Search

تھری اسٹار جرنیل اور عاق شدہ فوجی افسران کی دکھ بھری داستان۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔16/05/2020



پنجابی کی ایک ضرب المثل ہے کہ ڈائن وی ست گھر چھڈ دیندی اے۔۔۔مفہوم اس کا کچھ یوں ہے کہ برے سے برا انسان بھی اتنا با کردار ضرور ہوتا ہے کہ اپنے ارد گرد کچھ لوگوں کا لحاظ کرتا ہے اور ان پر اپنے شر کا حملہ نہیں کرتا۔۔اگر ٓاپ نے پاکستان کی جدید ہاوسنگ کالونیوں سے پہلے والے محلوں میں زندگی بسر کی ہے تو یقیننا ٓاپ نے ایسے گنڈاسا بردار اپنے ارد گرد ضرور دیکھے ہوں گے جن کی بدمعاشی کا ڈنکا پورے شہر میں بجتا تھا۔۔۔ لیکن یہ لوگ جب اپنے محلے میں داخل ہوتے تھے تو باپردہ بھی ہو جاتے تھے اور نظریں بھی خاندانی شرفا کی طرح نیچے کر لیتے تھے اور محلے کی کسی بہو بیٹی کی طرف نہ خود میلی ٓانکھ سے دیکھتے تھے اور نہ ہی کسی اور کو ایسی گستاخی کرنے دیتے تھے۔


نئے پاکستان میں باجوہ ڈاکٹرین کی بدولت اس ڈائن نے بھی اپنا منشور بدل لیا ہے اور اس نے سوائے اپنےگھر کے باقی ہر گھر کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔۔۔بات کو ٓاگے بڑھانے سے پہلے چھوٹی سی وضاحت کر دوں کہ اپنے گھر سے مراد پوری فوج نہیں بلکہ اس فوج کے وہ جرنیل ہیں جو ایکسٹینشن والی چھتری کے نیچے کھڑے ہو کر جنرل باجوہ کی لمبی نوکری کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔۔۔ایسے تمام فوجی افسران جو جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن والی دعا پر بلند ٓاواز سے ٓامین نہیں کر رہے وہ سارے ان دنوں اس ڈائن کے شکنجے میں ہیں۔


اس ڈائن نے شروع شروع میں تو صرف ان سیاستدانوں پر حملے کئے تھے جو کہ جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے راستے میں روڑے اٹکا رہے تھے۔۔۔اب چونکہ سیاسی محاذ تو کسی حد تک فتح ہو چکا ہے اور تمام بڑی بڑی جماعتوں نے جنرل باجوہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے اس لئے اس ڈائن کی اب پوری توجہ ان سات گھروں کی طرف ہے جنہیں اصولی طور پر اس ڈائن کے شر سے محفوظ رہنا تھا۔۔۔چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والی چند سیاسی جماعتیں گو کہ اب بھی اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہیں لیکن بڑی سیاسی جماعتوں کی بوٹ چاٹ پالیسی نے ان کے احتجاج کو غیر موثر کر دیا ہے۔

چند ماہ پہلے اس ڈائن نے ایک ایسے فوجی جرنیل کو کھا لیا جس کی وردی پر تین ستارے بھی لگے ہوئے تھے اور اس بات کا بھی کافی امکان تھا کہ اگر جنرل باجوہ ایکسٹینشن ایکسٹینشن کھیلنے کی بجائے اپنی مدت پوری کر کے گھر چلا جاتا تو یہ تھری اسٹار جرنیل اس کی جگہ اس ملک کا چیف ٓاف اسٹاف ہوتا اور پورے ملک میں ان دنوں شکریہ سرفراز ستار کے بینر لگے ہوتے اور داستان گو ہارون رشید کی کپتانی میں جرنیلی میڈیا پر اس جرنیل کی بہادری ،زہانت اور متانت کے قصے بیان ہو رہے ہوتے۔

پاکستانی فوج کے اس جرنیل میں یقیننا ایسی خوبیاں ہوں گی جو اس نے تھری اسٹار جنرل کے عہدے تک ترقی کی ۔۔۔کاکول اکیڈمی سے لے کر جرنیل بننے تک اس پر قوم کا قیمتی سرمایہ بھی خرچ ہوالیکن جب اس جرنیل کی فور اسٹار جرنیل بننے کی باری ٓائی تو اس کے ساتھ وہی سلوک ہوا جسے ایک پنجابی گانے میں کچھ یوں بیان کیا گیا ہے۔۔۔

لائی بے قدراں نال یاری تے ٹٹ گئی تڑک کر کے

اب ٓاپ یقیننا پوچھیں گے کہ اس کی یاری کس کے ساتھ تھی۔۔۔تو میں اس کی رام کہانی مزید سنانے سے پہلے یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ اس کی اور جنرل باجوہ کی ٓاپس میں افسر ماتحتی والے رشتے کے علاوہ کافی دوستی بھی تھی۔۔۔اس جرنیل نے ٓاپریشن رد النواز میں جنرل باجوہ کے لئے بہت اہم کردار ادا کیا۔۔۔سیاسی لشکر کشی میں یہ جنرل باجوہ کے ساتھ ہر محاذ پر اگلے مورچوں پر تھا اور اپنی ان خدمات کی وجہ سے اس کا گمان تھا کہ جنرل باجوہ گھر جاتے ہوئے چھڑی اس کے حوالے کر جائے گا لیکن اس جرنیل کے ہاتھ میں چھڑی ٓانی تو کجا اس کی جرنیلی بھی اس کے ہاتھ سے جاتی رہی۔


