Search

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس اور پریشان حال باجوہ اینڈ سنز۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔19/09/2020


بچپن میں ایک لطیفہ سنا کرتے تھے۔۔۔اس وقت تو یہ لطیفہ کم اور سچی کہانی زیادہ لگتا تھا۔۔۔لیکن اب بڑے اور بوڑھے ہو کر اندازہ ہوا ہے کہ یہ لطیفہ بھی اس دور کے ان مزاح نگاروں کی تخلیق تھا جو کہ جرنیلی ایجنڈے پر کام کر کے روزی روٹی کمایا کرتے تھے۔

لطیفہ کچھ یوں تھا۔۔ایک ہندو نے مسلمان کو نیچے گرایا ہوا تھا اور ساتھ ساتھ بلند آواز میں روتا جا رہا تھا۔۔۔پاس سے گزرنے والے ایک بندے نے پوچھا کہ لالہ جی تم نے اسے نیچے گرایا ہوا ہے اور اس کے باوجود تم رو بھی رہے ہو۔۔۔ہندو نے جواب دیا کہ میں نے اسے پیچھے سے دھکا دے کر گرا تو دیا ہے لیکن اب ڈر اس بات کا ہے کہ یہ جب اٹھے گا تو مجھے بہت مارے گا۔


ان دنوں باجوہ اینڈ سنز کا بھی یہی حال ہے۔۔۔دو سال سے انہوں نے لطیفے والے ہندو کے انداز میں رستمِ زمان گاما پہلوان کے عزیز اور پاکستان کی سیاست کے رستم نواز شریف کو گرا رکھا ہے۔۔۔نیب، میڈیا اور عدلیہ کے علاوہ بہت سارے سابقہ جرنیل اور عمران نیازی کے تنخواہ دار زبان دراز پہلوان سارے کے سارے نواز شریف کی چھاتی پر کود رہے ہیں۔۔۔لال حویلی والا شیخ بھی اسی کام کی کھٹی کھا رہا ہے لیکن اس کے باوجود یہ سارے کے سارے ان دنوں لطیفے والے ہندو کردار کی طرح جرنیلی میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں پر پنجابی والا پٹ سیاپا کر رہے ہیں۔۔۔جن لوگوں کو پٹ سیاپا سمجھ نہیں آیا وہ اسے رنڈی رونا کہہ لیں۔۔۔ان سب جرنیلی پٹھوں پر بھی یہی خوف طاری ہے کہہ جب یہ رستمِ پاکستان اٹھے گا تو ان سب کی ہڈی پسلی ایک کر دے گا۔



یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ نواز شریف اس بار بھی اٹھ کر حساب کتاب برابر کرنے کی بجائے پہلے کی طرح پاکستان کی خدمت میں لگ جائے گا یا اس بار وہ پہلےان جرنیلی پٹھوں کی ہڈی پسلی ایک کرے گا ۔۔۔میری زاتی رائے میں تو اس بار نواز شریف کو ان سارے جعلی پہلوانوں کے ساتھ حساب کتاب پورا کرنا چاہئے اور ان کو کسی قسم کا این آر او دے کر چھوڑنا نہیں چاہئے کیوں کہ یہ اس نسل کے سانپ ہیں جن کو آپ جتنا مرضی دودھ پلائیں یہ پھر بھی موقع ملنے پر آپ کو ضرور ڈسیں گے۔


ان جرنیلی پہلوانوں میں کچھ تو اعلانیہ نواز شریف پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں لیکن کچھ اس کی اپنی جماعت کے بھی ہیں جنہوں نے لنگوٹ تو مسلم لیگ ن والا پہنا ہوا ہے لیکن یہ بھی اس ماردھاڑ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نواز شریف کے ساتھ یہی سلوک کر رہے ہیں۔۔۔یہ لوگ نواز شریف کی چھاتی پر تو سوار نہیں ہیں لیکن جب بھی نواز شریف کھڑے ہونے کی کوشش کرتا ہے یہ اس کی ٹانگ کھینچ کر اسے دوبارہ لم لیٹ ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں۔۔۔جرنیلی پہلوانوں کی طرح ان مسلم لیگی پہلوانوں کا بھی صفایا ہونا چاہئے ورنہ یہ چوتھی بار بھی نواز شریف کو ناک آوٹ کرنے میں جی ایچ کیو والوں کی مدد کریں گے۔


