Search

جرنیلی توپخانے کی نئی امریکی توپچی سنتھیا رچی۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔06/06/2020


آج کھریاں کھریاں میں اس امریکی خاتون کی بات کرنی ہےجو ان دنوں جرنیلی لشکرمیں غیر اعلانیہ طور پر شامل ہو کر پی پی اور قبضہ گروپ کے درمیان جاری جنگ میں توپ چلانے کا کام کر رہی ہے۔۔۔اگر ٓاپ جنگی حکمت عملی سے واقف ہیں تو ٓاپ کو یقیننا پتہ ہوگا کہ کسی بھی توپ خانے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے پاس دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والا ایک او پی بھی ہو۔۔۔یہی او پی توپ خانے کو دشمن کی موومنٹ اور لوکیشن بتاتا ہے جس کی مدد سے پھر توپ کے گولے ہدف پر پھینکے جاتے ہیں۔


میجر عزیز بھٹی شہید جو کہ شکریہ راحیل شریف کے ماموں تھے۔۔۔آپ کو یقیننا یاد ہو گا کہ انہوں نے انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں شہادت پا کر نشان حیدر حاصل کیا تھا۔۔۔وہ بھی اس جنگ کے دوران OP کے فرائض انجام دے رہے تھے۔۔۔بہرحال میجر عزیز بھٹی کا حوالہ صرف اس لئے دیا ہے تا کہ بات واضح ہو جائے ورنہ اس کا اس OP کےساتھ کوئی تعلق نہیں جو ان دنوں ڈیری فارم چلانے کے علاوہ اس امریکی مجاہدہ کو اپنے ہی ملک کی سیاسی جماعت پی پی پر حملے کے لئے ہدف مہیا کر رہا ہے۔

یہ امریکی خاتون جو کہ اپنے حلیے اور چال چلن سے مجھے تو امریکی کم اور فوجی پاکستانی زیادہ لگتی ہے۔۔۔عام پاکستانی اس لئے نہیں کہا کہ اس کی اٹھک بیٹھک ان دنوں فوجی افسروں کے ساتھ زیادہ ہے اور وہ بھی ایسے فوجی افسرجن کے کندھے پر کم ازکم ایک اسٹار ہوتا ہے۔۔۔یہ فایئو اسٹار مجاہدہ کسی ایسے فوجی کو لفٹ نہیں کرواتی جو کہ جرنیلی اسٹار سے محروم ہو ۔

کل مجھے اس جرنیلی ہم نوا خاتون جسے سوشل میڈیا میں سنتھیا رچی کے نام سے جانا جاتا ہے ۔۔۔اس کا ایک ویڈیو بیان دیکھنے اور سننے کا موقعہ ملا۔۔۔اس ویڈیو میں اس نے الزام لگایا ہے کہ آصف علی زرداری کی پی پی کے ایک اہم رہنما جو کہ اس وقت بھی سینیٹر ہیں۔۔رحمان ملک ۔۔۔اس نے میرے ساتھ ریپ کیا۔۔۔اسی طرح اس نے پی پی ہی کے ایک لیڈر مخدوم شہاب الدین اور سابقہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر بھی گولہ باری کی۔۔۔اس جرنیلی ہم نوا کا کہنا ہے کہ اس کی عزت پر حملہ دو ہزار گیارہ میں اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کیا۔۔۔مخدوم شہاب الدین اور یوسف رضا گیلانی پر چھیڑ چھاڑ کے الزامات لگاتے ہوئے اس کا یہ کہنا ہے کہ یہ اس صدارتی محل میں ہوئے جس میں ان دنوں آصف علی زرداری کا ڈیرہ تھا۔

سنتھیا رچی کے ان الزامات میں کوئی صداقت ہے یا نہیں۔۔۔اس کا فیصلہ کرنا میرے اور آپ کے لئے مناسب نہیں۔۔۔یہ کام تو ثاقب نثار کی باقیات یا کسی واجد ضیا سے کروایا جا سکتا ہے لیکن میں اس حوالے سے اپنی زاتی رائے ٓاپ کے ساتھ ضرور شئیر کروں گا کہ سنتھیا کو اس گیارہ سالہ گڑھے مردے کو اکھاڑنے کی کیا ضرورت پیش ٓائی ہے۔

مجھے ملک رحمان سے یا یوسف رضا گیلانی سے کوئی ہمدردی نہیں ہے اور نہ ہی میں کبھی ان کی سیاست کا حامی رہا ہوں۔۔۔ خاص کر رحمان ملک نے جس طرح گھس بیٹھیوں کی طرح پی پی میں انٹری کی تھی وہ تو مجھے اچھی طرح یاد ہے۔۔۔مجھے اچھی طرح یہ بھی پتہ ہے کہ پاکستان کی سول سوسائٹی میں بااختیار مرد کو سب کچھ مل جاتا ہے۔


