Search

جاوید ہاشمی اور مولانا عطا الرحمن کی قبضہ گروپ پر کاری ضربیں ۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔14/07/20

Updated: Jul 20


دو روز قبل تحریکِ بوٹ پالش کے سینیٹرز نے سینیٹ میں ایک تحریک پیش کی جو کہ بظاہر تو اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے کے حوالے سے تھی لیکن اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ وہ اور ان کا ہیڈ بوٹ پالشیا اپنی اپنی نوکریوں سے مائنس ہونے سے بچ جائیں ۔۔۔تحریک بوٹ پالش کی یہ تحریک اٹھارہویں ترمیم کو اسی فوجی قبرستان میں دفن کرنے کے بارے میں تھی جس میں پاکستان کی جمہوریت ایک عرصے سے زندہ دفن ہے۔۔۔یہ تحریک پیش تو سینیٹر محمد علی سیف نے کی جس کا بظاہر تعلق ایم کیو ایم سے ہے لیکن حقیقت میں اس کی اور ایم کیو ایم کو رشتہ داری بھی ایسی ہی ہے جیسی کہ فروغ نسیم اور ایم کیو ایم کے درمیان ہے۔





اس تحریک پر سینیٹ میں گرما گرم بحث بھی ہوئی۔۔۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں نے اس تحریک پر تنقید کی ۔۔۔بوٹ پالش تحریک کے سینیٹروں کی طرف سے جوابی کاروائی بھی ہوئی اور غداری والے ہتھیار کا بھی استعمال کیا گیا۔۔۔ جمعیت علما اسلام کے سینیٹر مولانا عطا الرحمن نے اس حوالے سے سب سے زیادہ پر جوش تقریر کی اور یوں کہہ لیں کہ بوٹ پالش جماعت کو بھی دندان شکن جواب دیا اور ساتھ ساتھ ان کے جرنیلی سرپرستوں کو بھی واضح طور پر بتا دیا کہ یہ جرنیلی منصوبہ کسی بھی طور پر کامیاب نہیں ہونے دیا جائےگا۔۔۔مولانا کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن کی جماعتوں نے ان کا ساتھ نہ بھی دیا تو پھر بھی جمعیت علما اسلام اس کی مخالفت کرے گی اور گلی کوچوں میں بھی اس حوالے سے مزاحمت کرے گی۔


سوشل میڈیا چونکہ ابھی تک جرنیلی کنٹرول میں نہیں ٓایا اس لئے وہاں پر جاوید ہاشمی کی گفتگو نہ صرف پاکستانی عوام نے سنی بلکہ اس کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی۔۔۔اس تقریر میں بھی قبضہ گروپ کو بہت اچھے طریقے سے ٓائینہ دکھایا گیا لیکن یہ گروپ چونکہ شرمندگی والی ساری حدود پھلانگ چکا ہے۔۔۔ان پر نہ تو اس سے پہلے ایسی تقریروں کا اثر ہوا ہے اور نہ ہو ان دنوں میں ہونے والی تقریروں کا ہو رہا ہے۔۔۔یہ لوگ پروفیشنل ڈھٹائی کے ساتھ پاکستان کی بربادی اور اپنے لشکر کی ترقی والے باجوائی منصوبے پر دن رات کام میں لگے ہوئے ہیں۔


جاوید ہاشمی کی تقریر کے حوالے سے پاکستانی عوام نے بھی کوئی خاص رد عمل نہیں دیا سوائے اس تقریر کو سوشل میڈیا پر شئیر کرنے کے۔۔۔مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو کہ بار بار اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ وہ اس قبضہ گروپ کے خلاف گھروں سے باہر آنا چاہتے ہیں لیکن انہیں اس کام کے لئے لیڈر کی ضرورت ہے۔۔۔ان لوگوں کے لئے جاوید ہاشمی نے امید کی ایک کرن روشن کر دی ہے۔

جاوید ہاشمی کا تعلق بھی پنجاب سے ہے اور اس کی شخصیت پنجاب کے لوگوں کے لئے کسی بھی طرح متنازعہ نہیں ہے۔۔۔اس لئے پنجاب کے عوام کے لئے یہ ایک اچھا موقع ہے کہ جاوید ہاشمی جو کہ سر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہے۔۔۔اس کی قیادت میں گھروں سے باہر نکلیں ٓائیں اور نکے اور اس کے ابے کے خلاف تحریک نجات شروع کر دیں۔۔۔ممکن ہے کہ ٓاپ کی دیکھا دیکھی پنجاب کی ان بڑی سیاسی جماعتوں کو بھی کچھ شرم اور حیا ٓا جائے جو کہ اس وقت نکرے لگ کر نئے انتخابات کا انتظار کر رہی ہیں۔


کل جب سینیٹر محمد علی سیف نے یہ تحریک پیش کی تو اس پر ووٹنگ میں حکومت کو شکست ہوئی جو کہ کوئی غیر متوقع بات نہیں تھی۔۔۔اس تحریک کے حق میں سترہ ووٹ پڑے جب کہ مخالفت میں پچیس ووٹ ڈالے گئے۔۔۔اس رائے شماری سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی اتنا بڑا فرق نہیں ہے۔۔۔اسی سینیٹ میں سولہ ووٹوں سے ہارنے والے چیئرمین سینٹ کو خلائی مخلوق کے فرشتوں نے شکست سے بچا لیا تھا۔۔۔اس لئے موجودہ شکست کا مارجن بھی کوئی ایسا مارجن نہیں ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ اپوزیشن جماعتیں اس حوالے سے مستقبل میں کوئی بڑی رکاوٹ کھڑی کر سکیں گی۔

