Search

بٹیر باز گورنر اور کاریں اسمگل کرنے والے جرنیل۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد ۔۔۔16/07/2020

Updated: Jul 19


آج کھریاں کھریاں میں اس جرنیلی حملہ آور کی بات کرنی ہے جس نے عمران نیازی کے فرمابردار اور بٹیر باز گورنر کو خیبر پختون خواہ کے گورنر ہاوس سے بےدخل کرنے کا پورا بندوبست کر لیا ہے۔۔۔یہ نیم ریٹائرڈ جرنیل ویسا ہی ہاتھی ہے جو مرنے کا بعد اور بھی قیمتی ہو جاتا ہے۔۔۔ اس نے بلوچستان میں پوسٹنگ کے دوران وہ جرنیلی دھندہ بھی کیا ہے جس کی وجہ سے لوگ ان جرنیلوں کو کسی زمانے میں کور کمانڈر کی بجائے کروڑ کمانڈر کہا کرتے تھے۔۔۔ویسے یہ کور کمانڈر ان دنوں بھی یہی کچھ کر رہے ہیں لیکن اب کمائی اربوں اور کھربوں میں پہنچ گئی ہے اس لئے کروڑ کمانڈر کہنا کور کمانڈر کے ساتھ قافیہ کے اعتبار سے تو درست ہے لیکن مالی اعتبار سے ٹھیک نہیں ہے۔

آج کا جرنیلی خبر نامہ دروغ بر گردنِ راوی ہے اور یہ ہمیں ایک ایسے محب وطن پاکستانی نے بھیجا ہے جس کے دل میں پاکستان کا درد بھی ہے اور وہ ان وردی والے دہشت گردوں کی وجہ سے ہر طرح کے جسمانی درد میں مبتلا ہے

۔

عمران نیازی کے نئے پاکستان میں ان دنوں بلڈی سویلین کو تو عمران نیازی کی ایک کروڑ نوکریوں میں سے کوئی نوکری نہیں مل رہی لیکن نکے اکے ابے کے حاضر ڈیوٹی جرنیلوں اور ریٹائرڈ جرنیلوں کو کونوں کھدروں میں سے ڈھونڈ کر نوکریاں دی جا رہی ہیں۔۔۔۔نوکریوں کی اس بندر بانٹ سے مجھے وہ برتن قلعی کرنے والا یاد ٓا رہا ہے جو کہ ہمارےبچپن میں گلی میں آ کر آوازیں لگایا کرتا تھا

بھانڈے قلعی کرا لو۔۔پرانے نویں بنا لو

جنرل باجوہ کا ایک سیاسی جرنیل بالکل اسی انداز میں پورے پاکستان میں پھیلی ہوئی ڈیفینس ہاوسنگ سوسائیٹیوں اور جرنیلوں کو ملنے والے زرعی مربعوں میں اسی طرح کی ٓاوازیں لگوا رہا ہے۔۔۔

پرانے جرنیل نویں کروا لو

اسی بیروزگار جرنیل مکاو پالیسی کے تحت خیبر پختون خواہ میں بھی ایک پرانے جرنیل عالم خٹک کو بھی نواں نکور کیا جا رہا ہے۔۔۔اس بیروزگار جرنیل کی روٹی روزی کا بندوبست تقریبا مکمل ہو گیا ہے۔۔۔نکے نے ابے کی فرمانبرداری میں اپنے ہی سیاسی گورنر شاہ فرمان کو فارغ کرنے کے لئے رضا مندی کا اظہار بھی کر دیا ہے ۔۔۔مجھے پی ٹی آئی کے گورنر شاہ فرمان کے ساتھ کوئی سیاسی ہمدردی تو نہیں ہے لیکن اس کے بیروزگار ہو جانے سے زیادہ اس بات کا دکھ ہے کہ اس بیچارے نے گورنر ہاوس کے سوئمنگ پول پر جو خرچہ کیا تھا وہ سارا ضائع جائے گا اور اب اسے اس لگثرری پول کی بجائے پشاور کے کسی عام سے حمام میں ڈبکیاں لگا کر ٹائم پاس کرنا پڑے گا۔




