔۔فواد چوہدری نے ساتھ ہی یہ مشورہ بھی دیا کہ جو بھی فیصلہ ہوا ہمیں اس کو قبول کرنا چاہئے۔


عمران نیازی کی ترجمانوں والی فوج بھی ان دنوں نواز شریف کے حوالے سے بہت زبانیں چلا رہی ہے۔۔۔ایک معاون خصوصی جو کہ آپریشن رد النواز میں محنت مزدوری کرتے کرتے اب مشیر کے عہدے تک پہنچ گیا ہے اس نے بھی ایک پریس کانفرنس کی اور ایک صحافی کے سوال کے جواب میں عمران نیازی کی حکومت کو بچاتے ہوئے کہا کہ اگر اس حوالے سے کچھ پوچھنا ہے تو محکمہ زراعت سے جا کر پوچھیں۔۔۔ان صاحب نے جن کا نام بیرسٹر شہزاد اکبر بتایا جاتا ہے۔۔۔یہی وہی صاحب ہیں جو کہ انگلینڈ میں بحریہ ٹاون والے قزاق ملک ریاض سے بریف لیتے ہوئے پائے گئے تھے۔۔۔یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے ۔۔۔اس بریف کیس میں ملک ریاض نے انہیں کیا دیا یہ بس ان دونوں کو پتہ ہے یا پھر نکے کے ابے کو۔



بیرسٹر شہزاد اکبرنے محکمہ زراعت پر الزام لگانے کے بعد اس محکمے سے چند گھنٹوں بعد ہی معذرت کر لی ہے اور کہا ہے کہ اگر ان کی کسی بات سے قومی سلامتی کے اداروں کے بارے میں کوئی غلط تاثر پیدا ہوا ہو تو وہ بے بنیاد اور حقیقت سے عاری ہے اور کسی ادارے یا شخص کی دل آزاری پر میں معذرت خواہ ہوں۔۔۔ساتھ ہی اپنی محکمہ زراعت والی جگت کو نیا رنگ دیتے ہوئے موصوف نے کہا کہ پریس کانفرنس میں اس محکمہ زراعت کا زکر تھا جو ن لیگ کے ہونہار انجینئر نما ڈاکٹر ،شوباز شریف اور صاحبزادی پہ مبنی تھا جنہوں نے کمال مہارت سے پیوند لگا کر پوری قوم کو نواز شریف کی بیماری کا یقین دلایا۔


میری زاتی رائے میں تو شہزاد اکبر نے حماقت در حماقت والا کام کرتے ہوئے جرنیلی محکمہ زراعت کو پوری طرح ایکسپوز کر دیا ہے۔۔۔جو بات اپوزیشن کے لوگ ایک عرصے سے کہہ رہے تھے لیکن جرنیلی میڈیا اسے نشر کرنے سے گریز کرتا تھا اور اس محکمہ زراعت کے حوالے سے خبروں پر ماسک چڑھا کر عوام کے سامنے لاتا تھا۔۔۔اب یہ بات اس جرنیلی حکومت کے اپنے مشیر نے کی ہے اور پھر اس نے معذرت کر کے اس بات کی تصدیق بھی کر دی ہے کہ اس کی محکمہ زراعت والی بات سے کسی حساس ادارے کی دل آزاری بھی ہوئی ہے۔۔۔یہ دل آزاری اتنی زیادہ ہوئی کہ اس مشیر کو رات گئے اٹھا کر یہ وضاحتی ٹویٹ کروائی گئی۔۔۔یہ جرنیلی خدمتگار چونکہ محکمے کے لئے بہت سارے کارنامے کر چکا ہے اس لئے انہوں نے اس کی نمک حلالی کا لحاظ کرتے ہوئے اسے صرف نیند سے اٹھا کر وضاحت کروا لی ہے ورنہ کوئی اور مسکین سیاستدان ہوتا تو وہ اسی طرح اٹھایا جاتا جس طرح ان دنوں سندھ اور بلوچستان کے نوجوانوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔

شہزاد اکبر نے اپنے طور پر تو یو ٹرن اسی رات کو لے لیا تھا لیکن محکمہ زراعت کو اس تیر سے اتنا گہرا زخم لگا ہے کہ انہوں نے اپنے نمائندہ خصوصی فواد چوہدری کو بھی اس کی وضاحت کے لئے کام پر لگایا اور اس نے بڑے اچھے طریقے سے عمران نیازی اور اس کی کابینہ کے درباریوں کو ایکسپوز کیا اور کابینہ کے اجلاس کی کاروائی اور درباریوں کے ہاتھ اٹھانے کا زکر کر کے محکمہ زراعت کو اس جرم سے بری کروانے کی کوشش کی۔



فواد چوہدری نے یہ تو نہیں بتایا کہ عمران نیازی نے اس موقعے پر ہاتھ اٹھایا یا پھر محمکہ زراعت کے درباری نمائندوں کی نواز شریف کو اجازت دلوانے والی دست دراز کاروائی کے خلاف کوئی قدم اٹھایا۔۔۔ لیکن اس فیصلے کی منظوری سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ بھی اس جرنیلی جرم میں برابر کا شریک تھا۔۔۔اس کے پاس تو ویٹو پاور بھی تھی۔۔۔یہ چاہتا تو اس ساری کاروائی کو بلڈوز کر سکتا تھا۔

درباریوں کی اکژیت کے فیصلے کو ماننے کے بعد اس فیصلے کی زمہ داری اس پر بھی اسی طرح عائد ہوتی ہے۔۔۔کابینہ کے کپتان کے طور پر اسے اس فیصلے کا کریڈٹ بھی اسی طرح لینا چاہئے جس طرح بانوے والے ورلڈ کپ میں کارکردگی باقی کھلاڑیوں کی تھی لیکن جیت کا سارا کریڈٹ اس نے بطور کپتان اکیلے ہی ہڑپ کر لیا تھا۔

