Search

جرنیلی محکمہ زراعت نے امریکی سُنڈی پروگرام کیوں لانچ کیا ہے؟ ۔۔۔کھریاں 11/06/2020کھریاں۔۔۔راشد مراد


آج کھریاں کھریاں میں بات کرنی ہے امریکی حسینہ سنتھیا رچی کی جو کہ امریکن سنڈیوں کی طرح پاکستانی سیاست دانوں کی فصلوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔۔ ۔ اس امریکی خاتون جو دیکھنے میں تو یقیننا ایسی ہی خاتون ہے جن کے بارے میں عمران نیازی کے پسندیدہ شاعر علامہ اقبال نے فرما رکھا ہے کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔۔۔لیکن اس نے زن نے جس طرح پاکستانی سیاسی فصلوں پر حملہ کیا ہے مجھے تو یہ کچھ کچھ امریکن سنڈی بھی لگتی ہے۔


اس امریکی حسینہ کو بھی پاکستان کے ٹی وی چینلز پر اسی طرح پبلسٹی مل رہی ہے جس طرح کسی زمانے میں امریکن سنڈی کو ملا کرتی تھی۔۔۔عین اس وقت جب گھر والے مل جل کر کھانا کھانے بیٹھتے تھے اور گپ شپ کرتے ہوئے ٹی وی بھی دیکھا کرتے تھے ۔۔۔کمرشل بریک میں اس امریکن سُنڈی والے اشتہارات شروع کر دئیے جاتے تھے اور کھاد اور ادویات بیچنے والی کمپنیوں کی طرف کاشتکار بھائیوں کو یہ پیغام دیا جاتا تھا کہ اگر انہوں نے اپنی قیمتی فصلوں کو اس سُنڈی سے بچانا ہے تو وہ ان کی کمپنی کی ادویات کا اسپرے کریں۔۔۔میرا چونکہ دیہاتی پس منظر نہیں ہے اس لئے مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ یہ ادویات کتنی موثر ثابت ہوتی تھیں لیکن مجھے اتنا ضرور پتہ ہے کہ اس سُنڈیوں والے اشتہار کی وجہ سے بہت ساری خواتین حساس اداروں سے رشتہ داری نہ ہونے کے باوجود کھانا سے ہاتھ کھینچ لیتی تھیں ۔۔۔مرد چونکہ اس معاملے تھوڑے سے بے حس ہوتے ہیں اس لئے وہ امریکی سُنڈیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کھابے کھاتے رہتے تھے۔


ان دنوں بھی پاکستانیوں کے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔۔۔پرائم ٹائم پر جب اہلِ خانہ ٹی وی کے سامنے بیٹھتے ہیں تو ہر طرف یہ امریکن سنڈی نظر آتی ہے۔۔۔ اس سُنڈی کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اسے کھاد والی کمپنیوں کی طرح اس ساری مشہوری کے اخرجات بھی ادا نہیں کرنے پڑتے۔۔۔اب آپ یقیننا پوچھیں گے کہ اس پر دیسی میڈیا اتنا مہربان کیوں ہے۔۔۔اس لئے میں پہلے اس کی وجوہات بتا دیتا ہوں ۔۔۔ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ اس ساری اشتہاراتی مہم کے پیچھے وہ طاقتور محکمہ ہے جس کا نام لینے کی بجائے لوگ اسے محکمہ زراعت کہتے ہیں۔۔۔ مشہور زمانہ کرنل کی بیوی کے سرپرستوں کا تعلق بھی اسی محکمہ زراعت سے ہے۔


اب یقینا ایک اور سوال ٓاپ کے زہنوں میں ابھر آیا ہو گا کہ محکمہ زراعت کو اس امریکی حسینہ سے کیا دلچسپی ہے۔۔۔ان کے پاس تو وینا ملک اور مہ وش حیات جیسی حسینائیں بھی اس مشن کے لئے ہر گھڑی تیار کامران ہیں ۔۔۔وہ اس امریکی دوشیزہ پر اپنا قیمتی فوجی سرمایہ لکھنو کے نوابوں کی طرح کیوں لٹا رہے ہیں۔۔۔اس سوال کا جواب تھوڑا تفصیل طلب ہے لیکن اس میں ہی وہ ساری بات چھپی ہوئی ہے جو میں ٓاپ کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں۔

