Search

ایک کروڑ بھتہ اور عبدالستارایدھی کو دھمکانے والا گینگ ۔ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 17/04/2020

Updated: Apr 17



مرحوم اقبال ساجد بہت ہی کمال کا شاعر تھا اور اس نے نہ صرف شاعری کی خدمت کی بلکہ بہت سارے شاعروں کی بھی بہت خدمت کی اور اسی خدمت کا نتیجہ ہے کہ کچھ لوگ اردو ادب میں اپنا مقام بنانے والی واردات میں کامیاب ہوئے۔۔۔ البتہ اقبال ساجد کو اس شعری خرید و ٖفروخت سے کوئی خاص مالی فائدہ نہیں ہوا اور وہ ساری زندگی اپنی جدید لہجے کی سچی شاعری کی مدد سے غربت سے اور معاشرے سے لڑتا ہی رہا۔۔۔ٓاج مجھے اقبال ساجد کی یاد اس کے ایک شعرکے حوالے سے ٓائی جو میں نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں شیر بھی کیا ہے۔۔۔اس شعر اور اس ٹوئیٹ پر بات کرنے سے پہلے میں اقبال ساجد کا ایک اور شعر سنانا چاہوں گا۔۔۔یہ شعر اس مسکین اور جسمانی طور پر بھی کمزور شاعر نے ضیاع الحق کے کوڑوں والے مارشل لا کے دوران کہا تھا اور یہ شعر عمران نیازی کی زات سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرنے والے ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو ان دنوں عمران نیازی کی طرح رو تو رہے ہیں لیکن ان کے رونے کی ویڈیوز وائرل نہیں ہو رہیں


شعر کچھ یوں ہے

رخِ روشن کا روشن ایک پہلو بھی نہیں نکلا

جسے میں چاند سمجھا تھا وہ جگنو بھی نہیں نکلا


اقبال ساجد نے غزل پی ٹی وی کے مشاعرے میں پڑھی تو ضیا الحق کے وفادار شعرا کو کافی تکلیف ہوئی بالکل اسی طرح کی تکلیف جو ان دنوں عمران نیازی کے چیلوں کو ہوتی تھی جب کوئی اس کے یوٹرنز کی طرف اشارہ کرتا ہے یا اس کے ماضی کےبلند بانگ دعووں کی نشاندہی کرتا ہے۔


بہر کیف اب میں ٓاتا ہوں اس شعر کی طرف جس کا تذکرہ میں نے شروع میں کیا تھا۔۔۔دو روز قبل جب میں نے عبدالستار ایدھی مرحوم کے بیٹے فیصل ایدھی کو عمران نیازی کو ایک کروڑ کا چیک دیتے ہوئے دیکھا تو مجھے بہت کچھ یاد ٓایا جس میں اقبال ساجد کا یہ شعر بھی تھا


پھر ٓاج شعر کی سب سے بڑی حویلی میں

تمام دن کی کمائی فقیر چھوڑ گیا


فیصل ایدھی نے سیاسی ڈبل شاہ کو ایک کروڑ کا چیک دے کر نہ صرف پاکستان کے عوام سے چندے اور خیرات کے طور پر اکٹھی کی ہوئی رقم کا غلط استعمال کیا بلکہ اپنے مرحوم باپ کی روح کو بھی تکلیف دی ہے۔


اس تکلیف کی وضاحت سے پہلے میں ٓاپ سے ایک ویڈیو کلپ شئیر کر رہا ہوں۔۔۔ٓاپ خود ہی دیکھ اور سن لیں کے ستار ایدھی صاحب کے ساتھ اس عمران نیازی اور اس کے سیاسی استاد حمید گل نے کتنا برا سلوک کیا تھا اور کس طرح انہیں دھونس جما کر بےنظیر بھٹو کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔


اب ٓاپ نے ساری تفصیل فیصل ایدھی کے والد کے منہ سے سن لی۔۔۔یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے۔۔۔بلاول بھٹو نے بھی اسے اپنے ایک ٹوئٹ میں اس کا زکر کیا تھا اور عمران نیازی کو ٓائینہ دکھانے کی کوشش کی تھی لیکن عمران نیازی چونکہ جی ایچ کیو کی مٹی سے بنا ہو سیاست دان ہے اس لئے اس پر سیاسی لوگوں کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔۔۔اس کے دماغی سافٹ وئیر میں صرف وہی وائرس گھس سکتا ہے جو کہ جی ایچ کیو والوں نے تیار کیا ہو۔


