Search

امریکہ میں ہونےوالے عوامی مظاہرے اور دیسی ٹرمپ۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔02/06/2020



آج باتیں تو بہت سی کرنے والی ہیں۔۔۔لیکن شروع اس ٹیکے والے وزیر اعظم سے کرتے ہیں جسے جنرل باجوہ نے فوج کو صحتمند اور پاکستانی عوام کو بیمار کرنے کے لئے وزیر اعظم والی نوکری دی تھی۔۔۔موجودہ صورتحال بتا رہی ہے کہ یہ نیم حکیم اس کام میں ففٹی پرسنٹ کامیاب ہو چکا ہے۔۔۔اس نے پاکستان عوام کو نہ صرف گھسیٹا اور رلایا ہے ۔۔۔بلکہ پنجابی میں یوں کہہ لیں کہ رول دیا ہے۔۔۔ ساتھ ساتھ اس نے جنرل باجوہ اور اس کے گینگ کو بھی غلط ٹیکہ لگا کر ان کی مالی صحت کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔۔۔یہ تو بھلا ہو کورونا کا ۔۔۔اس کی وجہ سے بہت سارے ڈالر اور امدادی سامان پاکستان کو مل گیا جس نے اس فوجی صنعت کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا۔

جہاں تک بات جنرل باجوہ کے لشکر کی مالی مشکلات کا ہے تو وہ میرا اور آپ کا مسئلہ نہیں ہے۔۔۔یہ جانیں اور ان کا حکیم الامت عمران نیازی جانے جس کے کشتوں اور معجونوں نے انہیں اتنا لاغر کر دیا ہے کہ اب یہ بیچارے جرنیل دو دو نوکریاں اور اوورٹائم لگا کر دال روٹی کھا رہے ہیں۔۔۔اس کو لائے بھی یہ لوگ خود ہی تھے اس لئے اس سے چھٹکارا حاصل کرنا بھی انہی کا مسئلہ ہے۔۔۔ اور انہوں نے اس کے لئے کام بھی شروع کر رکھا ہے اور اسی ورکشاپ میں جہاں پر عمران نیازی کو لکیریں لگا کر زیبرا بنایا گیا تھا ۔۔۔وہاں پر اب شاہد آفریدی کی ڈینٹنٹگ پینٹنگ ہو رہی ہے۔۔۔اس نئے زیبرے کی تیاری اور اسے مارکیٹ میں لانے میں کتنا وقت لگے گا اس کے بارے میں میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن پہلے مرحلے پر اس سے عمران نیازی پر گولہ باری کا کام لیا جائے گا اور آپ لوگوں کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ عمران نیازی والے وائرس سے نجات حاصل کرنے کے لئے بس یہی ایک ویکسین مارکیٹ میں دستیاب ہے۔

موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا خطرہ پاکستان کے عوام کو ہے۔۔۔عمران نیازی کے ٹیکوں نے پہلے ہی آپ لوگوں کو ادھ موا کر رکھا ہے۔۔۔پھر اس کے بعد کورونا نے رہی سہی کسر نکال دی۔۔۔اس کورونا سے بچنے کا واحد حل لاک ڈاون تھا جسے جنرل باجوہ اور اس کے لشکر نے تو اچھی طرح استعمال بھی کیا اور ابھی تک کر رہے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ پاک فوج کی چھاونیاں بھی کورونا سے پاک صاف ہیں۔

عمران نیازی اور اس کے سرپرستوں نے آپ سب کے ساتھ وہی سلوک کیا جسے ایک شاعر نے ایک مصرعے میں یوں کہا ہے کہ

جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں


ان دونوں نے ٓاپ کو اضافی بوجھ سمجھ کر کورونا کے سمندر میں ڈال دیا ہے۔۔۔نکے اور ابے دونوں نے لاک ڈاون کے حوالے سے زبردست کنفیوژن پھیلایا ۔۔۔کبھی اس کی حمایت کی کبھی اس کی مخالفت کی۔۔۔اس لاک ڈاون کو نئے نئے نام دئیے۔۔۔اس کے علاوہ کورونا سے لڑنے والے ڈاکٹروں کو بھی انہوں نے ایسے ہتھیار نہیں دئیے کہ جن کی مدد سے وہ اپنے ٓاپ کو اور آپ کو اس دشمن سے محفوظ رکھ سکتے تھے۔

آپ لوگوں کو ہر طرح کی مصیبتوں میں ڈال کر اب اس نیازی نے یہ بیان دیا ہے کہ حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ پندرہ کروڑ لوگوں کو مزید پیسے دے سکے۔۔۔ایک اور مضحکہ خیز بیان اس نے یہ دیا ہے کہ میں جیسا لاک ڈاوں چاہتا تھا ویسا نہیں ہوا۔۔۔اس طرح کی لغو بات اس نے کورونا کے ختم ہونے کے حوالے سے بھی کی ہے لیکن اس ساری تفصیل میں جانے اور اس کے ان بیانات پر تبصرہ کرنے کی بجائے مجھے ٓاپ سے بس یہ کہنا ہے کہ اس نے جو کچھ کہا ہے اس کا مطلب پنجابی میں یہ ہے کہ وڑو کھپے وچ

