Search

آل پارٹیز کانفرنس یا جرنیل مکاو اتحاد۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔21/09/2020


دو روز سے آپ لوگوں کی طرف سے پیغامات آ رہے ہیں کہ اپوزیشن کی اے پی سی کے حوالے سے میں بھی اپنی رائے آپ کے ساتھ شئیر کروں۔۔۔اس اے پی سی میں کیا باتیں ہوئیں۔۔۔آصف علی زرداری نے مریم نواز شریف اور نواز شریف کے لئے کیا خیر کے کلمات ادا کئے۔۔۔نواز شریف نے اپنی تقریر میں باجوہ اینڈ سنز کا کچا چٹھا کس طرح کھول کر رکھ دیا۔۔۔مولانا فضل الرحمان نے شکوے سے تقریر کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن اور جرنیلی حکومت دونوں کے کان کس طرح کھولے۔۔۔یہ سب تو آپ سوشل میڈیا کی بدولت اچھی طرح جان چکے ہیں۔


حیرت کی بات یہ ہے کہ جرنیلی میڈیا نے بھی اس جرنیل مکاو اتحاد سے میاں نواز شریف کے خطاب کو نشر کیا حالانکہ عمران نیازی اور اس کے چیلوں کی طرف سے تقریر نشر نہ کرنے کی ہدایات بھی جاری ہو چکی تھیں اور اعلانیہ دھمکیاں بھی میڈیا پر نشر ہو چکی تھیں لیکن اس کے باوجود چینلز نے میاں نواز شریف کی تقریر کو نشر کر دیا۔



یہ نکتہ بہت قابلِ غور ہے کہ جرنیلی چینلز نے ایسا کیوں کیا ۔۔۔ووٹ کو عزت دو والی تقریر میں بوٹ والوں کی چھترول کرتے ہوئے نواز شریف نے کھل کرجو کچھ کہا اسی میں اس کا جواب بھی پوشیدہ ہے۔۔۔نواز شریف نے سب سے اہم بات یہ بتائی کہ پاکستان میں ہر سیاسی حکومت کے دور میں محکمہ زراعت کی ایک متوازی حکومت بھی موجود ہوتی ہے۔۔۔ اس کے وزیر اپنی وردی کی وجہ سےبہت بااختیار ہوتے ہیں۔۔۔محکمہ زراعت کے یہ سارے کارندے پردے کے پیچھے رہ کر، چھپ چھپا کر حکومت چلاتے ہیں۔۔۔اسے لئے انہیں خلائی مخلوق کا نام بھی دیا جاتا ہے ۔۔۔ ہر سیاسی دور میں اصلی حکومت انہی کے پاس ہوتی ہے۔۔۔اسی خلائی مخلوق کی حکومت کے بارے میں نواز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ پہلے یہ ریاست کے اندر ریاست ہوا کرتی تھی لیکن ان دنوں یہ state above the state ہے یعنی پاکستان کی ریاست اب اس کے ماتحت کام کر رہی ہے ۔۔۔ پنجابی میں یوں کہہ لیں کہ حکومت جرنیلاں دے تھلے لگی ہوئی اے۔

اسی تھلے لگی ہوئی ریاست جس کا کپتان عمران نیازی ہے اس نے نواز شریف کی تقریر کو روکنے کی پوری کوشش کی۔۔۔لیکن ان کو تھلے لگانے والوں نے اپنی جرنیلی عزت کو سوشل میڈیا پر مکمل طور پر تار تار ہونے سے بچانے کے لئے یہ فیصلہ کیا کہ بہتر ہے کہ نواز شریف کی تقریر کو جرنیلی میڈیا پر دکھایا جائے۔

اس فیصلے کے پیچھے ان کا مقصد کوئی نواز شریف کی پروموشن نہیں دی تھی اور نہ ہی اس کی سیاسی ریٹنگ کو بڑھانے کے لئے انہوں نےیہ کام کیا ہے۔۔۔اس خلائی مخلوق کو اچھی طرح پتہ تھا کہ ٹی وی چینلز پر اس تقریر کو نشر نہ کرنے سے انہیں زیادہ نقصان ہو گا اور نواز شریف کی کہی ہوئی ہر بات سوشل میڈیا کی وساطت سے فوری طور پر جہاں پاکستان کے گھر گھر میں جرنیلی کرتوتوں کی تشہیر کرے گی وہیں دنیا بھر میں بھی ان کے لئے رسوائی کا باعث بنے گی۔


