Search

ٓاٹے کے بحران سے کپتان کی سیاست کو کیا فائدہ ہو گا؟ کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد 20/01/2020



ٓاج کھریاں کھریاں میں بات کریں گے اس ٓاٹے کی جس کی ان چھاونیوں میں کوئی قلت نہیں جہاں پر ٓاٹا کھانے والوں کو ٓاٹا اب بھی فوجی نرخوں پر گھروں میں ڈیلیور کیا جاتا ہے لیکن یہی ٓاٹا ان علاقوں میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہا جن علاقوں میں رہنے والوں کے پاس اسے خریدنے کے لئے پیسے بھی نہیں ہیں۔

عمران نیازی کے سونامی نے پاکستان میں ہر طرح کی تباہی کرنے کے بعد اب ٓاٹے کے طوفان کو بھی جنم دے دیا ہے۔۔۔اخباری اطلاعات کے مطابق تو لگتا ہے کہ لوگ اس ٓاٹے کی قلت وجہ سے بہت پریشان ہیں اور ان میں چند ایسے لوگ بھی شامل ہیں جنہیں عمران نیازی کی تبدیلی کا گردن توڑ بخار بھی تھا۔۔۔میری زاتی رائے میں تو ان لوگوں کو پریشان نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ ان کے خلیفہ جی نے پاکستان میں اس وقت لنگر خانوں کا جال بچھایا ہوا ہے۔۔۔انہیں چاہئے کہ گلے میں تحریک انصاف کا دوپٹہ لے کر اور ہاتھ میں عمران نیازی کی تصویر پر شاپر پکڑ کران لنگر خانوں میں اس طرح لائنوں میں لگ جائیں جس طرح ان کا ایک لیڈر لوگوں کے بلو کے گھر جانے کے لئے لائنوں میں لگنے کے مشورے دیتا رہا ہے۔۔۔ٓاٹے کی یہ قلت عمران نیازی نے بڑی پلاننگ کے ساتھ کی ہے اور اس کا ہدف صرف وہ غریب لوگ ہیں جو عمران نیازی کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔

اس نے اقتدار میں ٓانے سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں ان کی چیخیں نکلواوں گا۔۔۔انہیں رلاوں گا۔۔۔ان کا نام و نشان بھی مٹا دوں گا۔۔۔اس شیر مکاو پالیسی کے تحت پہلے اس نے کرپشن کرپشن اور این ٓار او نہیں دوں گا والا ڈرامہ کیا۔۔۔نیب کے چئیرمین کی مدد سے سیاسی مخالفین کو سیاست سے ٓاوٹ کرنے کی کوشش کی اور فوجی میڈیا پر سیاسی مخالفین کی نان اسٹاپ کردار کشی کروائی تا کہ عوام کو اپوزیشن کے لیڈروں کی طرف سے بد ظن کر کے انہیں عمرانی ریاستِ مدینہ کا تابعدار شہری بنایا جائے لیکن جب اس کی یہ کوششیں ناکام ہو گئیں تو اس نے اس باغی عوام کے لئے ایسا منصوبہ تیار کیا جس پر مکمل عمل ہو جانے کے بعد اس جدید ریاست ِ مدینہ میں صرف وہی لوگ باقی بچیں گے جو جنرل باجوہ کے ہاتھ پر بذریعہ عمران نیازی بیعت کر لیں گے۔

بجلی ، گیس ، پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ روپے کی ویلیو میں کمی والے سارے ہتھیار اسی عوام مکاو منصوبے کا حصہ ہیں۔۔۔غریب عوام کے استعمال کی کھانے پینے کی ساری چیزیں بھی اسی لئے ایک ایک کر کے مہنگی کی گئی ہیں تا کہ باغی عوام فاقہ کشی کا شکار ہو کر ا ن قبروں کی طرف ہجرت کر جائے جس کے بارے میں اس دو نمبر خلیفہ نے فرمان جاری کر رکھا ہے کہ وہاں بہت سکون ہے اور راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔

کل میں نے اپنے ایک دوست سے جو کہ اب بھی تبدیلی والے گردن توڑ بخار میں مبتلا ہے یہ پوچھا کہ تمہارے لیڈر نے پاکستان کی بہتری کی طرف لے جانے کی بجائے اسے تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے۔۔۔اب تو اس کی جہالت اور ناکامی کا اعتراف کر لو اور اس کی حمایت سے باز ٓا جاو لیکن میرے اس یوتھئے دوست نے میری بات سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ میرا کپتان لمبی اننگ کھیلنے والوں میں سے ہے اور وہ پاکستان کی بہتری کے لئےبھی ایسے ہی لانگ ٹرم منصوبے بنا رہا ہے۔۔۔ابھی لوگوں کو اس کے ویژن کی سمجھ نہیں ٓا رہی۔

میں نے پوچھا کہ اچھا چلو یہ بتا دو کہ ٓاٹے کی قلت کے پیچھے کیا دانشوری پوشیدہ ہے۔۔۔میرے دوست نے جواب دیا کہ پہلی بات تو یہ ہے ملک میں ٓاٹے کی کوئی کمی نہیں ۔۔۔ ٓاٹا ملک میں وافر مقدار میں موجود ہے اور اس نے مجھے ایک وزیر کے بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں اس وزیر نے دعوی کیا ہے کہ حکومت کے پاس گندم کے زخائر موجود ہیں اور ساتھ ہی کہا کہ یہ خلیفہ جی کی طرف سے عوام کی ٹریننگ کا بندوبست کیا گیا ہے۔۔۔ در اصل پچھلے دنوں شیخ رشید نے انہیں بتایا تھا کہ پاکستان کے لوگ ان دنوں ٓاٹا زیادہ کھا رہے ہیں۔

شیخ رشید کی بات سن کر کپتان نے اندازہ لگا لیا تھا کہ مستقبل میں جس طرح پانی کے زخائر ، پانی کےبے تحاشا استعمال کی وجہ سے دنیا میں کم ہوتے جا رہے ہیں اسی طرح اگر پاکستان میں لوگ زیادہ ٓاٹا کھاتے رہے تو ایک دن پاکستان سے ٓاٹا غائب ہو جائے گا۔۔۔اسی خطرے کو بھانپتے ہوئے کپتان نے فیصلہ کیا ہے کہ لوگوں کو کم ٓاٹا کھانے پر مجبور کیا جائے۔۔۔اسی پالیسی کے تحت ٓاٹا مارکیٹ سے غائب کر دیا گیا ہے تا کہ جب لوگوں کو ٓاٹا نظر ہی ںہیں ٓائے گا تو وہ خود ہی اس کا سستا متبادل ڈھونڈ لیں گے اور اس طرح جب مارکیٹ میں ٓاٹے کی ڈیمانڈ میں کمی ٓا جائے گی تو اس سے ٓاٹے کی قیمتوں میں بھی کمی ٓا جائے گی اور ستر روپے کلو والا ٓاٹا اتنا سستا ہو جائے گا کہ دکاندار ٓاٹا بیچنے کے لئے سیل لگانے پر مجبور ہو جائیں گے۔

یوتھئے دانشور کی یہ بات سن کر ابھی میں انگشت بہ دنداں تھا کہ اس نے ٓاٹے کی قلت کی ایک اور برکت گنوا دی۔۔۔اس کا کہنا تھا کہ اس ٓاٹے کی قلت سے پاکستان کے گھروں میں ساس بہو کے جھگڑوں میں بہت کمی ٓا گئی ہے اور اس کا فائدہ بھی تحریک انصاف کو ہو رہا ہے۔۔۔میں نے پوچھا کہ اس کا ساس بہو کے جھگڑے سے کیا تعلق ہے جس پر میرے دوست نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں نے ساس بہو کی لڑائی کے حوالے سے ٓاٹا گنھدی ہلدی کیوں ایں والا محاورہ سن رکھا ہے۔۔۔میں نے کہا ہاں میں نے سن بھی رکھا ہے اور مجھے اس کا پس منظر بھی پتہ ہے کہ یہ ایسی ساس کے حوالے سے ہے جو کہ اپنی بہو سے لڑائی جھگڑا کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرتی رہتی ہے اور جب اسے بہو کو تنگ کرنے کا کوئی عذر نہیں ملتا تو وہ اسے اس بات پر طعنے مارنا شروع کر دیتی ہے کہ وہ جب ٓاٹا گوندتی ہے تو سکون سے بیٹھنے کے بجائے ٓاگے پیچھے ہلتی کیوں رہتی ہے۔