پاکستان کا محکمہ زراعت جو کہ ایک عرصہ سے پاکستانی سیاستدانوں کو بدنام کرنے والے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔۔۔پچھلے کئی سالوں سے انہوں نے کرپشن والی داستانیں نمک مرچ لگا کر آپ سب کے سامنے پیش کیں اور پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کو یہ یقین دلا رکھا ہے کہ سیاستدان چور ہوتے ہیں اور اگر فوج سپاہی کا کردار ادا نہ کرتی تو یہ چور اب تک باقی کا پاکستان بھی ہندوستان کو فروخت کر چکے ہوتے۔۔۔۔اسی سیاستدان کُش مہم کے لئے بائیس سال تک عمران نیازی کی تربیت کی گئی اور ڈگری مکمل ہوتے ہی اسے وزیر اعظم ہاوس والی یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنا دیا گیا ۔۔۔اور آپ سب نے دیکھ لیا ہے کہ اس نے اپنی اس کرپشن والی ڈگری کا کتنا استعمال کیا ہے۔۔۔ملک میں اس کے دوست آٹا چینی اور پٹرول غائب کر دیں تو اس کا الزام بھی یہ سیاستدانوں کی کرپش پر لگاتا ہے۔۔۔کورونا کے حوالے سے بھی اپنی نالائقی کا زمہ دار اپوزیشن کے سیاستدانوں کو ٹھہراتا ہے۔


ان دنوں محکمہ زراعت کے فنکار کا کرپشن راگ اپنی افادیت کھو چکا ہے۔۔۔محکمہ زراعت کو پتہ چل گیا ہے کہ ان کا یہ راک اسٹار اب کسی کام کا نہیں اور وہ اس کی مدد سے جرنیلی ایجنڈے کے مخالف سیاستدانوں کو مزید گندا نہیں کر سکتے ۔۔۔اس لئے انہوں نے اس امریکن سنڈی کو اسی فوجی مشن کے تحت میدان میں اتار دیا ہے۔۔۔

اگر ٓاپ لوگوں نے جیو کے تحقیقاتی رپورٹر اعزاز سید کا اس امریکن سنڈی کے حوالے سے پروگرام یو ٹیوب پر دیکھا ہے تو یقیننا ٓاپ کے علم میں ہو گا کہ یہ سنڈٰی پاکستان کیسے آئی۔۔کتنی بار آئی۔۔۔اس کے انٹیلیجنس اداروں سے کس طرح کے تعلقات ہیں۔۔۔اعزاز سید نے ایک بہت ہی زبردست انکشاف یہ کیا ہے کہ پاکستان کے ایک انٹیلیجنس کے ادارے نے جب اس کے بارے کچھ سوالات اٹھائے اور ایک ایسی رپورٹ پیش کی جس کے بعد اس امریکن سنڈی کے ویزے کی مدت بڑھائی نہیں جا سکتی تھی تو اس رپورٹ کو پاکستان کے سب سے طاقتور ادارے نے کس طرح اپنے بوٹ کے نیچے روند دیا اور پھر ایک اور فرمائیشی رپورٹ بنوائی گئی جس کی بنیاد پر اس امریکن سنڈی کے ویزے میں توسیع کی گئی۔۔۔اعزاز سید ہی نے یہ خبر بھی دی ہے کہ اس کا ویزا تیس جون کو ختم ہو رہا ہے۔۔۔لیکن میری زاتی رائے میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔یہ ملک محکمہ زراعت کا ہے و جب تک چاہیں گے یہ امریکن سنڈی امریکن سُنڈیوں کی طرح پاکستانی سیاستدانوں کی فصلیں تباہ ہ برباد کرتی رہے گی۔


میں نے اس امریکی سنڈی کے حوالے سے پہلے بھی ایک پروگرام کیا تھا اور اس میں بھی وضاحت کی تھی کہ مجھے رحمان ملک یا پی پی کے ان لیڈروں سے کوئی ہمدردی نہیں جن پر اس نے زیادتی کا الزام لگایا ہے۔۔۔ان الزامات کی تحقیقات ضرور ہونی چاہیں اور اگر سنتھیا کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اسے انصاف بھی ملنا چاہئے ۔۔۔قطع نظر اس کے کہ رحمان ملک نے اس مبینہ زیادتی کے بعد اسے دو ہزار پاونڈ اور پھولوں کا گل دستہ پیش کر رکھا ہے۔۔۔ لیکن یہ جو سیاستدانوں کا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے ۔۔۔اسے ٹی وی اسکرین کی بجائے کٹہرے کے اندر کیا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا لیکن چونکہ سنتھیا اور اس کے سرپرست جرنیلی پاکستان کا مثبت امیج بنانے والے پراجیکٹ پر مل جل کر کام کر رہے ہیں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ عدالت میں جانے سے پہلے سیاستدانوں پر لگائے گئے الزمات کو پوری دنیا میں نشر کیا جائے۔