میری زاتی رائے میں تو فواد چوہدری کے اس وضاحتی بیان سے نہ تو عمران نیازی بری ہو سکتا ہے اور نہ ہی فواد چوہدری کے اصل مالکان جنہوں نے اپنی جرنیلی مجبوریوں کے تحت نواز شریف کو وطن سے باہر علاج کے لئے جانے کی اجازت دی تھی۔

اخباری خبروں کے مطابق عمران نیازی نے شاہی فرمان جاری کیا ہے کہ نواز شریف کی واپسی کے لیے تمام قانونی ذرائع استعمال میں لائے جائیں ۔۔۔مجھے عمران نیازی کے اس بیان میں قانونی زرایع والی بات نامناسب سی لگ رہی ہے۔۔۔نواز شریف کو بھجواتے وقت بھی قانونی زرایع سے کہیں زیادہ فوجی زرایع کا استعمال ہوا تھا۔۔۔انہی فوجی زرایع نے آج تک مریم نواز شریف کو ضمانت کے طور پر پاکستان میں غیر اعلانیہ نظر بند رکھا ہوا ہے۔۔۔مریم نواز نے اپنے والد کی تیمار داری کے لئے جانے کی اجازت مانگی لیکن یہ اجازت ہتھوڑا گروپ والے اس لئے نہیں دے سکے کیوں کہ قبضہ گروپ اس اجازت کے حق میں نہیں تھا۔

قبضہ گروپ سے میری مراد وہی محکمہ زراعت ہے جو عمران نیازی کے مشیر کی زبان سے پھسل گیا تھا اور پھر بیچارے کو فورا ہی اس دل آزادی کی معذرت بھی کرنا پڑی اور طوطا مینا والی ایک کہانی بھی گھڑنی پڑی۔۔۔اسی محکمہ زراعت نے مریم نواز شریف کو اس لئے ملک میں رکھا ہوا ہے تا کہ وہ نواز شریف پر اپنا دباو برقرار رکھ سکیں۔۔۔عمران نیازی کی زبان میں یوں کہہ لیں کہ بلیک میل کر سکیں۔

بیرسٹر شہزاد اکبر کی طرح کچھ عرصہ پہلے عمران نیازی نے بھی نواز شریف والا الزام عدلیہ کے متھے لگانے کی کوشش کی تھی۔۔۔لیکن ہتھوڑا گروپ کے سابقہ سربراہ نے اسے منہ توڑ جواب دے کر ٹھنڈا کر دیا تھا اور بتا دیا تھا کہ اس میں پردے کے پیچھے چاہے محکمہ زراعت ہو لیکن پردے پر تو عمران نیازی اور اس کی حکومت ہے۔۔۔انہی کی کوششوں سے یہ سارا پراجیکٹ مکمل ہو ا ہے۔

جسٹس کھوسہ المعروف جسٹس کھوتا کی اس بات پر اب فواد چوہدری نے بھی مہر تصدیق لگا دی ہے اور کابینہ کی میٹنگ کا آنکھوں دیکھا حال بھی بتا دیا ہے اور ساتھ ہی شیخ رشید کا پول بھی کھول دیا ہے جو کہ ایک بار پھر جرنیلی ضروریات کے مطابق یہی ڈھول بجانے میں مصروف ہے۔



فواد چوہدری کی اس وضاحت کے بعد تو اب ہاتھ اٹھانے والے سارے درباری اپنے جرم سے انکار نہیں کر سکتے۔۔۔ہاں البتہ وہ اگر چاہیں تو عمران نیازی کو اس لپیٹ میں لے سکتے ہیں ۔۔۔وہی شعر پڑھ کر جو میں نے شروع میں پڑھا تھا لیکن تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ۔۔۔

ہم نے تو احتجاج کی خاطر اٹھائے ہاتھ

اس نے کہا کہ فیصلہ منظور ہو گیا

بات ختم کرنے سے پہلے نواز شریف کی واپسی کے بارے میں اپنی رائے بھی آپ سے شیئر کر لوں۔۔۔نواز شریف کو پاکستان واپس آنے سے نہ تو پہلے کوئی جرنیلی آمر روک سکا تھا اور نہ ہی یہ پردے کے پیچھے چھپا ہوا آمر روک سکتا ہے۔۔۔وہ جب چاہے گا وطن واپس آ جائے گا۔۔۔اسے بھیجنے میں چاہے محکمہ زراعت کا کردار تھا لیکن واپسی کے لئے یہ محکمہ بھی کچھ نہیں کر سکتا کیوں کہ اس کی جرنیلی حدود پاکستان کے اندر ہیں۔۔۔پاکستان سے باہر ان کا کیا حال ہوتا ہے اس کا سعودی تصویری خبر نام یقیننا ٓاپ سب نے دیکھا ہو گا۔۔۔ جرنیلی چھڑی کے زور پر ایکسٹینشن لینے والے کو نہ تو ائیر پورٹ پر کوئی لفٹ ملی اور نہ ہی سعودی کراون پرنس نے ہی عرضی پیش کرنے کی اجازت دی۔۔۔ برطانیہ میں بھی اس محکمے کی یا ان کے سیاسی کارندوں کی کسی فرمائش کا پورا ہونا ناممکن ہے۔۔۔شریف فیملی کے لوگوں کو قانونی طور پر اغوا کرنے کے لئے یہ گینگ کافی عرصے سے کوششیں کر رہا ہے لیکن ان کی دال نہیں گلی اور نواز شریف کے معاملے میں بھی یہی حال ہو گا۔



1,246 views