میری بات سن کر جیسے ہی میرے دوست نے بات کرنی چاہی میں نے اسے کہا کہ مجھے تو تمہارا خلیفہ بھی اسی ساس کی طرح کا لگتا ہے جو ہر وقت اپوزیشن کے خلاف لگائی بجھائی میں لگا رہتا ہے۔۔۔میرے یوتھئے دوست نے کہا کہ میں اس بات کا جواب دے سکتا ہوں لیکن پہلے میں تمہیں ٓاٹے کی قلت اور ساس بہو کے لڑائی جھگڑوں میں کمی کا تعلق سمجھا دوں۔۔۔اس ٓاٹے کی قلت کی وجہ گھروں میں روٹیاں پکانے والا رواج ختم ہو رہا ہے۔۔۔ لوگوں نے بازار سے پکی پکائی روٹیاں خریدنی شروع کر دی ہیں اور اب گھروں میں نہ ٓاٹا گوندھا جاتا ہے اور نہ ہی ساس بہو کی ٓاپس میں اس بات پر لڑائی ہوتی ہے۔

میں نے پوچھا لیکن لڑائی جھگڑے میں کمی سے تمہاری جماعت کو کیا سیاسی فائدہ ہو رہا ہے۔۔۔میرے دوست نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی یوتھ ہمارے کپتان کے ساتھ ہے اور ان ٓاٹا گوندھے والی مخلوق کا تعلق بھی قوم یوتھ سے ہے۔۔۔اب ہماری ان کارکنوں کو نہ صرف ان ساسوں سے جن کا تعلق اپوزیشن کی پارٹیوں سے ہے ان کے تشدد سے نجات ملے گی بلکہ ان کے پاس زیادہ وقت ہو گا ۔۔۔اب وہی قیمتی وقت جسے وہ ٓاٹا گوندھنے میں ضائع کر دیتی تھیں۔۔۔اب اس وقت کا وہ بہتر استعمال کر کے خلیفہ جی کے نئے پاکستان کی تعمیر میں حصہ لیں گی۔

ابھی میری اپنے اس یوتھئے دوست سے گفتگو جاری تھی کہ مجھے اس کی بیگم کی ٓاواز سنائی دی جو اسے کہہ رہی تھی کہ بچوں کو بھوک لگ رہی ہے۔۔۔ٹیلیفون بند کرو اور لنگر خانے سے ٓالو گوشت اور نان لے کر ٓاو۔۔ابھی ابھی میں نے دیکھا ہے کہ اسد عمر لنگر خانے میں پکنے والے ٓالو گوشت کی بہت تعریف کر رہا تھا۔۔۔میرے یوتھئے دوست نے اپنی بیگم کی بات سنتے ہی میری فون کال کاٹ دی۔۔۔اس لئے میں ٓاٹے کی قلت کے مزید فضائل سننے سے محروم رہ گیا۔

