Search

ملک ریاض کی دہشت گرد بیٹی اور عمران نیازی کا بھانجا۔۔۔کھریاں کھریاں۔۔۔راشد مراد۔۔۔28/05/2020


السلام و علیکم

ٓٓاج کا پروگرام اس میچ کے بارے میں ہے جس میں ایک طرف اداکارہ عظمی خان اور عمران نیازی کا بھانجا حسان نیازی ہے اور دوسری طرف بہت سارے پاکستانی سیاست دانوں، جرنیلوں ،ججوں اور صحافیوں کا ان داتا ملک ریاض اور اس کی بیٹی آمنہ عثمان ہے۔۔۔ یہ ایک یک طرف سا میچ ہے۔۔۔اس کا نتیجہ وہی نکلے گا جو ٹھیکیدار کی بیٹی اور اس کا باپ چاہیں گے۔۔۔میرا اس مقابلے پر پروگرام کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن ٓاپ لوگوں نے اس واقعہ کے حوالے سے اتنے زیادہ سوالات اور ویڈیو کلپ بھیجے ہیں اور ساتھ ہی اس پر پروگرام کرنے کا اصرار بھی کیا ہے اس لئے میں بھی اس یک طرفہ مقابلے پر اپنے کچھ خیالات ٓاپ کے ساتھ سانجھے کر لیتا ہوں۔


۔۔۔کچھ روز پہلے تک جرنیلی پاکستان میں ایک کرنل کی بیوی کا چرچا تھا۔۔۔وہ تو بھلا ہو اس بد قسمت طیارے اور اس کے مسافروں کا جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے کرنل کی بیوی اور اس کے جرنیلی سرپرستوں کو سکھ کا سانس لینے کا موقعہ دیا۔۔۔لیکن اب یہ ایک ٹھیکیدار کی بیٹی والا ٹرینڈ سوشل میڈیا پر چل رہا ہے۔۔۔میری زاتی رائے میں تو اس ٹرینڈ کو بھی صرف ٹھیکیدار کی بیٹی نہیں ہونا چاہئے تھا بلکہ یہ جرنیلی ٹھیکیدار کی بیٹی ہونا چاہئے تھا۔۔۔کیونکہ جس ٹھیکیدار کی بیٹی کی بات ہو رہی ہے اس ٹھیکیدار کا تعلق فوج کے ساتھ چولی اور دامن کی طرح گڈ مڈ ہے۔۔۔پتہ ہی نہیں چلتا کہ چولی کونسی ہے اور دامن کون ہے۔۔۔۔ٓاپ اس ٹھیکیدار کے دفتر میں چلے جائیں تو ٓاپ کو ہر طرف جرنیل ہی جرنیل مارچ کرتے ہوئے نظر ٓاتے ہیں۔۔۔میرے ایک اسلام ٓابادی دوست کا کہنا ہے کہ جس طرح آصف علی زرداری کے بارے میں خبر اڑائی گئی تھی کہ اس کو مربے کھانے والے گھوڑے پالنے کا شوق تھا اسی طرح اس ٹھیکیدار کو پلاٹ کھانے والے جرنیل پالنے کا شوق ہے اور جس طرح پنجابی میں کہتے ہیں کہ شوق دا کوئی مل نئیں ہندا۔۔۔۔اس طرح اس جرنیلی ٹھیکیدار کی بیٹی کے باپ کو بھی اپنے اس مہنگے شوق سے اتنا لگاو ہے کہ اسے جیسے ہی اپنے فوجی مخبروں کی طرف سے خبر ملتی ہے کہ کوئی جرنیل ریٹائر ہونے والا ہے تو یہ اس کی ریٹائرمنٹ سے چھ مہینے پہلے ہی اس کی ایڈوانس بکنگ کر لیتا ہے اور ریٹائرمنٹ کے فورا بعد اسے اپنے جرنیلی فارم میں لا کر کھلا چھوڑ دیتا ہے۔۔۔اس جرنیلی فارم میں اس جرنیل کے لئے کوئی کام نہیں ہوتا۔۔۔اسے تنخواہ بھی منہ مانگی ملتی ہے اور اس کے علاوہ ہر طرح کی سہولت بھی ملتی ہے۔۔۔اب یہ اس جرنیل پر منحصر ہے کہ اس نے ریٹائرمنٹ کے ٓاخری ایام میں طارق جمیل کی مدد سے صراط مسقیم پر سفر شروع کر دیا ہے یا پھر وہ ابھی بھی جنرل یحیی اور پرویز مشرف والی لائن میں لگا ہوا ہے۔۔۔ان دونوں اقسام کے جرنیلوں کے لئے اس ٹھیکیدار کے پاس ساری سہولتیں موجود ہیں۔۔۔اس کے علاوہ اگر کوئی ایسا جرنیل ٓا جائے جسے سیاسی میدان میں منہ مارنے کو شوق ہو تو اس ٹھیکیدار کے پاس پاکستان کی ہر چھوٹی بڑی سیاسی جماعت کے اوپن ٹکٹ موجود ہوتے ہیں اور یہ اس جرنیل کی مرضی کے مطابق اسے سیاسی جماعت میں بھی ایڈجسٹ کر دیتا ہے۔


