Search

جرنیلی بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔07/06/2020


مظلوم پاکستانیوں کے بچوں کے حصے کا بھی دودھ پی جانے والی جرنیلی بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کی کوششیں تین صوبوں میں تو کافی عرصے سے عرصے سے جاری ہیں۔۔۔بلوچستان والے تو عملی طور پر فوج مقابلہ کر رہے ہیں اور جانوں کا نذرانہ بھی پیش کر رہے ہیں۔۔۔اسی طرح خیبر پختون خواہ میں پی ٹی ایم کے جھنڈے تلے بھی یہی بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے والا کام ہو رہا ہے۔۔۔سندھ کی قوم پرست جماعتوں نے بھی بہت کام کیا ہے اور اس مقصد کے لئے قربانیاں بھی دی ہیں۔


مسئلہ یہ ہے کہ ان تین صوبوں میں جس بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کا کام ہو رہا ہے۔۔۔ان صوبوں میں اس جرنیلی بلی کے صرف پنجے ہیں۔۔۔لیکن اس کی گردن پنجاب میں ہے۔۔۔اس لئے یہ گھنٹی اسی وقت بندھے گی جب پنجاب اور پھر خاص کر پنجاب کے بڑے شہر جہاں پر اس بلی کی بڑی بڑی چھاونیاں ہیں۔۔۔ وہاں کے لوگ گھروں سے باہر نکلیں گے۔


پنجاب میں بھی ترقی پسند لوگ یہ کام ایک عرصے سے کر رہے ہیں لیکن ان کی رسائی بڑے شہروں میں صرف تعلیم یافتہ لوگوں تک ہے۔۔۔ گلی محلوں میں رہنے والے کم پڑھے لکھے لوگ اب بھی انہی لوگوں کی بات سنتے ہیں جو کہ کسی بڑی سیاسی جماعت یا مذہبی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کی جماعت اس حوالے سے بہت اچھا کام کر رہی ہے۔۔۔انہوں نے باقی تین صوبوں میں تو اس بلی کے بارے میں لوگوں کو شعور دے دیا ہے۔۔۔ان کے پاس اس بلی سے لڑنے والوں کی ایک بڑی تعداد بھی ہے لیکن یہ لوگ ان صوبوں میں ہیں جہاں پر اس بلی کو زیادہ نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔۔۔اگر مولانا فضل الرحمان کی جماعت پنجاب میں بھی اسی طرح مقبول ہوتی جس طرح کے خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں ہے تو پھر یہ مرحلہ اور بھی آسان ہو جاتا بلکہ یہ اسی وقت مکمل ہو جاتا جب چند ماہ پہلے مولانا نے ٓازادی مارچ کیا تھا۔

بد قسمتی سے پنجاب کی بڑی سیاسی جماعتوں کے علاوہ یہاں کی مذہبی جماعتیں بھی اسی بلی کو دودھ پلانے میں مصروف ہیں۔۔۔پچھلے الیکشن سے پہلے دو نئی مذہبی جماعتیں میدان میں آئیں لیکن وہ اسی بلی کے سرپرستوں کے ساتھ پارٹنر شپ میں یہ الیکشن لڑ رہی تھیں اور ان کا مقصد ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والی ن لیگ کو نقصان پہنچانا تھا اور یہ دونوں جماعتیں کسی حد تک اس میں کامیاب بھی ہو گئی ہیں اور انہوں نے بہت سارے باعمل مسلمانوں کو اپنے جھنڈے تلے اکٹھا بھی کر لیا ہے۔

یہ کام ویسے تو ن لیگ کو کرنا چاہے تھا اور اس کے پاس اتنی اسٹریٹ پاور بھی ہے جس کی مدد سے وہ یہ جنگ جیت سکتی ہے لیکن اس کی قیادت اب اپنی زاتی مجبوریوں کی وجہ سے یہ بھاری پتھر اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے۔۔۔بہرحال نواز شریف اور اس کی بیٹی نے اس حوالے سے بہت سارا کام کر دیا ہے۔۔۔موجودہ صورتحال میں باقی کا کام پنجاب کے عوام کر سکتے ہیں۔۔۔اس کے لئے انہیں صرف یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ کسی مسیحا اور لیڈر کا انتظار کرنے کی بجائے اپنی زات پر اعتماد کریں۔

حال ہی میں امریکہ میں ایک سیاہ فام کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر جس طرح لوگ بغیر کسی سیاسی جماعت کی قیادت کے اپنے طور پر سڑکوں پر آئے ہیں اس سے ہم بھی سبق سیکھ سکتے ہیں اور یقیننا بہت سارے پاکستانیوں نے ان واقعات کو غور سے دیکھا ہو گا اور اس سے کوئی نہ کوئی نتیجہ بھی اخذ کیا ہو گا۔۔۔کچھ ماہ پہلے لاہور میں جنرل کرنل بے غیرت کے نعرے بھی لگے تھے۔۔۔ان دنوں بہت سارے ایسے اشارے ملے ہیں جن سے لگتا ہے کہ قبضہ گروپ اب پہلے جتنا مضبوط نہیں رہا۔۔۔جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن سے متاثر ہونےوالے جرنیل بھی اب اس کے ساتھ اس طرح نہیں ہیں۔۔۔بس ڈسپلن کی مجبوری کی وجہ سے اس کے خلاف کھل کر نہیں بول رہے۔۔۔اسی طرح اس اس لشکر کے سپاہی بھی اپنی محرومیوں اور جرنیلی ناانصافیوں سے تنگ آئے ہوئے ہیں ۔۔۔ایسی صورتحال میں کامیابی کے امکانات پہلے سے بہت زیادہ ہیں۔


اس وقت کسی منظم کوشش کی بجائے ہر باشعور پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ سیاسی مبلغ کا کام کرے اور اپنے ارد گرد اس پیغام کو عام کرے اور عوام کو کوئی معاشی تھیوری سکھانے کی بجائے سادہ الفاظ میں بتائے کہ اس کے ساتھ کیا زیادتی ہو رہی ہے۔۔۔جس دن عام بندے کو یہ بات سمجھ آ گئی کہ اس کے پاس اپنے تین بچوں کو کھلانے کے لئے تین روٹیوں کی بجائے صرف ایک روٹی اس لئے ہے کہ دو روٹیوں کے پیسے اس بلی کو دودھ پلانے پر خرچ ہو رہے ہیں۔۔۔جو کہ دودھ پی پی کر موٹی تو ہوتی جا رہی ہے لیکن اس کا موٹاپا کسی کام کا نہیں ۔ ۔۔ وہ کسی کا مسیحا یا لیڈر کا انتظار کرنے کی بجائے آگے بڑھ کر نہ صرف اس بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے گا بلکہ اس کے دودھ کی اضافی سپلائی بھی ختم کر دے گا۔

517 views