خیر میں بات کر رہا تھا اس ہندو کی جس کا رونا پیٹنا مجھے عمران نیازی کے تنخواہ دار نیم امریکی طوطے کی ٹویٹ دیکھ کر ہوا ہے۔۔۔ اس طوطے پر مزید بات کرنے سے پہلے ایک لطیفہ آپ کے ساتھ شئیر کرنا ہے۔

ایک طوطا تھا جو کہ کسی زمانے میں پی ٹی آئی کے دھرنوں میں پیش پیش تھا اور اس اکثر اسٹیج پر بیٹھا رہتا تھا۔۔۔اس عمرانی صحبت کی وجہ سے اس طوطے نے بہت سی گالیاں بھی سیکھ لیں۔۔۔دھرنوں والا شو جب بند ہو گیا تو یہ طوطا اسلام آباد کے ایک درخت پر ڈیرہ ڈال کر بیٹھ گیا۔۔۔ اسے چونکہ گالیاں بکنے کا ٹھرک تھا۔۔۔ اس لئے اپنے استاد کے ہر حریف کو دیکھتے ہی گالیاں بکنی شروع کر دیتا تھا۔۔۔ ٹوئٹر کی زبان میں یوں کہہ لیں کہ ٹویٹ کرتا رہتا تھا۔



شریف لوگ اس طوطے کی عمرانی گالیوں کا جواب دینے کی بجائے سر جھکا کر گزر جایا کرتے تھے۔۔۔ایک روز ایک ایسے ہتھ چھٹ بندے کا گزر ہوا۔۔۔جو شاہد خاقان عباسی کی طرح اینٹ کا جواب پتھر کی بجائے اینٹ مار کر دیتا تھا ۔۔۔اس بندے نے جب طوطے کو گالیاں دیتے ہوئے سنا تو جواب میں اس کے گالیاں سکھانے والے باپ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور ساتھ ہی طوطے کی بھی مرمت کر دی۔

کچھ روز بعد ایک اور بندے کا گزر ہوا۔۔۔اب طوطے کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ سر جھکا کر گزر جانے والا شریف بندہ ہے یا پھر شاہد خاقان عباسی کی طرح چور کے باپ تک پہنچنے والا شخص ہے۔۔۔طوطے نے چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بندے کی طرف دیکھتے ہوئے بس اتنا کہا ۔۔۔سمجھ تے گئے اوہ گے کہ میں تہانوں کی کہناں چاہناں۔


عمران نیازی کا یہ چیلا بھی اسی قسم کا طوطا ہے اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی شاہد خاقان عباسی اس کی مرمت کرے ۔۔۔۔ اس کی مرمت کا وقت بھی یقیننا آئے گا لیکن یہ چونکہ نیم امریکی طوطا ہے۔۔۔اس لئے مرمت پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی پھر کر جائے گا ۔۔۔۔اُس صحافی طوطے کی طرح جسے آپ لوگ حسن نثار کے نام سے جانتے ہیں اور ان دنوں وہ بھی بوریا بسترا پیک کرنے میں مصروف ہے۔

یہ جرنیلی چوری کھانے والا طوطا اس لئے نہیں جا رہا کہ اس کو چوری ملنا بند ہو گئی ہے یا اسے ڈر ہے کہ اس کی مرمت کا ٹائم آ رہا ہے۔۔۔ دراصل اسے اپنے ہی ان طوطوں نے تنگ کر رکھا ہے جنہیں اس نے باپ بن کر پیدا کیا ہے لیکن اب یہ سنگدل باپ اپنی ہی اولاد کو بھوکا رکھ کر ساری کی ساری چوری خود کھا رہا ہے اور اپنے نئے ٹبر والے طوطوں کو کھلا رہا ہے۔۔۔اس ناانصافی پر اسے کے اپنے ہی طوطے جو کہ اس کی پہلے والی طوطی میں سے ہیں وہ بہت ٹیں ٹیں کر رہے ہیں اور ان کی یہ ٹیں ٹین سوشل میڈیا کی وجہ سے گھر گھر میں پہنچ گئی ہے اور اس کے لئے پریشانی اور بدنامی کا باعث بن رہی ہے۔