پچھلے چند سالوں سے اس نے اسی جرنیلی فارم کے ساتھ ہی ایک چھوٹا سا اصطبل ان گھوڑوں کے لئے بھی تیار کر دیا ہے جو کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں جرنیلی ایجنڈے کے مطابق دولتیاں مارنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔


پاکستان کا مین اسٹریم میڈیا اور خاص کر میمن میڈیا مکمل طور پر خاموش ہے اور اس نے اس حملے کو بھی اسی طرح نظر انداز کر دیا ہے جیسے کرنل کی بیوی والے معاملے کو نکرے لگا دیا تھا۔۔۔کرنل کی بیوی کے مسلح سرپرست بھی بہت طاقتور تھے ۔۔۔ اسی طرح یہ ٹھیکیدار بھی بہت تگڑا ہے۔۔۔اس کے پاس جرنیلی بندوقیں ہیں ،عدالتی ہتھوڑا گروپ کی سپورٹ ہے۔۔۔دولت کا کوئی شمار نہیں اور سب سے بڑھ کر اشتہارات کی وہ طاقت بھی ہے جس کی مدد سے بہت سارے پاکستانی چینل چل رہے ہیں۔۔۔نیو مدینہ کا دو نمبر خلیفہ بھی اس کے احسانات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔۔۔ اس لئے اس کی بیٹی کے بارے میں کسی ٹی وی چینل کی کیا مجال ہے کہ وہ کوئی ایسا مصالحے والی خبر نشر کر دے جس طرح کی خبریں میاں نواز شریف کی بیٹی کے بارے میں قطری مصالحوں کے ساتھ نشر کی جاتی تھیں۔


۔۔۔رہی بات پولیس والوں کی تو ان کا حشر تو آپ نے کرنل کی بیوی کے ہاتھوں دیکھ ہی لیا ہے۔۔۔اس لئے ان کی کیا مجال کہ اس جرنیلی ٹھیکیدار کی بیٹی کے قریب بھی پھٹک سکیں۔۔۔


ملک ریاض کی بیٹی آمنہ عثمان جس کے حوالے سے یہ ٹھیکیدار کی بیٹی والا ٹرینڈ بنا ہے ۔۔۔اس نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ اس نے یہ سب اپنی تیرہ سالہ شادی کو بچانے کے لئے کیا ہے۔۔۔ملک ریاض کی بیٹی کا کہنا ہے کہ اس نے جس گھر پر دھاوا بولا تھا وہ اس کے شوہر کا دوسر گھر تھا اور اسے اس گھر میں داخل ہونے کی قانونی اجازت تھی۔۔۔ملک ریاض کی بیٹی کی اس ویڈیو سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ اس نے اقبال جرم کر لیا ہے۔۔۔اس جرم کا مصدقہ ویڈیو ثبوت بھی موجود ہے اور یہ ثبوت خود ان لوگوں نے تیار کیا ہے جنہیں ٹھیکیدار کی بیٹی عظمی خان پر یلغار کے لئے ساتھ لے کر گئی تھی۔۔۔ اپنے ویڈیو والے اقبالی جرم میں ٹھیکیدار کی بیٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ گھر اس کے شوہر کا ہے۔۔۔اس لئے اس گھر میں داخل ہونا اس کا قانونی حق ہے۔۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ گھر واقعی ٓامنہ عثمان کے شوہر کا ہے تو پھر بھی ملک ریاض کی فیملی کو اس بات کا اختیار کس نے دیا کہ وہ اپنی زاتی فوج لے جائیں اور اس لڑکیوں پر تشدد کریں اور انہیں جلانے اور مار دینے کی دھمکیاں دیں۔۔۔ملک ریاض کی بیٹی نے حسان خان نیازی جو کہ عمران نیازی کا بھانجا بھی ہے اس پر بھی الزام عائد کیا ہے کہ وہ انہیں اس واقعے کے حوالے سے بلیک میل کر رہا ہے اور پیسوں کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔


اس ویڈیو بیان میں ملک ریاض کی بیٹی نے جہاں اپنی تیرہ سالہ شادی کو بچانے کی بات کی ہے وہیں اس نے بڑی زہانت سے اپنے باپ کے کاروبار کو بچانے کی بھی بھر پور کوشش کی ہے۔۔۔بی بی کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر کا ملک ریاض کی فیملی یا کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔میری زاتی رائے میں تو ٹھیکیدار کی بیٹی کو اپنے باپ کے کاروبار کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔اس دھندے میں پاکستان کے بہت سارے ریٹائرڈ جرنیلی جنگجو کام کر رہے ہیں وہ کسی بھی صورت اس ٹھیکیدار کے کاروبار کو اور اپنی نوکریوں کو کوئی نقصان پہنچنے نہیں دیں گے۔