موجودہ پاکستانی جرنیلی حکومت اور اس کے امریکی سرپرست دونوں اس کےساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔۔۔ کچھ تصویروں میں تو میں نے دیکھا ہے کہ پاکستانی چھیل چھبیلے کرنیل جرنیل اس کے سامنے اتنے ادب سے کھڑے ہیں کہ مجھے ایسا لگا یہ شاید اس نے بھی اداکارہ ترانہ کی طرح قومی ترانے کا حیثیت اختیار کر لی ہے جس کے احترام میں جنرل یحیی اوراس کے ماتحت کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔۔۔۔پاکستان کی عدالتیں بھی محکمہ زراعت ہی کے کنٹرول میں ہیں اور اس کے علاوہ واجد ضیا جیسے جے آئی ٹی اسپیشلسٹ بھی ہیں۔۔۔ان میں کسی ایک کی مدد سے ان الزامات کی تحقیقات کی جا سکتی ہے اور اس غیر ملکی خاتون کو انصاف دینے کے لئے پی پی کے لیڈروں کو بھی اڈیالہ جیل بھیجا جا سکتا ہے ۔۔۔اس کے علاوہ چوم ٹو والا چئیر مین نیب بھی یہ کام کر سکتا ہے ۔۔۔نواز شریف کو سزا سنانے والے وہ جج بھی یہ کام کر سکتا ہے جس کی نیلی پیلی ویڈیوز نے پوری دنیا میں دھوم مچا رکھی ہے۔


جہاں تک بات ان دیسی سیاستدانوں کے انصاف حاصل کرنے کی بات ہے تویہ بیچارے سوائے ہرجانے کے نوٹسز بھجوانے کے کچھ بھی نہیں کر سکے۔ ۔۔۔اب آپ خود سوچیں جس ملک میں وہ شخص جو کہ سینیٹر بھی ہو اور سابقہ وزیر داخلہ بھی ہو۔۔۔اسے محکمہ زراعت کے ایک ورکر کے خلاف ایف آئی آر کے لئے پولیس کا ایس ایچ او لفٹ نہ کروائے ۔۔۔اس سینیٹر کو ان عدالتوں سے کیا انصاف ملے گا جہاں پر ہر ماڈل کا ثاقب نثار بیٹھا ہوا ہے۔

بات کافی لمبی ہوتی جا رہی ہے اس لئے میں پھر اسی بات کی طرف ٓاتا ہوں کہ پرائم ٹائم پر ان دنوں سنتھیا رچی کے الزامات کو امریکی سنڈیوں والے اشتہاروں کی طرح کیوں چلایا جا رہا ہے۔۔۔ جن لوگوں نے جنرل ضیا کے دور میں اظہر لودھی کے پی پی کے خلاف وہائٹ پیپرز والے ڈرامے دیکھ رکھے ہیں ان کے لئے تو اس واردات کو سمجھنا بہت آسان ہے ۔۔۔نئی نسل کے لئے البتہ بتا دیتا ہوں کہ ان اشتہارات کی مدد سے سیاستدانوں کو بدنام کرنے والا کام عمران نیازی اور اس کے وزیروں اور مشیروں کی فوج سے نہیں ہو رہا۔۔۔ اور نہ ہی نیب والے اس فوجی منصوبے کو مکمل کر پا رہے ہیں ۔۔۔اس لئے اس ضرب سیاست والی جنگی مشقوں کو کامیاب بنانے کےلئے غوری میزائل والی کمپنی نے یہ نیا گوری میزائیل لانچ کیا ہے۔


اس چٹی چمڑی والی خاتون کے الزامات میں صداقت کتنی ہے۔۔۔اس سے قطع نظر۔۔۔ان اشتہارات کی مدد سے نئے پاکستان کی یوتھیا نسل کو بھی سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کے خلاف اپنی پروپیگنڈہ مہم کو جاری رکھنے میں مدد ملے گی اور سیاستدان مکاو مہم کو بھی تقویت ملے گی۔اس سے وہ خواتین ووٹرز بھی بہت زیادہ متاثر ہوں جن کا خیال ہے کہ یہ گوری میمیں ان سے زیادہ پرکشش بھی ہیں اور نہ صرف دیسی مرد ان کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں بلکہ سیکس کی یہ موبائل فیکٹریاں بھی پاکستانی مردوں پر بڑی جلدی لٹو بھی ہو جاتی ہیں۔۔۔ یہی اس امریکن سنڈی کے اسپانسرکرنے والے محکمہ زراعت کا ہدف ہے۔۔۔نہ اس خاتون کو ان الزامات کو عدالت تک لے جانے میں کوئی دلچسپی دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی اسے پاکستان میں ویزے کے ساتھ رہائش اور کھانے پینے کی سہولت فراہم کرنے والوں کو اس سے کوئی دلچسپی ہے۔

514 views