Search

بلوچستان اور وزیرستان یا ڈی ایچ کے قبرستان۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔04/05/2020


پچھلے دو تین روز میں محب وطن پاکستانیوں کے سفاکی سے قتل ہونے کی خبریں سن کر دل پریشان بھی ہے اور غمزدہ بھی۔۔۔خاص کر پاکستان کے چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والے بلوچ اور پشتون لوگوں کے ساتھ جو ظلم کا بازار اس رمضان میں گرم کیا گیا ہے اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ بڑا شیطان تو شاید کہیں قید ہے لیکن یہ دنیاوی شیطان اس مہینے میں کچھ زیادہ ہی ٓازادی انجوائے کر رہے ہیں۔۔۔اور دہشت گردوں کی سرپرستی میں وزیرستان اور بلوچستان کو قبرستان میں تبدیل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔


پہلے بلوچستان سے کچھ دل دہلا دینے والی تصاویر ٓائیں جس میں ایک بلوچ کی لاش کو گاڑی کے ساتھ باندھ کر گھسیٹا جا رہا ہے۔۔۔یہ تصویر دیکھ کر مجھے ہلاکو خان کی بربریت اور سفاکی یاد ٓاگئی جس کے بارے میں میں نے صرف تاریخ میں پڑھ رکھا ہے اور اس تاریخ پر مجھے اتنا زیادہ یقین بھی نہیں ہے لیکن گاڑی کے پیچھے بندھی ہوئی لاش دیکھ کر اب مجھے یقین ٓا گیا ہے کہ اگر اکیسویں صدی کے ایف پاس وردی پوش ہلاکو اپنے ایجنڈے کے مخالفین کے ساتھ اس طرح کا سلوک کر سکتے ہیں تو پھر یقیننا ہلاکو خان کے بارے میں جو کچھ تاریخ بتا رہی ہے وہ سب درست ہے۔۔۔یہ تصویر سوشل میڈیا پر موجود ہے۔۔۔میرے ٹویٹر والے اکاونٹ پر بھی موجود ہے۔۔۔یو ٹیوب کی بعض پابندیوں کی وجہ سے یہاں شئیر نہیں کر سکتا لیکن اگر ٓاپ مضبوط اعصاب کے مالک ہیں تو اپنی زمہ داری پر یہ تصویر میرے ٹوئٹر والے اکاونٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔

بلوچستان سے ہی جڑی ہوئی دوسری خبر بلوچ صحافی ساجد حسین کی ہے۔۔۔اپنی دھرتی سے پیار کرنے والے اس بلوچ صحافی نے ساری زندگی حق اور سچ کی بات کی۔۔۔بلوچستان میں مسنگ پرسنز اور ریاستی جبر کی سچی خبریں میڈیا پر بریک کیں۔۔۔جب تک پاکستان میں رہا ساجد حسین اور اس کا سارا کنبہ ریاستی جبر کا شکار رہا۔۔۔خلائی مخلوق کے دہشت گردوں نے اتنا مجبور کیا کہ اسے جان بچا کر ملک سے ہجرت کرنا پڑی۔

اسی ہجرت میں ملکوں ملکوں دھکے کھاتا ہوا یہ سوئیڈن پہنچا ۔۔۔وہاں پر تعلیم بھی شروع کر دی اور ساتھ ہی اپنی سرزمین بلوچستان پر قبضہ گروپ کی سرگرمیوں کو بے نقاب کرنے کے لئے ایک ٓان لائین اخبار بلوچستان ٹائمز شروع کیا اور اس میں بطور چیف ایڈیٹر کام جاری رکھا۔۔۔ساجد حسین کو بلوچستان سے بے دخل کرنے والوں نے شاید اس کا پیچھا سوئیڈن میں بھی نہیں چھوڑا۔۔۔دو مارچ دو ہزار بیس کو وہ لاپتہ ہو گیا۔۔۔سوئیڈن کی پولیس نے گمشدگی کی رپورٹ درج کر کے تفتیش شروع کی لیکن وہ ساجد حسین کو زندہ سلامت برآمد نہیں کر سکی۔


دو روز پہلے مقامی پولیس نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ اوپسالہ دریا سے ملنے والی لاش ساجد حسین ہی کی ہے۔۔۔۔۔پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس ہلاکت میں کرائم والے عنصر کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کر سکتی ۔۔۔ صحافیوں کی تنظیم ٓار ایس ایف کی طرف سے البتہ یہ کہا گیا ہے کہ چونکہ ابھی سوئیڈن کی پولیس نے جرم والے عنصر کو خارج نہیں کیا اس لئے اس بات کا امکان ابھی باقی ہے کہ اس ہلاکت کا تعلق اس کی صحافتی سرگرمیوں سے ہے۔۔۔۔ابھی شاید کچھ دن اور لگیں گے اس لئے اس حوالے سے کھل کر تو کسی پر الزام عائد نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر ساجد حسین کے ساتھ ریاستی اداروں کے سلوک اور بلوچستان کے نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشوں کا دھندہ کرنے والوں کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ معمہ حل کرنا کوئی مشکل نہیں۔