اسی لئے بہت جلد یہ طوطا آپ کو پاکستان کی بجائے کینیڈا سے ٹیں ٹیں کرتا ہوا سنائی دے گا لیکن اس کی ٹیں ٹیں کینڈا جا کر بھی انہی لوگوں کو خوش کرنے کے لئے ہو گی جن کو خوش کرنے کے لئے میرے مطابق میں ٹیں ٹیں کر اس نے پاکستان کے عوام کا جینا حرام کر رکھا ہے۔

لطیفے بازی کافی ہو گئی ہے ۔۔۔اب بات کر لیتے ہیں اس اے پی سی یعنی آل پارٹی کانفرنس کی جس کی وجہ سے جرنیلی طوطے ہر طرف ٹیں ٹیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

پھنے خان اور اس کے چیلوں کی طرف سے ٹی وی چینلز کو ہدایات جاری ہو چکی ہیں کہ اس اے پی سی کو دکھانے کی بجائے جرنیلی بوٹ کی نمائش جاری رہے۔۔۔سوشل میڈیا پر یہ کانفرنس پوری دنیا میں دیکھی جائے گی۔۔۔مریم نواز شریف نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ اس بات کا اہتمام کیا جا رہا ہے کہ نواز شریف کی تقریر کو لندن سے سوشل میڈیا پر براہ راست نشر کیا جائے۔۔۔یہ بھی ایک اچھی حکمتِ عملی ہے۔۔۔کیونکہ باجوہ اینڈ سنز کی پوری کوشش ہو گی کہ اس کانفرنس کی تفصیلات عوام تک نہ پہنچیں اور ساتھ ہی کچھ ایسی فنی خرابی پیدا کی جائے کہ نواز شریف کی تقریر نہ تو اس تقریب کے شرکا تک پہنچے اور نہ ہی گھروں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو اس کا خیر خبر ملے۔۔۔یہ فنی خرابی پیدا کرنا ان کے لئے بہت آسان ہے جو کہ کسی بھی واردات سے پہلے اس علاقے میں لگے ہوئے سی سی ٹی وی کیمرے خراب کر دیتے ہیں۔


بلاول بھٹو نے آصف علی زرداری کے خطاب کی بھی تصدیق کر دی ہے اور یہ خطاب بھی ویڈیو لنک پر ہو گا۔۔۔اور امید کی جا سکتی ہے کہ اس بار اینٹ سے اینٹ بجانے والی بات کو دہرایا بھی جائے گا اور اس کے لئے مل جل کر عملی جدوجہد بھی شروع کی جائے گی۔

اس اے پی سی سے ایسا تو ہر گز نہیں ہو گا کہ عمران نیازی کا شو فوری طور پر ختم ہو جائے۔۔۔لیکن اس اے پی سی سے ممکن ہے کہ نکے کا ابا ایک بار پھر ان بھولے بسرے وعدوں کو یاد کرنے پر مجبور ہو جائے جو اس نے آزادی مارچ کے موقع پر گجراتی طوطوں کی وساطت سے مولانا فضل الرحمان سے کئے تھے۔


پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ایک بار پھر دوستی ہورہی ہے لیکن اس بار مولانا کو اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ ان کی تنظیمی طاقت کو استعمال کرنے کے بعد بھی ان تینوں کی دوستی برقرار رہے اور یہ اتحاد صرف نکے کو گرانے تک محدود نہ رہے بلکہ نکے کے ابے اور اس کے جرنیلی رشتہ داروں کو جی ایچ کیو تک محدود کرنے تک یہ رشتہ داری برقرار رہنی چاہئے۔۔۔ایک بار سیاست ان جرنیلی پہلوانوں سے پاک صاف ہو گئی تو پھر یہ جماعتیں اپنے اپنے سیاسی منشور کو لے کر عوام کے سامنے جا سکتی ہیں اور فوجی مداخلت سے پاک انتخابات میں عوامی مینڈیٹ حاصل کر کے پاکستان اور پاکستان کے عوام کی خدمت کر سکتی ہیں ۔




1,247 views