پاکستان سے باہر تو چونکہ ان کا جرنیلی ڈنڈا اثر نہیں دکھاتا اس لئے انہوں نے یہ کڑوا گھونٹ پیتے ہوئے یہ طے کیا کہ جرنیلی میڈیا پر اس تقریر کو ضرور نشر کیا جائے اور عمران نیازی کی فرمائش کو نظر انداز کر دیا جائے۔۔۔نواز شریف کو تقریر کو جرنیلی میڈیا پر نشر کرنے سے انہوں نے سوشل میڈیا والی بہت ساری ٹریفک ٹی وی اسکرینوں کی طرف منتقل کر لی۔

اس ہتھکنڈے سے انہیں یہ آسانی ہو گئی کہ یہ اپنی مرضی سے نواز شریف کی تقریر کو روک سکتے تھے۔۔۔اور پھر آپ سب نے دیکھ بھی لیا کہ جب نواز شریف نے نام لے کر نکے باجوے کا زکر کیا تو ٹی وی چینلز نے ان کی آواز بند کر دی اور ان کروڑوں لوگوں کو تقریر کے دوران یہ پتہ نہ چل سکا کہ نواز شریف اس وقت پیزے والے جرنیل عاصم باجوہ کا تاریخ بتا رہے ہیں کہ کس طرح اس نے بلوچستان میں ایک سیاسی حکومت گرائی اور ساتھ ساتھ اس کے ٹبر کے غیر ملکی اثاثوں کا بھی زکر کر رہے ہیں اور اس باجوائی جرنیل سے رسیدیں بھی مانگ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کی مدد سے یہ سنسر شدہ باتیں بھی اب گھر گھر پہنچ گئی ہیں لیکن خلائی مخلوق نے وقتی طور پر تو اپنا ہدف حاصل کر لیا اور اپنے ایک سابقہ جرنیل کی لائیو بے عزتی کو نشر ہونے سے روک دیا۔

عمران نیازی اور اس کے درباری اس جرنیلی اجازت نامے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ جس طرح کورونا میں عمران نیازی کے انکار کے باوجود اشرافیہ نے لاک ڈاون کر دیا تھا ۔۔۔اسی طرح اس بار بھی اس اشرافیہ نے اپنی فوجی حکمتِ عملی کے مطابق نواز شریف کی تقریر کو اپنی نگرانی میں جرنیلی میڈیا پر نشر کروایا ہے۔



نواز شریف نے اپنی تقریر میں نوجوانوں کی مخا طب کرنے ہوئے پاکستان کو لاحق جرنیلی بیماری کا زکر بھی کر دیا ہے۔۔۔اس کی وجوہات کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات بھی بتا دئے ہیں اور اس کا علاج بھی تجویز کر دیا ہے۔۔۔ عاصم باجوہ اور اس کے ساتھیوں کے کارنامے بتانے کے ساتھ ساتھ حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ جاری کرنے کا مطالبہ بھی نواز شریف نے اسی لئے کیاہے کہ اُس دور کے باجوائی جرنیلوں کے سارے کرتوت بھی عوام تک پہنچ جائیں۔

میری زاتی رائے میں اس کانفرنس میں نواز شریف کی تقریر کے بعد سب سے اہم تقریر مولانا فضل الرحمن کی تھی۔۔۔بلاول بھٹو کا کردار بھی بہت اہم ہے۔۔۔اس نے اپوزیشن کے بعض لیڈروں کی طرف سے تاخیری حربوں کے استعمال کے باوجود اس بہت ہی اہم مشن کو مکمل کیا اور بڑی جماعتوں کی اصلی قیادت کو اکٹھے ہونے کا موقع فراہم کیا۔۔۔مریم نواز شریف کی شمولیت اور اس کی تقریر نے ن لیگ کے ان پہلوانوں کے داو پیچ کو بے اثر کر دیا جو کہ ایک عرصے سے عمران نیازی اور جنرل باجوہ کے ساتھ نورا کشتی میں مصروف ہیں۔


مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ایک زیادتی دونوں بڑی جماعتوں کی طرف سے ہوئی لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا گیا ۔۔۔اس نادانستہ زیادتی کی وجہ صرف یہ تھی کہ دونوں جماعتوں کا سوشل میڈیا عملی طور پر کنٹرول کرنے والے زیادہ تر صرف آئی ٹی کے ماہر ہیں۔۔۔انہیں سیاسی جوڑ توڑ اور سیاسی اونچ نیچ کا زیادہ علم نہیں ہے۔۔۔انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ مولانا کی تقریر نشر نہ کر کے اے پی سی کو کتنے بڑے خطرے میں ڈال رہے ہیں۔۔۔لیکن یہ مولانا کی اعلی ظرفی ہے کہ انہوں نے محض روایتی شکوہ شکایت کر کے اپنی تقریر جاری رکھی۔


مولانا فضل الرحمٰن نے 26 نکات پر مشتمل اعلامیہ پڑھا جس کے مطابق اپوزیشن اس ربر اسٹمپ پارلیمنٹ سے مزید تعاون نہیں کریگی۔ اپوزیشن نے حکومت کو دس دن کاالٹی میٹم دیتے ہوئے اکتوبرسے تحریک، جنوری میں لانگ مارچ اوردھرنے کااعلان کیا ہے.