عالم خٹک صاحب کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ بلوچستان میں ایف سی کے آئی جی بھی رہ چکے ہیں۔۔۔اس کے علاوہ یہ جی ایچ کیو شریف میں چیف آف لاجسٹک اسٹاف بھی رہے ہیں۔۔۔کوئٹہ والی کور کے کمانڈر کی حیثیت سے جب ریٹائر ہوئے تو انہیں وزارتِ دفاع میں سیکرٹری کے طور پر کھپا دیا گیا تھا۔۔۔ وزارت دفاع کے بعد انہوں نے نواز شریف کے دور میں گورنر لگنے کی فرمائش کی تھی جسے نواز شریف نے پورا کرنے سے صاف انکار کر دیا اور اپنی پارٹی کے ظفر جھگڑا کو گورنر بنا دیا تھا۔

عالم خٹک ان کی ان تقریوں سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ اس کے فوج میں جرنیلی کنکشن کتنے پاور فل ہیں۔۔۔اس کی ان ساری جرنیلی اور غیر جرنیلی تقرریوں کو دیکھ کر مجھے ایک شعر یاد آ رہا ہے۔۔۔۔ویسے وہ کہا تو کسی اور حوالے سے کہا گیا تھا لیکن اس شعر میں ان صاحب کی اور پاکستان کے ان سارے جرنیلوں کی جھلک موجود ہے جو فوج سے ریٹائر ہو کر کہیں نہ کہیں فوج میلہ کر رہے ہیں۔۔۔

جہاں میں اہلِ ایماں صورت خورشید جیتے ہیں

ادھر ڈوبے ادھر نکلے۔۔۔ادھر ڈوبے ادھر نکلے

مزے کی بات یہ ہے کہ جب ان کا پاکستان میں ادھر ڈوبے ۔۔۔ادھر نکلے والا سلسلہ جاری نہ رہ سکے تو یہ پاکستان سے ہجرت کر جاتے ہیں اور کوئی امریکہ ، کوئی آسٹریلیا کے جزیروں میں اور کوئی دوبئی کے شیخوں کے پاس جا نکلتا ہے۔

خیبر پختون خواہ کی گورنری پر شبخون مارنے میں مصروف نیم ریٹائرڈ جرنیل عالم خٹک صاحب کی لوٹ مار کی داستان کے مطابق نومبر دو ہزار چودہ میں بلوچستان میں گاڑی کے حادثے میں دو فوجی افسر جاں بحق ہو گئے۔۔۔شہید میں اس لئے نہیں کہہ رہا کیوں کہ یہ دونوں اس وقت ایک لگژری گاڑی کی ٹیسٹ ڈرائیو میں مصروف تھے اور اس کام کے لئے انہیں ان کے باس میجر جنرل اعجاز شاہد نے مجبور کیا تھا۔۔۔اس سارے واقعے کی تفصیل اخباروں میں شائع ہو چکی ہے۔۔۔یہ اسٹوری معروف تحقیقاتی صحافی احمد نورانی نے بریک کی تھی اور اس کے نتیجے میں لڑکی کے بھائیوں نے ان کےساتھ دست درازی بھی کی تھی۔۔۔ اس اسٹوری کا لنک بھی اس کالم کے نیچے دے دیا ہے تا کہ آپ اس لگثری گاڑی کے پیچھے چھپی ہوئی جرنیلی واردات سے واقف ہو سکیں کہ کس طرح ہمارے جرنیل بلوچستان میں عام لوگوں کے علاوہ لگثری گاڑیوں کو لاپتہ کرتے ہیں۔




مختصرا یہ بتا دیتا ہوں کہ ہلاک ہونے والے کرنل شکیل کی بیوی نے اپنے شوہر کے فون سے جب یہ پتہ لگایا کہ اس کے شوہر کو سمگلروں سے حاصل کی گئی اس قیمتی گاڑی کی ٹیسٹ ڈرائیو کے لئے جنرل اعجاز نے مجبور کیا تھا جو کہ یہ گاڑی اپنے بیٹے کو سالگرہ کے تحفے کے طور پر دینا چاہتا تھا۔۔۔کرنل شکیل کی بیوی نے جی ایچ کیو میں درخواست دی۔۔۔انکوائری ہوئی اور پتہ چلا کہ یہ جو ہزاروں کی تعدار میں جو نان کسٹم پیڈ گاڑٖیاں پورے ملک میں دندناتی پھر رہی ہیں۔۔یہ سب جرنیلی پرچم تلے کام کرنے والے محکمے ایف سی کا کارنامہ ہے اور آئی جی ایف سی اس دھندے سے اربوں روپے کما رہا ہے۔