دو تین روز سے جس طرح سوشل میڈیا پر عظمی خان اور اس کی بہن کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔۔۔اس سےعظمی خان اور اس کی بہن کو سوشل میڈیا پر تو یقیننا انصاف مل جائے گا لیکن اس کے باوجود کہ عمران نیازی کا بھانجا ان کی ہر ممکن مدد کر رہا ہے انہیں پاکستان کے کسی ادارے سے انہیں کوئی توقع نہیں کرنی چاہئے کیونکہ حسان نیازی ان کے ساتھ ضرور کھڑا ہے لیکن حسان نیازی کا ماما اس واقعے میں اپنے بھانجے کا ساتھ اس طرح نہیں دے سکتا جس طرح اس نے وکیلوں اور ڈاکٹروں کی لڑائی میں اس مفرور بھانجے کا ساتھ دیا تھا۔۔۔اس بار مامے کے لئے بھانجے کا ساتھ دینا اس لئے مشکل ہے کیونکہ اس مامے کے جو جرنیلی مامے ہیں ملک ریاض ان کا بھی ماما ہے۔


اس کیس کے حوالے سے لاہور کی پولیس کے روئیے کے بارے میں حسان نیازی اور عظمی خان نے جو ٹوئیٹس کی ہیں ان سے اندازہ ہو رہا ہے کہ ناں صرف کتی چوراں نال رلی ہوئی اے بلکہ کتے بھی اسی خاندان کی مدد کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ اسلام ٓاباد میں ٓاوارہ پھرنے والے سور بھی انہی کی ٹیم میں شامل ہیں اس لئے عظمی خان کو تھانے کچہری کے چکر لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔۔۔وہ یہ میچ کسی صورت بھی نہیں جیت سکتی ۔۔زیادہ سے زیادہ وہ اتنا کر سکتی ہے کہ اس میچ کو ڈرا کی طرف لے جائے۔۔۔اس حکمت عملی سے اس کا فلمی کیریر بھی بچ جائے گا ۔۔۔اس کا لائف اسٹائل بھی محفوظ رہے گا اور شایدٹھیکیدار کی بیٹی کی تیرہ سالہ شادی بھی مزید نقصان سے بچ جائے۔


۔۔۔ویسے تو عظمی خان کا تعلق جس شعبے سے ہے اس میں بھی بہت سارے ایکشن ہیرو پائے جاتے ہیں ۔۔۔اسکرین کی حد تو یہ لوگ بھی اچھا پولیس مقابلہ کر لیتے ہیں لیکن عملی زندگی میں گنڈاسہ اٹھانا ان کے بس کی بات نہیں ۔۔۔ان میں سے زیادہ تر کی روزی روٹی اب ان فلموں سے چل رہی ہے جسے وہ لوگ فنانس کرتے ہیں جن کا سب سے بڑا فنانسر ٹھیکیدار کی بیٹی کا باپ ہے۔۔۔اور باپ بھی اتنا تگڑا کی جس کی چوری برطانیہ میں پکڑی جاتی ہے لیکن جب چوری کا مال برطانیہ کی حکومت صادق اور امین عمران نیازی کی حکومت کے حوالے کرتی ہے تو وہ چور چور اور کرپشن کرپشن والا پسندیدہ راگ الاپنے کی بجائے خاموش رہتی ہے اور چوری کا مال بیت المال میں جمع کروانے کی بجائے بڑے عزت اور احترام سے اسے ٹھیکیدار کے کھاتے میں جمع کروا دیتی ہے۔


عظمی خان کے لئے بہتر یہی ہوگا کہ اس جرنیلی پاکستان کے سب سے بڑے ٹھیکیدار کی بیٹی کے ساتھ صلح صفائی کر لے۔۔۔یا پھر بلوچستان میں ایک فوجی کیپٹن حماد کی زیادتی کا شکار ہونے والی مظلوم لیڈی ڈاکڑ کی طرح ملک سے ہجرت کر جائے۔۔۔ جس طرح اس لیڈی ڈاکتر کے خلاف جنرل پرویز مشرف نے اپنے فوجی ماتحت کا ساتھ دیا تھا اس بار بھی ٹھیکیدار کی بیٹی کے سارے جرنیلی انکل عظمی خان کی بجائے اپنی بھتیجی کا ساتھ دیں گے۔۔۔اگر یہ دونوں آپشن ان کے لئے قابل قبول نہیں تو پھر عظمی خان بھی انار کلی کی طرح دیوار میں چننے کے لئے تیار رہے کیونکہ یہ ٹھیکیدار کی بیٹی کا باپ بھی اکبر بادشاہ سے کم ظالم اور طاقتور نہیں ہے اور اس کے پاس تو ایسے انجئینر اور جرنیلی مستری ہیں جو کہ ایک دیوار تو کیا راتوں رات سرکاری زمینوں پر پورے کا پور اپلازہ بنا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

1,522 views