مناسب وقت پر پارلیمنٹ سے تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) قائم کردیا۔اپوزیشن نے وزیراعظم سے فوری استعفیٰ دینے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے،حزب اختلاف نے انتخابی اصلاحات کا نیاقانون بنانے، سیاسی قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے اس اے پی سی سے پہلے بھی اس بات پر اصرار کیا تھا کہ فوری طور پر استعفی دئے جائیں۔۔یہی بات مولانا نے انتخابات کے فورا بعد بھی کہی تھی اور کل والی اے پی سی میں بھی انہوں نے یہی بات دہرائی لیکن حکومت کی چسکوری جماعتوں کو استعفے دینا بہت مشکل لگتا ہے۔۔ دو سال پہلے بھی انہوں نے مولانا کی اس تجویز کو نہیں مانا تھا اور اب اے پی سی میں بھی یہی کام کیا ہے ۔



مولانا کی استعفوں والی اہم تجویز کو اے پی سی کے اعلامیے میں شامل تو کر لیا گیا ہےلیکن یہ محض خانہ پری لگتی ہے۔۔۔میری زاتی رائے میں تو دس دن کا الٹی میٹم جو کہ تحریک چلانے کے حوالےسے دیا گیا ہے اس میں یہ بھی شامل ہونا چاہئے تھا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں استعفے دئے جائیں گے اور تحریک کا آغاز کر دیا جائے گا۔۔۔ لانگ مارچ کے لئے جو جنوری تک کی مہلت دی گئی ہے وہ بھی ضرورت سے زیادہ ہے۔۔۔اس لانگ مارچ کے لئے مولانا کے پاس سارے تنظیمی وسائل موجود ہیں۔۔۔اور اگر یہ دونوں بڑی جماعتیں اس بار دل و جان سے ان کے ساتھ ہیں تو مولانا یہ بھاری پتھر ایک بار پھر بڑی آسانی سے اٹھا سکتے ہیں لیکن مولانا کے علاوہ شاید کسی اور جماعت کو عمران نیازی کو گھر بھیجنے کی اتنی جلدی نہیں ہے۔۔۔ان جرنیلی سیاستدانوں کا خیال ہے کہ تبدیلی کی تحریک اسی وقت چلائی جائے جب اس کا سگنل اے پی سی کی بجائے جی ایچ کیو کی طرف سے آئے۔

بہر حال مولانا فضل الرحمن نے توکافی عرصے سے سیاسی ماحول کو گرما رکھا ہے۔۔۔بڑی سیاسی جماعتوں کی سپورٹ نہ ہونے کے باوجود وہ اکیلے ہی پھنے خان اور اس کے جرنیلی سرپرستوں کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں۔۔۔پھنے خان نے ایک دو بار کوشش کی تھی کہ نیب والا ہتھیار مولانا پر بھی آزما لے لیکن اسے کامیابی نہیں ہوئی ۔۔۔۔اب نواز شریف نے بھی ایک طویل خاموشی کے بعد اپنا شیر کھلا چھوڑ دیا ہے اور اس شیر کی کل والی دہاڑ سے بنی گالہ سےکہیں زیادہ ان لوگوں کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا ہے جو کہ پاکستان کو باجوستان اور ن لیگ کو ش لیگ بنانے کے منصوبے بنا رہے تھے۔۔۔ نواز شریف کی چارج شیٹ کی وجہ سے باجوائی جرنیلوں کی طرف سے میڈیا میں بھی اپنے غیر سیاسی ہونے کی صفائیاں پیش کی جا رہی ہیں۔


آخر میں وہی بات ایک بار پھر دہرا دوں جو کہ میں نے اے پی سی کے انعقاد سے پہلے بھی کہی تھی کہ اس اے پی سی کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن اصل تبدیلی اسی وقت آئے گی جب آپ سب گھروں سے باہر نکلیں گے۔۔۔ اے پی سی والی سیاسی جماعتیں محکمہ زراعت کی جرنیلی سنڈیوں اور ان کی افزائش کرنے والوں کو مکمل طور پر تلف کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب آپ لوگ بھی ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز دیکھنے اور سوشل میڈیا پر جہاد کرنے کی بجائے ۔۔۔سُنڈی مار اسپرے لے کر گھروں سے نکلیں گے۔



1,878 views