انکوائری کے دوران جنرل اعجاز نے ایف سی کے سابقہ جرنیلوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا اور کہا کہ یہ غیر قانونی دھندہ بہت عرصے سے جاری ہے۔۔۔اس تفتیش میں پہلے والے جرنیل عبید خٹک کو بھی شاملِ تفتیش کیا گیا جو کہ بلوچستان سے دولت سمیٹ کر جا چکے تھے ۔۔۔اسی تفتیش کے دوران یہ پتہ چلا کہ یہ ایسی بہتی گنگا ہے جس میں فوج کے تقریبا سارے مومن جرنیل غوطے لگا چکے ہیں۔۔۔ظاہر ہے ساٹھ ستر لاکھ کی گاڑی جب دس لاکھ میں مل رہی ہو تو کونسا مردِ مومن انکار کر سکتا ہے۔




جنرل اعجاز نے جب چوری کا کھرا جنرل عبید خٹک تک پہنچایا تو انہوں نے اسے جنرل عالم خٹک کے گھر پہنچاتے ہوئے فرمایا کہ مجھے تو یہ کاروبار جنرل عالم خٹک سے وراثت میں ملا تھا جو کہ مجھ سے پہلے ایف سی کے آئی جی تھے۔۔۔فوج میں واپس چلے گئے اور میل ملاپ کر کے کوئٹہ کے کور کمانڈر لگ گئے اور اسی طرح اس کاروبار کی سرپرستی کرتے رہے۔

فوج میں اتنے بڑے پیمانے پر کرپشن کے ثبوت ملنے پر جنرل راحیل شریف نے کچھ افسروں کے خلاف کاروائی کی لیکن جنرل عالم خٹک بچ گئے کیوں کہ وہ اس وقت فوج سے ریٹائر ہو کر سیکرٹری دفاع لگ چکے تھے اور رتبے کے اعبتار سے جنرل راحیل شریف کے باس بھی تھے۔۔۔اس لئے اس کار اسکینڈل میں کچھ افسروں کو گھر بھیجا گیا۔۔۔اس سارے معاملے کی فوج کے میڈیا سیل نے بہت تشہیر بھی کی لیکن اس کا مقصد فوجی افسروں کو سزا دینے سے زیادہ جنرل راحیل شریف کی شکریہ راحیل شریف والی مہم کو تیز کرنا تھا تاکہ راحیل شریف کو ایکسٹینشن بھی مل جائے اور ممکن ہو تو فیلڈ مارشل بھی بنا دیا جائے۔۔۔لیکن جب راحیل شریف کے جرنیلی خواب پورے نہ ہو سکے تواس نے جاتے جاتے ان سزا یافتہ افسروں کی ساری مراعات بحال کر دیں۔۔۔جرنیلی پلاٹس اور مربعے بھی ضبط ہونے سے بچ گئے۔



اس جرنیلی کرپشن پر نیب نے بھی نوٹس لیا تھا مگر نیب کو کہا گیا کہ فوج نے اپنے اندرونی کڑے احتساب کے تحت ان کے خلاف کاروائی کر لی ہے اس لئے نیب کو اس پھٹے میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔اس جرنیلی جواب کے بعد چیئرمین نیب نے اس حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کر لی۔




ہمیں یہ ساری تفصیلات بھیجنے والے صاحب نے جنرل باجوہ کے لئے ایک سوال بھی بھیجا ہے۔۔۔اگر وہ چاہیں تو اپنے کسی سیاسی نمائندے کی وساطت سے ہمیں آج کے کالم کی ساری باتوں کا اور اس سوال کا جواب ہمارے واٹس ایپ نمبر پر بھیج سکتے ہیں۔۔۔سوال کچھ یوں ہے کہ کیا اس سابقہ جرنیل عالم خٹک کو گورنر لگائے جانے سے پہلے اس کے اثاثوں کی بھی اسی طرح چھان بین ہو گی جس طرح جسٹس قاضی فائز عیسی کے اثاثوں کی ان دنوں ہو رہی ہے اور اس کی جائدادوں کو بھی پریس کانفرنسیں کر کے اور ٹی ٹی وی ٹاک شوز میں عوام کے سامنے لایا جائے گا اور کیا عوام کو بتایا جائے گا کہ وہ انکوائری رپورٹ جو کہ جی ایچ کیو میں پڑی ہے اور جس کےتحت جنرل اعجاز اور جنرل عبید کو گھر بھیجا گیا تھا۔۔۔اس رپورٹ میں جنرل ریٹائرڈ عالم خٹک کے بارے میں کیا لکھا ہوا ہے؟

https://www.geo.tv/latest/104401-The-car-accident-which-led-toforced-retirement-of-six-army-officers

1,161 views1 comment