Search

جرنیلی لشکر کراچی پر قبضہ کیوں کرنا چاہتا ہے ؟کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔27/08/2020


آج بات کرنی ہے سندھ کے سب سے اہم شہر کراچی پر متوقع فوجی حملے کی۔۔۔اس حملے کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں۔۔۔بدقسمتی سندھ کی یہ ہے کہ کراچی میں اس کی سرزمین کی حفاظت کرنے والے کم ہیں اور اس کے دشمن زیادہ ہیں ۔۔۔سندھ کی تھالی سے کھانے اور پھر اسی میں چھید کرنے والے اس حملے میں سندھ کے اس شہر کا دفاع کرنے کی بجائے حملہ آور لشکر کا ساتھ دینے کے لئے بیتاب ہیں اور سراج قاسم تیلی جیسے سرمایہ دار دامِ درہمے سخنے اس لشکر کی مدد کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

اب یہ لشکر حملہ کیوں کرنا چاہتا ہے اور کراچی کے یہ جرنیل پرست سرمایہ دار ایسا حملہ کیوں چاہتے ہیں اس پر بات کرنے سے پہلے میں آپ کو ایک لطیفہ سنا دیتا ہوں جس سے آپ کو کافی حد تک سمجھ آ جائے گی کہ کراچی پر یلغار کا مقصد کیا ہے۔۔۔لیکن اس لطیفے سے پہلے یہ وضاحت کر دوں کہ حملے سے مراد کوئی دشمن والا فوجی حملہ نہیں ہے ۔۔۔یہ اپنے ہی لشکر کی ایک سیاسی کاروائی ہے جس کے تحت کراچی کے مالی وسائل کو اسی طرح فوجی کنٹرول میں لے لیا جائے گا جس طرح ان دنوں ملک کے تمام بڑے ادارے جرنیلوں کے کنٹرول میں ہیں۔

لطیفہ کچھ یوں ہے۔۔۔لاہور کے ایک رہائشی نے اپنے ایک رشتہ دار کو نوکری کا لارا لگا کر لاہور بلوا لیا۔۔۔رہائش اور کھانا دینے کا وعدہ کیا۔۔۔جب رشتہ دار لاہور پہنچا تو اسے فورا گھریلو کام کاج سونپ دیا۔۔۔برتنوں کی صفائی اور جھاڑ پونچھ سے جب وہ ملازم فارغ ہوا تو اس نے کھانے اور منجی بسترے کی فرمائش کی۔۔۔مالک نے اسے دو برتن جسے ہم پنجابی میں ڈول کہتے ہیں۔۔۔وہ پکڑائے اور اپنے ساتھ داتا دربار لے گیا اور لنگر کی لائن میں لگوا دیا۔۔۔باری آنے پر جب اس مسکین کو کھانا مل گیا تو اس کے رشتہ دار نے ایک ڈول اس سے لے لیا اور گھر جانے لگا اور جاتے جاتے اس سے کہا کہ تم یہی بیٹھ کر دوسرے ڈول میں سے کھانا کھا لو اور یہیں دربار پر رات بھی بسر کر لینا اور ثواب بھی کما لینا۔۔۔صبح اسی طرح لائین میں لگ کر کھانا لے لینا لیکن دربار پر کھانے کی بجائے گھر ٓا جانا۔۔۔مل جل کر کھا لیں گے۔


اسی لطیفے والی صورت حال ان دنوں پاکستان کے جرنیلی لشکر کی ہے۔۔۔حکومتی خزانے میں ان کا پیٹ بھرنے کے لئے دال روٹی تو ہے لیکن انہیں جس خوش خوراکی کی عادت ہے وہ ان دنوں پوری نہیں ہو رہی۔۔۔اس کے علاوہ جن جرنیلوں کی ریٹائرمنٹ قریب ہے ان کی خواہش ہے کہ وہ بھی اپنے سینیرز کے قائم کردہ ریکارڈز کو پاکستان سے ہجرت کرنے سے پہلے توڑ دیں لیکن اب ایک تو مسئلہ یہ ہے کہ جنرل کیانی نے جزیرہ لے کر ایسا ریکارڈ بنا دیا ہے کہ اسے توڑنا تو کجا اس کے قریب پھٹکنا بھی بہت مشکل ہے۔

عمران نیازی کو حکومت میں لانے کا مقصد تو یہی تھا کہ جس طرح یہ اپنے ہسپتال کے لئے دنیا بھر سے ڈالر اکٹھے کرتا رہا ہے ۔۔۔اسی طرح یہ اپنے جرنیلی سرپرستوں کے لئے بھی ڈالر لائے گا اور اس لطیفے والے نوکر کی طرح خود بھی کھائے گا اور اپنے چالاک مالکان کو بھی کھلائے گا ۔