میری زاتی رائے میں فیصل ایدھی کے علم میں بھی یہ ویڈیو بھی ہو گی اور یقیننا ابا جی نے اپنی چیرٹی اس کے حوالے کرتے ہوئے یہ بات بھی بتائی ہو گی لیکن اس کے باوجود فیصل ایدھی نے ایک کروڑ کی خطیر رقم اس خیراتی گڑھے میں ڈال دی ہے جو کہ پچھلے تیس سال سے بھرنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔۔۔پنجابی محاورے میں ہم اس کو یوں کہہ سکتے ہیں۔۔۔۔ریت تے موترنا


مرحوم ستار ایدھی نے اتنی بڑی چیرٹی اسی لئے بنائی تھی کہ ضرورت کے وقت حکومت کا انتظار کرنے کی بجائے خود میدان میں اتر کر عوام کی مدد کی جائے۔۔۔عمران نیازی کی معاشی بد انتظامیوں اور اب کورونا کے حوالے سے ناقص منصوبہ بندی نے پورے پاکستان میں غربت اور بھوک عام کر دی ہے۔۔۔اس کے چیلے لوگوں کی امداد کرنے کی بجائے امدادی فلمیں بنانے میں اور عمران زندہ باد کے نعرے لگوانے میں مصروف ہیں۔۔۔اس وقت اتنی بڑی رقم ان نالائقوں کے حوالے کرنے کی بجائے فیصل ایدھی کو یہ رقم اپنے نیٹ ورک کی مدد سے لوگوں میں تقسیم کرنی چاہئے تھی۔۔۔اس کے پاس حکومت پاکستان سے بھی بڑا امدادی نیٹ ورک ہے اور اس کے دفاتر پاکستان کے عوام کی دسترس میں بھی ہیں۔۔۔یہی رقم ان برانچز کی مدد سے مستحق لوگوں تک پہنچائی جا سکتی تھی۔۔۔اب اس نے غریبوں سے پیسہ لے کر ایسے گینگ کے حوالے کر دیا ہے جس کا اصول ہے کہ اول خویش بعد درویش۔۔۔اگر ٓاپ کو میری اس بات سے اختلاف ہے تو سلائی مشین سے شہرت اور اربوں روپے کی جائدادیں بنانے والے خان سسٹرز کی طرف دیکھ لیں کہ کس طرح انہوں نے دنیا بھر کے دورے کئے اور خیرات اور صدقہ اکٹھا کیا اور پھر اس سے دنیا بھر میں قیمتی جائدادیں خریدیں۔


فیصل ایدھی کے اس چیک سے عمران نیازی کے مستقل کھلے رہنے والے چندہ بنک کو بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا اور نہ ہی ایدھی مرحوم کے بنائے ہوئے ادارے کا بھلا ہو گا بلکہ اب کراچی کے بھتہ مافیا کو ایک نیا شکار نظر ٓا گیا ہے اور ٓانے والے دنوں میں اسے کراچی میں بھی اسی طرح کی فرمائشیں پوری کرنی پڑیں گی۔۔۔۔سوشل میڈیا پر بہت سارے لوگ فیصل ایدھی کی اس حرکت پر تنقید کر رہے ہیں۔۔۔میرے ایک دانشور دوست جن کا تعلق سیالکوٹ سے ہے ان کا کہنا ہے کہ کچھ دن پہلے انہوں نے ایدھی ٹرسٹ کو زکات کے پیسے دئیے تھے اور ان کا خیال تھا کہ یہ دیانت دارہ ادارہ ہے لیکن انہوں نے تو میرے پیسے بطور بھتہ ادا کر دئیے ہیں۔