ساجد حسین کی شہادت رائگاں نہیں جائے گی۔۔۔جلد ہی سوئیڈن کی پولیس اس واقعے کی تہہ تک پہنچ جائے گی اور پھر اگر اس کا کھرا بلوچستان تک پہنچ گیا تو اس کا نقصان اس وردی والے مافیا کو تو بعد میں ہو گا لیکن اس مافیا کی سرپرستی کرنے والی ریاست کو اس سے بین القوامی سطح پر اتنا نقصان ہو گا جو کہ قرضوں اور بین القوامی امداد پر چلنے والی اس ریاست کے لئے برداشت کرنا ناممکن ہو گا۔

پچھلے دنوں ترکی میں بھی ایک سعودی صحافی جمال خشوجگی کا قتل ہوا۔۔۔ اس واقعے میں سعودی حکومت کے کارندے شامل تھے۔۔۔تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک نے پہلے تو اس واقعے میں ملوث ہونے سے صاف انکار کر دیا لیکن بین اقوامی دباو نے پھر سعودی حکومت کو مجبور کر دیا اور انہیں اس مقدمہ کی زمہ داری بھی اپنے اداروں پر ڈالنی پڑی اور اب تک ان کے لئے یہ قتل سفارتی سطح پر بدنامی اور بہت ساری مشکلات کا باعث ہے۔

اگر ساجد حسین کے حوالے سے بھی ایسی ہی سچویشن بن گئی اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اگر اس کا کھرا بلوچستان تک چلا گیا تو پھر اس کے نتائج نہ صرف بین القوامی پابندیوں کی شکل میں نکلیں گے بلکہ قرضے اور امداد والا راستہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔


ساجد حسین جس ملک میں لاپتہ ہوا ہے اور پھر اس کی لاش ملی ہے وہاں پر ایسے جرم کبھی چھپے نہیں رہتے اور نہ ہی ان پر پاکستان کی طرح مٹی پاو پالیسی کا استعمال ہوتا ہے۔۔۔یہاں پر لڑکی کے بھائی والا عنصر بھی نہیں ہے کہ جس طرح پاکستان میں کسی بھی ریاستی ایجنڈے کے مخالف کی ٹھکائی کر دی جاتی ہے اور پھر یہ خبر چلوا دی جاتی ہے کہ مرنے والے کے ایک لڑکی کےساتھ ناجائز تعلق تھے ۔۔۔لڑکی کے بھائیوں کو جب اس کا پتہ چلا تو انہوں نے غیرت میں اپنی بہن کے ٓاشنا کا قتل کر دیا۔۔۔اس لئے سوئیڈن میں یہ پاکستانی تھیوری بھی کام نہیں ٓائے گی۔

اس کے علاوہ خود کشی کا امکان بھی بہت کم ہے۔۔۔کیوں کہ مرحوم ساجد حسین نے لاپتہ ہونے سے پہلے اپنے گھر والوں سے بھی بات کی تھی اور سوئیڈن میں اپنے دوستوں کے ساتھ بھی رابطے کئے تھے لیکن اس نے کسی بھی ایسی پریشانی کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی اس کی زہنی کیفیت ایسی تھی کہ جس سے یہ اندازہ ہو سکے کہ وہ حالات سے تنگ ٓا کر اپنی جان لینے کے درپے تھا۔۔۔اسی طرح جس دریا اپسالہ میں اس کی لاش پائی گئی ہے وہ بھی کوئی اس طرح کا پاکستانی دریا نہیں ہے۔۔۔یہ شہری حدود میں بہنے والا ایک چھوٹا سا دریا ہے اور اس میں ڈوب جانے والا امکان بھی بہت کم ہے۔۔۔اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ ساجد حسین کے کمرے سے اس کا پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات بھی غائب ہیں۔۔۔اب ٓاپ خود سوچیں کہ اگر کوئی شخص خود کشی کا فیصلہ کرے گا تو وہ اپنا پاسپورٹ اور دیگر کاغذات کیوں ساتھ لے کر جائے گا۔