پچھلے کئی ماہ سے یہ جرنیل اسی طرح لاپتہ ہے جس طرح یه ایم ٓائی کے سربراه کی حیثیت سے جرنیلی ایجنڈے کے مخالفین کو گم شدہ افراد کی فہرست میں شامل کروا دیا کرتا تھا۔۔۔دروغ بر گردن راوی اسے اٹک کے اس قلعے کی سیر بھی کروائی گئی ہے جسے جرنیلی ڈائنوں نے صرف سیاستدانوں کے لئے مخصوص کر رکھا ہے۔۔۔نواز شریف اور اس کے بھائی شہباز شریف کو جب مشرف نامی ڈائن نے اغوا کیا تھا تو ان کو اسی اٹک والے مہمان خانے میں رکھا تھا۔


اس تھری اسٹار جرنیل کے ساتھ اس وقت کیا ہو رہا ہے اور وہ کہاں پر ہے یہ میرے علم میں نہیں لیکن ایک اندازہ ہے کہ یہ ان دنوں جہاں پر بھی جبری اعتکاف میں ہے یقیننا دعا مانگ رہا ہو گا کہ کوئی جلد از جلد اس کے ساتھ زیادتی کرنے والے کے گھر لنگڑے ٓاموں کی پیٹی کا تحفہ بھیج دے۔

اس جرنیل کے علاوہ بھی بہت سارے جرنیلوں کے گھر اس ایکسٹینشن والی ڈائن نے اجاڑ دئیے ہیں۔۔۔ایک سابقہ فوجی افسر کا کہنا ہے کہ ایک کور کمانڈر نے جب فاٹا اور خیبر پختون خواہ میں پشتونوں کے ساتھ ہونےوالے ناروا سلوک پر جرنیلی ایجنڈے سے اختلاف کیا تو اسے فورا پشاور سے تبدیل کر دیا گیا۔۔۔اسی طرح ایک اور کور کمانڈر جس نے کراچی ٓاپریشن میں بڑا اہم کردار ادا کیا تھا اسے بھی باجوائی فلسفے سے اختلاف کرنے کی سزا میں ایک ایسی فیکٹری کا سربراہ بنا دیا گیا ہے جس میں شبِ برات کے موقعے پر چلائے جانے والے پٹاخے اور بم بنائے جاتے ہیں۔۔۔اس کے علاوہ بھی دو اور کور کمانڈرز پر جرنیلی عتاب نازل ہو چکا ہے لیکن ان سب کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں اٹک والے قلعے میں نہیں بھیجا گیا اور یہ ابھی تک فوج میں ہی نوکریاں کر رہے ہیں لیکن ان کے پاس سوائے تنخواہ وصول کرنے کے کوئی اہم کام نہیں ہے۔


ایک صاحب نے ہمیں ٓارمی رولز اینڈ ریگولیشن 269-A کی فوٹو بھی بھیجی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اس ہتھیار کا بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے اور کرنل کے رینک تک کےافسران کو اسی مہلک ہتھیار کا استعمال کر کے فوج سے فارغ کیا جا رہا ہے۔۔۔ٓارمی کے قانون کے تحت ٓارمی چیف کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی افسر کے خلاف انکوائری کروائے بغیربھی وفاقی حکومت سے اسے نوکری سے نکالنے کی فرمائش کر سکتا ہے۔


جن صاحب نے ہمیں یہ معلومات فراہم کی ہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نہ صرف انہیں بلکہ بہت سارے ایسے افسران کو ان اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے قبل از وقت فوج سے فارغ کر دیا گیا ہے ۔۔۔ان افسروں پر کسی بد عنوانی کا یا ڈسپلن کی خلاف ورزی کا بھی الزام نہیں تھا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی انکوائری کی گئی اور نہ ہی اس کاروائی کی کوئی اطلاع دی گئی ۔۔۔ان افسران میں زیادہ تر کا تعلق چھوٹے صوبوں سے ہے۔ ان صاحب کا یہ بھی کہنا ہےکہ اب جنرل باجوہ کی کوشش ہے کہ وہ صرف ایسے فوجی افسران کو ترقیاں اور مراعات دے جو کہ اس کے ایجنڈے پر کام کرنے کے لئے ہر گھڑی تیار کامران ہوں۔

ان صاحب کی معلومات کس حد تک مصدقہ ہیں یہ تو مجھے پتہ نہیں لیکن فوج میں اعلی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں اور ایکسٹینشن مخالف جرنیلوں کے ساتھ ہونےوالا سلوک سے تو یہی بتاتا ہے کہ جو ڈائن تھری اسٹار جرنیل کو کھا سکتی ہے اسکے لئے دو ڈھائی سو چھوٹے افسروں کو نگلنا کونسی بڑی بات ہے۔

میں نے جرنل باجوہ کے مظالم کی داستانیں شئیر کرنے والے افسر سے کہا کہ وہ ان زیادتیوں کے خلاف ٓاواز کیوں نہیں اٹھاتے اور نوکریوں سے نکالے جانے پر عدالت کا رخ کیوں نہیں کرتے تو ان صاحب نے کہا کہ ہمیں اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وفاقی حکومت جس نے بغیر کسی چھان بین کے اس یک طرفہ کی منظوری دی ہے اسے اپروچ کر سکیں یا ہائی کورٹ میں جا کر انصاف مانگ سکیں۔۔۔

ان متاثرہ فوجی افسران کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی ایک لمبی فہرست ہے جسے میں مکمل طور پر شئئیر تو نہیں کر سکتا ۔۔۔بس یوں سمجھ لیں کہ جرنیلی ڈائن نے ان سے سب کچھ چھین لیا ہے۔

1,257 views1 comment