Search

استاد دامن ،کرنل کی بیوی اور پاکستان کے دو خدا۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔22/05/2020


پاکستان کے ایک سابقہ جرنیلی خدا کے بارے میں استاد دامن مرحوم نے پنجابی کی نظم کہی تھی۔۔۔اس نظم کی شاعرانہ خوبیوں کے علاوہ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ یہ ایک ایسے شاعر نے کہی تھی جس کے پاس نہ تو کلاشنکوف تھی۔۔۔نہ واہ ٓارڈیننس فیکٹری کے بنے ہوئے ہتھیار تھے ۔۔۔نہ ہی اس کے پاس کوئی جرنیلی مدرسے کے پڑھے ہوئے طالبان تھے جو اس کے گرد حفاظتی حصار بنا کر اسے نامعلوم دہشت گردوں کے خود کش حملوں سے بچا سکتے تھے۔


اس عام سے شاعر کے پاس صرف قلم کا ہتھیار تھا اوراس نے اسی ہتھیار کی مدد سے ایک ایسے جعلی مومن جرنیل کا مقابلہ کیا جو امریکی ڈالروں اور ہتھیاروں کی مدد سے روس جیسی سپر پاور کے ساتھ کرائے کا جہاد لڑ رہا تھا۔۔۔تمہید کچھ لمبی ہو گئی ہے لیکن اس نظم کی اہمیت کا اندازہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ یہ بھی بتایا جائے کہ یہ نظم کس ماحول میں کہی گئی ہے۔۔۔نظم کا ایک بند کچھ یوں ہے

پاکستان دے دو خدا

لا الہ تے مارشل لا

اک رہندا اے عرشاں اتے

اے رہندا اے فرشاں اتے

ایہدا ناں اے جنرل ضیا

واہ بھی واہ جنرل ضیا

تینوں کیہڑا کہندے ایتھوں جا

استاد دامن نے اس کے علاوہ بھی اس ڈکیٹر کے خلاف کھل کر شاعری کی۔۔۔اتنا زیادہ بولا کہ اگر ٓاپ موجودہ باجوائی دور کے سارے میڈیا کو ایک طرف کر لیں تو شاید ٓاپ کو ان وردی والے خداوں پر اتنی تنقید نہیں ملے گی جتنی اس اکیلے عوامی شاعر نے کر رکھی ہے۔


ابھی دو روز پہلے والے واقعے کو ہی لے لیں جس میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک کرنیلنی دن دیہاڑے اپنے شوہر کی وردی کی دہشت سے کام لے رہی ہے۔۔۔اس ویڈیو کو پاکستانی عوام نے تو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ شئیر کیا ہے بلکہ ٹوئٹر پر تو اس کے حوالے سے کرنل کی بیوی کا ٹرینڈ بھی بنا دیا ہے لیکن جرنیلی میڈیا نے اس خبر اور ویڈیو کو یوں غائب کر رکھا ہے جیسے وردی والے دہشت گرد جرنیلی ایجنڈے کے مخالفین کو لاپتہ کر دیتے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اب تک اس کرنیلنی کی تھانے کی سلاخوں کے پیچھے سے ایک ایسی تصویر جاری ہونی چاہئے تھی جس طرح کی سیاسی مجرموں کی ہوا کرتی ہے۔۔۔پچھلے دنوں جنگ اور جیو کے مالک میر شکیل الرحمن کی بھی ایسی ہی ایک تصویر جاری کی گئی تھی۔ ۔۔لیکن پاکستان کے اس میڈیا نے جسے کسی سانپ نے تو نہیں سونگھا لیکن چونکہ اس میڈیا کے مالکان کی اکژیت فوجی بوٹ سونگھنے کا نشہ کرتی ہے اس لئے اس میڈیا نے اس خبر کو چھپانے کی کوشش کی۔۔۔ میمن بچے کے چینل نے تواس خبر پر میک اپ کی ایک نئی تہہ چڑھا دی۔


ایک غیر مصدقہ خبر یہ بھی ہے کہ نکے کے ابے نے بھی اس گستاخی کا نوٹس لے لیا ہے۔۔۔اب ابا جی اپنی اس گستاخ اولاد کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔۔۔یہ تو ٓانے والے دنوں میں پتہ چلے گا لیکن مجھے تو یہ چوہدری شجاعت کی مٹی پاو والی کاروائی لگتی ہے۔۔۔جو ادارہ ایک لیڈی ڈاکٹر کا ریپ کرنے والے کپتان کو سزا نہیں ہونے دیتا وہ اس کرنیلنی یا کرنیل کو کس قسم کی سزا دے سکتا ہے۔