اسی طرح جرنیلی قبیلے میں بھی یحیی اور پرویز مشرف جیسے جرنیلوں کی دل پشوری کے لئے ہر وقت ان کے ارد گرد جنرل رانی جیسے کردار موجود ہوتے ہیں ۔۔۔اس کے علاوہ ان جرنیلوں کے ہیڈکوارٹر میں تو ایسے فوجی افسر بھی ہوتے ہیں جو اپنے کندھے پر اسٹار لگوانے کے لئے ہر حد سے گزر جاتے ہیں ۔۔۔مجھے ان افسروں کے بارے میں کوئی زاتی تجربہ نہیں ہے لیکن میں نے کئی فوجی جرنیلوں کو اس حوالے سے ٹی وی پر بات کرتے ہوئے سنا ہے جس میں انہوں نے خود اس بات کا اقرار کیا ہے کہ فوج میں ترقی کے لئے بعض افسر اپنی اپنی سنتھیا کا غلط استعمال بھی کرتے ہیں۔

سوچنے والی بات یہ ہے کہ پی پی جس پر پی ٹی آئی کے کٹھ پتلی وزیر اعظم سے لے کر اس کے کرائے کے مشیر بھی ہر وقت وہی زیادتی کرتے ہیں جس کے بارے میں سنتھیا نے رحمان ملک پر الزام لگایاہے ۔۔۔اس پی پی کے خلاف اب ایک نیا محاذ کیوں کھول دیا گیا ہے۔

اگر ٓاپ اس نکتے پر غور کریں گے اور ساتھ ہی اپنے زہن میں آصف علی زرداری کی بیماری اور اس کے حوالے سے بیہودہ پروپیگنڈے کوبھی سامنے رکھیں گے تو آپ کو بھی کافی حد تک اندازہ ہو جائے گا کہ اس جرنیلی حسینہ کو اس موقعہ پر کیوں لانچ کیا گیا ہے ۔


جب سے عمران نیازی کو اقتدار میں لانے والوں کا فوج میلہ کم ہوا ہے جرنیلوں کو بہت زیادہ مالی مشکلات ہیں۔۔۔نہ کوئی بہت زیادہ ایسی غیر ملکی امداد مل رہی ہے جو کہ سیدھی ان کے ہیڈ کوارٹرز میں لینڈ کریں اور جسے یہ افغان جہاد میں ملنے والے ڈالرز کی طرح بغیر کسی حساب کتاب کے استعمال کر لیں ۔۔۔ان دنوں کورونا کے نام پر ڈالر آئے ہیں لیکن انہیں اس کا پورا حساب کتاب دینا پڑ رہا ہے۔۔۔۔اس حساب کتاب میں انہوں نے فوجی ڈنڈی ماری ہے لیکن پھر بھی یہ ان ڈالر کو بغیر ڈکار لئے ہڑپ نہیں کر سکے۔

جرنیلی لائف اسٹائل کو maintain رکھنے کے لئے انہیں ڈالرز کی ضرورت ہے جو کہ موجودہ حکومت فراہم نہیں کر پا رہی۔۔۔ساری دنیا میں کشکول والے نیازی کو گھما پھر کر یہ لوگ جو حاصل کر سکتے تھے وہ تو انہیں مل چکا ہے ۔۔۔اب تو کوئی ملک نیازی کو قرضے والا پیکیج دینے کو تیار نہیں۔۔۔یہی وجہ ہے کہ ان دنوں عمران نیازی صرف اپنے لوگوں سے مانگ تانگ کر اپنا کوک اسٹوڈیو اور جی ایچ کیو کا کچن چلا رہا ہے۔

اسی مالی تنگی کو دور کرنے کے لئے اٹھارہویں ترمیم کا شوشا چھوڑا گیا۔۔۔اس پروپیگنڈے کے پیچھے بھی ایک مقصد تو یہی تھا کہ کسی طرح صوبوں کی مالی امداد کم کی جائے اور وفاق کے پاس زیادہ سے زیادہ پیسے ہوں تا کہ وہ دفاعی بجٹ اور اس میں اضافے والی فرمائش کو پورا کر سکے۔

اس جرنیلی فرمائش کو پورا کرنے کے لئے عمران نیازی تو مکمل طور پر تیار ہے ۔۔۔ن لیگ بھی اس حوالے سے کوئی خاص مزاحمت کرتی ہوئی نظر نہیں آتی۔۔۔ان کے سابقہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تو ان فوجی فرمائشوں کو پورا کرنے کے لئے ایک ایسا نسخہ بھی تجویز کر دیا ہے جس سے اٹھارہویں ترمیم کے ساتھ سنتھیا والی زیادتی کے بغیر ہی جرنیلی ڈو مور کیاجا سکتا ہے۔۔۔۔ لیکن چونکہ بات صرف مالی مسائل تک محدود نہیں ہے۔۔۔اس نئی قانون سازی کی آڑ میں کچھ ایسی تبدیلیاں بھی مقصود ہیں جس سے مسقبل میں جمہوریت کو اس طرح فوجی بوٹ کے نیچے رکھا جا سکے کہ وہ امریکی سیاہ فام جارج فلائیڈ کی طرح دم گھٹ کر مر نہ جائے ۔۔۔بس سانس لیتی رہے۔ لیکن اس حوالے سے پی پی جو کہ پہلے ہی کورونا کے دوران عمرونہ وائرس کے حملوں کی وجہ سے بہت غصے میں تھی۔۔۔اس نے اٹھارہویں ترمیم میں جرنیلی ردوبدل کرنے سے انکار کر دیا۔