ٓاپ لوگوں کی بد قسمتی ہے کہ ٓاپ ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں پر سیاسی حکومت اور فوجی حکومت دونوں ہی اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔


انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ٓاپ کس حال میں ہیں۔۔۔انہیں پتہ ہے کہ بائیس کروڑ کیڑے مکوڑے ان کے پاس حکومت کرنے کے لئے ہیں۔۔۔اس کورونا کی وجہ سے اگر دو چار لاکھ اللہ کو پیارے بھی ہو گئے تو پھر بھی ان کے پاس حکومت کرنے کےلئے کافی آبادی بچ جائے گی بلکہ اس عوامی بھل صفائی سے ان کے حکومتی اخراجات بھی شاید کچھ کم ہو جائیں گے اور یوں چھاونیوں میں بیٹھ کو چوری کھانے والے مجنووں کو اور زیادہ چوری مل سکے گی۔

پاکستان میں اس سے پہلے بھی ایسی حکومتیں ٓائیں ہیں جو کہ فوجی ڈنڈے پر مارچ کرتی تھیں لیکن کسی بھی کمزور سے کمزور حکومت نے عوام کی طرف سے اتنی بے رخی نہیں برتی اور سب نے کوشش کی کہ وہ موٹی توند والے جرنیلوں کو پیٹ بھر کر کھلانے کے علاوہ غریب عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف دیں تا کہ وہ اگلے انتخاب تک زندہ رہیں اور ووٹ ڈالنے کے قابل رہیں۔

موجودہ فوجی حکومتی دور میری زاتی رائے میں پاکستان کا واحد دور ہے جس میں ایک ایسی سیاسی جماعت کی حکومت ہے جو اپنا عوامی منشور بھول بھال کر بس اپنے آپ کو اور اپنی ٹائیگر فورس کو بچانے میں لگی ہوئی ہے ۔۔۔پاکستان کی اصلی جرنیلی حکومت تو ہر دور میں جرنیلی موج میلے کے لئے کام کرتی ہے اس لیئے ان پر بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔ جب تک ٓاپ لوگوں ان لوگوں کو اپنے اوپر مسلط رکھیں گے یہ لوگ اس فری رائیڈ کو انجوائے کرتے رہیں گے۔


کل میں نے مریم نواز شریف کی ایک ٹوئٹ دیکھی جس میں محکمہ صحت کی سمری کا حوالہ تھا ۔۔۔اس سمری کے مطابق صرف لاہور میں کورونا کے اصل نئے مریضوں کا اندازہ چھ لاکھ ستر ہزار لگایا گیا ہے۔۔۔اس سمری کے مطابق کوئی بھی رہائشی علاقہ یا قصبہ ایسا نہیں جہاں یہ بیماری نہ ہو۔۔۔اسی سمری میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ لوگوں کا گھروں میں رہنا لازمی قرار دیا جائے۔

مریم نواز شریف نے اس ساری صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار بھی کیا ہے اور حکومت پر تنقید بھی کی ہے لیکن اس تنقید کے ساتھ نواز شریف کی صحت والے مسئلہ کو بھی جوڑ دیا ہے ۔۔۔اس کا کہنا بجا ہے کہ حکومت نواز شریف کی بیماری کی آڑ میں لوگوں کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹا رہی ہے۔۔۔میرے خیال میں تو اب جو اعداد وشمار مریم نواز شریف نے لاہور کے حوالےسے دئیے ہیں اس کے بعد بات صرف نواز شریف کی صحت اور حکومت پر ٹوئٹر اٹیک تک محدود نہیں رہنی چاہئے۔۔۔مریم نواز شریف سمیت ن لیگ کی تمام قیادت کو اور پاکستان کی تمام جماعتوں کو عوام کی زندگیوں کو لاحق خطرات کو دور کرنے کے لئے عملی طور پر کچھ کرنا ہو گا۔۔۔سارے پاکستان کے لوگوں کو تو یہ سہولت میسر نہیں کہ وہ اپنا علاج بیرون ملک تو کیا اندرون ملک بھی کروا سکیں۔۔۔لاہور میں کورونا کے شکار ان چھ لاکھ ستر ہزار لوگوں کا علاج کیسے ہو گا۔۔۔ان کے خاندانوں کا ٓانے والے دنوں میں کیا ہوگا۔۔۔اگر یہ حکومت اسی طرح لاک ڈاون لاک ڈاون کھیلتی رہی تو یہ تعداد چھ لاکھ سے ساٹھ لاکھ پر بھی جا سکتی ہے۔۔۔یہی صورتحال پورے پاکستان میں ہوگی۔۔۔ پورے ملک میں جرنیلی لشکر اور ٹائیگر فورس تو کہیں راشن تقسیم کرتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے لیکن کورونا کے مریض ہر طرف وائرس پھیلاتے ہوئے ملیں گے۔