اس سارے معاملے کا ایک اور پہلو ایدھی کی ائیر ایمبولینس کا ناجائز استعمال بھی ہے۔۔۔ٹوئٹر پر ایک صاحب نے اس کے بارے میں ایک دستاویز بھی شئیر کی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فیصل ایدھی نے صرف یہ چیک دینے کے لئے اسلام ٓاباد کا سفر ادارےکی ائیر ایمبولینس میں کیا تا کہ خلیفہ جی کے دربار میں زاتی طور پر حاضری دے کر نذرانہ پیش کیا جا سکے۔۔۔اس حوالے سے یہ جواز پیش کیا جا سکتا ہے کہ ان دنوں لاک ڈاون ہے اور کراچی سے اسلام ٓاباد کی پروازیں بھی بند ہیں اس لئے فیصل ایدھی نے اپنے ادارے کی ائیر ایمبولینس استعمال کی لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں ٓا رہی کہ اس اضافی خرچ کی کیا ضرورت تھی۔۔۔چیک کو کسی اور طریقے سے بھی بھیجا سکتا تھا۔۔۔ بہر حال اب اصل بات تو ایدھی صاحب کا برخوردار ہی بتا سکتا ہے جس نے فیصل ایدھی نے اپنے ادارے کی ائیر ایمبولینس کو استعمال کیا اور زاتی طور پر جا کر عمران نیازی کے دربار میں نہ صرف حاضری دی۔۔۔ایک کروڑ کا چیک بھی پیش کیا اور فوٹو شوٹ میں بھی حصہ لیا۔۔۔فیصل ایدھی کی ائیر ایمبولینس کا خرچہ کتنا ہے یہ تو مجھے پتہ نہیں لیکن یہ اس پچپن روپے کلو میٹر والے ہیلی کاپٹر سے کہیں زیادہ ہو گا جس میں عمران نیازی اپنی ٹائیگر فورس کے سب سے پہلے ٹائیگر کے ساتھ سفر کرتا رہا ہے۔


میں نے اپنے ایک دوست سے کراچی میں رابطہ کیا اور اس سے پوچھا کہ فیصل ایدھی کو اسلام ٓاباد جانے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔کیا وہ یہ رقم عمران نیازی کے کسی ایجنٹ کو سندھ کے گورنر ہاوس میں ڈیلیور کرکے ثواب نہیں کما سکتا تھا۔۔۔ایک تو اس نے اپنے ادارے کو ایک کروڑ کا نقصان [ہنچایا اور اوپر سے ائیر ایمبولینس کے پٹرول پر بھی وہ پیسے اڑا دئیے جو اسے غریبوں کی مدد کے لئے دئیے گئے تھے۔۔۔اور اوپر سے اسے اس ساری کاروائی میں یہ نقصان بھی ہوا کہ اس کے ادارے کی شہرت بھی خراب ہو گئی ہے اور اس کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کو ملنے والے چندے میں کروڑوں کی کمی بھی ہو جائے۔


میرے کراچی والے اس باخبر دوست نے کہا کہ اس وقت عمران نیازی کے لئے ایک کروڑ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔۔اس کے پاس تو اربوں دینے والے لوگ موجود ہیں لیکن پرابلم یہ ہے کہ پاکستانی عوام اندرون ملک اور بیرون ملک اب عمران نیازی کی چندہ اپیلوں سے تنگ ٓا چکے ہیں اور انہیں اس کی چندہ مہموں پر زیادہ اعتبار نہیں رہا۔۔۔ان دنوں یہ مسلسل خیرات کی اپیلیں کر رہا ہے ۔۔۔بین القوامی اداروں سے بھی اس نے مدد کی درخواست کی ہے لیکن کوئی بھی اس کے کشکول میں کچھ ڈالنے کے لئے راضی نہیں۔۔۔اب تک اسے جو کچھ بھی ملا ہے وہ انہی لوگوں سے ملا ہے جس کے ساتھ اس کے سیاسی اور کاروباری مفاد جڑے ہوئے ہیں۔


اپنی اس گری ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کے لئے اس نے ایدھی ٹرسٹ سے ایک کروڑ کا عطیہ لیا ہے اور پھر اس کی تصویر بھی دنیا بھر سے شئیر کی ہے تا کہ مرحوم ایدھی کی نیک نامی سے کچھ فائدہ اسے بھی ہو جائے۔۔۔اسی پبلسٹی کمپین کے لئے فیصل ایدھی کو کراچی ہی میں حلال کرنے کی بجائے اسلام ٓاباد بلوایا گیا۔


مجھے تو اپنے دوست کی اس بات میں کافی وزن لگتا ہے کہ یہ امدادی چیک اور اس کے حوالے سے فیصل ایدھی کی اسلام ٓاباد یاترا کا یہی مقصد ہے۔۔۔ٓاپ کی اس حوالے سے کیا رائے ہے مجھے بھی بتائئیں اور فیصل ایدھی کو ٓاگاہ کریں تا کہ اسے بھی پتہ چلے کہ اس نے اپنے مرحوم باپ جسے عمران نیازی کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جانا پڑا تھا اس نے اس کے ساتھ اور اس کے قائم کئے ہوئے ادارے کے ساتھ کتنی بڑی زیادتی کی ہے۔



968 views