نیب کی مدد سے بھی پی پی کی قیادت کو فوجی صراطِ مسقیم پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔۔۔آصف علی زرداری اس حوالے سے بہت اہم کردار ادا کر سکتے تھے۔۔۔اسے نیب کی حراست میں رکھ کر تاوان کے طور پر سارے مطالبے منوائے جا سکتے تھے لیکن اب اس کی صحت اس قابل نہیں ہے کہ اسے ایک بار پھر نیب کے شکنجے میں جکڑا جائے۔۔۔سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ پر البتہ اس ہتھیار کا استعمال شروع ہو چکا ہے۔


اس وقت ایسا لگتا ہے کہ پی پی کو فوجی ملکیت میں لینے والا فوجی بھائیوں کا پروگرام بھی شروع ہو چکا ہے۔۔۔رحمان ملک اور یوسف رضا گیلانی پر گولہ باری اسی پروگرام کا حصہ لگتی ہے۔۔۔ٓاپ لوگ تو صرف سیاسی ٹاک شوز دیکھ کر صرف آج کی تازہ خبر پر ہی نظر رکھتے ہیں لیکن جرنیلی تھنک ٹینک کافی دور کی سوچتے ہیں۔۔۔انہیں اندازہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پی پی کو اپنے لئے نئی قیادت کا انتخاب کرنا ہو گا۔۔۔اسی متوقع تبدیلی کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے پی پی کے اہم رہنماوں پر کام شروع کر دیا ہے۔۔۔اگر پی ٹی آئی کی طرح پی پی بھی مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں آ جائے تو پھر ان پر وہ دباو کچھ کم ہو جائے گا جو کہ ووٹ کو عزت دو والےبیانئے نے ڈال رکھا ہے۔

ا پی ٹی آئی اور اس کی بوٹ والی قیادت تو ہر طرح کے نیبی ہتھکنڈے استعمال کرنے کے باوجود ن لیگ کے ووٹ بنک میں کوئی ڈینٹ نہیں ڈال سکی۔۔۔اس لئے اب اس کام کے لئے نیا ہتھیار تلاش کیا جا رہا ہے۔۔۔اس کام کے لئے پی پی ہے تو بہت کھونڈا ہتھیار لیکن اس کی دھار کے تیز ہونے کے امکانات اب بھی موجود ہیں ۔۔۔ پنجاب جہاں پر پی پی کی بنیاد رکھی گئی تھی وہاں پر اب بھی پی پی چاہے اتنی مقبول نہیں لیکن اس کے خلاف لوگوں کے دلوں میں پی ٹی آئی جتنی نفرت نہیں ہے۔


میری زاتی رائے میں تو یہ چند وجوہات ان بہت ساری وجوہات میں سے ہیں جن کی وجہ سے پہلے عمران نیازی نے اپنے وزیروں والی جرنیلی فوج کے ساتھ سندھ کو فتح کرنے کی ناکام کوشش کی اور اب نیا اٹیک لانچ کیا گیا ہے۔۔۔۔چاہے سنتھیا رچی کے الزامات میں کچھ حقیقت بھی ہو لیکن اس کی ٹوئٹر ٹائم لائن بتا رہی ہے کہ وہ دنیا کے سارے دھندے چھوڑ کر صرف اس کام میں لگ گئی ہے کہ پاکستان کے اصلی حاکموں کے ساتھ مل کر جرنیلی ایجنڈے کو کیسے ٓاگے بڑھایا جائے۔

گیارہ سالہ پرانے گڑھے مردے اکھاڑنے سے اس جرنیلی مجاہدہ کوکوئی نقصان نہیں لیکن وردی والوں کا اس ضربِ پی پی سے بھلا ہو سکتا ہے۔۔۔اس داستان گوئی سے اس کی شہرت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور ویسے بھی وہ اس معاشرے سے تعلق رکھتی ہے جہاں کی اخلاقیات پاکستانی سوسائٹی سے مختلف ہیں ۔۔۔پی پی کے بااثر سیاستدانوں سے پنگا لینے میں اس کی جان کو خطرات ضرور ہیں لیکن آج کل اس کا دفاع بہت ہی مضبوط ہاتھوں میں ہے۔۔۔اس لئے بے نظیر کے قاتلوں کے ساتھ ساز باز کرنے والے اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔


بہر حال سنتھیا کی آڑ میں جنگ لڑنے والے اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہوئے مجھے تو نظر نہیں آ رہے کیوں کہ پی پی کے لیڈروں نے ہتھیار ڈالنے کی بجائے مزاحمت شروع کر دی ہے۔۔۔۔البتہ اس جنگ کےدوران ن لیگ کو خموش تماشائی نہیں رہنا چاہئے کیوں کہ اس جنگ میں ناکامی کے بعد سنتھیا جیسی ساری توپوں کا رخ ان کی طرف ہو جائے گا۔

1,039 views1 comment