ان دنوں امریکہ میں مختلف شہروں میں لوگ ٹرمپ کی حکومت اور اس کی پولیس کے تشدد کے خلاف سڑکوں پر ہیں۔۔۔یقیننا آپ لوگوں نے وہ سارے مناظر سوشل میڈیا پر دیکھے ہوں گے کہ کس طرح عوام کا سیلاب سڑکوں پر احتجاج میں مصروف ہے۔۔۔ان مظاہرین نے ٹرمپ کی حکومت کی چولیں ہلا دی ہیں۔۔۔مظاہرین نے امریکہ کی اس چھاونی کے باہر جسے آپ لوگ وہائٹ ہاوس کہتے ہیں۔۔۔اس کے باہر اتنا زبردست احتجاج کیا کہ دنیا کا سب سے طاقتور صدر ان مظاہرین کے خوف سے بنکر میں چھپ گیا تھا۔۔۔یہ مظاہرے ابھی جاری ہیں اور پولیس اور نیشنل گارڈ بھی انہیں کنٹرول نہیں کر پا رہے۔

ان مظاہروں میں شدت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صدر ٹرمپ بھی اسی طرح کے لوگوں کو تقسیم کرنے اور بھڑکانے والے بیانات دے رہا ہے جس طرح کے بیانات پاکستان میں اس کا ایک چیلا دے رہا ہے۔۔۔صدر ٹرمپ کا یہ چیلا البتہ اپنے گرو سے بھی دو ہاتھ آگے ہے اور یہ ریاستی اداروں کو بھی استعمال کرکے پاکستانی عوام میں نفرت اور تشدد کو ہوا دے رہا ہے۔

میں نے امریکہ کے ایک پولیس کے عہدیدار کا انٹرویو بھی سنا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ صورتحال کو کنٹرول میں کرنے کے لئے ضروری ہے کہ صدر ٹرمپ بونگیاں مارنے کی بجائے اپنا منہ بند رکھے۔۔۔پاکستان کے حالات بھی اسی موڑ پر ہیں لیکن یہاں کے ادارے ان لوگوں کو جیلوں میں بند کر رہے ہیں جو کہ دیسی ٹرمپ کا منہ بند کروانا چاہتے ہیں۔۔۔دیسی ٹرمپ کو لانے والا جرنیل اس کا منہ بند کروا سکتے ہے لیکن وہ اپنی ایکسٹینشن کو پکا کرنے کے چکر میں لگا ہوا ہے اور اسے اس کے الٹے سیدھے بیانات کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ ان بیانات سے وہ ستر سالہ جرنیلی ایجنڈا اور آگے بڑھ رہا ہے جس کی مدد سے یہ پاکستان کی سیاسی مذہبی اور لسانی جماعتوں کو تقسیم در تقسیم کرے پاکستان پر بلا شرکتِ غیرے حکومت کر رہے ہیں۔

کالم ختم کرنے سےپہلے میں ٓاپ کو یہ بھی بتا دوں کہ کہ امریکہ میں عوام کسی لیڈر کے بلانے پر باہر نہیں آئی۔۔۔ اس احتجاج کے لئے لوگوں نے کسی سیاسی جماعت کی قیادت کا انتظار نہیں کیا۔۔۔ انہوں نے جب دیکھا کہ ایک نہتے سیاہ فام امریکی کو نہ صرف پولیس نے تشدد کر کے اسے ہلاک کر دیا بلکہ ٹرمپ کی حکومت نے اس معاملے پر مظلوموں کا ساتھ دینے کی بجائے ظالموں کا ساتھ دیا تو امریکی عوام نے اپنے طور پر سڑکوں پر ٓا کر اتنا احتجاج کیا کہ صدر ٹرمپ کو بنکر میں گھسنے پر مجبور کر دیا۔۔۔ٓاپ لوگوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔

اپ لوگوں کو ان امریکی مظاہرین سے سبق سیکھنا چاہئے اور اپنے بچاو کے لئے گھروں سے نکلنا چاہئے ۔۔۔ صرف لاہور میں کورونا نے چھ لاکھ ستر ہزار لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔۔۔سوچیں کہ پورے پاکستان میں یہ تعداد کتنی ہوگی۔۔۔اسی طرح گھروں میں مقید رہیں گے اور کسی لیڈر کا انتظار کریں گے تو کورونا اور اس کے سرپرست ٓاپکا اور بھی برا حشر کریں گے۔۔۔یہ ٓاپ کا مسئلہ ہے۔۔۔کٹھ پتلی حکومت اور اس کے سرپرستوں کو اس سے کوئی غرض نہیں۔۔۔پرانی سیاسی قیادتیں صحت کے مسائل سے دوچار ہیں اور ان کے بچے ان کی تیمارداری میں مصروف ہیں۔۔۔اس لئے ٓاپ اپنے لئے، اپنے والدین کے لئے اور اپنے بچوں کے لئے خود میدان میں ٓائیں اور پاکستانی ٹرمپوں کو بھی بنکروں میں گھسنے پر مجبور کر دیں۔

896 views