کرنیلنی کی یہ ویڈیو جس طرح پوری دنیا میں دیکھی گئی ہے اس نے نہ صرف اس خاتون کو بلکہ اس کے کرنیل اور اس کے سرپرستوں کو بھی پوری دنیا میں مشہور کر دیا ہے۔۔۔ٓاپ چاہیں تو یوں بھی کہہ سکتیں ہیں کہ چند دن پہلے تک پوری دنیا میں پاکستانی چاول کرنل باسمتی مشہور تھا لیکن اب پاکستانی چول کرنل کی بیوی نے اسے پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اب کرنل باسمتی سے چول کرنل بیوی شہرت میں آگے نکل گئی ہے۔۔۔مجھے امید ہے کہ ٓاپ کو چاول اور پنجابی کے لفظ چول کا فرق پتا ہوگا۔۔۔اور اگر نہیں پتہ تو کسی پنجابی دوست سے پوچھ لیں یا پھر راولپنڈی کی لال حویلی سے تعلق رکھنے والے شیخ رشید کو غور سے دیکھ لیں۔۔۔نہ صرف ٓاپ کو چول کا مطلب پتا چل جائے گا بلکہ ٓاپ دوسروں کو سمجھانے کے قابل بھی ہو جائیں گے۔

مجھے ایک صاحب نے اس واقعے کے حوالے سے کچھ معلومات بھی بھیجی ہیں۔۔۔اس کے علاوہ بھی میڈیا میں اس حوالے سے خبریں گردش کر رہی ہیں کہ اس کرنیلنی کا خاوند بھی اسی طرح کی گولی اور گالی والی واردات میں ملوث رہا ہے۔۔۔میں اس کرنیل کو زاتی طور پر تو نہیں جانتا لیکن یوٹیوب پر موجود ویڈیو جو اس سے منسوب کی جا رہی ہے ہ اسے دیکھ کر تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ نائب صوبیدار کی ماں بہن ایک کرنے والی اس کرنیلنی کی پرورش یقیننا اسی کرنیل نے کی ہے۔

ٓاپ نے یقیننا وہ نغمہ ضرور سنا ہو گا۔۔۔

میرا ماہی چھیل چھبیلا ہائے نی کرنیل نی جرنیل نی


یہ آج سے چالیس پچاس سال پہلے لکھا گیا تھا۔۔۔اسی گیت سے ٓاپ اندازہ کر لیں کہ جرنیلی پاکستان میں ان وردی والوں کی کیا اہمیت ہے اور کب سے یہ لوگوں کے زہنوں پر زبردستی سوار ہیں۔۔۔کرنل کی بیوی نے جو کچھ کیا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔۔۔پرانے پاکستان میں بھی یہی کچھ ہوتا ٓایا ہے اور شاید اس سے بھی بڑی بڑی وارداتیں ہوئی ہیں لیکن ان دنوں چونکہ سوشل میڈیا نہیں تھا اور نہ ہی کیمرے والے فونز کی بھرمار تھی اس لئے یہ جرنیلی وارداتیں عوام کے سامنے نہیں ٓاتی تھیں۔


پرنٹ میڈیا کا دور تھا اور اخبارات ان دنوں بھی اسی طرح جرنیلی بوٹ کے نیچے دبے ہوئے ہوتے تھے جس طرح ٓاج کے دور کے ٹی وی چینل ہیں۔۔۔پرانے پاکستان میں جب ان کے کسی کرتوت کی خبر شائع ہوتی تھی تو اس میں ملزم کا نام اور محکمہ بتانے کی بجائے صرف اتنا لکھ دیا جاتا تھی کہ اس کا تعلق ایک حساس ادارے سے ہے۔۔۔میں ان دنوں زہنی طور پر بھی بچہ تھا تو اکثر ایسی خبریں پڑھ کر سوچا کرتا تھا کہ یہ کونسا ادارہ ہے۔۔۔میں نے اپنے بڑوں سے اس حساس ادارے کے بارے میں پوچھنے کی کوشش بھی کی لیکن جواب نہیں ملا۔۔۔یہ تو بڑے ہو کر پتہ چلا کہ یہ کونسا ادارہ ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھید بھی کھل گیا کہ یہ ادارہ حساس نہیں بلکہ بے حس ادارہ ہے۔

چند سال پہلے لاہور میں پولیس والوں نے ایسی ہی ایک گستاخی ایک جرنیلی کی فیملی کے ساتھ کی تھی۔۔۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کے پورے کا پورا تھانہ اس بے حس ادارے نے اغوا کر لیا۔۔۔انہیں اپنی چھاونی میں لے گئے اور پھر ان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ ٓاپ خود ہی اندازہ لگا لیں۔

اسی طرح زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔۔۔موٹر وے پولیس کے ایک اہلکار نے ایک فوجی افسر کی شان میں گستاخی کی تھی ۔۔۔اس پولیس والے کو موقع پر ہی فوجی افسر اور اس کے ساتھیوں نے اس گستاخی کا مزہ چکھایا۔۔۔ اسے بھی مارا اور اس کی وردی بھی پاکستانی فلموں کی مجبور اور مظلوم ہیروئن کے کپڑوں کی طرح تار تار کر ڈالی۔

