Search

باجوہ راج اور پاکستان۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔28/04/2020



میرا ایک دوست خونی اور سماجی رشتہ داروں کی وضاحت کرتے ہوئے بہت پر مزاح مثالیں دیا کرتا ہے۔۔۔پچھلے دنوں اس نے بیوی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کی مثال پاکستان کے ٓارمی چیف جیسی ہوتی ہے جسے وزیر اعظم اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے منتخب کرتا ہے اور پھر یہی چیف اس کی ناک میں دم کر دیتا ہے اور ٓاخر میں اسے پھانسی گھاٹ یا اٹک کے قلعے کی یاترا کروا کر دم لیتا ہے۔


میرے دوست کا کہنا ہے کہ مسکین اور تابعدار نظر ٓانے والی بھیڑ نکاح والا حلفِ وفاداری لینے کے بعد بہت جلد بھیڑئیے کا روپ دھار لیتی ہے اور پھر بچوں کے جوان ہونے تک ٓادم خور شیرنی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔۔۔میں نے اس سے جب دلیل مانگی کہ بیوی اور ٓارمی چیف کا ٓاپس میں کیا تعلق ہے تو اس نے مجھے جنرل ضیا الحق کی وہ تصاویر دکھائیں جن میں وہ زوالفقار علی بھٹو کے سامنے اس پوزیشن میں ہیں جسے مذہبی اصطلاع میں رکوع میں جانا کہتے ہیں۔۔۔اور پھر کہا کہ اسی ضیا الحق کو جب چیف ٓارمی اسٹاف بنایا گیا تو اس نے اپنے محسن کے ساتھ اسی قسم کا سلوک کیا جس طرح کا نواز شریف کے ساتھ پرویز مشرف اور جنرل باجوہ نے کیا۔۔۔ان دونوں نے نواز شریف سے ٓاوٹ ٓاف ٹرن پروموشن بھی لی اور پھر اپنے ہی چیف سلیکٹر کو اقتدار سے بے دخل کر دیا۔

ٓاج بھی میرے اس دوست نے مجھے فون کیا اور کہا کہ پاکستان کے جرنیل زات برادری کا خیال بھی اسی طرح رکھتے ہیں جس طرح پنجابی میں کہا جاتا ہے کہ مجھاں مجھاں دیاں بھیناں ہوندیاں نیں۔۔۔میں نے اس سے پوچھا کہ یہ بات وہ کس حوالے سے کر رہا ہے تو اس نے مجھے بتایا کہ جنرل باجوہ نے اپنے ایک ریٹائرڈ جرنیل جس کا تعلق بھی باجوہ برادری سے ہے اس پر خصوصی مہربانیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اسے پاکستانی کی جرنیلی حکومت میں فوجی کوٹے پر مشیر اطلاعات لگوا دیا ہے۔

مزید تفصیل بتاتے ہوئے میرے دوست نے بتایا کہ پہلے تو اس جرنیل عاصم باجوہ کو فوج س ےریٹائر ہوتے ہی سی پیک کا کمانڈنگ افسر بنا دیا گیا تھا اور ماہانہ تنخواہ بھی اتنی مقرر کر دی گئی جتنی یہ فوج میں سالانہ لیا کرتا تھا۔۔۔لیکن اس جرنیل کو بھی چونکہ میڈیا میں رہنے کا چسکا پڑا ہوا ہے ۔۔۔۔اس لئے اس کا چینیوں کے ساتھ اتنا دل نہیں لگا اس لئے اس نے بے چینی دور کرنے کے لئے اپنے باجوائی کنکشن کو استعمال کرتے ہوئے اپنی کرسی وزارتَ اطلاعات میں لگوا لی ہے اور ایک بڑا ظلم یہ کیا ہے کہ فوجی کوٹے پر ہی مشیر اطلاعات کا کام کرنے والی فردوس عاشق اعوان کو بے روزگار کر دیا ہے۔