میری زاتی رائے میں تو یہ تحریک اس وقت صرف اس لئے پیش کی گئی تھی کہ ایوان میں سیاسی صف بندی کو واضح کیا جا سکے ۔۔۔۔پنجابی میں اس کے لئے محاورہ استعمال ہوتا ہے۔۔۔منڈیاں دے بھا چیک کرنا۔۔۔۔کل کی یہ تحریک بھی اسی لئے بغیر کسی سیاسی ہوم ورک کے اس لئے پیش کی گئی تا کہ باجوائی فلسفے کی روشنی میں فوج میلہ کرنے والے جرنیلوں کو پیغام دیا جا سکے کہ اس محاذ پر کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ سی پیک سرنڈر کرنے والے نیازی کو حکومتی میدان سے مائنس نہ کیا جائے۔



اٹھارہویں ترمیم منظور ہوجانے کے بعد سے چونکہ صوبوں کا ملک کے مالی وسائل میں این ایف سی کے مطابق حصہ طے ہو چکا ہے جو کہ 57.5فیصد ہے۔۔۔آئین میں اس بات کی بھی ضمانت موجود ہے کہ صوبوں کا حصہ مستقبل میں کم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس میں مزید اضافہ بھی کیا جائے گا۔

اس وقت پاکستان کی معیشت باجوائی فلسفے پر عمل کرتے ہوئے مکمل طور پر برباد ہو چکی ہے۔۔۔بظاہر تو اس میں ہاتھ نکے اور ابے دونوں کا ہے لیکن اس حوالے سے بڑا مجرم تو ابے کو ہی ٹھہرایا جائے گا جس نے اپنے چار لاکھ فوجیوں کی مدد سے پرانا پاکستان فتح کر کے عمران نیازی کے حوالے کیا تھا۔

قبضہ گروپ اس وقت مالی مشکلات کا شکار ہے۔۔۔پاکستان کو اس وقت بیرونی امداد صرف کورونا کی شکل میں مل رہی ہے۔۔۔اس امداد نے موٹے پیٹ والے جرنیلوں کے لئے کچھ آسانیاں تو پیدا کی ہے۔۔۔لیکن یہ ایک عارضی صورت حال ہے۔۔۔جب یہ امداد ٓانا بند ہو جائے گی تو پھر جرنیلی میس کے اخرجات پورے کرنا پاکستان کی کسی بھی سیاسی حکومت کے بس میں نہیں رہے گا۔۔۔ٓاس پڑوس میں کوئی ایسی جنگ بھی نہیں شروع ہو رہی جس میں فوجی سپلائی کر کے ہم اپنے لئے ڈالروں کا بندوبست کر سکیں۔۔۔ایسے میں یہی ایک آپشن بچتا ہے کہ کسی طرح صوبوں کے وسائل پر ڈاکہ ڈالا جائے اور اس ڈاکے لئے ضروری ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کو رول بیک کروا دیا جائے۔


پچھلے دنوں آپ نے ایک موٹی توند والے جرنیل کا انٹرویو سنا ہوگا جس میں اس نے کہا تھا کہ کورونا کے حوالے سے سارا کام فوج کر رہی ہے۔۔۔لیکن ہمیں ایک بڑی رکاوٹ اٹھاروہیں ترمیم کی وجہ سے پیش آ رہی ہے۔۔۔اس توند والے جرنیل سے ٓاپ اگر آئین کے ہجے پوچھیں تو اسے شاید وہ بھی نہ آتے ہوں لیکن اس کے منہ سے اٹھاروہیں ترمیم کے خلاف جو باتیں نکلی ہیں۔۔۔۔ان سے اندازہ لگا لیں کہ یہ ترمیم کس بری طرح اس قبضہ گروپ کے ارکان کے حواس پر سوار ہے۔

قبضہ گروپ کی اسی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریک بوٹ پالش نے سینیٹ میں یہ تحریک پیش کی اور اس وقتی شکست سے نکے کے ابے کو یہ پیغام دیا ہے کہ اٹھاروہیں ترمیم والا محاذ اگر فتح کرنا ہے تو یہ کام بھی اسی انداز میں ہوگا جس طرح نکے اور ابے نے مل کر جرنیلی کوٹے پر سینیٹ کے چیرمین کو عدم اعتماد سے بچایا تھا۔

سینیٹ میں ہونے والی یہ شکست وقتی شکست ہے لیکن اس شکست نے قبضہ گروپ کے لئے تحریک بوٹ پالش کی اہمیت میں کافی اضافہ کر دیا ہے۔۔۔نکے کی طرف سے ابے کو یہ پیغام چلا گیا ہے کہ اگر اٹھاروہیں ترمیم کو مائینس کرنا ہے تو مجھے ہر حال میں پلس رکھنا ہوگا۔



1,286 views1 comment