چند ماہ پہلے ایک فوجی افسر کے بچے کو اس کے کلاس فیلو بچے نے مارا۔۔۔یہ کوئی ہندوستان پاکستان کی جنگ نہیں تھی۔۔۔۔ہم عمر بچوں کے درمیان اسکول میں ایسے لڑائی جھگڑے معمول کی بات ہیں۔۔۔لیکن جب اس فوجی بچے نے گھر جا کر اپنے باپ کو بتایا تو اگلے روز اس کا باپ اپنی وردی سمیت اسکول پر حملہ ٓاور ہوا اور اس بچے کو جا کر اس طرح مارا پیٹا جس طرح یہ لوگ ان دنوں بلوچستان اور فاٹا میں جرنیلی ایجنڈے کے مخالفین کو مار پیٹ رہے ہیں۔


بلوچستان میں ایک لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ ایک فوجی کپتان نے زیادتی کی تھی۔۔۔اس زیادتی پر سردار اکبر بگٹی نے ٓاواز اٹھائی اور اس کپتان کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔۔۔یہ لیڈی ڈاکٹر نہ تو بلوچ تھی اور نہ ہی اس کا تعلق بلوچستانتھا لیکن اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر بلوچستان میں بہت احتجاج ہوا۔۔۔لیکن اس وقت کے جرنیلی خدا جنرل پرویز مشرف نے اس خاتون کو انصاف دینے کی بجائے اپنے وردی والے کپتان کا ساتھ دیا۔۔۔نہ صرف اسے قانون سے بچایا بلکہ اس لیڈی ڈاکٹر کو اتنا خوفزدہ کیا کہ وہ جان بچا کر پاکستان سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئی۔


ایسے بے شمار واقعات ہیں۔۔۔یہ چند اس لئے شئیر کئے ہیں کہ ٓاپ کو اندازہ ہو جائے کہ یہ جو کچھ بھی اس کرنیلنی نے کیا ہے اس میں اس کا قصور نہیں ہے۔۔۔قصورسارا اس اکیڈمی کا ہے جہاں پر اس ادارے کے افسروں کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ پاکستان دے دو خدا۔۔۔لا الہ تے مارشل لا۔

اب ٓاپ پوچھیں گے کہ یہ اکیڈمی کہاں ہے تو اس کا سیدھا سادھا جواب دینے کی بجائے میں یہ کہوں گا کہ یہ اس مکان کے پڑوس میں ہے جہاں پر کئی سال تک اسامہ بن لادن امریکہ کے جاسوس اداروں سے چھپ چھپا کر فوج میلہ کرتا رہا ہے۔۔۔وہی مکان جو کہ پاکستان کی حدود میں ہے لیکن جب اس پر امریکی گوریلوں نے حملہ کیا تو ہمارے حساس اور نمبر ون ادارے کو اس کاروائی کا اس وقت پتہ چلا جب امریکی واردات مکمل کرنے کے بعد واپس اپنے ٹھکانے پر جا چکے تھے۔


ٓاج چونکہ بات بھی ایک نظم سے شروع کی تھی تو اس کا دی اینڈ بھی شعرو شاعری سے ہی کر لیتے ہیں۔۔۔قتیل شفائی کا شعر ہے

دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی

جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

ٓاپ لوگوں کو بھی اس منافقت والے طرز عمل سے باہر ٓانا ہو گا۔۔۔اچھی بات ہے کہ ٓاپ لوگوں نے سوشل میڈیا پر اس کرنیلنی کی میڈیا کمپئین اور کرنل کی بیوی والا ٹرینڈ چلایا ہے ۔۔۔یہ منافقت سے باہر نکلنے کا پہلا قدم ہے لیکن اس سے بھی ٓاگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔۔۔اس پولیس والے سے سبق سیکھیں جس نے جان اور نوکری ہتھیلی پر رکھ کر اس کرنیلینی کی کی دہشت گردی کا مقابلہ کیا ۔۔۔ٓاپ لوگوں کو بھی ظلم سہنے والی عادت جلد سے جلد چھوڑنی ہو گی۔۔۔ تنویر سپرا کی ایک انقلابی نظم کی دو لائینیں یاد ٓا رہی ہیں

وہ وقت یقیننا ٓائے گا

جب موٹی موٹی توندوں پر ہاری کوڑے برسائیں گے

تنویر سپرا نے موٹی توند والے جاگیرداروں کی بات کی تھی لیکن شہری ٓابادی میں رہنے والے پاکستانیوں کے لئے ضروری نہیں ہے کہ دیہات کا رخ کریں۔۔۔اب تو شہر علاقوں میں بھی ٓاپ کا خون پینے والے ،موٹی موٹی توندوں والے افسران فراوانی سے پائے جاتے ہیں۔

1,085 views1 comment