میں نے اپنے دوست سے کہا کہ یہ تو واقعی زیادتی ہے ۔۔۔اور فردوس عاشق اعوان جیسے وفادار فوجی ملازم کے پیٹ پر لات مارنا مناسب نہیں لیکن فردوس عاشق اعوان بھی چونکہ کسی اور موٹے پیٹ والے چوہدری کے پیٹ پر لات مار کر اس کرسی پر بیٹھی تھی اس لئے یہ مکافات عمل ہے ۔۔۔میرے دوست نے مجھے ٹوکتے ہوئے کہا کہ عاصم باجوہ نے مشیر اطلاعات والی نوکری لی ہے لیکن فردوس عاشق اعوان کے پیٹ پر لات نہیں ماری۔۔۔اگر وہ ایسا کرتا تو اس جرنیل کی لات کھا کر فردوس عاشق اعوان شدید زخمی ہو کر ٓارمی کے کسی ہسپتال میں مرہم پٹی کروا رہی ہوتی ۔

میں نے اپنے دوست کی سادہ لوحی پر ہنستے ہوئے اپنے دوست سے کہا کہ میرے کہنےکا یہ مقصد نہیں ہے کہ واقعی اس کے پیٹ پر لات ماری گئی ہے۔۔۔یہ تو میں نے بھی تمہاری طرح اپنی بات کو واضح کرنے کے لئے ایک محاورہ استعمال کیا ہے۔۔۔لیکن جہاں تک اس چلتے پھرتے بیوٹی پارلر کو نوکری سے نکالے جانے کی بات ہے وہ تو مجھے لگتا ہے کہ اس لمبی فوجی زبان والی کامیڈین کو اس مظلوم عورت کی بددعا لگ گئی ہے جس کی غربت کا اس نے مزاق اڑایا تھا اور اس کے ٓاٹھ بچوں کی طرف جگت مارتے ہوئے کہا تھا کہ شوہر بچے پیدا کرنے کے علاوہ کیا کام کرتا ہے۔

اپنے دوست سے فون پر بات کرنے کے بعد میں نے اخبار دیکھا اور اس میں جنرل عاصم باجوہ کی نئی پوسٹنگ کی خبر پڑھی اور ساتھ ہی یہ بھی پتہ چلا کہ ترقی پسند شاعر اور جرنیلوں کوپیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں کہنے والے اور محاصرہ جیسی نظمیں لکھنے والے شاعر کے بیٹے شبلی فراز کو بھی اس جرنیلی حکومت میں وزیر اطلاعات بنا دیا گیا ہے۔۔۔ شبلی فراز کو دیکھ کر اکثر مجھے مرحوم خاقان خاور کا شعر یاد ٓا جاتا ہے

اولاد اس کی دیکھ کر یہ سوچتا ہوں میں

کیوں نیکیوں کے پیڑ پہ کڑوے ثمر لگے

شبلی فراز کو ایک اچھی وزارت دی گئی ہے لیکن اس میں جنرل عاصم باجوہ والی جو مینگنی ڈال دی گئی ہے اس کی وجہ سے مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ احمد فراز کا برخوردار بھی ایسا ہی وزیر اطلاعات ہو گا جس برانڈ کا اس کا باس عمران نیازی ملک کا وزیر اعظم ہے۔

جنرل عاصم باجوہ ٓائی ایس پی ٓار کا کمانڈر رہ چکا ہے اور پاکستان کی اصلی وزارت اطلاعات جس کی کوئی اور برانچ نہیں ہے اس پر ٹوئٹر والے جرنیل سے پہلے اسی کی حکومت تھی۔۔۔جرنیلی میڈیا میں کام کرنے والے سارے مجاہدین اس کے قریب رہ چکے ہیں اس لئے اس نئی نوکری کے بعد اس کے لئے جرنیلی ایجنڈے پر کام کرنا بہت ٓاسان رہے گا۔۔۔ اور سب سے بڑا ہتھیار اس کے پاس یہ ہے کہ اس کے نام کے ساتھ باجوہ والی ایکسٹینشن لگی ہوئی ہے۔۔ان دنوں جو نیا جرنیل ٓائی ایس پی ٓار کی کمانڈ کر رہا ہے وہ تو اپنے کام میں ٹوئٹر والے جرنیل اور عاصم باجوہ کی طرح دلچسپی نہیں لیتا اس لئے اب ٓائی ایس پی ٓار بھی کسی حد تک وہ جرنیل کنٹرول کرے گا جس کا نام ہے جنرل عاصم باجوہ اور اسے یہ نوکری اس باجوے نے دی ہے جو کہ پاکستان کا بلا شرکت غیرے مالک ہے اور اس کے بارے میں کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے

کوئی تو ہے جو نظامِ ملکی چلا رہا ہے۔۔۔وہ باجوہ ہے

دکھائی بھی جو نہ دے ،نظر بھی جو ٓا رہا ہے۔۔۔ وہ باجوہ ہے


جاتےجاتے ان تمام حکومتی عہدے داروں سے جو فردوس عاشق اعوان کے انجام سے ڈر گئے ہیں ان کے لئے ایک تجویز ہے کہ وہ سارے اپنے ناموں کے ساتھ باجوہ والی ایکسٹینشن لگا لیں ۔۔۔اس ہیلمٹ کو پہننے کے بعد وہ نہ صرف اپوزیشن کے ہر وار سے محفوظ ہو جائیں گے بلکہ کوئی ریٹائر یا حاضر ڈیوٹی جرنیل بھی ان کی کرسی کی طرف ٓانکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔۔۔۔فوجی زبان میں یوں کہہ لیں مارچ نہیں کرے گا۔

میں یہ تجویز اپنے زاتی مشاہدے کی بنیاد پر دے رہا ہوں۔۔۔پاکستان کے ایک بڑے بنک میں جب ایک صدیقی نام کا صدر لگایا گیا تو پھر اس بنک میں پروموشن لینے کے لئے بہت سارے افسران نے اپنے ناموں کے ساتھ صدیقی والی ایکسٹینشن لگا لی تھی اور ساتھ ہی سیالکوٹ کے قریب واقع ایک مزار پر اپنی بطور مرید رجسٹریشن بھی کروا لی تھی ۔۔۔وجہ اس کی یہ تھی کہ صدیقی صاحب اس مزار کے عقیدتمند تھے اور اکثر جمعرات کو روحانی فیض پانے کے لئے مزار پر حاضری دیا کرتے تھے۔۔۔ صدیقی صاحب کے اس پیری مریدی والے سلسلے سے اس بنک کے ملازمین نے بہت فائدہ اٹھایا۔۔۔خاص کر ان ملازمین نے جو کہ اس ٓاستانے کے مرید ہونے کے علاوہ صدیقی والی ایکسٹینشن بھی استعمال کر رہے تھے۔


اب چونکہ پاکستان کا نظام بھی بنک والے صدیقی صاحب کے انداز میں چل رہا ہے اور اس میں باجوے ادھر ڈوبے ادھر نکلے والے انداز میں ڈبکیاں لگا رہے ہیں اور اس باجوائی نظام کے پاس ابھی کم از کم تین سال ہیں ۔۔۔اس لئے اس باجوائی پاکستان پر باجوہ راج کے دوران وہی زیادہ پھلیں پھولیں گے جن کے نام کے ساتھ باجوہ لگا ہو گا۔

کرتار پور والے کاریڈور کی مثال بھی ٓاپ کے سامنے ہے کہ جنرل باجوہ نے زاتی دلچسپی اور قومی سرمایہ لگا کر اسے تیز رفتاری سے اسی لئے مکمل کیا کہ اس کاریڈور سے اس سکھ قوم کو بہت فائدہ ہو گا جس کی ایک زات باجوہ بھی ہوتی ہے۔

میں یہ بات اس لئے وثوق سے کہہ رہا ہوں کیونکہ جنرل باجوہ پنجابی بولتا ہے ۔۔۔وہی پنجابی جس میں کہتے ہیں مجھاں مجھاں دیا بھیناں ہوندیاں نیں اور ٓاپ اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں۔۔۔ باجوے باجویاں دے بھرا ہوندے نیں

874 views