بہر حال ٓاپ لوگ قوم یوتھ اور اس کے کپتان کی اس اسکیم کو ہر گز کامیاب نہ ہونے دیں۔۔۔ٓاٹے کا متبادل ڈھونڈنے کی بجائے لائنوں میں لگ کر ٓاٹے کی تلاش جاری رکھیں اور اگر ٓاپ سے یہ کام نہیں ہو سکتا تو فوری طور پر دھرنے والی پارٹی میں شامل ہو جائیں اور لنگر خانے کا راشن کارڈ بنوا لیں۔۔۔لیکن جاتے ہوئے اس بات کا دھیان رکھیں کہ لنگر خانے میں داخل ہوتے ہوئے اپنے ہاتھ میں عمران نیازی کی تصویر والا شاپر ضرور رکھیں اور دوسرے ہاتھ میں تسبیح رکھیں اور کوشش کریں کہ یہ بھی ایسی تسبیح ہو جس پر خلیفہ جی کی تصویر بنی ہوئی ہو۔۔۔اس نسخے پر عمل کریں گے تو لنگر خانے والے ٓاپ بوٹیوں والا شوربہ بھی دیں گے اور نان بھی دیں گے اور وہ بھی پورے وزن والا۔

پورے وزن والا اس لئے کہہ رہا ہوں کہ عمران نیازی کے ایک درباری مسخرے نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ روٹی کی قیمت بڑھانے کی بجائے روٹی کے وزن میں کمی کر دی جائے تا کہ لوگوں کو مہنگائی محسوس نہ ہو۔۔۔اس لئے ہو سکتا ہےکہ اس تجویز پر ان عمرانی لنگر خانوں میں عمل درآمد شروع ہو چکا ہو اور اپنوں کو فواد چوہدری جیسے صحتمند نان دیئے جا رہے ہوں اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے غریبوں کو پرویز خٹک والے نانوں پر ٹرخایا جا رہا ہو۔

لیکن اگر ٓاپ کی عزتِ نفس اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ٓاپ لنگر خانوں والی لائنوں میں لگ کر اپنے بچوں کے لئے رزق تلاش کریں تو پھر اس کے لئے میں ٓاپ کو ایک اور راستہ بتا دیتا ہوں۔۔۔یہ راستہ بظاہر دشوار ہے لیکن اگر ایک دفعہ ٓاپ ان رکاوٹوں کو عبور کر کے منزل تک پہنچ گئے تو میں ٓاپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان میں نہ صرف ٓاٹے کی کمی فوری طور پر دور ہو جائے گی بلکہ کھانے پینے کی ساری اشیا کی فراوانی بھی ہو جائے گی اور پاکستان کی ریاست کے پاس اتنے وسائل ہو ں گے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو روٹی کپڑا اور مکان مہیا کر سکے گی۔

پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں رہنے والوں کو کرنا یہ ہو گا کہ ٓاٹے کے ٹرکوں کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اور قطاروں میں لگنے کی بجائے ان سپر اسٹورز کی طرف جانا ہو گا جنہں سی ایس ڈی کہا جاتا ہے۔۔۔یہ وہ اسٹورز ہے جہاں پر وردی والوں کو سستے داموں پر کھانے پینے کی اشیا فراہم کی جاتی ہیں۔۔۔ان اسٹورز میں کبھی کسی چیز کی قلت نہیں ہوتی اور نہ ہی ڈیمانڈ اور سپلائی والے فارمولے کے مطابق یہاں پر ٓائے دن قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔۔۔ان اسٹورز پر اگر ٓاپ اکیلے اکیلے جائیں گے تو ان کی انتظامیہ ٓاپ کو اسٹور کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دے گی۔۔۔لیکن اگر ٓاپ کارواں کی شکل میں ان اسٹورز کے پر امن دورے کریں گے تو ٓاپ کو سب کچھ سستے داموں ملے گا بلکہ ان اسٹوروں کی چین کے اصلی مالک فوری طور پر ایسا بندوبست کریں گے کہ ٓاپ سب کو کھانے پینے کی اشیا کی ہوم ڈیلیوری دی جائے تاکہ عوام کو وردی والوں کے علاقوں سے دور رکھا جا سکے۔

ٓاٹے کی کی تلاش والی بات میں نے اشاروں کنایوں میں کی ہے۔۔۔اگر مزید وضاحت درکار ہو تو میرے اگلے کالم کا انتظار کرنے کی بجائے اپنے ارد گرد کسی ایسے سیانے سے مشورہ کر لیجئے گا جس کے گلے میں تبدیلی والا تعویز نہ ہو۔

137 views