بہر حال ابھی ہم سب کو پولیس کی تحقیقات کا انتظار کرنا ہوگا لیکن اس بد قسمت فیملی کے لئے یہ انتظار ختم ہو چکا ہے۔۔۔ جو پچھلے دو ماہ سے اپنے پیارے کی خیریت کے لئے دعائیں مانگ رہے تھے۔۔۔ساجد حسین کی ماں بھی بے ٓاسرا ہو گئی ہے۔۔۔۔اس کی شریک حیات بھی اس دنیا میں تنہا رہ گئی ہے اور اس کے بچوں کے سر سے بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باپ کا شفقت بھرا ہاتھ اٹھ گیا ہے۔۔۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ کائنات کا خالق یہ سب دیکھ رہا ہے ساجد حسین کا خون رائگاں نہیں جائے گا۔۔۔اس نے اپنی دھرتی کے لئے جو قربانی دی ہے وہ جلد ہی رنگ لائے گی ۔

ابھی ابھی مجھے ایک اور افسوسناک خبر ملی ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شاہ داد بلوچ کو بھی غداری کا فتوی لگا کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔۔۔یہ نوجوان قائد اعظم یونیورسٹی میں پڑھتا رہا ہے۔۔۔اور جن صاحب نے اس کی شہادت کی خبر دی ہے ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی دور میں بھی یہ نوجوان اپنے صوبے کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی بات کرتا تھا اور ان دنوں بھی ایسی ہی گستاخانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا۔

ایسی ہی ایک افسوسناک خبر وزیرستان سے بھی ٓائی ہے۔۔۔پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور قومی اسمبلی کے رکن علی وزیر کے عزیز عارف وزیر کو ان نامعلوم افراد نے رمضان کے مہینے میں شہید کر دیا ہے جن نامعلوم افراد سے پاکستان کی ریاست کے علاوہ پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہے۔۔۔علی وزیر کے خاندان پر یہ ظلم و ستم تسلسل سے جاری ہے۔۔۔اب تک اس خاندان کے اٹھارہ افراد شہید کئے جا چکے ہیں لیکن ریاست کو اس بات کی توفیق نہیں ہوئی کہ اس خاندان کو کسی قسم کاتحفظ فراہم کرے۔۔۔عارف وزیر کو شہید کرنے کے بعد پاکستان کے کسی ادارے اور میڈیا نے اس قتل کی خبرپر تبصرہ نہیں کیا اور نہ ہی سرکاری سرپرستی میں سیاست کرنے والوں نے اس مظلوم خاندان سے تعزیت کی ہے۔۔۔الٹا سوشل میڈیا پر نے اس قتل کے حوالے سے ایک شرمناک پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اور لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ قتل بھی اسی سرکاری تھیوری کا نتیجہ ہے جسے لڑکی کے بھائی والی تھیوری کے نام سے جانا جاتا ہے۔

عارف وزیر کی شہادت بھی ساجد حسین کی طرح اپنی قوم کے لئے بہت بڑی قربانی ہے۔۔۔اس وزیر خاندان نے پختون قوم کے لئے اب تک اٹھارہ جانوں کی قربانی دی ہے۔۔۔اس کے علاوہ ان کی جائیدادیں اور کاروبار بھی محکمہ زراعت کی کھاد سے پھولنے پھلنے والے دہشت گردوں نے تباہ کر دئیے ہیں لیکن وزیر خاندان اور پی ٹی ایم کے لوگوں کے حوصلے ابھی بھی بلند ہیں۔۔۔عارف وزیر کے جنازے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت بتا رہی ہے کہ اس علاقے کے لوگ ان دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں سے خوف زدہ نہیں ہیں اور وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور اپنے حقوق لے کر ہی دم لیں گے۔


آخر میں ٓاپ سب سے گزارش ہے کہ پاکستان کو قبرستان بنانے والوں سے خوف زدہ ہونا چھوڑ دیں ورنہ اس ملک میں صرف ان کی ہاوسنگ کالونیاں رہیں گی یا پھر ٓاپ کے قبرستان۔۔۔خاص کر پنجاب کے لوگوں کو چاہئے کہ یہ جو ان کے بلوچ اور پختون بھائیوں کے ساتھ دہشت گردی کی جا رہی ہے۔۔۔اس پر ٓاواز اٹھائیں۔۔۔اگر ٓاپ لوگ تماشا دیکھتے رہیں گے اور محکمہ زراعت کی ان سنڈیوں کو تلف کرنے میں دوسرے صوبوں کا ساتھ نہیں دیں گے تو یہ سنڈیاں اگلے موسم میں ٓاپ کے کھیتوں پر بھی حملہ ٓاور ہوں گی۔۔۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ انہیں روکنے کا بندوبست کریں اور چھوٹے صوبوں کا حال اور اپنا مستقبل محفوظ کر لیں۔

1,451 views