نوکری ملنے کے کچھ ماہ تو یہ صورت حال رہی۔۔۔عمران نیازی نے ترلے منتیں کر کے تیل والے شیخوں سے کچھ مال اکٹھا کیا لیکن وہ مال ان پاکستانی اونٹوں کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں تھا۔ان سیاسی مالکان نے عمران نیازی کو ممکن حد تک استعمال کیا لیکن اب صدقہ خیرات دینے والے اس سے تنگ ٓا چکے ہیں اور یہ خالی ڈول لے کر جس دربار کی لائین میں کھڑا ہوتا ہے۔۔۔لنگر تقسیم کرنے والے اسے لائن سے باہر نکلوا دیتے ہیں۔

اس صورت حال میں عمران نیازی نے نوکری پر بحال رہنے کے لئے یہ منصوبہ بنایا ہے کہ اب ملک کے اندر ہی ایسی لوٹ مار کروائی جائے جس سے اان جرنیلوں کے تندور نما پیٹ بھر سکیں۔۔۔اور ساتھ ساتھ اس کے اپنے غیر ملکی فنانسرز کا بھی بھلا ہو جائے۔

پہلے پہل صوبوں کے وسائل پر ڈاکہ مارنے کی کوششیں کی گئیں۔۔۔اٹھارہویں ترمیم کے خلاف باجوہ اینڈ سنز نے بڑی خطرناک مہم چلائی لیکن ابھی تک اس میں کامیابی نہیں ہو سکی۔۔۔اگر یہ جنگ باجوہ اینڈ سنز نے جیت لی ہوتی تو جرنیلی بجٹ کی بہت ساری فرمائشیں مرکز میں ہی پوری ہو جاتیں اور ان جرنیلوں کو لشکرلے کر کراچی کی طرف نہ آنا پڑتا۔



اسی اپنی مدد ٓاپ کے تحت کماو ، کھاو تے ساہنوں وی کھواو والے کشکولی منصوبے کے تحت عمران نیازی نے جرنیلوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔۔۔جس محکمے کی طرف کوئی جرنیل انگلی اٹھاتا ہے یہ چوں چراں کئے بغیر ہی وہ محکمہ اس کے حوالے کر دیتا ہے۔۔۔لیکن اس وقت ملک کی مالی حالت اتنی پتلی ہے کہ اس سے جرنیلی فوج میلہ پورا نہیں ہو رہا۔

انہی جرنیلی فرمائشوں سے تنگ آ کر اب عمران نیازی اور اس کے چیلے ایسی صورتِ حال پیدا کر رہے ہیں جس کی بنیاد پر کراچی جس پر اس وقت بھی کافی حد تک رینجرز کا قبضہ ہے اس پر مکمل طور پر فوجی قبضہ ہو جائے اور پھر فوجی جرنیل اس بریانی کی دیگ سے پیٹ بھر کر کھائیں اور عمران نیازی اور اس کے درباریوں کو وزیر اعظم ہاوس کے فورتھ فلور پر اپنا کنسرٹ جاری رکھنے دیں۔

ان دنوں غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے کراچی کی صورت حال کچھ زیادہ ہی خراب ہے۔۔۔ویسے تو ان بارشوں سے پنجاب میں بھی یہی صورت حال ہے۔۔۔ لیکن کراچی پر قبضے کے جرنیلی منصوبے کے تحت صرف کراچی کو ڈوبتا ہوا دکھایا جا رہا ہے۔۔۔اس کام کے لئے جرنیلی میڈیا بھی پورا تعاون کر رہا ہے۔۔۔دوسرے ملکوں کی جعلی ویڈیوز کو کراچی کے علاقوں کی ویڈیوز قرار دے کر سوشل میڈیا کے علاوہ مین سٹریم میڈیا پر دکھایا جا رہا ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پی پی کی سندھ حکومت کی غفلت اور نااہلی کی وجہ سے کراچی ڈوب رہا ہے۔۔۔پہلے کراچی کے نالوں کو صاف کرنے کے حوالے سے بھی پروپیگنڈا مہم چلائی گئی اور اسی کو آڑ میں فوجی ٹھیکیداروں کو کراچی بھیجا گیا۔

کراچی کے تمام شہری وسائل پر ایک عرصے سے بھائی الطاف حسین کے بھائیوں کی حکمرانی ہے۔۔۔اس بھتہ مافیا کے لوگوں نے کراچی اور اس کے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے۔۔۔کراچی کے بلدیاتی وسائل کو شہر کے مسائل حل کرنے کی بجائے اپنی سیاسی طاقت کو بڑھانے کے لئے استعمال کیا ہے اور اسی کا نتیجہ ہےکہ کراچی کبھی کچرے کے ڈھیر کے نیچے چھپ جاتا ہے اور ان دنوں بارش کے پانی میں ڈوبتا جا رہا ہے۔


الطاف حسین کے بھائیوں نے جو کہ اس وقت بھی کراچی کے بلدیاتی وسائل پر قابض ہیں ان بھائیوں نے ان دنوں بظاہر اپنے بڑے بھائی کا ساتھ چھوڑ رکھا ہے لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اسی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں جو کہ الطاف حسین کا خواب ہے اور اس کی تعبیر سندھ سے علیحدگی اور مہاجر صوبہ ہے۔۔۔موجودہ جرنیلی مہم میں ان لوگوں کو اپنے اسی مشترکہ خواب کی تعبیر بھی نظر آ رہی ہے۔۔۔اس لئے یہ لوگ بھی کراچی میں عملی طور پر کچھ کرنے کی بجائے کراچی کے کے ڈوبنے والی منظر کشی اور پی پی کی حکومت پر الزام تراشی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے اندر بھی کراچی میں زیادہ تر وہی لوگ ہیں جو کہ الطاف حسین کے متاثرین ہیں اور انہیں بھی کراچی کی علیحدگی میں اپنا سیاسی مفاد نظر آ رہا ہے اس لئے ان کی طرف سے بھی جرنیلی لشکر کشی کے لئے راستہ ہموار کیا جا رہا ہے۔

کراچی میڈیا میں کام کرنے والے زیادہ تر ورکر بھی سندھ کی تقسیم کے حق میں ہیں۔۔۔یہ لوگ بظاہر تو کسی جماعت کا حصہ نہیں ہیں لیکن ان کی صحافتی سرگرمیاں ایسی ہوتی ہیں جن سے سندھ دھرتی کے مفادات کو ہمیشہ نقصان پہنچتا ہے۔۔۔اس کی تازہ ترین مثال آپ نے ان ویڈیوز کی شکل میں دیکھ لیں جو کہ ساوتھ امریکہ کے ملک پیرو کے سیلاب کی ہیں لیکن انہیں دونوں بڑے چینلز پر یہ کہہ کر دکھایا گیا ہے کہ یہ کراچی کی ویڈیوز ہیں۔۔۔اس کے علاوہ کراچی میں ملک ریاض کا بحریہ ٹاون اس وقت اٹلی کے شہر وینس میں تبدیل ہو چکا ہے۔۔۔لیکن اس ڈوبے ہوئے بحریہ ٹاون کی منظر کشی کسی چینلز کے رپورٹرز نے نہیں کی۔



بلوچستان میں فوجی آپریشن کرنے والوں نے ان دنوں سندھ میں بھی کاروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔۔۔آئے دن سندھی نوجوانوں کو لاپتہ کیا جا رہا ہے اور ان کاروائیوں کا مقصد یہ ہے کہ صوبے میں بولنے والی تمام آوازوں کا گلا دبا دیا جائے۔۔۔ایف اے ٹی ایف کے لئے قانون سازی کی آڑ میں مسلسل کوششیں ہو رہی ہیں کہ ایسے بل منظور کروا لئے جائیں جن کے قانون بن جانے کی صورت میں جرنیلی ایجنڈے کے مخالفین کو قانونی طور پر لاپتہ کیا جا سکے۔۔۔سپریم کورٹ کا چیف جسٹس کراچی کا پھیرا لگا آیا ہے لیکن اسے بھی سندھ کے ساتھ کوئی خاص ہمدردی نہیں ہے۔۔۔آثار تو یہی بتا رہے ہیں کہ کراچی پر اس متوقع قبضے کے خلاف سندھ کو بھی اسی طرح کا انصاف ملے گا جس طرح کا جرنیلی برانڈ کا انصاف ثاقب نثار نے سپریم کورٹ میں متعارف کروایا ہے ۔

کراچی پر اس جرنیلی یلغار پر ن لیگ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔۔۔ان کا فوکس صرف اور صرف پنجاب پر ہے۔۔۔اسے چاہئے کہ اپنی پارٹی کے مسائل کے علاوہ سندھ کے خلاف ہونے والی اس سازش کے بارے میں کھل کر بولے۔۔۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعت ہونے کے ناطے سے بھی اس کا فرض ہے کہ وہ سندھیوں کے ساتھ ہونے والی اس جنگ میں سندھ کے عوام کا ساتھ دے۔۔۔پیپلز پارٹی کے ساتھ اختلاف کی وجہ سے اس جنگ سے دور رہنا وقتی طور پر کوئی ریلیف دے دے گا لیکن ن لیگ کو مستقبل میں اس چپ کا نقصان ہی نقصان ہوگا۔

ن لیگ کا نقصان سیاسی ہونے کے علاوہ ان کی مرکز میں قائم ہونے والی حکومت کے لئے مالی نقصان ہو گا۔۔۔کراچی کے مالی وسائل بھی اسی طرح موٹے پیٹوں والے جرنیلوں کے پاس چلے جائیں گے جس طرح ان دنوں چھاونیوں کی حدود میں ہو رہا ہے۔۔۔فوجی پاکستان کے علاقوں سے حاصل ہونے والی ساری ٓامدنی کمانڈ فنڈ کے نام پر ہڑپ کر لی جاتی ہے۔۔۔کراچی سے اکٹھا ہونے والا ریوینیو اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی کمانڈ فنڈ میں اسی طرح ڈوب جائے گا جس طرح ان دنوں کراچی بارشوں کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔



1,232 views